آج کا کالم

ملائم سنگھ یادو: لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

ڈاکٹر سلیم خان

نریندر مودی چونکہ ایک شدت پسند رہنما ہیں اس لیے ان کے حامیوں  اور مخالفین میں بھی  انتہا پسندی پائی جاتی ہے۔ ان  کے اندھے بھکتوں کو پردھان سیوک کی ہر خامی خوشنما دکھائی دیتی ہے۔ اسی طرح ان کے شدید مخالفین کو مودی جی کی ہر خوبی میں خامیاں نظر  آتی ہیں۔ تولین سنگھ ان کی ایک   ایسی دیدہ ور مداح ہیں جن کو مودی جی اچھے تو بہت لگتے ہیں لیکن وہ  ان کی  خرابیوں کو خوبی نہیں لکھتیں زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دیتی ہیں ان کے مسابقین  میں بھی یہ  خرابیاں بدرجہ اتم موجود ہیں لیکن ملائم سنگھ اپنی عمر کے۹۰ سال میں یہ لکشمن ریکھا پار کر گئے۔ مودی جی ایوان پارلیمان کے  اپنے آخری  خطاب میں خود کو دلیر سورما ثابت کرنے کی بہت  کوشش کی مگر حقیقت میں  وہ عدم تحفظ کا شکار نظر آئے اور   اپنا بچاو   کرتے دکھائی دیئے۔ انہوں نے بہت سارا وقت کانگریس کے سابق وزرائے اعظم پر تنقید میں صرف کردیا حالانکہ  گڑے مردے اکھاڑنے کی مطلق ضرورت نہیں تھی۔ اس  اختتامی  اجلاس میں وزیراعظم کی  دوسری تقریر بھی جھوٹ کا پلندہ ہی تھی  ۔ ایسے موقع پر مراق مرزا کا یہ شعر ان کی نذر کرنے کو جی چاہتاہے؎

یہ معجزہ ہے کہ دنیا میں ایک بھی سچ کو

ہزار جھوٹ کا لشکر دبا نہیں سکتا

مودی جی اپنی ساری  پینترے بازی  کے باوجود آخری  اجلاس کو یادگار نہیں بناسکے مگر یہ کام سونیا گاندھی اور ملائم سنگھ یادو نے کردیا۔  ایوان زیریں میں نتن گڈکری نے اپنی محکمہ  کے متعلق  سوالات  کا مفصل جواب دیتے ہوئے کہا کہ ” میں تمام اراکین پارلیمان سے گزارش کروں گا کہ وہ  اپنی  پارٹی مفاد  سے بالاتر ہوکر ان کے حلقوں میں  میری وزارت کی جانب سے انجام دئیے گئے کاموں کی  تعریف کریں ”۔ اس پر سونیاگاندھی مسکرائیں اور ستائش میں بنچ تھپتھپایا۔اسی کے ساتھ کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ بھی  گڈکری کی توصیف میں بنچ بجانے لگا۔ گڈکری نے ایک انٹرویو میں پنڈت نہرو کی تقاریر کو سراہا تھا اور  اندراجی کی بابت کہا تھا کہ انہوں  نے اپنے دور کے طاقتور مرد سیاستدانوں پر بغیر کسی ریزرویشن کے  برتری حاصل کرلی تھی۔ سونیا گاندھی کی ستائش  گڈکری کی  کا رکردگی کے بجائے ان کی جانب سے اپنے ساس سسر  کودئیےجانے والے خراج عقیدت  کا جواب تھا۔

نتین  گڈکری کےان  نت نئے بیانات سے بھی سونیا گاندھی خوش ہوں گی  مودی جی کے لیے  مسائل  کھڑے کردیتے   ہیں کیونکہ  دشمن کا دشمن تو دوست ہوتا ہے۔ ویسے بھی سیاست میں کوئی نہ کسی کا مستقل دوست ہوتا اور نہ دشمن  اس کی سب سے بڑی مثال ملائم سنگھ یادو ہیں۔ انہوں نے مودی جی کی زبردست  تعریف کرکے خود اپنے لیے مسائل پیدا کرلیے۔ ایوان پارلیمان   میں ملائم سنگھ کی تقریر سے بی جے پی والے اتنا خوش ہوئے کہ  جئے شری رام کے نعرے لگانے لگے۔  ملائم سنگھ یادو نے لوک سبھا میں مودی کی جانب اشارہ کرکے  کہا  آپ پھرسے وزیراعظم بنیں یہی ہماری خواہش ہے۔انہوں نے وزیراعظم کومبارکباد دینے کے بعد ایک ایسی بات کہہ دی کہ جو بی جے پی والے بھی نہیں کہتے۔  وہ بولے  وزیراعظم مودی مبارکباد کے مستحق ہیں کیونکہ وہ سب کوساتھ لے کرچلے ہیں۔ وہ تو اچھا ہوا کہ ملائم سنگھ نے مودی جی کو سب کا وکاس کرنےکا تمغہ  بھی  نہیں دے دیا ورنہ  لوگ ملائم سنگھ کو وکاس کے پاس پاگل خانے میں پہنچا دیتے۔

ملائم سنگھ کا یہ  بیان بھی سونیا گاندھی کے  قرض چکانے جیسا ہے۔ ۲۰۰۵ ؁ کے اندر رائے بریلی کے کانگریسی   وکیل وشوناتھ چترویدی  نےعدالت عظمیٰ میں ملائم، اکھلیش، پرتیک اور ڈمپل یادو کے خلاف جائز آمدنی سے زیادہ جائیداد کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا  تھا۔ ۲۰۰۶ ؁ میں ان کوانکم ٹیکس ریٹرن جمع کرنے کا  حکم دیا گیا اور ۲۰۰۷؁ میں ایف آئی آر درج ہوگئی ۔ اس  معاملے میں  ۲۰۱۳ ؁  تک کانگریس نے ملائم کو پریشان کیا اور انتخاب میں ساتھ لینے کے بعد شواہد نہیں ملنے کا بہانہ کرکے مقدمہ خارج کروادیا۔ مودی جی  بھی ملائم کے ساتھ یہی سلوک کرسکتے تھے لیکن  نہیں کیا۔ وہ ملائم کے بیٹے اور ان کے دست راست پر چھاپے پڑے مگر انہیں  چھیڑا نہیں گیا۔ ہر بدعنوان  سیاستداں کے اوپر سرکار کا یہ سب سے بڑا احسان ہوتا ہے۔ ملائم کےپرانے ساتھی  امر سنگھ نے یہی  کہا کہ ملائم اور مایاوتی کے زیراثر نوئیڈا کو لوٹنے اور بیچنے والے چندرکلا اور رام رمن کو مودی جی نے بچا لیا اسی لیے ملائم خوش ہیں۔

ملائم کی مسلمانوں میں مقبولیت کی وجہ   بابری مسجد کے معاملے میں ان کا دلیرانہ کردار ہےلیکن  انہوں نے اپنی عمر کے آخری حصے میں  وہی  غلطی کردی  جو اڈوانی نے پاکستان  جاکر کی تھی۔ قائداعظم کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد لال کرشن اڈوانی کی ساری قربانیوں پر یکلخت پانی پھر گیا۔ آج ان کے اپنے پریوار میں اڈوانی کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ان کی کسی رسوائی پر کوئی رنجیدہ نہیں ہوتا۔ ان کی کسمپرسی پر کسی  کورحم نہیں آتا۔ ملائم سنگھ کے ساتھ مسلمانوں کا  آگے چل کر یہی معاملہ ہوگا۔ جس طرح اپنی حماقت سے لال کرشن اڈوانی نے سنگھ پریوار کا نقصان کیا تھا ویسا ہی خسارہ ملائم سنگھ یادو نے اپنے خاندان اور پارٹی  کا کیا ہے۔  مودی لہر  کے دوران  جب  یادو برادری کی اکثریت والی  ایٹہ  سیٹ بھی ملائم کو غیر محفوظ لگنے لگی  تھی تو انہوں نے اعظم گڑھ کا رخ کیا لیکن اب یہ  طے ہے کہ اگر وہ  بی جے پی کے ٹکٹ پر بھی   اعظم گڑھ  جائیں تو ان کی ضمانت ضبط ہوجائے گی۔

ملائم سنگھ بی جے پی کے نزدیک نہایت  مبغوض رہنما  رہےہیں۔ وہ انہیں ملا ملائم   کے لقب سے نوازتی ہے کیونکہ ان کے خیال میں مسلمانوں کی خوشنودی کے لیے ملائم نے  رام سیوکوں پر گولی چلا ئی تھی۔ اس لیے کہ پہلے بی جے پی مائنارٹی سیل نے شکریہ کےبینر لگائے۔ رام بھکت سنگھ پریوار کے بارے میں  یہ غلط فہمی تھی کہ وہ ملائم کے مہا پاپ کو کبھی معاف نہیں کر ے گا لیکن یہ مفروضہ غلط نکلا۔ پہلے تو مودی جی نے دو مرتبہ ملائم کا ہاتھ جوڑ کر شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد رام کے مہا بھکت یوگی جی  نے بھی رام سیوکوں کے قاتل کو معاف کردیا۔ انہوں نے ملائم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہایہ بالکل سچ ہے اور سچ کبھی چھپتا نہیں ہے۔ ملائم جی نے جو کہا وہ اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ ا کھلیش کو والد  کا سچ تسلیم کرلینا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوستی اور دشمنی کا معیار رام بھکتی نہیں ووٹ بھکتی ہے۔ رام  بھکتوں کے قاتل  کی حمایت سے بھی  اگرووٹ ملتے ہوں  تواسے  شکریہ کے ساتھ وصول کرلیاجائے۔ ملائم سنگھ یادو کی اس حماقت نے  بی جے پی کو موقع پرست رام بھکتی کی قلعی کھول دی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close