آج کا کالم

ملک شام اور کتنی تباہی دیکھے گا!

بلآخر آج امریکہ نے شام کی سرحدوں میں اپنی فوج کا پہلا پیادہ دستہ بھیج ہی دیا۔ شام میں جب عرب انقلابات کی لہر پہنچی تو احرار الشام گروپ انقلاب کی پوری مہم کی قیادت کررہا تھا۔ احرار الشام کو ابتداء میں الگ الگ وجوہات کے سبب امریکہ و مغرب اور خلیجی ممالک و ترکی تقریباً تمام ہی ممالک کی تائید حاصل تھی اور فتح تقریباً یقینی ہوچکی تھی۔ شام کی عوام جشن آزادی کی پوری تیاری کرچکی تھی۔ بلاشبہ اس وقت ان کے لیے آزادی سے بڑی کوئی نعمت ہو بھی نہیں سکتی تھی۔ ظلم و جبر کی انتہاؤں کے سائے میں انہوں نے سالہا سال گذارے تھے۔ نئی نسلیں مایوسی کا شکار ہونے لگیں تھیں۔ عرب انقلابات کی لہر ان کے لیے آزادی کی بشارت لے کر باد بہار کی طرح آئی تھی۔ نوجوانوں میں عجیب جوش و خروش تھا۔ ہر نوجوان آزادی کی اس جدوجہد کا حصہ بننا چاہتا تھا۔ نہ کسی طمغے کی لالچ تھی، نہ ہر انسان کو عہدہ ملنے والا تھا۔ انہیں تو بس ایک ٹھنڈی ہوا کی تلاش تھی جو سالہا سال سے روک دی گئی تھی اور اب دیوار گرا دینے کا وقت آچُکا تھا۔ دور دراز کے ملکوں سے اپنی نوکریاں چھوڑ کر شام کے نوجوان اپنی سرزمین میں داخل ہورہے تھے۔ کوئی لوہار تھا جس نے ہتھوڑے کے سوا کوئی اوزار نہ اٹھایا تھا، کوئی درزی تھا جس نے قینچی چلاتے زندگی گذار دی تھی، کوئی ٹیچر تھا جو غصے کی انتہا میں بھی چھڑی سے آگے نہیں بڑھ سکتا تھا۔ آج یہ اپنے ہاتھوں میں ہتھیار لے کر کھڑے تھے، ہرگز اس وجہ سے نہیں کہ انہیں ہتھیار اٹھانے کا شوق تھا، آگ کے قریب کون جانا پسند کرتا ہے۔

جب عوام کے پرامن احتجاج پر بشار الاسد کی حکومت نے گولیاں چلوادیں اور گرفتار کرکے نوجوانوں کو جیلوں میں ٹھونسنے کا سلسلہ شروع ہوگیا تو اب ان کے پاس راستہ بھی کیا تھا۔
عوام میں قربانی کا ایسا جذبہ تھا کہ جرمنی کے ہاسپٹل میں زیر علاج ایک ادھیڑ مجاہد نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ "میرے پانچ نوجوان بیٹے ہیں اور مجھے فخر ہے کہ پانچوں اپنی رضا سے محاذ پر لڑ رہے ہیں۔ مجھے گولی لگ گئی تھی اس لیے یہاں ہوں اور عنقریب ان شاء اللہ میں پھر سے محاذ پر ہوں گا”۔
اسی اسپتال میں ایک نوجوان جس کا ایک پیر بری طرح زخمی تھا کہنے لگا کہ "میں دوسری بار اس اسپتال میں زیر علاج ہوں، پچھلی بار ہاتھ میں گولی لگی تھی اور علاج کرواکر میں محاذ پر لوٹ گیا تھا، اس بار پیر میں گولی لگی ہے، معلوم نہیں کتنا وقت برباد ہوجائے گا۔ مجھے محاذ پر جلدی سے لوٹ کر جانا ہے”۔ محاذ پر لڑ رہے ایک اسنائیپر جوکہ اس وقت بھی نشانے کی تلاش میں تھا، پوچھے جانے پر بتاتا ہے کہ "میں ملک کے باہر ایک ہوٹل چلاتا تھا اور اگر زندگی رہی تو جنگ جیت جانے کے بعد میں واپس وہیں چلا جاؤں گا البتہ آزاد ہوکر جاؤں گا” اور گفتگو کے دوران ہی اسے شاید نشانہ نظر آجاتا ہے اور وہ ٹریگر دبا دیتا ہے۔ ان تمام تر کوششوں، قربانیوں اور مشقتوں کے بعد جب عوام کو فتح قریب نظر آتی محسوس ہوئی تو اب امریکہ اور دوسری خارجی طاقتوں کو اپنے مفادات نظر آنے لگے۔ انہیں جب اس بات کا اندازہ ہوا کہ یہ عوام تو اسلام پسند ہے اور فتح حاصل ہوجانے کی صورت میں یہاں اسلامی حکومت کا قیام ہوجائے گا تو اچانک جنگ کا رخ ہی بدلنے لگا۔ پہلے داعش نے منظرعام پر آکر شام کی مہم کو دوسرا رخ دینے کی کوشش کی، پھر امریکہ نے احرار الشام کی مدد سے ہاتھ روک لیے، پھر روس نے داعش کو ہتھکنڈہ بنا کر احرار الشام کو جم کر نشانہ بنایا۔ اب جنگ تباہ کن سے تباہ کن ہوتی چلی گئی۔ لاکھوں لوگوں نے ملک چھوڑ کر ہجرت کرلی، چار لاکھ لوگ قتل کردئیے گئے اور آج بھی بشار کی حکومت الیپپو شہر میں مستقل بمباری کررہی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ساری دنیا مل کر آج اس خطے کی تباہی میں لگ گئے ہیں؟ اس کی صرف اور صرف ایک ہی وجہ ہے کہ اس خطے کے مسلمانوں نے کسی کی غلامی کا پٹہ اپنی گردنوں میں ڈالنے سے انکار کردیا ہے، وہ صرف اسلامی حکومت میں زندہ رہنے کا عزم کرچکے ہیں۔ اور یہ بات نہ مغرب کو ہضم ہورہی ہے اور نہ عرب ممالک کے گلے سے اتر رہی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ترکی کی تمام تر کوششوں کے باوجود امریکہ نے شام اور ترکی کے سپر ٹیسٹ کردوں کی تنظیموں کی پشت پناہی کے لیے اپنی فوجوں شام میں داخل کردی ہیں۔ دراصل کردوں کی جدوجہد اسلامی حکومت کے قیام کے لیے نہیں بلکہ کردستان کے قیام کے لیے ہے اس لیے امریکہ کو وہی شام کا واحد ایک حل نظر آنے لگا ہے۔ اب جنگ اور تباہ کن ہوجائے گی، کرد پیش قدمی کی کوشش میں مزید خون بہائیں گے اور جنگ کے چار بڑے اور مضبوط محاذ کھل جائیں گے؛ بشار کی حکومت، احرار الشام، کرد، اور داعش۔ عوام بہرحال مسلمان اور خاص کر اسلام پسند ہی زیادہ مرے گی کیونکہ ان کے پاس ہوائی حملے کرنے کی طاقت نہیں اور ان کو تین سمت سے اپنا دفاع کرنا ہے جبکہ پشت پر واحد ایک ملک ترکی کھڑا ہے۔ اللہ امت کے ان جیالوں کی قربانیوں کو قبول فرمائے اور انہیں جلد آزادی نصیب ہو۔

(مضامین ڈیسک)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

صلاح الدین ایوب

ڈاکٹر صلاح الدین ایوب نوجوان ادیب اور کالم نگار ہیں۔

متعلقہ

Close