آج کا کالم

ملک میں آئینی خلاف ورزی کی آئینی حیثیت

رویش کمار

سپریم کورٹ نے اتراکھنڈ کے بعد اب اروناچل پردیش میں صدر راج نافذ کرنے کے فیصلے کو رد کر دیا ہے. صدر راج کے معاملے میں اتراکھنڈ کا فیصلہ ہندوستان کے عدالتی اور سیاسی تاریخ کا پہلا فیصلہ ہے جو نئی حکومت کے بننے سے پہلے آیا ہے. اس کے پہلے ایسی مثال پاکستان سے ہی ہے جب 1993 میں نواز شریف کی برخاست حکومت کو وہاں کی سپریم کورٹ نے بحال کر دیا تھا. 1994 میں ایس آر بوممئی فیصلے کا حوالہ ہر صدر راج کے وقت دیا جاتا ہے مگر جب کئی سال بعد فیصلہ آیا تھا تو اس سے پہلے کرناٹک میں کسی اور کی حکومت بن چکی تھی. ایس آر بوممئی کی حکومت 1989 میں برخاست ہوئی تھی. تاریخ کی ستم ظریفی دیکھئے. جس بوممئی فیصلے کو صدر راج نافذ کرنے کے لئے بدنام ہو چکی کانگریس کے لئے سبق بتایا جاتا تھا، اسی فیصلے کی بنیاد پر دو ماہ کے اندر اندر کانگریس کی دو حکومتوں کو صدر راج سے آزادی ملی ہے. آئیے اروناچل میں صدر راج نافذ ہونے کی کہانی شروع سے شروع کرتے ہیں.

اس سال 26 جنوری کے دن جب آپ ملک میں آئین نافذ ہونے کے موقع پر جشن منا رہے تھے، سپر بازاروں میں سپر ڈسکاؤنٹ پر سامان خرید کر اپنا گھر بھر رہے تھے، رائے سینا ہلس میں واقع 340 کمروں کے صدارتی محل کے کسی کمرے میں صدر پرنب مکھرجی اس سفارش پر دستخط کر رہے تھے جسے مرکزی کابینہ نے بھیجا تھا کہ اروناچل میں صدر راج لگا دینا چاہئے. میڈیا کی خبروں کے مطابق 26 جنوری کی شام صدارتی محل سے مہمانوں کے جاتے ہی صدر نے مرکز کی اس سفارش پر دستخط کر دیا تھا. 26 جنوری کو شام 7 بج کر 59 منٹ پر پریس انفارمیشن بیورو کی اطلاع آتی ہے کہ اروناچل پردیش میں صدر راج نافذ کر دیا گیا ہے. بتایا جاتا ہے کہ 24 جنوری کو کابینہ نے اپنے اجلاس میں صدر راج کی سفارش کی تھی. 26 جنوری کے دن صدر راج لگانے کا فیصلہ تاریخ کے وجہ سے بھی كھٹكنا چاہیئے تھا، مگر کسی کو کھٹکا نہیں. اتراکھنڈ کی طرح اروناچل پردیش کو لے کر کوئی خاص ہنگامہ نہیں ہوا. شاید اس لئے بھی کہ میڈیا کی نظر میں صدر راج لگنے کے 100 سے زائد مثالوں کی وجہ سے یہ عام سا ہو چکا ہو گا. اس وجہ سے ہو سکتا ہے کہ 27 جنوری کے اخبارات میں اروناچل میں صدر راج لگنے کی سرخیاں بہت بڑی نہیں تھیں. پہلے صفحے پر تھیں مگر عام خبروں کی طرح. 27 جنوری کے دن سپریم کورٹ میں اس معاملے کو سنا جانا تھا مگر 26 تاریخ کو صدر نے کابینہ کی سفارش پر سائن کر دیا. اپوزیشن نے اسے جمہوریت کا قتل کہا تھا.

سپریم کورٹ میں سماعت ہوتی رہی مگر اروناچل پردیش میں حکومت بھی بن گئی. سات ماہ بعد سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے وہ ایک بار پھر سے ہماری جمہوریت میں سیاسی پارٹیوں کی بدنیتی پر سوال اٹھاتا ہے کہ کس طرح پارٹیاں اور ان کی وفاداری کے نام پر اداروں کے سربراہ آج بھی آئین کے ساتھ کھلواڑ کر لے رہے ہیں جبکہ آج کے وقت کو ستر اسی کی دہائی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بیدار اور چوکس کہا جاتا ہے. سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے ایك رائے سے فیصلہ دیتے ہوئے اروناچل پردیش میں سات ماہ پرانی کانگریس حکومت کو بحال کر دیا ہے. وہاں اس وقت بی جے پی کی حمایت سے حکومت چل رہی ہے. فیصلہ دینے والے ججوں کے نام ہیں جسٹس جے ایس كھیہر، جسٹس دیپک مشرا، جسٹس مدن بی لوكر، جسٹس پی سی گھوش اور جسٹس این وی رمننا.

اتراکھنڈ کیس کے وقت نینی تال ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ صدر یا جج کوئی بادشاہ نہیں ہیں کہ ان کے فیصلے کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا ہے. دوسری بار صدر راج لگانے کا مودی حکومت کا فیصلہ عدالت میں نہیں ٹک سکا ہے. حکومت کو بتانا چاہئے کہ اس کے ارادے ہی غلط تھے یا اس کے قانونی مشیروں نے غلط ارادے سے تجاویز دی، یا ان کے قانون کی سمجھ کچی ہے. سوال یہ نہیں ہے کہ وہاں موجودہ حکومت کے پاس اکثریت ہے تو اس کا کیا ہوگا. سوال یہ ہے کہ اس کا وجود میں آنا جائز تھا یا نہیں. عدالت نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت غیر قانونی ہے.

جن چیزوں کے لئے کانگریس کی تنقید ہوتی تھی ان ہی باتوں کا دفاع اب بی جے پی کررہی ہے. اس معاملے میں دونوں از اكول ٹو کی دوڑ میں ہیں. یعنی ایک جیسے ہوتے جا رہے ہیں. صدر راج اکثر اکیڈمک بحث کا موضوع بن کر رہ جاتا ہے. اس طرح کے معاملات میں کسی کی اخلاقیات یا جوابدہی درست نہیں ہے. اسی از اكول ٹو کی وجہ سے. اراکین اسمبلی کی کیا اخلاقیات ہیں. آپ نے حال ہی میں راجیہ سبھا کے انتخابات میں دیکھا، بس بھر بھر کر اراکین اسمبلی کھلے عام فائیو اسٹار ہوٹل میں ٹھہرائے جا رہے ہیں. کہیں کوئی سوال نہیں ہے. یہ ہماری سیاسی جماعتوں کی اخلاقیات ہیں اور یہ ہے آپ ووٹروں کی بیداری کی سطح. اگر عدالت کی چوکس نگاہ نہ ہوتی تو سوچئے کہ سیاسی جماعتیں جمہوریت کا جاپ رٹتے رٹتے کس طرح اس کا گلا گھونٹ دیتیں. نادانستہ طور پر ہی سہی بی جے پی پر نشانہ لگاتے ہوئے کپل سبل نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ صرف عدلیہ آئین کے اقدار کا تحفظ کر سکتی ہے. صرف عدلیہ. سیاسی جماعتوں کا جو ریکارڈ ہے اس کے حساب سے آئین کا تحفظ صرف عدلیہ کر سکتی ہے. مرکز میں پہلی بار بنی غیر کانگریسی عوامی حکومت نے 9 کانگریسی حکومتوں کو برخاست کیا تھا.

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وہ گھڑی کی سوئیاں پیچھے کر سکتی ہے. اروناچل پردیش کے موجودہ اسمبلی کے فیصلے رد کر دیئے گئے ہیں لیکن سات ماہ سے جو حکومت غیر قانونی طور پر چل رہی ہے کیا اسے کوئی سزا نہیں دی جائے گی. کیا اتنا آسان ہے کہ کوئی لیڈر غیر قانونی طور پر وزیر اعلی بن جائے، ریاست کے خزانے سے خرچ کر دے اور سپریم کورٹ کے حکم کے بعد استعفی دے کر گھر چلا جائے. کیا قانون کی نظر میں غیر قانونی حکومت کا وزیر اعلی مجرم نہیں ہونا چاہئے. کیا غیر قانونی حکومت کے وزیر اعلی یا وزیر کو عہدے سے ہٹنے کے بعد تمام سہولیات ملتی رہیں گی. کیا سابق وزیر اعلی کے طور پر ملنے والی تمام سہولیات رد نہیں ہونی چاہئیں. جسٹس كھیہر نے فیصلے میں کہا کہ جب سیاسی عمل کا قتل ہو رہا ہو تو کورٹ خاموش تماشائی بنا نہیں رہ سکتا.

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ گورنر جے پی راجكھووا نے 14 جنوری 2016 کی مقررہ تاریخ کے بعد بھی 16 دسمبر 2015 کو اسمبلی کا اجلاس بلا کر غیر آئینی کام کیا تھا. عدالت نے گورنر کے اس پیغام کو بھی رد کر دیا جو انہوں نے 9 دسمبر کے روز اسمبلی کو بھیجا تھا. کہا کہ گورنر اسمبلی کا ایجنڈا طے نہیں کر سکتے ہیں. اس لئے 9 دسمبر کے بعد اسمبلی کے تمام فیصلے غیر قانونی قرار پا جاتے ہیں. 9 دسمبر سے پہلے کی اسمبلی بحال کی جاتی ہے. یعنی کانگریس حکومت واپس اپنے وجود میں آتی ہے.

عام طور پر ایسے معاملات میں جس کی ہار ہوتی ہے وہ یہی کہتا ہے کہ فیصلے کا احترام کرتے ہیں مگر فیصلہ پڑھنے کے بعد ہی صحیح رائے دیں گے. اپیل کریں گے. جو جیت جاتے ہیں، انہیں اکثر فیصلے کی کاپی پڑھنے کی ضرورت نہیں ہوتی. تمام طرح کے قانونی مشیروں سے لیس مرکزی حکومت دو دو بار صدر راج کے معاملے میں سپریم کورٹ میں ہار جائے، اپنا دفاع نہ کر پائے، آپ اس فیصلے میں کیا پڑھنا چاہتے ہیں. یہ فیصلہ گورنروں کے کردار کو پھر سے نمایاں کرتا ہے. ہر بار کرتا ہے مگر کئی بار گورنر آئینی اقدار کی دھجیاں اڑا دیتے ہیں اور اپنے عہدے پر آرام سے بنے رہتے ہیں. شاہی محل کا سکھ بھوگتے رہتے ہیں. اروناچل پردیش کے گورنر نے اسمبلی کا اجلاس طے شدہ تاریخ سے ایک مہینہ پہلے بلا لیا تھا. اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ کیا اس کا مطلب ہے کہ جب بھی گورنر بور ہو جائے تو وہ جوش محسوس کرنے کے لئے اسمبلی کا اجلاس بلا سکتا ہے. کیا گورنر کا فیصلہ ٹھوس آئینی اصولوں پر مبنی تھا یا پھر ان کی خواہشات پر … آپ آئینی صوابدید کا حق تبھی استعمال کر سکتے ہیں جب وہ کسی آئینی اصول پر مبنی ہوں. یہاں کیا آئینی اصول تھا … کیا اسمبلی کے سیشن کو جلد بلانا آپ کے صوابدیدی اختیارات میں آتا ہے.

بی جے پی فیصلے کو عجیب بتا رہی ہے، اروناچل کے وزیر اعلی کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت بنی رہے گی، خبریں ہیں کہ مرکز کورٹ سے پھر اپیل کرے گا. سوال ہے کہ اس فیصلے کی اخلاقی جوابدہی کہاں جاکر رکتی ہے. کس کے پاس جا کر رکتی ہے. وزیر اعظم کے پاس رکتی ہے تو صدر کے کردار پر سوال کیوں نہیں ہو رہے ہیں. دو دو بار ان کی منظوری رد ہوئی ہے. کورٹ نے کہا ہے کہ گورنر کو سیاسی جماعتوں کے جھگڑوں سے دور رہنا چاہئے. حال ہی میں یوپی کے گورنر نے متھرا، کیرانہ اور دادری پر مرکز کو رپورٹ بھیجی ہے. دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کے کردار کو لے کر بھی سیاسی تنازع چلتا رہتا ہے. سپریم کورٹ کا فیصلہ ان سیاق و سباق میں بھی دیکھا جا سکتا ہے. کورٹ نے کہا ہے کہ صدر کو بھیجے نوٹس، ہر مہینے بھیجے جانے والی اطلاعات اس بنیاد پر صحیح ٹھہرائی جا سکتی تھیں کہ صدر کو ریاست کی سیاسی حیثیت کی معلومات دی جا رہی ہے. لیکن یہ گورنر کے حق سے باہر ہے کہ وہ اپنی آئینی حثیت کا استعمال کرتے ہوئے ان سیاسی تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کرے.

اس معاملے میں گورنر نے کبھی نہیں کہا کہ وزیر اعلی نبم تكی نے ایوان کا اعتماد کھو دیا ہے. نہ ہی یہ بتایا کہ کانگریس نے اسمبلی میں اکثریت کھو دی ہے. اگر ایسا ہوتا تو گورنر ایوان کی میز پر اکثریت حاصل کرنے کا حکم دے سکتے تھے. مگر گورنر نے خود ہی بتایا ہے کہ انہوں نے کبھی اعتماد کے ووٹ کی جانچ کے لئے نہیں کہا.

سپریم کورٹ نے سوال پوچھا ہے کہ کیا ہمارے ملک میں قانون کی حکمرانی، گورنر کو آئینی اصولوں اور اروناچل اسمبلی کے کام کاج کے قوانین کو ہوا میں اڑانے کی اجازت دیتا ہے. 331 صفحات کے اس فیصلے کی ہر لائن پڑھنے کے قابل ہے. ویسے اتراکھنڈ معاملے میں بھی گورنر کے کردار پر کم تبصرہ نہیں ہوا تھا مگر گورنر کا کچھ نہیں ہوا. دونوں صورتوں میں گورنر بنے رہے تو سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا اخلاقی مطلب کیا رہ جاتا ہے. ہمارے ملک میں رٹایا جاتا ہے کہ آئین ہی ہمارے لئے سب سے زیادہ ہے مگر اس کی خلاف ورزی پر کوئی سزا کیوں نہیں ہے. معمولی بیان دینے اور جیب کاٹ لینے پر جیل کی سزا ہوتی ہے، آئین کی خلاف ورزی کی نہ تو اخلاقی ذمہ داری نہ قانونی سزا. 100 سے زائد بار صدر راج لگا ہے. زیادہ تر مقدمات میں آئین کی خلاف ورزی ہوئی ہے پھر بھی کوئی سیاسی پارٹی آئین کی خلاف ورزی کی کسی سزا کا مطالبہ نہیں کرتی. کیا اس لئے کہ وہ جانتے ہیں … آئین سے كھیلیں گے نہیں تو راج کیسے کریں گے. یہ ہے آئین سے چلنے والے ملک ہندوستان میں آئین کی خلاف ورزی کی آئینی حیثیت.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close