آج کا کالم

ملک کا کسان اور جوان پریشان ہے!

رويش کمار

مسائل کی مارا ماری میں آگرہ سے ایک کسان کا فون آتا ہے کہ اکتوبر کے مہینے میں آلو کے جو بیج بوئے تھے ان کی  پیداوار بہت کم ہوئی ہے. وہ پہلے سے بربادی کا سامنا کر رہے تھے مگر اس بار مار اور پڑ گئی ہے. ٹی وی کا جو کردار ہو گیا ہے اور ناظرین کی پسند جس طرح بن گئی ہے، اس کے درمیان آلو والے کسانوں کی حالت پر آپ بحث کریں گے تو کس کی دلچسپی ہو گی. کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ آفریدی اور آلو کو جوڑ  کر بحث کی جائے تاکہ بہت سارے ترجمان آفس کے باہر لائن لگا کر کھڑے ہو جائیں کہ ہم بھی بولیں گے ہم بھی بولیں گے. اس مسئلہ کا حل آخر کب نکلے گا. کسانوں کو کیوں لگتا ہے کہ ان کے مسائل پر ٹی وی پر بحث ہوگی تو وہ حل ہو جائیں گے، کیا کبھی حل ہوئے ہیں. 2019 کے لئے جھوٹے وعدوں کی فہرست ہر پارٹی کے نیتا بنا رہے ہیں. جو کسان آج رو رہے ہیں وہی سب سے پہلے ان وعدوں کے جھانسے میں آئیں گے. بہرحال کسان نے جو بات بتائی ہے وہ اس طرح ہے.

ایک ایکڑ میں چالیس پیکٹ آلو کا بیج لگتا ہے. عام طور پر چالیس پیکٹ سے 250 پیکٹ آلو نکلتا ہے مگر اس بار تو 80 پیکٹ بھی نہیں نکلا ہے. یوپی حکومت سارے اخراجات جوڑ کر 650 روپے فی کوئنٹل آلو دینے کی بات کرتی ہے، مگر سارا آلو کہاں خرید پاتی ہے. آلو کسان نے بتایا کہ نوٹ بندي کے وقت سے ہی وہ بربادی جھیل رہے ہیں. اب اگر آلو تھوک منڈی میں 30 روپے کلو پرفروخت ہوگا تبھی ان کی لاگت نکلے گی. اس کے لئے 1500 روپے فی کوئنٹل کے بھاؤ چاہئے. ہم نے ان کی بات بتا دی. ایک کسان کا مسئلہ ہے یا مغربی یوپی کے تمام آلو کسانوں کے مسائل، بہت مشکل ہے اس کا طےکرنا۔ مگر کسان کی بات پر اعتماد تو کروں گا کہ زیادہ تر آلو کاشتکاروں کا یہی حال ہے.

گنا کسانوں نے چینی میلوں کو گنا تو دے دیا مگر پیسہ نہیں ملا ہے. مرکزی وزیر مملکت سی آر چودھری نے پارلیمنٹ میں بیان دیا ہے کہ 31 جنوری 2018 تک ملک بھر میں چینی میلوں پر 14000 کروڑ سے زیادہ کا بقایا ہے. اتنا پیسہ کسانوں کے پاس نہیں گیا ہے. یوپی کے گنا کسانوں پر 8000 کروڑ سے زیادہ کا بقایا  ہے. جبکہ یوپی حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ 14 دن کے اندر ادائیگی ہوگی. کئی جگہ سے کسان بتاتے ہیں کہ جنوری کے بعد سے پیسے نہیں مل رہے ہیں. سوچئے اتنا پیسہ ہاتھ میں نہیں ہونے سے کسانوں کی کیا حالت ہوتی ہو گی. یہ تو ان کی عظمت ہے کہ وہ پھر بھی ٹی وی دیکھ رہے ہیں جس میں ان کے مسائل نہیں ہیں. کسان بیج لیتا ہے، کھاد لیتا ہے، ٹائم پر نہیں آئے گا تو سود دینا پڑے گا.

راجستھان سے کسان نے لکھا ہے کہ سرسوں کی کم از کم امدادی قیمت 4000 روپے فی کوئنٹل ہے، مگر بازار میں کہیں بھی 3500 سے 3600 روپے سے زیادہ کے بھاؤ نہیں ہیں. چنا کی قیمت ہے 4400 روپے فی کوئنٹل اور بازاری قیمت ہے 3600 روپے فی کوئنٹل. اتنا ہنگامہ ہونے کے بعد بھی کم از کم امدادی قیمت کی یہ حقیقت ہے. جب تک کسان مظاہرہ نہیں کرتے اس وقت تک حکومت بھی کان نہیں دھرتی ہے. ان سب کے درمیان اچھی خبر یہ ہے کہ بھارت میں پیٹرولیم کی سیاست ختم ہو گئی ہے. ہوتی تو 75 سے 85 روپے فی لیٹر پیٹرول کی قیمت ہونے پر مٹی کا تیل ڈال کر پتلے پھونکے جا رہے ہوتے.

مہاراشٹر کے ہی 16 سے زیادہ شہروں میں پیٹرول کے بھاؤ 80 روپے سے زیادہ ہیں. ایک شخص نے بتایا تھا کہ کچھ دن پہلے اورنگ آباد میں ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت 85 روپے سے زیادہ ہو گئی تھی. ابھی ویسے ماہر اقتصادیات بھی نہیں ملتے ہیں جو چار سال پہلے پیٹرول ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے پر سنگین مضمون لکھا کرتے تھے. لگتا ہے کہ وہ سارے ماہر اقتصادیات لافٹر چیلنج میں چلے گئے ہیں. ناندیڑ میں 83 روپے 28 پیسے لیٹر، امراوتی میں 83 روپے 3 پیسے لیٹر، اكولا میں 82 روپے 79 پیسے لیٹر، سولہ پور میں 82 روپے 42 پیسے لیٹر اور جلگاؤں میں 82 روپے 18 پیسے لیٹر ہے.

ممبئی میں ایک لیٹر پٹرول کی قیمت 81 روپے 83 پیسے ہو گیا ہے اور پٹنہ میں 79 روپے 49 پیسے. اس سے پہلے بھارت کی عوام اقتصادی طور پر انتي سمجھدار نہیں تھی ورنہ تو 70 روپے فی لیٹر دام دیکھ کر ہی سڑکوں پر پتلا دہن ہونے لگتا تھا. مجھے پتہ ہے کہ سلمان خان کو سزا ملی ہے مگر 83 روپے فی لیٹر پیٹرول بھرانے کی آزادی بھی تو اس سے پہلے نہیں ملی تھی. ہم خبروں کی کولاج بنا رہے ہیں وہ دن جب میڈیا نے سلمان خان کی گرفتاری پر آپ کی پوری تیاری کرا دی ہے تاکہ اگر آئی آئی ٹی میں کوئی بھی سوال آئے تو آپ گھر بیٹھے پاس کر جائیں. ہم بھی دکھائیں گے، لیکن ابھی نہیں. ہم نہیں چاہتے ہیں کہ ہمارے ناظرین سلمان خان پر پوچھے گئے سوال کا جواب نہیں دے سکیں. دہلی میں پہلی بار پٹرول 74 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے.

راہل گاندھی نے جب ایک ٹویٹ کیا تو اس کے جواب میں مرکزی وزیر پٹرولیم دھرمے پردھان نے بھی ٹویٹ کیا اور کہا کہ پٹرولیم کی قیمتیں طے کرنا سیاست کی طرح ایک سنگین کام ہے، جس کے اتنے زیادہ عنصر ہوتے ہیں، جتنے لوک سبھا میں کانگریس کے ایم پی نہیں ہیں. ایک لنک بھیج رہا ہوں، امید ہے راہل گاندھی اسے پڑھیں گے اور سنجیدگی سے دلیل دیں گے. دھرمے پردھان نے آپ کو یہ بتایا کہ پیٹرول کی قیمت بڑھانے کے اتنے فیکٹر ہوتے ہیں جتنے کانگریس کے ایم پی نہیں ہیں لوک سبھا میں. اس سے پہلے جب وہ خود اپوزیشن میں پیٹرول کی قیمت بڑھنے پر مخالفت کرتے تھے تب کتنی وجہ ہوتی تھیں انہوں نے یہ نہیں بتایا. دھرمے پردھان نے ایک اور ٹویٹ کیا، جس میں کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمت کے پیچھے کی معاشیات ایسے شخص کو سمجھ نہیں آئے گی، جس کا حقیقت اور دلائل سے زیرو کنکشن ہے.

راہل گاندھی چاہیں تو ایک مضمون کا لنک دے رہا ہوں اسے دیکھ سکتے ہیں۔ امید ہے کہ راہل گاندھی قبول کریں گے کہ ملک کی بہتری کے لئے بہترین معیشت، مقبول سیاست سے ہمیشہ اچھی  ہوتی ہے. تو ملک کی بہتری کے لئے پٹرول کی قیمت 80 پار ہیں. یہ تو ہے کہ جس خوشی کے ساتھ عوام نے 80 روپے فی لیٹر پٹرول خریدنا شروع کیا ہے اتنا خوش وہ کبھی 65 روپے فی لیٹر پٹرول خرید کر نہیں ہوتی تھی. عوام بھی بدل گئی؟ راہل گاندھی نے ایسا کیا ٹویٹ کیا تھا جس سے دھرمیندر پردھان کو ایسا جواب دینا پڑا.

پیٹرول کی قیمت بڑھنا واقعی سنجیدہ موضوع ہے. اپوزیشن کا الزام ہلکا تھا اور وزیر کا الزام بھی ویسا ہی تھا. انہیں بتانا تھا کہ پھر وہ 65 روپے فی لیٹر کی قیمتیں بڑھنے پر کیوں مظاہرہ کرتے تھے، تو کیا ان کی حقیقت اور لو جك  سے کنکشن نہیں ہوتا تھا. بہرحال 3 اپریل کے نوکری سیریز میں ہم نے بتایا تھا کہ دہلی سبورڈینیٹ اسٹاف سلیکشن بورڈ امتحانات کی تاریخ کا اعلان نہیں کر رہا ہے. بہت سے امتحانات کا فارم تو هڑپا تہذیب سے پہلے ہی بھرا جا چکا تھا، مگر ابھی تک ڈي ایس ایس ایس بی امتحان نہیں لے پا رہا تھا. طالب علموں کی مظاہرے بیکار ہی جا رہے تھے مگر اس بار کا مظاہرہ کام کر گیا. چیئرمین صاحب نے انہیں بلا کر یقین دہانی کرائی ہے. 2013 سے 2018 آ گیا مگر امتحان نہیں ہوئی ہے. ابھی ڈي ایس ایس ایس بی  کے زیر التواء امتحانات جولائی میں ہو جائیں گی.

بھرتی کا اشتہار نكالنا پورے ملک میں ایک پیٹرن نظر آتا ہے. اشتہارات نكالیے اور امتحان ملتوی کرتے رہئے تاکہ طالب علم امید کی دنیا میں کھوئے رہیں. امید کے نام پر ہم ہندوستانی کئی سال صرف امتحان کی تاریخ کے انتظار میں ہی ختم کر سکتے ہیں. مدھیہ پردیش میں اسسٹنٹ پروفیسر کی بھرتی دو بار رد ہو چکی ہے. ایک بار 2014 میں اور ایک بار 2016 میں. دونوں بار طالب علموں سے فیس لی گئی. کروڑوں کی فیس. کمیشن کی کمائی بھی ہو گئی اور کام بھی نہیں دینا پڑا. نوجوانوں نے بتایا ہے کہ نومبر 2017 میں تیسری بار اشتہارات نکلا. اس کے لئے 1150 روپے فارم کے لئے کے لئے گئے. کسی کو پتہ نہیں کہ امتحان ہو گا یا منسوخ ہو جائے گا. اس لیے نوجوان انتخابی سال میں ملازمتوں کے اشتہارات سے بچو. یہ آپ کے غصے کو بھٹکانے کی پینترے بازی بھی ہو سکتی ہے. آپ کہیں گے تو ثابت بھی کر دوں گا.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close