آج کا کالم

ممتا اور مودی: میچ ڈرا، سیریز جاری

ممتا کے اس  اقدام نے جے پی کے خلاف سارے حزب اختلاف بشمول معتدل بی جے ڈی اور ہندوتواوادی شیوسینا  کومتحد ہونے کاموقع فراہم کردیا۔

ڈاکٹر سلیم خان

نپولین بونا پارٹ نے کہا تھا کہ ناممکن میری لغت کے اندر نہیں ہے۔ نپولین تو اس دعویٰ پر پورا نہیں اتر سکا لیکن ہندی فلموں  نے اسے سچ کردکھایا اور اب ساری دنیا میں  یہ  تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ  ان میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ہندوستانی سیاست فلموں سے بھی چار ہاتھ آگے نکل گئی  اگر یقین نہ آتا ہو تو  مغربی بنگال میں جاری  سی بی آئی  کے ہنگامہ  پر ایک نظر ڈال لیں سب سمجھ میں آجائے گا۔ ہر کس و ناکس یہ بات مان لے گا کہ جو  ہندی فلم میں بھی نہیں ہوسکتا وہ ہندوستانی سیاست میں   ممکن ہے۔ راجکپور کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ  وہ ہندی فلموں کے سب سے بڑے شو مین ہیں۔ یہی بات مودی جی کے بارے میں کہی جاسکتی ہے کہ وہ ہندی سیاست کے سب سے بڑے شومین ہیں۔ شومین  کا مقصد عوام کو تفریح فراہم کرکے اپنا الو سیدھا کرنا ہوتا ہے۔ کوئی اس کے ذریعہ نوٹ سمیٹتاہےتو کوئی  ووٹ بٹورتا ہے۔ پردۂ سیمیں  سے جو ستارے ٹوٹ  کر سیاست  کی دنیا میں آتے ہیں وہ  ووٹ  اور نوٹ   دونوں سے نوازے جاتے ہیں۔ سیاستداں اداکاری کے بغیر نوٹ اور ووٹ سے مالامال رہتے  ہیں۔ اس لیے   انہیں یک گونہ فوقیت حاصل ہے۔

  راجکپور  کے حوالے سے یہ بات بھی  کہی جاتی ہے کہ  وہ  اپنے فن کی بدولت آر کے اسٹوڈیو  جیسی  وسیع و عریض جائیداد بھی اپنے پیچھے چھوڑ گئے۔ اس کے برعکس ان سے بڑی کامیابی حاصل کرنے والے سنت مودی نے اپنی ذات کےلیے کچھ نہیں کیا۔ دراصل راجکپور کو رہنے کے لیے اپنے  گھر کی ضرورت تھی۔ سفر کے لیے اپنی  گاڑی چاہیے تھی۔ ہوائی جہاز میں سفر کرتے وقت کرایہ ادا کرنا پڑتا تھا۔ سبکدوشی کے بعد  پنشن کی سہولت بھی  نہیں تھی اس لیے اپنی معاشی حالت کو    مستحکم کرنا ان کی مجبوری تھی۔ اس کے برعکس مودی جی  دہلی کے   ایک شاندارمحل  میں بغیر کرایہ  اداکیےرہتے ہیں۔ زمین پر چلنے کے لیے مفت میں بی ایم ڈبلیوگاڑی  ہے۔ آسمان پر اڑنے کی خاطر بنا خرچ پورا  کا پوراہوائی جہاز ہے۔ ان  پہننے کے لیے  لاکھوں کا  کوٹ تحفہ میں مل جاتا ہے اوروہ کروڈوں  میں نیلا م بھی  ہوجاتا ہے۔ اوپر سے  ہر ماہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار بنک کے کھاتے میں جمع ہوجاتے ہیں۔ کل کو اقتدار سے محروم بھی ہوجائیں تووظیفہ  کی سہولت کے ساتھ تاعمر گھر، دفتر اور سفر کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

ان عیاشیوں کے چلتے اگر کوئی بھول چوک سے بھی وزیراعظم بن جائے تو اسے اپنی بقیہ زندگی کے گزر بسر کی فکر سے بے نیاز ہوجانا چاہیے۔  لیکن  سوال یہ ہے کہ جب انسان پوری طرح فارغ البال  ہے تو اسے اپنے جیسے  چائے والوں سے دوستی کرنی چاہیے۔ غریبوں کے کام آنا چاہیے۔ آخر امبانی، اڈانی  اور میہول چوکسی جیسے لوگوں کے درمیان  گھرے رہنے کی کیا ضرورت  جو عوام کا خون چوس کر عیش کرتے ہیں؟ اس سوال کا جواب مودی بھکتوں کے علاوہ ہر کوئی جانتا ہے؟  خیر  شومین جب بھی کسی چیز میں دلچسپی لیتا ہے اس کو دلچسپ بنا دیتا ہے۔  اس کی تازہ مثال سی بی آئی میں مودی جی کی مداخلت ہے۔ انہوں نے اس  باوقار ادارے  کےاندر ایک ایسی خانہ جنگی  چھیڑ دی ہے  جیسی کہ آنجہانی  نروپا رائے ساس بن کر اپنے خاندان میں چھیڑ دیا کرتی تھیں۔ وہ اپنے چہیتے منجھلے داماد راکیش استھانہ کو سی بی آئی  کا چیف بنانا چاہتے تھے۔  بڑے داماد آلوک ورما نے اس کی اجازت نہیں دی۔ دونوں نے ایک دوسرے پر بدعنوانی کے الزامات لگائے۔ دونوں کو چھٹی پر بھیجا گیا۔ دونوں نے عدالت کے دروازے پر دستک دی۔ دونوں  کے تبادلے کردیئے گئے۔  ان کی جگہ سب سے چھوٹے داماد  ناگیشور راوکو نئےعبوری چیف بنادیا گیا ۔ بدقسمتی سے  اس کے خلاف  خاندان کے اندر ناراض تاؤ سبرامنیم سوامی نے رشوت خوری کا الزام لگا دیا ۔ وہ معاملہ بھی عدالت میں  پہنچا۔ بالآخر  تنگ آکر شیوراج ماما کے بیٹے  رشی کمار کو نیا سربراہ بنایا  گیا۔

سارے خاندان نے سکون کا سانس لیا مگر اس سے پہلے کہ رشی کمار اپنا عہدہ سنبھالتے ناگیشور راو  اپنی مدت کار کے آخری دن جو اتفاق سے اتوار بھی تھا آدھی رات کو ایک نیا ہنگامہ کھڑا کرکے رخصت ہوگئے۔ نوٹ بندی کے بعد ساری دنیا جان گئی ہے کہ نصف شب میں  چھاپہ ماری  کس کا شیوہ ہے۔ اس کے نتیجے میں میوہ کون کھاتا ہے ؟ اور زحمت کون اٹھاتا ہے؟  رشی کمار نے جب عہدہ سنبھالا تو ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ کولکاتہ میں گرفتار اپنے افسران کو کیسے چھڑایا جائے؟ یعنی پہلے ہی دن کا مہورت غلط نکل گیا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ راجیوکمار نام کا ولن درمیان کیوں  ؟ اور کہاں سے آگیا ؟ یہ ۲۰۱۳ ؁ کی بات ہے جب ۲۴۶۰ کروڈ کا شاردا چٹ فنڈ گھوٹالا منظر عام پر آیا۔ اس کی تفتیش کے لیے ایک ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی جس کا سربراہ راجیوکمار کو بنایا گیا۔ کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی ان سے مطمئن نہیں تھی اس لیے ۲۰۱۴ ؁ کے اوائل میں انہوں نے سپریم کورٹ کے دروازے پر دستک دی۔ عدالت عظمیٰ نے تفتیش کی ذمہ داری سی بی آئی کو سونپ دی۔ ممتا بنرجی نے ۲۰۱۶ ؁ میں راجیو کمار کو کولکاتہ پولس کا کمشنر بنادیا۔

اس دوران کچھ سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ شاردا چٹ فنڈ معاملے میں ممتا بنرجی کو گھیرنے کے لیے ترنمل کے نائب صدر مکل رائے پر سی بی آئی کا شکنجہ تنگ ہوتا چلا گیا اور ان پر یکے  بعد دیگرے چھاپے پڑنے لگے۔ مکل رائے عافیت اس میں سمجھی کہ چولا بدل کر بی جے پی میں شامل ہوجایا جائے۔ وہ جیسے ہی بی جے پی میں آئے سارا معاملہ ٹھنڈے بستے میں چلا گیا۔ اس بیچ ایک ایسی آڈیو بھی سامنے آئی جس میں مکل رائے کو بی جے پی جنرل سکریٹری کے ساتھ یہ کہتے ہوئے سنا گیا  تھاکہ  ’’ اب، سب سے بڑی فکر ۴ آئی پی ایس افسروں پر نگرانی کرنے کی ہے۔ اگر سی بی آئی کو ان پر نگرانی رکھنے کو کہہ دیا جائے تو یہاں کا آئی پی ایس کیڈر خوف زدہ ہو جائے گا‘‘۔ یہ الفاظ اس ملزم کے ہیں جو شاردا چٹ فنڈ میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ کن افسران کو سی بی آئی سے ڈرانا چاہتا ہے اور کیوں؟ اس تناظر میں راجیو کمار کے گھر پر  سی بی آئی کی چھاپہ ماری کا مقصد واضح ہوجاتاہے۔

 وزیرداخلہ  راجناتھ سنگھ نے سی بی آئی  افسران کی گرفتاری کو آئینی بحران  قرار دیتے ہوئے گورنر سے اس کی رپورٹ طلب کرلی۔ مرکزی حکومت  عام طور کسی وزیراعلیٰ کو برخواست کرنے کے لیے گورنر کی مدد لیتی ہے اس لیے ممتا بنرجی کا اس کے خلاف دھرنے پر بیٹھ کر جذباتی بیانات دینا توقع کے عین مطابق ردعمل ہوگیا۔  حقیقت تو یہ ہے کولکاتہ کے پولس کمشنر ’ راجیو کمار تو بہانہ ہے ممتا ہی نشانہ ہے‘۔ سی بی آئی کے اہلکار  اگر  راجیو کمار کو گرفتار کرکے دہلی لانے کے اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتے تو کم ازکم ایک  ہفتہ تک ذرائع ابلاغ میں ممتا کو گھیرنے کا سامان مہیا ہو جاتا۔ ’یہ تو بس اک جھانکی ہے ممتا بنرجی باقی ہے ‘ وا لا نعرہ خوب زور و شور سے فضا میں گونجتا۔ اصلی گواہ  شکنجے میں آچکا ہے۔ اس نے ممتا کے خلاف سارے شواہد پیش کردیئے ہیں۔ اس طرح کی بریکنگ نیوز صبح و شام نشر ہوتیں۔   مرکزی حکومت نےممتا کو  معزول کرنے جارہی  ہے۔ ان کا انجام  لالو پرساد یادو سے برا ہوگا۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہی سب سننے کو ملتا لیکن ممتا نے مرکز کے اس تیر کواپنے پنجہ میں لے کر  اسی کی جانب واپس اچھال دیا۔

ممتا کے اس  اقدام نے جے پی کے خلاف سارے حزب اختلاف بشمول معتدل بی جے ڈی اور ہندوتواوادی شیوسینا  کومتحد ہونے کاموقع فراہم کردیا۔ عدالت عظمیٰ نے راجیو کمار کو سی بی آئی سے تعاون کرنے کی تلقین تو کی  مگر سی بی آئی کے تمام الزامات کو خارج کرتے ہوئے انہیں  گرفتار کرنے سے منع کردیا۔ اس طرح بلا واسطہ ممتا بنرجی کی تائید ہوگئی۔ بی جے پی یہ مثل صادق آگئی کہ  ’کھایا پیا کچھ نہیں گلاس پھوڑا بارہ آنہ‘۔ آئی پی ایل ٹورمنٹ میں اتفاق سے  دہلی کی ٹیم کا نام ’دہلی دئیر ڈیول ‘ ہے  یعنی دہلی کے حوصلہ مند شیطان۔ جس وقت اس ٹیم کو یہ نام  دیا گیا کوئی نہیں جانتا تھا کہ ایک دن مودی جی وزیراعظم بن  کر دہلی جائیں گے اور یہ ذومعنی ہوجائے گا۔ کولکاتہ کی ٹیم کا نام ’کولکاتہ نائٹ رائیڈر ‘ہے۔ اس  نائٹ  میں انگریزی حرف’کے‘ خاموشی سے اس کا مطلب رات سے سورما کردیتا ہے۔ جب  یہ  نام رکھا گیا  اس وقت بھی کسی کو پتہ نہیں تھا کہ یہ لقب ممتا بنرجی پر اس طرح صادق آئے گا۔ خیر کرکٹ کے تمام میچوں سے دلچسپ یہ تماشا ابھی حال میں کھیلا گیا۔  اس میں دہلی کے شیطانوں کی قیادت  وزیراعظم مودی فرمارہے تھے اور ان کی ٹیم میں سی بی آئی کے اہلکار شامل تھے۔ ان کا مقابلہ کولکاتہ کے سورما سے تھا جس میں پولس جوان پیش پیش تھے اور کپتانی کے فرائض ممتا بنرجی ادا کررہی تھیں۔ اس میچ  میں امپائر کی ذمہ داری سپریم کورٹ کو سونپی گئی اور چیف جسٹس  گوگوئی نے میچ ڈرا کردیا۔ اس کے باوجود ناظرین کو بہت مزہ آیا کیونکہ  ٹورنامنٹ جاری ہےاور اس کا فائنل مئی میں ہوگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

3 تبصرے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close