آج کا کالم

منتری جی! یہ دانشوری دہشت گردی نہیں، انسانیت ہے!

رویش کمار

 "یہ دانشوروں کا نیا رواج ہے اور شاید اسی میں شہرت بھی حاصل ہوتی ہے …”

راجیہ سبھا میں مرکزی وزیر جتیندر سنگھ جموں و کشمیر اور لداخ کے مسئلے پر بولتے ہوئے یہ غوروفکر کا مطالبہ کر رہے تھے کہ کسی کو اس طرح کی دانشوارانہ دہشت گردی پر سنجیدگی سے سوچنا چاہئے. ان کا کہنا ہے کہ اس کا نتیجہ، اثرات، متعدد ماڈل گزشتہ 20 سالوں میں دی جاتے رہے ہیں، کشمیر کو حل کرنے کے لئے. وزیر جی کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے اوپر سوالیہ نشان لگا کر کچھ لوگ اپنی کتابیں ہٹ کروا رہے ہیں.

شاید انہیں دھیان نہیں رہا ہوگا کہ ان کے نظریات اور جماعت کے لوگوں نے بھی کشمیر پر خوب کتابیں لکھی ہیں، مضمون لکھے ہیں، جلسے اور سیمینار کئے ہیں. آرٹیکل 370 کو ہٹانے کا مطالبہ بھی اسی دانشورانہ عمل کی دین ہے، جس کے تحت کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے متعدد ماڈل دیئے گئے، جن کے بارے میں اب حکومت بحث تک نہیں کرتی. بتاتی بھی نہیں کہ کیوں بحث نہیں کرتی ہے …؟ کیوں وزیر اعظم دو جھنڈوں کے پیچھے بیٹھ گئے …؟ امید ہے، وزیر جی نے دانشورانہ دہشت گردی کے ماڈل سے اپنے ساتھیوں اور بزرگوں کو باہر رکھا ہوگا.

ان کے کہنے مطابق میں دانشورانہ دہشت گردی پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہتا ہوں. دہشت گردی کو لے کر انتخابی سیاست کرنے والے لیڈر اکثر شش وپنج  میں رہتے ہیں. ان کا رویہ  الجھاؤ کا ہوتا ہے. جب کوئی بڑا واقعہ ہو جاتا ہے، تو فوری طور پر دہشت گردی کے مذہب پر آ جاتے ہیں، کچھ ماہ بعد پھر دہشت گردی کے مذہبی پہلو کو بھول جاتے ہیں. اپوزیشن میں رہتے ہیں تو اسلامی دہشت گردی ہو جاتا ہے، حکومت میں آتے ہی دہشت گردی سے اسلام غائب ہو جاتا ہے. جب تک اسلامی دہشت گردی ہوتی ہے، وہ کسی خاص مذہب کے خلاف ہوتا ہے، جیسے ہی وہ انسانیت کے خلاف ہوتا ہے، وہ اسلام کے بھی خلاف ہو جاتا ہے. اسلامی دہشت گردی بولتے وقت لیڈر لوگ جارحانہ اور اور جوشیلے لگتے ہیں، غیر اسلامی دہشت گردی بولتے ہوئے وہ حساس اور تپسوی لگتے ہیں.

اب جب ہمارے لیڈر اقتدار میں دہشت گردی کا مذہب نہیں تلاش کر پائے تو دہشت گردی کا دانشورانہ پہلو تلاش کرنا چاہتے ہیں. آج کل ‘انٹلکچول دہشت گردی’ یعنی دانشورانہ دہشت گردی کا جملہ کافی سنائی دیتا ہے. دہشت گردی سے اسلام کا لائسنس منسوخ کرنے کے بعد فی الحال سرکاری طور پر ‘دانشورانہ دہشت گردی’ ہی منظور شدہ لگتا ہے. اگر دہشت گردی انسانیت کے خلاف ہے تو دانشورانہ دہشت گردی کس کے خلاف ہے …؟ حکومت یا انسانیت کے …؟

ہمارے لیڈر زبان کو سب سے ہلکا میدان سمجھتے ہیں. انہیں لگتا ہے کہ زبان کسی غریب یا دلت کی سرزمین ہے، جب چاہو کپڑے اتار کر مارو، مرضی آئے تو نل سے پانی پینے پر مار دو، من کرے تو گاؤں سے ہی نکال دو. مسئلہ یہ ہے کہ آج کے منظر نامے میں ایک بھی لیڈر ایسا نہیں ہے جو زبان کو لے کر بیدار اور جاندار ہو. ان کی زبان میں الفاظ کا تنوع ختم ہوتا چلا جا رہا ہے. کوئی دانشوری کی مخالفت کیسے کر سکتا ہے …؟

دانشورانہ دہشت گردی کیا ہوتی ہے …؟ راجیہ سبھا کے کچھ اراکین نے بھی کشمیر کے پس منظر میں ہندوستان سے الحاق کے وقت کی باتیں کہیں. کیا ایسا کہنا دانشورانہ دہشت گردی ہے …؟ عقل کے خلاف اتنی نفرت کیوں ہے …؟ کیا ہندوستانی عوام پڑھنا لکھنا، غوروفکر کرنا- بحث کرنا چھوڑ دیں، کیونکہ عقل سے حکومت دہشت زدہ ہو جاتی ہے …؟ پھر کیوں حکومت دہشت زدہ ہوکر پیلیٹ گن کے متبادل کے لئے کمیٹی بنا رہی ہے …؟ کیا ایسا کرنے کا خیال اسے خود آیا یا اسی تنقید یا دانشوری سے آیا، جسے لکھنے بولنے والوں کو جتیندر سنگھ جی مبینہ طور پر دانشورانہ دہشت گردی کے دائرے میں رکھنا چاہتے ہیں. کیا آرٹیکل 370 ہٹانے کی بات کرنا ایک قسم کا پاگل پن نہیں تھا، جسے اب بھلایا جا چکا ہے.

قوم پرستی کی آڑ لے کر پہلے فرقہ واریت کو شہ دی گئی، اب اس کی آڑ میں دانشوری کو دہشت گردی بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے. کوئی حکومت عقلی تجزیہ سے کیسے خار کھا سکتی ہے …؟ راجیہ سبھا میں وہی تو ہو رہا تھا. کیا وہاں دانشوری کے علاوہ کچھ ہو رہا تھا …؟ بغیر دانشوری حساسیت نہیں آتی ہے. اسی طرح رواداری-عدم برداشت کا کھیل کھیلا گیا. رواداری کا مذاق اڑایا گیا، اس کی بات کرنے والوں کے خلاف ریلی نکالی گئی. اس بحث کی بنیاد میں گئوركشكوں جیسی جارحیت ہی تو تھی جس کا فلموں سے آئے لوگ حمایت کرنے کے لئے دہلی کی سڑکوں پر اتارے گئے تھے.

اب گئوركشكوں سے تصویر بگڑنے لگی اور لوگ خلاف ہونے لگے تو 70-80 فیصد گئوركشكوں کو سماج دشمن عناصر بتا دیا گیا. کیا یہ رواداری کی بات کرنے والوں کی جیت نہیں ہے …؟ ٹھیک ہے، انہوں نے اس جیت پر جشن نہیں منایا یا کھل کر خیر مقدم نہیں کیا، لیکن میرے حساب سے یہ بڑی کامیابی ہے. یہ حکومت کی بھی جیت ہے اور سماج کی بھی. وزیر اعظم کی جانب سے صرف بیان نہیں آیا ہے، بلکہ وزارت داخلہ سے ریاستوں کو باقاعدہ ہدایات بھیجی گئی ہیں کہ گئوركشا کے نام پر کسی بھی ہجوم یا شخص کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے.

کل تک جو باتیں عدم برداشت اور دانشورانہ دہشت گردی کے دائرے میں فٹ بیٹھ رہی تھیں، آج وہی حکومت کی اچھی ہوش مندی کی راہ ہموار کر رہی ہیں. کیا یہ تبدیلی عدم برداشت کی مخالفت کرنے والے عظیم دانشوروں کی وجہ سے آئی …؟ حکومت جب سنتی ہے، سمجھتی ہے، تو اچھا لگتا ہے، اس لئے دانشورانہ دہشت گردی کی وضاحت کرنے میں وقت ضائع نہ کریں، ورنہ ایک دن کہنا پڑ سکتا ہے کہ دہشت گردی کا عقل سے کیا سروکار. دہشت گردی کا کوئی رجحان نہیں ہوتا ہے.

قوم پرستی کسی موضوع پر سوچنے کی آخری حد نہیں ہے. خود قوم پرستی کا اپنا کوئی ٹھکانہ نہیں. اس کا نہ ایک جغرافیہ ہے، نہ ایک تعریف، اس لئے مناسب طریقے سے طے کر لیجئے، دہشت گرد کون ہے …؟ اگر صحیح سے جاننا ہے تو معلوم کیجئے، داعش  دہشت گرد گروپ کو کس نے کھڑا کیا …؟ کس نے ہتھیار دیئے …؟ وکی لیکس نے دعوی کیا ہے کہ ہلیری کلنٹن نے داعش کو ہتھیار فروخت کئے ہیں. ہلیری انکار کر رہی ہیں. وکی لیکس کہہ رہا ہے اس کے پاس ثبوت ہیں. برطانیہ میں چلكاٹ کمیٹی کی رپورٹ نے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے خلاف ثبوت دیئے ہیں کہ انہوں نے جھوٹ بول کر عراق پر حملہ کیا. عراق جنگ میں مارے گئے برطانوی فوجیوں کے اہل خانہ نے بلیئر کو دہشت گرد کہا ہے.

اس لئے ہم دانشوری کو کسی حد میں نہیں باندھ سکتے. ہم یا آپ یا کوئی بھی حتمی طور پر کچھ نہیں جانتا ہے. پھر بھی اتنے ثبوت تو آنے لگے ہیں کہ دنیا بھر میں دہشت گردی کو کون اسپانسر کر رہا ہے. اگر آپ نے واقعی دہشت گردی کے پیچھے مذہب کے ہونے کے مفروضہ سے نجات پا لی ہے تو آئیے، اسی دانشوری کے ساتھ ہو لیجئے، جو دنیا میں دہشت گردی کو پالنے- پوسنے میں شامل متحدہ سربراہان، ایلیٹ رہنماؤں اور کارپوریٹ کے ملے ہونے کے تجزیوں میں شامل ہیں. جس دانشوری کو آپ دہشت گردی بتانا چاہتے ہیں، دراصل وہ کچھ اور نہیں، انسانیت ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close