آج کا کالم

مندر وہیں بنائیں گے سے مندر نہیں بنائیں گے تک

مندر کے مسئلہ پر عوام کو اس قدر بیوقوف بنایا جا چکا ہے کہ اب یہ لوگ مندر ’کہیں بنائیں یا نہیں بنائیں‘ ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔   

ڈاکٹر سلیم خان

’مندر وہیں بنائیں گے‘ کا نعرہ ہر انتخاب کے وقت لگتا ہے مگر کب اس میں دبے پاوں  ’و‘ کی جگہ ’ن‘ آجاتا ہے پتہ ہی  نہیں چلتا۔ ۲۰۱۴ ؁ میں  مودی جی کے ’اچھے دنوں ‘ کے خواب خوب بک رہے تھے اس لیے  بی جے پی کو انتخاب جیتنے کے لیے رام مندر کی ضرورت نہیں تھی۔  ۲۰۱۸ ؁  میں جب  ’اچھے دنوں ‘ کے خواب ٹوٹ پھوٹ کر بکھر گئے اور  انتخاب جیتنا  مشکل ہوگیاتوسنگھ پریوار کو رام مندر کی یاد آئی۔ ۵ اکتوبر  ۲۰۱۸ ؁  وی ایچ پی کی اعلیٰ اختیاری کمیٹی کا اہم اجلاس ہواجس مرکز کی مودی حکومت کو ایودھیا میں رام مندر تعمیر کے لیے چار مہینے کا الٹی میٹم دیا گیامگر اس کے ٹھیک چار ماہ بعد وی ایچ پی نے اپنے موقف سے یوٹرن لیتے ہوئے ۴ ماہ کے لیے  احتجاج  ملتوی کردیا ۔ جس وقت  یہ توقع کی جارہی تھی کہ  زعفرانی  لومڑیاں رام مندر کے نام پر بی جے پی کے لیے ووٹ مانگنے نکل پڑیں  گی انہوں  نے شتر مرغ کی مانند اپنا منہ ریت میں چھپا دیا۔ اس لیے کہ انہیں اندازہ ہوگیا ہے، ’ اب کی بار‘مندر کے نام پر ووٹ تو نہیں ملے گا لیکن  رہی سہی ساکھ خاک میں مل جائے گی۔ سچ تو یہ ہے کہ سنگھ پریوار کی  ابن الوقتوں نے رام کا نام دیو آنند کی فلم ’ہرے راما ہرے کرشنا  ‘ کے ہپیّوں سے زیادہ بدنام کیا ہے۔

سادھو سنتوں نے مودی حکومت کو ۳۱ جنوری تک مندر تعمیر کی مہلت دے کرکہا تھا  کہ ا ب عدالتی فیصلے کا انتظار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ۳۱ جنوری گزر گئی لیکن سرکار ٹس سے مس نہیں ہوئی۔حکومت کو آرڈیننس لانے پر مجبور کرنے کے لیے اراکین پارلیمان ، صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم سے ملاقات کرنے کا بھی ارادہ  کیا دیا گیا تاکہ ایوان میں مسئلہ اٹھایا جائےلیکن کسی نے وقت نہیں دیا۔ہر حلقۂ انتخاب میں رام مندر کے لیے جلسۂ عام کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا مگر  وہ بھی ایودھیا میں شیوسینا کے ادھو ٹھاکرے کی  رسوا ئی تک محدود رہا۔پریاگ راج میں مہاکمبھ سے  وی ایچ پی کو بڑی توقعات وابستہ تھیں لیکن وہاں پر پہلے تو سنگھ کے بھیاجی  نے اپنا سُر بدلتے ہوئے ۲۰۲۵ ؁ تک رام مندر کی تعمیر کا اشارہ کرکے رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔ ان کے بعد یکم فروری موہن بھاگوت نے آئندہ چار ماہ رام مندر کو بھلا کر اس پارٹی کے لیے کام کرنے کا مشورہ دے ڈالا جو انتخاب کے بعد مندر تعمیر کرسکتی ہے۔

 اس  متنازع بیان پربھاگوت کی مخالفت میں ’رام مندر بناؤ یا واپس جاؤ‘ کے نعرے لگنے لگےاورانہیں راہِ فراراختیارکرنا پڑی۔ اس کے بعد ۵ فروری کو تووی ایچ پی کے سکریٹری سریندر جیننے ملک کی سیاسی فضا کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے تحریک کو چار ماہ کے لیے ملتوی کردیا۔ اس طرح انہوں نے رام مندر کا مسئلہ پر سیاسی فضا کے خراب ہونے کی بات مان لی۔ اصل بات یہ ہے کہ وی ایچ  پی  کو نہ تو سیاسی فضا سے کوئی مطلب ہے اور رام مندر سے کوئی لینا دینا ہے۔ ان لوگوں کے لیے تو یہ ایک ووٹ دینے والی مرغی ہے۔ ہر انتخاب کے  وقت اس سے توقع کی جاتی ہے کہ اس بار یہ سونے کا انڈا دے گی لیکن ایسا کبھی  نہیں ہوا۔

اس مرتبہ  بھی جب گھر واپسی کے بجائے اپنے گھر کے ووٹرس فرا رہونے لگے۔ رومیو بریگیڈ نے جولیٹ کے ساتھ خودکشی کرلی۔ گئو  ماتا  کھیتوں میں  قہر بن کر نازل ہونے لگی۔ تاجرنوٹ بندی کی چوٹ سے سنبھلے بھی  نہ تھے کہ جی ایس ٹی نےگاہکوں کو  بازار سے بیزار کردیا۔ بیروزگاری نے نوجوانوں کے منہ کا نوالا چھین لیا اور کسان اپنی فصلیں جلاکر خودکشی پر مجبور ہونے لگے تو بی جے پی کو رام کے نام کی  یاد آئی، لیکن عدالت عظمیٰ نے سنگھ  کی ساری دھاندلی کو آہنی قدموں تلے رونددیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ  ’مندر وہیں بنائیں گے‘ کے بجائے ’مندر نہیں بنائیں گے‘ کی صدا فضاوں میں گونجنے لگی۔ ویسے مندر کے مسئلہ پر عوام کو اس قدر بیوقوف بنایا جا چکا ہے کہ اب یہ لوگ مندر ’کہیں بنائیں یا نہیں بنائیں‘ ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close