آج کا کالم

مندسور کے واقعہ کے بہانے سیاست کرنے والوں کا ارادہ کیا ہے؟

مندسور میں کوئی ملزم کے ساتھ نہیں ہے۔ ہر طبقے اور مذہب کے لوگ ملزم کے خلاف ہیں۔

رويش کمار

عصمت دری کا ہر واقعہ ہم سب کو پچھلے واقعہ پر ہوئی بحث پر لا چھوڑتا ہے۔ سارے سوال اسی طرح گھور رہے ہوتے ہیں۔ نربھیا کانڈ کے بعد اتنا سخت قانون بنا، اس کے بعد بھی ہمارے سامنے ہر دوسرے دن نربھیا جیسے دردناک واقعہ سامنے آکھڑے ہوتے ہیں۔ قانون سے ٹھیک ہونا تھا، قانون سے نہیں ہوا، بھیڑ سے ٹھیک ہونا تھا، بھیڑ سے بھی نہیں ہوا۔ یہ بیماری ہندو مسلم کی سیاست میں نہیں ہے بلکہ دونوں فرقوں میں پل رہی مردہ ذہنیت میں ہے اور اس کے ساتھ کہاں کہاں ہیں، اب یہ کوئی نئے سرے سے جاننے والی بات نہیں رہی۔ سب کو سب کچھ پتہ ہے۔ اس کے بعد بھی عصمت دری کو لے کر ایسا کچھ نظر نہیں آتا جس سے لگے کہ حالات بہتر ہوئے ہیں۔

مدھیہ پردیش کے مندسور میں سات سال کی بچی کے ساتھ جو ہوا ہے، اسے خوفناک کہنا بھی کم خوفناک لگتا ہے۔ شہر اور آس پاس کے گاؤں کے لوگوں نے بھی شدید رد  عمل ظاہر کیا ہے اور لوگ سڑکوں پر اترے ہیں۔ سماج کا ایسا کوئی طبقہ نہیں ہے جو اسے لے کر ناراض نہیں ہے۔ پولیس نے صورتحال کو بھی سنبھالا ہے اور ملزم عرفان اور آصف کو گرفتار بھی کیا ہے۔ ایسا کہیں سے نہیں لگ رہا ہے کہ پولیس ڈھلائی کر رہی ہے نہ کسی نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ سرکاری ہسپتال ہے مگر پھر بھی ڈاکٹروں نے ابھی تک بہتر طریقے سے متاثرہ کو سنبھالا ہے۔ لڑکی کی آنت تک باہر آگئی تھی، اس عمر میں اسے تین تین آپریشن جھیلنا پڑا۔ خبر آ رہی ہے کہ اس کی حالت بہتری کی طرف بڑھ رہی ہے۔

لوگوں کے فطری غصے کے بیچ ایک سیاست بھی ہے جو جگہ بنا رہی ہے۔ اسپتال میں بی جے پی کے نیتا سدھیر گپتا گئے تو ممبر اسمبلی سدرشن گپتا کو یہ یاد رہا ہے کہ متاثرہ کی ماں اس حالات میں نیتا جی کو آنے کے لیے شکریہ کہے۔ پتریکا نے لکھا ہے کہ کانگریس لیڈر ہسپتال سے الجھنے لگے کہ بی جے پی لیڈروں کی طرح انہیں بھی جوتے موزے پہن کر اندر کیوں نہیں جانے دیا جا رہا ہے۔

بلاتکاری کے ساتھ کوئی کھڑا نہیں ہوتا۔ کٹھوا میں عصمت دری کے ملزم کے حق میں لوگ نکلے تھے تب اس پر سوال اٹھا تھا اور بحث ہوئی تھی جس کی وجہ سے دو وزراء کو استعفی دینا پڑا تھا، کیونکہ وہ عصمت دری کے ملزم کے حق میں ہونے والی ریلی میں شامل تھے۔ اس حقیقت کو بھولنا نہیں چاہیے۔

مندسور میں کوئی ملزم کے ساتھ نہیں ہے۔ ہر طبقے اور مذہب کے لوگ ملزم کے خلاف ہیں۔ انجمن اسلام کے یونس شیخ اور سیرت کمیٹی کے صدر ایڈوکیٹ انور منصوری نے کہا ہے کہ کوئی بھی ملزمان کا مقدمہ نہیں لڑے گا اور اگر عدالت موت کی سزا دیتی ہے تو دفن کرنے کے لیے قبرستان میں جگہ نہیں دی جائے گی۔

یہ بتاتے ہوئے بھی عجیب لگتا ہے کہ مندسور کے واقعہ کو لے کر وہاٹس ایپ یونیورسٹی میں طرح طرح کے م بننے لگے ہیں۔ لکھا جانے لگا ہے کہ کٹھوا میں آصفہ کے لیے بولنے والے مندسور کی بچی کے لیے خاموش ہیں۔ اس بہانے طرح طرح کے فرقہ وارانہ م بننے لگے ہیں۔ نفرت والے میسیج پھیلائے جانے لگے ہیں۔

کٹھوا کی آصفہ کی مثال دینے والے بھول جاتے ہیں کہ وہاں کون لوگ عصمت دری کے ملزم کے ساتھ کھڑے تھے۔ اس کی بنیاد مذہب تھا یا کچھ اور تھا۔ اگر عصمت دری کے ملزم کے حق میں جلوس نہ ہوا ہوتا، توپولیس کو چارج شیٹ دائر کرنے سے روکنے کے لیے بھیڑ کھڑی نہ کی گئی ہوتی تو کوئی اس پر بحث تک نہیں کرتا۔ کسی کا قتل کرکے ویڈیو بنانے والے ریگر کے ساتھ کون لوگ کھڑے تھے اور چندہ جمع کر رہے تھے۔ یہ سب آرہا ہے اور ہو رہا ہے۔ کیا وہ مجرم کے مذہب کے ساتھ نہیں کھڑے تھے؟ کیا مذہب کے نام پر اس کے جرم کو نظر انداز کرکے چندہ جمع نہیں کر رہے تھے؟

آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ سب کچھ بھیڑ کے حوالے کر دینا ہے یا قانون کو کام کرنے کے لیے ایک منصفانہ طریقہ بنانا ہے، جو عصمت دری کے ایسے ملزم کے ساتھ سختی سے پیش آئے، تحقیقات اور قانون کے عمل کو انجام تک پہنچا دیا جائے، پھر وہ سب ہو جو بھیڑ چاہتی ہو۔ مندسور کے واقعہ سے فائدہ اٹھانے والے اور اس بہانے لاکھوں فرقہ وارانہ سوچ کو جائز ٹھہرانے والے لوگ یہ کام اس وقت بھی کرتے رہتے ہیں جب ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوتا ہے۔ ملزم کا مذہب سامنے نہیں ہوتا ہے۔ وہ اس وقت بھی یہ سب کرتے رہتے ہیں کیونکہ ان کا مقصد یہی ہے۔

ان لوگوں کو خاموشی سے مطلب ہوتا تو اندور کی اسمرتی، لہرپورے کی خودکشی یا پھر مدھیہ پردیش کے دوسری عصمت دری کے واقعات پر بھی ویسے ہی سرگرم رہتے۔ کیا وہ ہیں؟ پھر پوچھ کر کیا ثابت کر رہے ہیں، خود کا تعارف کرا رہے ہیں یا پھر جس سے پوچھ رہے ہیں اس کا امتحان لے رہے ہیں؟ اسمرتی لہرپورے کی خودکشی پر بھی اندور کے طالب علم مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ایمس بھوپال کے طالب علموں نے اس کی حمایت میں مارچ نکالا اور تعزیتی نشست کی۔ اسمرتی کے گاؤں میں بھی احتجاج ہوا مگر وہاٹس ایپ میں کسی نے م نہیں بنائی۔

یہ سوال بھی اسی بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کے تحت آتا ہے جس کے تحت کوئی بھی دوسرا واقعہ۔ پانچ سال تک میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ایک لڑکی کو فیس کے دباؤ کی وجہ سے خود کشی کرنی پڑ گئی، اوپر سے کالج کی انتظامیہ اس کی کردار کشی کر رہا ہے کہ اس کا کسی سے افیئر تھا۔ جبکہ سوسائڈ نوٹ میں ذکر ہی ان باتوں کا ہے کہ کس طرح فیس وصولی  میڈیکل کے طالب علموں کو غلامی میں تبدیل کر رہی ہے۔ ان کے لیے تو کسی نے مجھے نہیں للکارا یا م نہیں بنایا۔

اس لیے ہم لکھے نہ لکھیں مگر مندسور جیسے واقعہ کے ملزم کی حمایت میں خاموش رہ سکتے ہیں، یہ وہی کہہ سکتے ہیں جو خود خاموش رہتے ہیں اور فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرنے کے لیے دوسروں کی خاموشی کا حساب کرتے ہیں۔ مندسور کی اس بیٹی کے ساتھ جو ہوا ہے، اسے سن کر کسی بھی انسان کے ہوش اڑ جاتے ہیں۔ میرے بھی اڑ گئے۔ اس کی تصویر دیکھی نہیں جا رہی ہے۔ رونا آجا رہا ہے۔ کل پھر ایسا واقعہ ہمارے سامنے ہو گا جس کا ملزم ہندو ہو سکتا ہے، کوئی اعلی ذات کا ہو سکتا ہے کوئی اور بھی ہو سکتا ہے، مسلمان بھی ہو سکتا ہے۔

ہم کس طرح سارے واقعات پر بول سکتے ہیں اور کیوں تبھی بولنا ہے جب مجرم یا ملزم کوئی مسلمان ہو۔ مسلمان ملزم ہونے پر کیوں مان لینا ہے کہ ہم خاموش ہیں یا خاموش رہیں گے۔ ہم نے یا راجدیپ نے یا ساگركا نے تو کبھی کسی مجرم کا دفاع نہیں کیا۔ نہ کروں گا وہ چاہے کسی بھی مذہب کا ہو۔ پرائم ٹائم میں انوراگ کی کہانی بھی چلی تب بھی اگلے دن وہاٹس ایپ بھرا ہوا ہے کہ مندسور پر کب چلاوگے۔ چینل پر بھی چلتا رہا ہے۔

اگر کچھ لوگوں کو اس شرمناک اور جسم کو كنپا دینے والے حادثے کے بہانے کی سیاست بھی سمجھ نہیں آتی ہے تو کیا کیا جا سکتا ہے۔ کم از کم ان لوگوں سے یہی پوچھ لیجیے کہ کام کے سوال پر کب بولیں گے۔ سوئيس بینک میں 50 فیصد فنڈز بڑھ گیا، اس پر کب بولیں گے، ایک ڈالر 69 روپے کا ہو گیا ہے اس پر کب بولیں گے، کالا دھن کب آئے گا اس پر کب بولیں گے۔ جواب نیتاؤں کو دینا ہے اور بھڑايا جا رہا ہے لوگوں کو۔ کمال کا کھیل ہے۔ آپ مت كھیلیے۔ اس بچی کے لیے دعا کیجیے۔ مجرم کے لیے کوئی دعا نہیں کر رہا، ایسی افواہیں مت پھیلائیے۔

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close