آج کا کالم

مودی جی: نہ تم سے رہبری ہوگی، نہ ہم سے پیروی ہوگی

ڈاکٹر سلیم خان

دو سال دو ماہ قبل نئی حکومت کے جو نئے چہرے سیاسی افق پر نمودار ہوئے تھے ان میں سے تین کا تعلق گجرات سے تھا اور ایک کا دہلی سے باقی سارے وہی تھے جو برسو ں سے ایوان پارلیمان اور ٹی وی کے پردے پر نظر آتے رہے تھے۔ یہ حسنِ اتفاق ہے   ان چاروں میں سے ایک مرد تھا اور تین وخواتین  تھیں۔ اس عرصے میں تینوں خواتین کی نیاّ ڈوب چکی ہے  اور چوتھا ہاتھ پیر مار رہا ہے۔ اسی کے ساتھ  منجدھار میں ہچکولے کھاتی کشتی کا ناخدا سر پکڑ کرسوچ رہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو گمنامی کے سمندر میں غرق ہونے سے کیسے بچائے؟  مسئلہ  صرف گمنامی تک  محدودنہیں بلکہ بدنامی کے دلدل  تک جا پہنچا ہے۔ اس بدبو داردلدل میں وزیراعظم 36 انچ کے سینے تک دھنس چکے ہیں ا ور باہر نکلنے کیلئے جتنا ہاتھ پیر مارتے ہیں اتنا ہی نیچے اترتے جاتے ہیں۔ ایسے میں انہیں نہ  گائے کے نام پرہونے والے مظالم نظر آتے ہیں، نہ کشمیر  میں چلنے والی گولیوں کی آواز سنائی دیتی ہے اور نہ مہنگائی کےکوڑے محسوس ہوتے ہیں۔ انہیں تو صرف اور صرف اپنی کرسی دکھائی دیتی ہے جسے دیمک تیزی سے چاٹ رہی ہے اور جس کی ٹانگیں ایک ایک کرکے ٹوٹ رہی ہیں۔ ایسے میں اگر وہ گم سم مونی بابا بنے ہوئے ہیں تو حیرت کی کیا بات ہے۔ زوال پذیر وزیراعظم کی حالت زار ان آیات کی مصداق ہے :

 ’’رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے، تو انہیں ہم بتدریج ایسے طریقہ سے تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبر تک نہ ہو گی۔ میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں، میری چال کا کوئی توڑ نہیں ہے‘‘

وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی کابینہ میں اہم وزارتیں جن کو سونپیں ان میں سے ایک ارون جیٹلی تھے جو پہلے راجیہ سبھا میں بی جے پی کے لیڈر تھے، سشما سوراج لوک سبھا میں پارٹی کی رہنما تھیں اور راجناتھ سنگھ پارٹی کے صدر تھے۔ اتفاق سے ان تینوں میں سے کوئی 75 سال کا نہیں ہوا تھا اس لئے بادلِ ناخواستہ ان سب کو اہم ترین وزارتوں سے نواز نا پڑا۔ داخلہ، خارجہ، دفاع  اور خزانہ کی تقسیم کے بعد سب سے اہم وزارت انسانی وسائل کے فروغ کی تھی۔ کسی زمانے میں یہ وزارت تعلیم کہلاتی تھی۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ ہندوستان کا پہلا وزیرتعلیم مسلمان تھا اور ۱۹۸۵ میں اس کا چہرہ بدلنے تک ۱۵ میں ۵ وزرائے تعلیم مسلمان تھے۔ اب یہ سلسہ بند ہوچکا ہے مگر مسلمان  وزراء کی غیر موجودگی کو مثال بنا کر امت کی سیاسی  بے وزنی کا ماتم کرنے والوں کو چاہئے کہ  وہ مسلم وزرائے تعلیم کے کارناموں کا اندازہ لگانے کیلئے سچرّ کمیٹی کی رپورٹ دیکھ لیں  ساری قلعی کھل جائے گی۔

یہ حسن اتفاق ہے کہ وزارت انسانی وسائل کے قیام سے قبل یا  بعد کسی خاتون کو یہ عہدہ نصیب نہیں ہوا لیکن وزیراعظم نریندر مودی نے پہلی باربڑی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے  محترمہ سمرتی ایرانی کواس کام کیلئے منتخب کیا۔ یہ مودی جی کی مجبوری نہیں بلکہ ان کی اپنی پسند تھی۔ سمرتی ایرانی بی جے پی کے بے شمار شکست خوردہ  امیدواروں میں سے ایک تھیں۔ ان کو شہرت اپنے علم و فضل یا کسی سیاسی و سماجی خدمت کیلئے نہیں بلکہ ساس بھی کبھی بہو تھی نامی سیریل میں اداکاری کے سبب ملی تھی۔ اس کے باوجود چونکہ ان کا تعلق گجرات سے تھا اور وہ مودی جی کی منظور نظر تھیں اس لئے انہیں اس اہم ترین عہدے پر فائز ہونا نصیب ہوگیا۔

  وقت کے ساتھ وہ سمرتی ایرانی  سےمنو سمرتی یرقانی میں تبدیل ہوگئیں۔ نظام  تعلیم پر زعفرانی رنگ چڑھانے کی سعی میں وہ وقتاً فوقتاً تنقید کا نشانہ بنتی رہیں۔ کبھی گیتا تو کبھی یوگا کو لازمی قرار دے کر انہوں نے سنگھی رہنماوں کو خوش کرنے کوشش کی لیکن پھر ان کا  ستارہ گردش میں آگیا۔ جے این یو کے معاملے میں انہوں نے پہلے تو کنھیا کمارکی گھیرا بندی کی اورایک نامور تعلیمی ادارے میں پولس کی چڑھائی کروادی۔ صرف ہم دیش بھکت ہیں اور باقی سارے دیش دروہی ہیں کا نعرہ لگا کر عمر فاروق اور انیر بن بھٹا چاریہ کو بھی  کنہیا کے ساتھ گرفتار کروادیا۔ کنھیا کمارکو بدنام کرنے کیلئے سمرتی کے اپنے دفتر میں ویڈیو سے چھیڑ چھاڑ کی گئی۔ جے این یو کےاندر ہونے والےمظاہرے کی تصاویر کے پیچھے کشمیری مظاہرے کی آواز کو چسپاں کرکے زرخرید ذرائع ابلاغ کو تھما دیا گیا۔ اس معاملے میں طلباء کے بجائےسمرتی ایرانی کو جیل جانا چاہئے تھا لیکن وہ بچا لی گئیں۔

ملک کے ایک نہایت پروقار تعلیمی ادارے کے خلاف دھرم یدھ چھیڑنے والی سمرتی ایرانی کی اپنی ڈگری کا معاملہ جب سامنے آیا تو اس کا سر پیر ہی نہیں تھا۔ مختلف حلف ناموں میں سمرتی ایرانی نے اپنی تعلیمی قابلیت کی بابت متضاد معلومات دے رکھی تھیں جن سے ظاہر تھا کہ وہ سب کی سب جھوٹی ہیں یا ان میں سے کچھ جعلی ضرورہے۔ ایک نہایت شرمناک صورتحال میں قومی وزیرانسانی وسائل کی ڈگری تنازعات میں گھر گئی تھی اور معاملہ عدالت میں پہنچ گیا۔ اگر وزیر موصوف میں خودداری ہوتی تو وہ خود اخلاقی بنیاد پرا ستعفیٰ پیش کردیتیں لیکن اقتدار کے بھوکے سنگھ پریوار سےایسی توقع بےکار ہے۔ سنگھ پریوار کیلئے بھی یہ قابلِ شرم بات ہے  کہ تقریباً ۱۰۰ سالوں کی جدوجہدکے بعد جب اقتدار نصیب ہوا تو وہ ایک قابل اور پڑھا لکھا وزیرتعلیم نہیں دے سکا۔ وہ لوگ قبلِ رحم ہیں جو اس کے باوجود سنگھ کی تعریف و توصیف میں آسمان اور زمین کے قلابے ملاکرمرعوبیت کا شکار رہنا چاہتے ہیں۔

سمرتی ایرانی نے جے این یو کے سانحہ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ حیدرآباد کے روہت ویمولا کو اپنی جماعت کےرکن پارلیمان کے دباو میں آکر خودکشی کیلئے مجبور کیا۔ روہت کی بابت وہ ایک کے بعد ایک جھوٹ بولتی چلی گئیں۔ ایوان پارلیمان کو انہوں نے اپنی کذب گوئی سے گمراہ کیا۔ وائس چانسلر جنہیں عارضی طور پر چھٹی پر روانہ کیا گیا تھا دوبارہ بحال کرکے اپنی دبنگائی دکھائی۔ احتجاج اور مظاہرہ کرنے والے بے قصور نہتے طلباء کو گرفتار کرکے  ان پر طرح طرح کے مظالم  کئے لیکن جبر واستبداد کے یہ بادل وقت کے ساتھ چھٹ گئے۔ جے این یو سے لے کر حیدرآباد تک جو نوجوان گرفتار ہوئے تھے وہ سب تو چھوٹ گئے لیکن سمرتی ایرانی دھر لی گئیں اور ان کے داغدار  دامن کووزارت  پوشاک  کے کفن سے  ڈھانپ دیا گیا۔ اس طرح مودی جی کی پسند کا ایک تارہ ٹوٹ کر گرگیا۔ سمرتی ایرانی کے دردناک انجام پر قرآن مجید کی یہ آیات یاد آتی ہیں کہ:

’’جو لوگ ایمان کو چھوڑ کر کفر کے خریدار بنے ہیں وہ یقیناً اللہ کا کوئی نقصان نہیں کر رہے ہیں، اُن کے لیے درد ناک عذاب تیار ہے۔ یہ ڈھیل جو ہم انہیں دیے جاتے ہیں اس کو یہ کافر اپنے حق میں بہتری نہ سمجھیں، ہم تو انہیں اس لیے ڈھیل دے رہے ہیں کہ یہ خوب بار گناہ سمیٹ لیں، پھر اُن کے لیے سخت ذلیل کرنے والی سزا ہے۔ ‘‘

دہلی انتخاب سے قبل مودی جی کے دست راست امیت شاہ نے کرن بیدی کو وزیراعلیٰ کا امیدوار بنا کر ساری قوم کو چونکا دیا۔ اس وقت ان کی رعونت کا یہ عالم تھا کہ ان میں سے ایک اپنے آپ کو چانکیہ اور دوسرا خود کوسمراٹ اشوک سمجھتا تھا۔ سمرتی کی مانند کرن بیدی بھی سیاست کے میدان میں نووارد تھیں لیکن ان کاپولسیا دماغ  بالکل مودی شاہ کی جوڑی کی طرح چلتا تھا۔ وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتی تھیں۔ ان کی آمد سے بی جے پی کی دہلی یونٹ کو جو زخم لگا کرن بیدی نے اس پر زخم لگانے کی پے درپے کوششیں کیں جس کے نتیجے میں ساری بارٹی بددل ہوگئی۔ مودی جی کا اوبامہ کے سہارے انتخاب میں کامیابی  کا آخری حربہ بھی ناکام رہا۔ بی جے پی ۳۱ سے ۳ پر پہنچ گئی۔ کرن بیدی خود اپنے حلقہ انتخاب میں ہار گئیں اس طرح مودی جی کے دوسرے حسنِ انتخاب پر عآپ کا جھاڑو پھر گیا۔ آج کل وہ گورنر کی حیثیت سے پدوچیری میں کالا پانی کی سزا بھگت رہی ہیں۔

وزیراعظم کے احمدآباد سےدہلی چلے جانے کے بعد سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوا کہ آخر گجرات کا وزیراعلیٰ کون بنے گا؟ یہ اس قدر مشکل  سوال تھا  کہ اس کا درست جواب دےکرامیتابھ بچن کے ہاتھوں کر وڈ پتی بناجا سکتا تھا۔ مودی جی اپنے ۱۲ سالہ دورِ اقتدار میں سارے مسابقین کا سپڑا صاف  کرچکے تھے۔ ان کے علاوہ صرف امیت شاہ کا نام کبھی کبھار اس لئے سنا جاتا تھا کہ وہ سہراب الدین انکاونٹر میں ماخوذ تھے۔ انہیں گجرات سے تڑی پار کیا جاچکا تھا اور وہ جیل کی ہوا کھاچکے تھے۔ اس کے باوجود مایا کوندنانی کی طرح مودی جی انہیں وزیراعلیٰ بنا سکتے تھے لیکن ان کا ماسٹر پلان کچھ اور تھا اس لئے آنندی بین کو یہ وراثت سونپی گئی۔ مودی جی کی یہ  تیسری پسند تھی جس میں کسی  کا عمل دخل نہیں تھالیکن اب توآنندی بین کا آنند بھی چھن چکا ہے۔ انہوں نے پہلے تو فیس بک پر اپنا استعفیٰ امیت شاہ کے منھ پر دے مارا اور اس کے بعد لے جاکر گورنر کو سونپ دیا۔

آنندی بین نے استعفیٰ کیلئے عمر کو بہانہ بنایالیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کی عمر اچانک 74 سال کی ہوگئی۔ دوسال قبل ان کی عمر 72 سال تھی اس وقت بھی وہ معذرت کرسکتی تھیں کہ اس عمر میں انہیں زحمت دینے کے بجائے کسی کم عمر کو وزیراعلیٰ بنایا جائے جو آئندہ انتخاب جیت سکے لیکن وہ ایسا کیوں کہتیں اس وقت تو سارا ملک یہ سوچتا تھا کہ انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے مودی جی کانام کافی ہے۔ ان کے ہوتے بھلا کسی اور کی کیا ضرورت؟  لیکن آنندی بین کا استعفیٰ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ مودی جی  سارے ملک میں تو کجا خود اپنی کرم بھومی گجرات میں بھی اپنے بل بوتے پر انتخاب نہیں جیت سکتے۔ ویسے بیچاری آنندی بین  کو اگر پتہ ہوتا کہ  ان کے خلاف خود ان کی اپنی پٹیل برادری  بغاوت کردے گی  اور دلت سماج نہ صرف مری ہوئی گایوں کے کریا کرم  بلکہ صاف صفائی  کرنے سے بھی  انکار کردے گا تو وہ یقیناً  اس رسوا کن  صورتحال سے بچنے کیلئے وزیراعلیٰ نہیں بنتیں لیکن علم غیب تو صرف خالق و کائنات کے پاس ہے۔ انسانوں کے اندازوں کا کیا کہ ان میں سے جتنے درست نکلتے ہیں ان سے کہیں زیادہ غلط ثابت ہوتے ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ آنندی بین کے استعفیٰ کی بنیادی وجہ ہاردک پٹیل کی تحریک  اور اونا کے مظالم کے خلاف دلتوں کا غم و غصہ ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ  پاٹیدار آندلن  دلتوں کے احتجاج کی بہ نسبت زیادہ قوی تھا لیکن آنندی بین کو اس وقت نہیں ہٹایا گیا اور اب چلتا کردیا گیا۔ اس کی ٹھوس سیاسی وجوہات  کا اندازہ گجرات کی سیاست کے اجزائے ترکیبی سے واقف لوگ ہی لگا سکتے ہیں۔ گجرات گاندھی جی کی جنم بھومی اور کرم بھومی ہے اس لئےوہاں کے عوام میں کانگریس سے محبت اور گاندھی کے قاتلوں سے  نفرت ایک فطری چیز تھی جس کے سبب عرصۂ دراز تک گجرات میں   کانگریس پارٹی بلا شرکت غیرےحکومت کرتی رہی۔ اس میں دراڑ 1973ء میں پڑی جب چمن بھائی پٹیل کے خلاف بدعنوانی کے نام پر نونرمان آندولن شروع ہوا۔ اس  تحریک میں کانگریس (او) کے علاوہ جن سنگھ شریک تھی۔ پرانی کانگریس توآگے چل کر مرکھپ گئی لیکن اس تحریک نے  بی جے پی  کی ماں جن سنگھ میں نئی روح پھونک دی۔ جن سنگھ نے نونرمان  میں فرقہ پرستی کا زہر گھول کر پٹیل برادی کو اپنا ہمنوا بنا لیا۔

گجرات کے اندرمودی جی کی کامیابیوں پر جو لوگ عش عش کرتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ نونرمان تحریک کے وقت اسمبلی میں کانگریس کے جملہ  167 میں سے140 ارکان تھے  اور جن سنگھ کے ارکان کی تعداد صرف ۳ تھی۔ اس تحریک کے بعد کانگریس کے مادھو سنگھ سولنکی نے ذات پات کی بنیاد پر ’’کھام‘‘ نام کا نسخہ ٔ سیاست وضع کیا۔ اس میں راجپوت، ہریجن، آدیباسی اور مسلمان شامل تھے۔ ان کی مجموعی تعداد چونکہ 75 فیصد ہوجاتی ہے اس لئےکانگریس  کااقتدار جاری رہا۔ بی جے پی نے کھام کے اندر سے ہریجنوں کو الگ کرکے اپنے ساتھ ملایا اور دیگر پسماندہ ذاتوں پر توجہ کی۔ فرقہ وارانہ فسادات  کرواکر ہریجنوں کو مسلمانوں کے خلاف  میدان میں اتارا اور انہیں لوٹ پاٹ کا موقع دیا۔ اقتدار میں آنے کے بعد فسادیوں کو تحفظ فراہم کرکے اپنی گرفت مضبوط کی ۔ موجودہ  حالات میں اگر پٹیل اور ہریجن بی جے پی کو خیرباد کردیتے ہیں تو گجرات میں اس کی حالت دہلی سے بدتر ہوگی۔

اونا کی زیادتی کے بعد  گجرات کے ہریجنوں کو پہلی مرتبہ اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ انہیں پتہ چل گیا کہ نام نہاد اونچی ذات والوں کے ساتھ لاکھ وفاداری کے باوجود ان کے مقام و مرتبہ میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ وہ ہریجن کے ہریجن ہی رہتے ہیں۔ جب وہ بی جے پی کے خلاف میدان میں اترے تو مسلمانوں نے بھی پرانی چپقلش بھلا کر سیاسی دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے  ان کا کھل کر ساتھ دیا۔ سابرمتی کے احتجاجی جلسہ میں دلت مسلم اتحاد کے ببانگ دہل  نعرے لگائے  گئے۔ اس صورتحال نے مودی  جی اور شاہ جی کی نیند اڑا دی اس لئے  کہ دلتوں نے اپنے دوست اور دشمن کو پہچان لیا ہے۔ سنگھ پریوار جانتا ہے کہ اگر دلت میدان میں نہ آئیں تو وہ مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے اس لئے کہ راجپوت تو ویسے بھی ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ گجرات میں کشتری سماج کا سب سے اہم رہنما شنکر سنگھ واگھیلا مودی جی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مودی جی کو اپنی  دست راست آنندی بین کو سبکدوش کرکے گھر بھیجنا پڑا۔ آنندی بین جس طرح پہلے پٹیل اور پھر دلت بغاوت  کاشکار ہوکر انجام  کو پہنچیں یہ ان آیات کی مصداق ہے کہ:

’’پس اے نبیؐ، تم اِس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو ہم ایسے طریقہ سے اِن کو بتدریج تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ اِن کو خبر بھی نہ ہو گی۔ میں اِن کی رسی دراز کر رہا ہوں، میری چال بڑی زبردست ہے‘‘۔

گجرات کی لڑائی صرف پٹیلوں اور دلتوں تک محدود نہیں ہے بلکہ بی جے پی کے اندر بھی ذات پات اور اختیارات کو لے کر ایک مہایدھ چھڑا ہواہے۔ مودی جی نے گجرات میں اپنا وارث آنندی بین کو  بنایا اور پارٹی کا صدر امیت شاہ کو لیکن آنندی بین  کے سامنے امیت شاہ بیٹے کی عمر کے ہیں اور وہ ان کا کچا چٹھا جانتی ہیں اس لئے ان کے آگے شاہ کی کبھی نہیں چلی۔ امیت شاہ کو اس کا قلق تھا۔ آنندی بین نے استعفیٰ کے بعد  اپنی برادری کے نتن شاہ کا نام پیش کیا اور وہ تقریباً منظور بھی ہوگیا۔ نتن نے نہ صرف مٹھائی تقسیم کردی بلکہ پوجا پاٹ کرکے اپنے منصوبے بھی صحافیوں کو بتانے لگے لیکن نتن پٹیل کے وزیراعلیٰ بن جانے کا مطلب یہ تھا کہ گجرات میں امیت شاہ کے بجائےآنندی بین کی مرضی چلے گی۔ اس لئے شاہ صاحب نے اپنی ذات یعنی جین سماج کے وجئے روپانی کو آنندی بین سے لڑ جھگڑ کر وزیراعلیٰ بنوا یا۔ یہ لڑائی اتنی بڑھی کہ مودی کو مداخلت کرنی پڑی۔ فی الحال تو شاہ جی کا بول بالا ہوگیا اب دیکھنا یہ ہے کہ ہاردک پٹیل، نتن پٹیل، آنندی بین پٹل اور کیشو بھائی پٹیل انتخابات  میں کس طرح بی جے پی کا منہ کالا کرتے ہیں۔

مودی جی نے امیت شاہ  کا ساتھ اس لئے دیا کہ ان کا کا چوتھا سب سے زیادہ قابلِ اعتماد مہرہ  شاہ ہی ہے۔ مودی جی اگر ملک کے وزیراعظم ہیں تو ان کا وزیراعظم امیت شاہ ہے۔ راجناتھ کو چیک میٹ کرنے کیلئے وزیراعظم نے اپنے فرمانبردار غلام  امیت شاہ کو نہ صرف پارٹی کا صدر بلکہ اترپردیش کا نگراں بنا رکھا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ امیت شاہ کے ستارے بھی اپنے آقا کی مانند گردش میں آگئے ہیں۔ اتر پردیش میں دلتوں کو رام کرنے کے سارے حربے ناکام ہوچکے ہیں۔ متھرا کے اندر دلتوں کو رجھانے کیلئے ایک بہت بڑے اجلاس کا اہتمام کیا گیا۔ اس جلسہ  میں امیت شاہ  خطاب کرنے والے تھے نیز  40 ہزار دلتوں کی شرکت متوقع تھی لیکن عین وقت پر بارش کا بہانہ بنا کر پروگرام کو ایک اسکول کے ہال میں منتقل کردیا گیا اور امیت شاہ نے کنی کاٹ لی۔

 جولائی کے اواخر میں بارش بے موسم تو نہیں ہوتی جو بی جے پی والوں کو اس کا اندازہ نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اتر پردیش کے دلتوں نے مایاوتی  طوائف کی فقرہ کشی  اور اونا کی بدسلوکی کے خلاف  احتجاج کیلئے کرنے کا فیصلہ کیا تھا  اس لئے منتظمین گھبرا گئے ورنہ واٹر پروف پنڈال بنا کر جلسہ کرنا بی جے پی کیلئے کیا مشکل  تھا۔ یہ عجب تماشا ہے کہ امیت شاہ کبھی یوپی کے دلتوں کے ساتھ بھوجن کرتے ہیں تو کبھی ان کو خطاب عام کی دعوت دیتے ہیں لیکن خود اپنی ریاست گجرات میں اونا کے دلتوں کی جانب توجہ نہیں فرماتے۔ یہ تو ایسا ہے کہ آگ لوک سبھا میں لگی ہوئی اور آب پاشی راجیہ سبھا میں کی جائے۔ گجرات میں وزیراعلیٰ کے طور پر امیت شاہ کانام آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ جلد ہی ان کی پارٹی صدر کے عہدے سے چھٹی ہونے والی ہے۔ اندازہ تو یہی ہے کہ اترپردیش انتخاب کے بعد مودی جی کے کرسیٔ اقتدار کی یہ چوتھی ٹانگ بھی ٹوٹ جائے گی۔ اس کے بعد مودی جی زمین پر آنے سے قبل کب تک ہوا میں معلق رہیں گے یہ کوئی نہیں کہہ سکتا۔ ویسےمودی جی اگر شاعر کے اس مشورے پر عمل کریں تو اس میں ان کی بھلائی ہے ؎

یہ بے مقصد سفر اب ختم ہوجائے  تو اچھا ہے

 نہ تم سے رہبری ہوگی، نہ ہم سے پیروی ہوگی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close