آج کا کالم

مودی کابینہ میں 19 نئے وزراء شامل

رویش کمار

منگل کا دن ان کے نام رہا، جنہوں نے وزیر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا. چونکہ زیادہ تر لیڈر صاحب عقیدہ اور مذہبی رسومات کے قائل ہوتے ہیں اس لئے وہ اس دن کو کسی معجزہ کے طور پر بھی دیکھ رہے ہوں گے. جسے اختصار میں پنیہ پرتاپ بھی کہا جا سکتا ہے. جو نہیں بن پائے وہ اس جیوتشی کو تلاش رہے ہوں گے جو بہت دنوں سے ورت رکھوا رہا ہوگا یا پنا پخراج پہنوا رہا تھا. جو بن گئے ان کے علاقے کے لوگ، سسرال والے، سگے رشتہ دار اور الیکشن جتانے والے کارکنان طرح طرح کی یادیں شیئر کر رہے ہوں گے کہ ایسے جتائے تو ویسے جتائے. کوئی کہہ رہا ہے کہ قسمت دیکھئے فلانے جی وزیر بن گئے. یہ سب ہمارے دیسی سیاسی مظاہر ہیں جس کا مزہ ٹی وی میں نہیں ملے گا. میری طرف سے ان تمام خوش قسمت لوگوں کو بغیر شرط نیک خواہشات. کارکردگی پر بھی آ رہا ہوں لیکن تھوڑی دیر میں. اینکر صحافی حلف لینے والے وزیر کو ذات اور ذات سے بننے والے مساوات کے حساب سے دیکھ رہے تھے. جیسے مہیندرناتھ پانڈے حلف لینے آئے تو کہا جانے لگا کہ یوپی میں برہمن چہرہ ہیں. بحث کرنے والے بھول گئے کہ پہلے کلراج مشرا اور مہیش شرما اس کوٹے سے موجود ہیں. مہیندرناتھ کو کچھ لوگوں نے کہا کہ کوئی نہیں جانتا، بعد میں پتہ چلا کہ سنگھ انہیں جانتا ہے. کیشو پرساد موریا سے پہلے برہمن لیڈر لکشمی کانت واجپئی ہی پردیش بی جے پی کے صدر تھے. ان کے صدر بننے سے کیا برہمن بی جے پی میں نہیں آئے جو مہیندرناتھ پانڈے کو لانا پڑا.

کئی بار بحثوں کا پیمانہ سمجھ میں نہیں آتا ہے. اگر یوپی انتخابات کے پیش نظر مہیندرناتھ برہمن کوٹے سے بنے ہیں تو مودی کابینہ میں پہلے سے اتنے برہمن ہیں کہ انہیں لے کر جائزہ لیا جا سکتا ہے کہ یہ عظیم برہمنوں کی اکھل بھارتیہ سیاسی امنگوں کی تکمیل کیوں نہیں کر پاتے ہیں. ان کے رہتے مہیندرناتھ پانڈے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے. کابینہ میں برہمنوں کا جتنا دبدبہ ہے اگر اسی کی تشہیر کی جائے تو یوپی میں کام ہو سکتا ہے اور حکومت کا ایسا ڈھانچہ ایسا دکھ سکتا ہے جو معاشرے سے کافی ملتا جلتا ہے. جیسے وزیر داخلہ راجپوت، زراعت کی وزارت راجپوت، وزیر خزانہ برہمن، وزیر دفاع برہمن، وزیر خارجہ برہمن، ریلوے کے وزیر برہمن، وزیر صحت برہمن، روڈ ٹرانسپورٹ وزیر برہمن، کیمیکل اور فرٹیلائزر وزیر برہمن، اسمال و میڈیم انڈسٹری برہمن.

26 مئی 2014 کو حلف لینے والے مودی کابینہ کے 24 کابینہ وزراء میں آدھے یعنی 12 اپر کاسٹ اور دو دلت كابينہ وزیر تھے. آزادانہ اختیار والے 10 وزارء میں سے پانچ اپر کاسٹ کے تھے. آزادانہ اختیار والے وزراء میں ایک بھی دلت نہیں تھا. پہلی بار حلف لینے والے کل 46 وزراء میں سے 20 اپركاسٹ، 13 او بی سی، 6 شیڈولڈ کاسٹ اور 3 دلت تھے. پوری کابینہ میں 3 دلت وزراء. اس بار جس یوپی کے لئے ریاستی وزیر بنائے گئے ہیں وہاں سے ان کے بغیر امت شاہ نے لوک سبھا کی 80 نشستوں میں سے 71 پر اپنے امیدوار جتا دیے تھے. اب ایسا کیا ہو گیا ہے کہ اس یوپی کے لیے بی جے پی کو دلت، برہمن اور پسماندہ، انتہائی پسماندہ کرنا پڑ رہا ہے.

اتر پردیش میں شیڈولڈ کاسٹ کے لیے مخصوص نشستوں کی تعداد 17 ہے. ان سب پر بھارتی جنتا پارٹی کے امیدوار جیتے تھے. تب تو بی جے پی کو دلت چہرے کی ضرورت نہیں پڑی تھی. مودی ہی سب کا چہرہ تھے. بی جے پی کے پاس لوک سبھا میں سب سے زیادہ 40 دلت اراکین پارلیمنٹ ہیں. آج جن 19 ممبران پارلیمنٹ کو ریاستی وزیر بنایا گیا ہے ان میں سے 5 دلت ہیں. 2 آدیواسی ہیں. مودی کابینہ کے 27 کابینہ وزراء میں صرف دو دلت ایم پی ہیں. ایک دلت ایم پی بی جے پی کے کوٹے سے وزیر ہیں جن کا نام تھاورچند گہلوت ہیں. دوسرے، دلت رکن پارلیمنٹ لوک جن شکتی پارٹی کے کوٹے سے كابینہ وزیر ہیں جن کا نام رام ولاس پاسوان ہے. رام ولاس پاسوان اناج اور صارفین معاملات کے کابینہ وزیر ہیں. تھاورچند گہلوت سوشل جسٹس و امپاورمنٹ کے وزیر ہیں. جوئل اورام شیڈولڈ کاسٹ کے ہیں اور قبائلی امور کے كابينہ وزیر ہیں.

اب میرا ایک سوال ہے دلت رکن پارلیمنٹ سوشل جسٹس و امپاورمنٹ کے وزیر ہی کیوں بنتے ہیں. وہ وزیر خزانہ کیوں نہیں بنتے، وزیر خارجہ کیوں نہیں بنتے ہیں. یہ سوال ممبران اسمبلی سے لے کر ممبران پارلیمنٹ بنے دلتوں کو خود سے پوچھنا چاہئے، اپنی پارٹی سے پوچھنا چاہئے اور اپنے ووٹر کو بھی بتانا چاہئے. ووٹر کو بھی ان سے پوچھنا چاہئے کہ آپ معاشرے کے نام پر ریاستی وزیر ہی کیوں بنتے ہیں اور کابینہ وزیر بنتے ہیں تو سوشل جسٹس و امپاورمنٹ  کے وزیر ہی کیوں بنتے ہیں. موجودہ سیاست اور کابینہ میں رام ولاس پاسوان ہی اکلوتا ایسا نام ہے جو دلت ہوتے ہوئے بھی کبھی سوشل جسٹس و امپاورمنٹ کے وزیر نہیں رہے. پاسوان کئی حکومتوں میں وزیر رہے. وہ ریلوے کے وزیر، لیبر وزیر، وزیر مواصلات، کیمیکل اور فرٹیلائزر وزیر، اسٹیل وزیر، پارلیمانی امور کے وزیر کی ذمہ داری سنبھال چکے ہیں.

پاسوان کا ریکارڈ شاندار ہے. پاسوان سے پوچھا جانا چاہئے کہ کیا انہیں بھی کبھی سوشل جسٹس و امپاورمنٹ  کے وزیر بنانے کی تجویز دی گئی تھی یا وہ اس وزارت سے کیسے بچ گئے. پچھلی یو پی اے حکومت میں سشیل کمار شندے وزیر داخلہ تھے، دو بار وزیر توانائی رہے. میرا کمار اسپیکر تھیں مگر جب وہ وزیر تھیں تو سوشل جسٹس و امپاورمنٹ کی وزیر ہی تھیں. ان کے والد جگ جیون رام وزیر دفاع اور نائب وزیر اعظم تھے. میرا کمار جب اسپیکر بنیں تو ان کی جگہ ملک ارجن کھڑگے سوشل جسٹس و امپاورمنٹ  کے وزیر بنے. اس وقت ملک ارجن کھڑگے لوک سبھا میں کانگریس پارٹی کے لیڈر ہیں. ان کی قابلیت کا پتا ہی نہیں چلتا، اگر انہیں لوک سبھا میں یہ ذمہ داری نہ ملتی.

کہیں سوشل جسٹس و امپاورمنٹ  کی وزارت دلت لیڈروں کے لئے پارکنگ تو نہیں ہے جہاں تمام باصلاحیت دلت لیڈروں کی گاڑیاں وہیں کھڑے کھڑے زنگ کھاتی رہ جاتی ہیں. مودی حکومت کو اس معاملے میں بھی یہ تاثر توڑنا چاہئے کہ دلت رہنما صرف سماجی بہبود کی وزارت ہی سنبھالے گا. یہی حال اقلیتی امور کے وزیر کا بھی ہوتا ہے. حال ہی میں الہ آباد میں جب بی جے پی کی قومی مجلس عاملہ ہوئی تھی تب سابق ایم پی اور بی جے پی لیڈر سنجے پاسوان نے کہا تھا کہ تنظیم کو دلتوں کے ساتھ کھانا کھانے، ملاقاتوں کے علامتی مظاہر اور نعروں سے آگے جانا چاہئے. پارٹی کو امبیڈکر اور کاشی رام کی خدمات کو عزت دینے سے آگے جاکر دلتوں کو دیکھنا سمجھنا چاہئے.

بی جے پی نے جن پانچ دلت ممبران پارلیمنٹ کو ریاستی وزیر بنایا ہے کیا انہیں شبیہ اور شعار کے کھانچے سے الگ دیکھا جا سکتا ہے. وزارت کی تقسیم سے اس سوال کو اور قریب سے دیکھا جا سکے گا. مقدمہ لکھے جانے تک وزارت کا اعلان نہیں ہوا تھا. تاہم حکومت نے میڈیا سے یہی کہا کہ ان وزراء کے انتخاب کو ذات اور مذہب کے چشمہ سے نہ دیکھا جائے. ان کا انتخاب انگریزی حروف تہجی کے پانچویں حرف ای کے حساب سے کیا گیا ہے؛ Experience، Expertise اور Energy.

پیشہ ورانہ تجربے کی بنیاد پر پی پی چودھری ریاستی وزیر بنے ہیں جو سپریم کورٹ میں چالیس سال وکالت کر چکے ہیں.

سبھاش رام راؤ بھامرے کینسر سرجن رہے ہیں. ایم جے اکبر سینئر ایڈیٹر اور عالمی شہرت یافتہ صحافی رہے ہیں.

ارجن رام میگھوال آئی اے ایس افسر  رہے ہیں. انل مادھو دوے نے ہندی میں کئی کتابیں لکھی ہیں.

انل مادھو کی کتاب شواجی اور سوراج امیزون پر دستیاب ہے. ایم جے اکبر جی کو وزیر بننے پر خاص طور پر مبارک ہو. وہ صحافی رہے، کانگریس سے ممبر پارلیمنٹ بنے پھر صحافی رہے پھر بی جے پی کے ترجمان بنے، پھر بی جے پی کے ایم پی بنے اور اب وزیر بنے ہیں. سوشل میڈیا پر اکبر کے پرانے مضامین کو شیئر کرکے نشانہ بنایا جا رہا ہے. ٹھیک اسی طرح جیسے سوشل میڈیا پر کئی لوگ دوسرے صحافیوں کو ٹارگیٹ کرتے ہیں کہ آپ کی یہ بات بتاتی ہے کہ آپ فلاں پارٹی کے ترجمان ہیں. اکبر سے پہلے کئی جماعتوں نے کئی اخبارات کے مالکان کو راجیہ سبھا بھیجا ہے. مالک کے ساتھ ساتھ صحافی نے بھی اپنا جگاڑ کیا ہے. یہ اکبر سے پہلے قدیم زمانے میں بھی ہوا اور اکبر کے وقت میں بھی ہو رہا ہے اور اکبر کے بعد کے الٹرا ماڈرن دور میں بھی ہوگا. پھر بھی کوئی سیاست اور صحافت کے تعلقات پر بحث کرنا چاہتا ہے تو پہلے جا کر وہ سارے ٹویٹ ڈیلیٹ کرے جو اس نے ایسے سوال دوسرے صحافیوں سے کئے ہیں. سوشل میڈیا پر ٹارگیٹ ہونے والے صحافی اکبر صاحب کو ڈھال کی طرح استعمال کر سکتے ہیں اور ان سے مہمیز بھی لے سکتے ہیں. ایم جے اکبر نے کئی کتابیں لکھی ہیں. کئی پسند بھی کی جاتی ہیں. رائٹ آفٹر رائٹ اور نہرو دی میکنگ آف انڈیا. میں نے اکبر کی کوئی کتاب نہیں پڑھی ہے، اس لئے نہیں بتا سکتا کہ نہرو والی کتاب میں آلوچنا ہے یا سمالوچنا یا پھر وندنا.

حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ کئی ریاستی وزراء کا انتخاب ریاستوں میں وزیر اور رکن اسمبلی رہنے کے تجربے کی بنیاد پر بھی کیا گیا ہے. پھگن سنگھ کلستے اور وجے گوئل واجپئی حکومت میں  ریاستی وزیر رہے اور اس تجربے کی بنیاد پر مودی حکومت میں بھی ریاستی وزیر رہے. ان دونوں کا 12 سال پہلے کا تجربہ ضرور خاص رہا ہوگا کہ 12 سال بعد بھی یہ ریاستی وزیر ہی بنائے گئے. میڈیا کو باقاعدہ بتایا گیا کہ وزیر بننے کی بنیاد فعالیت ہے نہ کہ ذات اور مذہب. آج کل اس كیٹگری کے لئے سوشل ڈائیورسٹی کا استعمال ہوتا ہے. اس لیے سوشل ڈائیورسٹی کے تحت بتایا گیا کہ کتنے دلت اور کتنے مسلمان وزیر بنے ہیں. اس گنتی کے مطابق- دو شیڈولڈ کاسٹ اور پانچ شیڈولڈ ٹرائب. دو اقلیت اور دو خواتین کو وزیر بنایا گیا ہے. دس ریاستوں سے 19 وزراء بنائے گئے ہیں.

مینیمم گورمینٹ، میکسیمم گورننس. مودی حکومت نے جب حلف لیا تھا  تب خوب باتیں ہوئی تھیں کہ کئی وزارتوں کو ملا کر نئی وزارت بنے گی اور حکومت کا حجم چھوٹا ہو جائے گا. اصول کے مطابق 82 وزراء ہی ہو سکتے ہیں. وزراء کی تعداد 78 ہو گئی ہے. منموہن سنگھ کی حکومت میں 78 وزراء تھے جبکہ وہ گٹھ بندھن کی حکومت تھی. گٹھ بندھن کی حکومت تو یہ بھی ہے مگر جو پیغام پہلے دیا گیا تھا اس کی جگہ کچھ اور دیا جا رہا ہے. مودی کابینہ میں بھی 78 وزیر ہو گئے ہیں. 19 ریاستی وزراء کے لئے توسیع ہوئی ہے. ان میں سے 6 ریاستی وزراء راجیہ سبھا کے ہیں اور 13 لوک سبھا کے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close