آج کا کالم

مگرمچھ کے آنسو

رمیض احمد تقی
گذشتہ ڈھائی سالوں میں ہمارا ملک جن مشکل ترین حالات سے دو چار ہواہے،انہیں دیکھ دیکھ اور سن سن ایک انصاف پسند انسان اس کے سوا کیا اندازہ لگا سکتا ہے کہ ملک میں معاشرتی اور معاشی سطح پر انسانی اقدارپرمردنی چھاگئی ہے۔ عام لوگوں کی حالت نہ پائے ماندن اور نہ جائے رفتن کی طرح ہوکر رہ گئی ہے ۔حکومت اور حکم چلانے والوں کی نااہلی روز بروز بڑھتی ہی جارہی ہے ۔توکوئی یہ سوال کرسکتا ہے کہ آخر ان بحران کا ذمہ دار کون ہے؟ تو کیا جواب صرف حکومت ہوسکتا ہے، یا پھر کوئی فرد جس کے ارد گرد حکومت گھومتی ہے؟حکومتیں تو آتی جاتی ہیں اور اس کو چلانے والے بھی ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔تو پھرکیا ان بحران کا ذمہ دار خالص عوام ہے،کیونکہ ہماری جمہوریت میں عوام کو بہت زیادہ حق حاصل ہے؟ مگر کیااتنابھی کہ وہ آزادی سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرسکے؟یہ تمام سوالات یقیناًبہت پیچیدہ ہیں۔تشفی بخش جواب کسی کے پاس نہیں ہے،البتہ اس موقع پر ایک عام اور سیدھا سا یہ جواب دیا جاتا ہے کہ کسی بھی معاشرہ کی تعمیروترقی اور اس کے بحران میں وہاں کی عوام، حکومت اور حکومت چلانے والے سب ذمہ دار ہوتے ہیں۔مگرہندوستان کے موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میںیہ کہنا بہت زیادہ صحیح نہیں ہوگا کہ اس بحران کی ذمہ دار عوام اور حکومت ہے، کیونکہ اس پہلے بھی سینٹرمیں بے جے پی کی حکومت رہی ہے،مگر موجود ہ بی جے پی حکومت میں ملک کی جو جگ ہنسائی ہوئی ہے اور اسے جو عالمی تنقیدوں کا نشانہ بننا پڑاہے ، اس کا واحد ذمہ داریہاں کے نااہل حکمراں ہیں جو ملک کو گھر کی لونڈی سمجھ کر جیسے تیسے اور بغیر پلان کے نئے نئے فرامین جاری کرتے ہیں۔
اس حکومت میں برپاکیے گئے اگرڈھائی سالہ تمام کیفیات کو سپردِ قرطاس کیا جائے تو شایدا یک لمبی مدت بھی ناکافی ہواور لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ ملک میں یہ سارے حادثات اور واقعات پیہم اور مسلسل برپاکیے گئے ہیں؛جس طرح ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے ہزاروں جھوٹ بولے جاتے ہیں ،اسی طرح ایک واقعہ کو سچ ثابت کرنے کے لیے اس سے زیادہ سخت حادثات برپا کیے گئے ، تاکہ لوگ پہلے حادثہ کو بھولاکر اس نئے مسئلہ پر اپنی پوری توجہات مرکوز کردے اور گذشتہ صرف تین چار مہینے کے اندرملک کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑاہے ،ان سے ہی نکل کر باہر آنا بہت مشکل ہوگیاہے۔وہ مسئلہ خواہ کشمیریوں پر ڈھائے گئے مظالم ہوں ،یاپھر پٹھان کورٹ میں فوجیوں کی شہادت ،یاسرجیکل اسٹرائیک، تین طلاق، بھوپال فرضی انکاؤنٹریانجیب کی گمشدگی،درحقیقت حکومت نے اپنی نااہلیوں کو چھپانے کا یہ ایک اچھا بہانہ تلاش کیا ہے ،تاکہ لوگ ان روزمرہ کے ہنگاموں میں الجھ کر اصل مدعی سے منھ موڑ لیں۔مودی حکومت کے حالیہ نوٹ بندی کے فیصلہ ہی کو دیکھ لیں کہ اس سے پہلے جتنے بھی حالات برپاکیے گئے تھے ،لوگ ان سب کو فراموش کرکے بینکوں کے سامنے لمبی قطار میں دن دن بھر کھڑے نظر آر ہے ہیں اور انہیں اتنی بھی فرصت نہیں ہے کہ وہ اپنے دیگر حقوق کا مطالبہ کرسکیں اور اس ہنگامہ میں انہیں یہ بھی احساس نہیں رہاکہ حکومت نے کس مسلم تنظیم پر پابندی عاید کی ہے اور وہ کیا کیا انسانی مخالف قوانین نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور یہی مودی حکومت کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ بی جے پی کی پوری تاریخ میں اسے مودی جیسا کوئی بڑاایکٹر اور جھوٹا سیاست داں نہیں ملا۔انہیں لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھیلنے ، بلکہ استحصال کرنے کا اچھا ہنر ہے۔کس موقع پر کیا بات کہنی ہے اور کیسے کہنی ہے،اس کا اچھا ہنر ہے جناب کے پاس،بلکہ صاحب کے’ متروں ‘میں جوجادوپنہاں ہے،وہ کالا جادوسے بھی زیادہ خطرناک ہے۔’بھائیوں،بہنوں‘ کا بھی اچھاا ستعمال کرلیتے ہیں،اس پر مستزاد ایکٹینگ جو ان کاپیدائشی پیشہ ہے،پہلے کالی چائے کوکڑک چائے بناکر لوگوں کو بیوقوف بناتے تھے، اب وائٹ منی کو کالادھن بتاکر ملک کو بیوقوف بنانے میں سرکھپا رہے ہیں۔
دراصل ڈیجیٹل انڈیا کا خواب تو پورا ہونے سے رہا،البتہ لوگوں کوڈیجیٹل منی دکھا دیا اور ڈیجیٹل تو بہر حال ڈیجیٹل ہے ،خواہ ڈیجیٹل انڈیا ہویا ڈیجیٹل منی ،عام انسان تو مستقل ایک ہفتے سے جسم وجاں کو ڈیجیٹل بنانے کے فراق میں قطار میں کھڑے ہیں۔اے کاش ان کے جسم بھی ڈیجیٹل بن جاتے ،توشاید لائن میں کھڑے رہنے کی تکلیف سے نجات پالیتے!لیکن اب بھی وہ اپنے گوشت پوست والے جسم وجاں کے ساتھ بھوکے پیاسے قطار میں کھڑے ہیں اور اس انتظار میں پل پل بتارہے ہیں کہ شاید اب ان کا نمبر آجائے ،مگر کبھی پولیس کی لاٹھیاں ان کی بھیڑ کو منتشر کردیتی ہیں، تو کبھی اے ٹیم کا پیسہ ہی ختم ہوجاتا ہے۔افسوسناک امر یہ ہے کہ ان قطار میں صرف جوان ہی نہیں ہیں،بلکہ بوڑھے،مریض مردووزن ، حاملہ اور دودھ پلاتی عورتیں بھی ہیں،جو دوہزار کے دو نوٹ کی آس میں یہ ساری پریشانیاں سہن کررہے ہیں۔ایک مزدورانسان دن بھر مزدوری کرکے اپنے گھر کا خرچہ چلاتا ہے،آج وہ ایک ہفتہ سے لائن میں کھڑاکھڑااپنے آنسوؤں سے بھوک پیاس کی آگ کو سرد کرنے میں لگاہے۔بہت ممکن ہے کہ پرانے نوٹ کے بدلہ انہیں دوسرے نئے نوٹ مل جائیں ،مگرجو انہوں نے دودودن قطار میں کھڑے ہو کر گذارا ہے ،اس کا ہرجانہ کون بھرے گا؟ اور اس دودن کے نقصان کی وجہ سے آئندہ کے دو دن کے لیے ان کے لیے نانِ شبینہ کون فراہم کرے گا ؟ ملک کی معیشت کا یہ ا لمیہ ہے کہ اگرایک دن کے لیے ملک میں بندی ہوتی ہے، تو اس سے کروڑوں کانقصان ہوتا ہے ،یہاں توپورے ایک ہفتہ سے ملک میں کرفیو کاسما ہے۔بھوک سے بچے نڈھال ہیں،بلادوا کے مریض اسپتالوں دم توڑرہے ہیں۔اگر اخباروں کی مانیں تو اب تک اس فیصلہ سے تقریباً50 لوگوں کی موت ہوچکی ہے ،اس کے علاوہ لاکھوں کی تعداد میں شادیاں منسوخ ہوئی ہیں ،بلکہ کئی دلہنوں نے تو خودکشی بھی کرلی ہے۔
القصہ مودی کے اس فیصلہ سے ملک میں ہر چہار طرف ہاہاکار مچاہوا ہے ۔سوشل سائٹس پرجہاں عام لوگوں کی بے بسی ولاچاری اور بھوک مری کی ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہورہی ہیں،وہیں ہزاروں لوگ مودی کو دشنام کرتے ہوئے بھی دِکھ رہے ہیں اورہر باشعور انسان یہ سوچ سوچ کر پریشان ہوا جارہا ہے کہ اتنے بڑے ملک میں جہاں دوتہائی سے زیادہ لوگ خطِ افلاس سے نیچے کی زندگی بسرکرنے پر مجبور ہیں۔65 فیصد لوگوں کے پاس اپنا بینک اکاؤنٹ نہیں ہے اور سیکڑوں گاؤں دیہات میں بینک اور اے ٹیم کی سہولیات نہیں ہے،پھر بازار سے 86 فیصد کرنسی کا ختم کردیا جانا کیا معنی رکھتا ہے؟ کیا مودی جی کو اس مسئلہ کی حساسیت کا ذرہ برابر علم نہیں تھا؟کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ایک عام آدمی کوصرف پانچ سوکے نوٹ کو خوردہ کرانے کے لیے گھنٹوں دوکان دردوکان بھٹکنا پڑتا تھااورآج جب پانچ سو اور ہزارکے نوٹ کو ختم کرنے کا اعلان ہواہے ،توکیاانہیں دوہزارکو خوردہ کرانے کے لیے ہفتوں بھٹکنا نہیں پڑے گا؟ اور جب تک وہ خوردہ نہیں کرالیتے ،کیا وہ اپنی ضروریات کو پوری کرسکتے ہیں؟نوٹ بندی کے بعد مودی جی نے اعلان کیا کہ دو دن تک بینک بند رہیں گے،تاکہ اس دوران سارے بینکوں کا نظام درست کرلیا جائے،مگر ایک ہفتہ سے زیادہ دن گذرگئے، ہنوز حالات معمول پر آتے نہیں دِکھ رہے ہیں۔
مودی جی بھاشن دینا بہت آسان ہے۔اگر واقعی آپ کو آپ کے غریبی کے دن یاد ہیں اور آپ کو لوگوں کی تکلیفات کا شدت سے احساس ہے،تو یہ بھی بتادیجیے کہ آپ کو ملک کے غریبوں کا کالا دھن تو نظر آگیا ،مگر ملک سے باہر خود آپ کی پارٹی کے کئی لوگوں کاکالا دھن جوسویژرلینڈ بینک میں پڑاہوا ہے وہ نظر نہیں آیا؟اڈانی،امبانی اور ریڈی برادران کے پاس جو اربوں کے املاک ہیں کیاوہ سب دودھ سے بھی زیادہ سفید ہیں؟آپ نے تو پچاس دن کی مہلت مانگی ہے ،مگر جب ڈھائی سال میں آپ اپنا کوئی وعدہ پورا نہ کرسکے، توکیاہم یہ یقین کرلیں کہ صرف پچاس دن میں آپ کچھ کرپائیں گے؟یایونہی پندرہ لاکھ روپیے کی طرح لوگوں کو ٹہلارہے ہیں؟اگرواقعی آپ کو عام لوگوں کے درد کا اتنا ہی احساس ہے، تو آیے قطار میں آپ بھی کھڑے ہوکر دیکھا دیجے،بھوک پیاس تو آپ کو بھی لگتی ہوگی نا؟ یا پھر آپ نے بھی اپنے بھگتوں کی طرح اوپاس رکھ لیا ہے۔شاید میری بات آپ کو کڑوی لگے،لیکن اگر آپ کے سینے میں ایک انسان کا دل ہے تو آیے لوگوں کی اس لاچار گی کا سامنا کیجیے،ملک درملک کیوں پھررہے ہیں؟کیا آنسو کے صرف دوقطرہ لوگوں کے تیئیں آپ کی ہمدردی ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ؟کہیں آپ کے یہ آنسو مگر مچھ کے آنسو تو نہیں؟سابق وزیرِ اعظم منموہن سنگ نے ٹھیک ہی کہاتھاکہ ’’میرے خیال میں مودی کو ملک کا وزیرِ اعظم منتخب کرنا اس ملک کی تاریخی تباہی کا پیش خیمہ ہوگا‘‘آج ان کی وہ بات حرف بہ حرف صادق آرہی ہے۔ معروف صحافی اور سیاست داں ارون شوری نے تو یہاں تک کہہ دیا:’آئندہ مرتبہ سے ایسے وزیر آعظم کا انتخاب کرنا جس کے پاس اہل وعیال ہو ،جو اس کے درد کو سمجھ سکے اور ایسے بیوقوف کا دوبارہ انتخاب مت کرنا جس کی نظر میں تمہاری کوئی حیثیت نہ ہو‘۔اور یہ کسی ایک شخص کے دل کی آواز نہیں ہے،بلکہ آج ملک کا ہر انسان اپنے کیے پرشرمندہ ہے اور شاید زبان سے اس کا اظہار نہ کرسکے ،مگر سب کا دل رورہا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رمیض احمد تقی

رمیض احمد تقی معروف نوجوان کالم نگار ہیں۔ rameeztaquee@mazameen.com

متعلقہ

Back to top button
Close