آج کا کالم

میڈیا جھک سکتا ہے مگر جمہوریت نہیں: ہارورڈ یونیورسٹی میں رويش کمار کی تقریر

رویش کمار

این ڈی ٹی وی کے ایڈیٹر اور نیوز اینکر رويش کمار نے ہفتہ کو ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک پروگرام میں شرکت کی. وہاں انہوں نے ہندی میں اپنی بات رکھی، جس کا اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے. رویش کمار کو اسٹوڈنس کانفرنس 2018 میں  مدعو کیا گیا تھا. وہاں انہوں نے اپنی تقریر میں ملک کے موجودہ حالات سے لے کر طالب علموں سے متعلق موضوعات پر بھی اپنی بات رکھی. رويش کمار کی مکمل تقریر کا اردو ترجمہ پیش خدمت  ہے۔(مدیر)

آپ سبھی کا شکریہ. اتنی دور سے بلایا وہ بھی سننے کے لئے۔ ایسے وقت میں جب کوئی کسی کی نہیں سن رہا ہے. انٹرویو کا معیار اتنا گر چکا ہے کہ اب صرف تقریر اور اسٹینڈ اپ کامیڈی کا ہی سہارا رہ گیا ہے. سوالوں کے جواب نہیں ہیں بلکہ نیتا جی کے جملے رہ گئے ہیں.بھارت میں دو طرح کی حکومتیں ہیں. ایک گورنمنٹ آف انڈیا. دوسری گورنمنٹ آف میڈیا. میں یہاں گورنمنٹ آف میڈیا تک محدود رہوں گا تاکہ کسی کو برا نہ لگے کہ میں نے بیرون ملک گورنمنٹ آف انڈیا کے بارے میں کچھ کہہ دیا. یہ آپ پر منحصر ہے کہ مجھے سنتے ہوئے آپ میڈیا اور انڈیا میں کتنا فرق کر پاتے ہیں.

ایک کو عوام نے چنا ہے اور دوسرے نے خود کو حکومت کے لئے چن لیا ہے. ایک کا انتخاب ووٹ سے ہوا ہے اور ایک کا ریٹنگ سے ہوتا رہتا ہے. یہاں امریکہ میں میڈیا ہے، بھارت میں گودی میڈیا ہے. میں ایک ایک مثال دے کر اپنی تقریر طویل نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی آپ کو شرمندہ کرنے کا میرا کوئی ارادہ ہے. گورنمنٹ آف میڈیا میں بہت کچھ اچھا ہے. جیسے موسم کی خبریں، ایكسی ڈینٹ کی خبریں، سائنا اور سندھو کا جیتنا اور دنگل کا سپر ہٹ ہونا. ایسا نہیں ہے کہ کچھ بھی اچھا نہیں ہے. چپراسی کے 14 عہدوں کے لئے لاکھوں نوجوان لائن میں کھڑے ہیں، کون کہتا ہے امید نہیں ہے. کالجوں میں چھ چھ سال میں بی اے کرنے والے لاکھوں نوجوان انتظار کر رہے ہیں، کون کہتا ہے کہ امید نہیں بچی ہے. امید ہی تو بچی ہوئی ہے کہ اس کے پیچھے یہ نوجوان بچے ہوئے ہیں۔

ایک ڈرا ہوا صحافی جمہوریت میں مردہ شہری پیدا کرتا ہے. ایک ڈرا ہوا صحافی آپ کا ہیرو بن جائے، اس کا مطلب آپ نے ڈر کو اپنا گھر دے دیا ہے. اس وقت بھارت کی جمہوریت کو بھارت کے میڈیا سے خطرہ ہے. بھارت کا ٹی وی میڈیا جمہوریت کے خلاف ہو گیا ہے. بھارت کا پرنٹ میڈیا چپ چاپ اس کے قتل میں ملوث ہے جس میں بہتا ہوا خون تو نہیں دکھتا ہے، مگر ادھر ادھر کونے میں شائع کی جا رہی کچھ کام کی خبروں میں قتل کی آہ سنائی دے جاتی ہے.

سی بی آئی کورٹ کے جج بی ایچ لويا کی موت اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کا میڈیا کس کے ساتھ ہے. كیروان میگزین کی رپورٹ آنے کے بعد دہلی کے اینکرز آسمان کی طرف دیکھنے لگے اور ہواؤں میں نمی کی مقدار والی خبریں پڑھنے لگے تھے. یہاں تک کہ اس خوف کا شکار اپوزیشن پارٹیاں بھی ہو گئیں ہیں. ان کے رہنماؤں کو بڑی دیر بعد ہمت آئی کہ جج لويا کی موت کے سوالات کی جانچ کی مانگ کی جائے. جب ہمت آئی تب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی بینچ جج لويا کے معاملے کی سماعت کر رہی تھی. اس کے بعد بھی کانگریس پارٹی نے جب جج لويا سے متعلق سابق ججوں کی موت پر سوال اٹھایا تو اسے دہلی کے اخباروں نے نہیں چھاپا، چینلوں نے نہیں دکھایا.

ایسا نہیں ہے کہ گورنمنٹ آف میڈیا سوال کرنا بھول گیا. اس نے راہل گاندھی کے اسٹار وارس دیکھنے پر کتنا بڑا سوال کیا تھا. آپ کہہ سکتے ہیں کہ گورنمنٹ آف انڈیا چاہتی ہے کہ اپوزیشن کا لیڈر سيرييس رہے. لیکن جب وہ لیڈر سيرييس ہوکر جج لويا کو لے کر پریس کانفرنس کر دیتا ہے تو میڈیا اپنی سيرييس نیس بھول جاتا ہے. دوستوں یاد رکھنا میں گورنمنٹ آف میڈیا کی بات کر رہا ہوں، بیرون ملک گورنمنٹ آف انڈیا کی بات نہیں کر رہا ہوں.

میڈیا میں کیا کوئی خود سے ڈر گیا ہے یا کسی کے ڈرانے سے ڈر گیا ہے، یہ ایک کھلا سوال ہے. ڈر کا ڈی این اے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، کوئی بھی ڈر سکتا ہے، خاص کر فرضی کیس میں پھنسانا اور کئی سال تک قانونی مقدموں کو لٹکانا جہاں آسان ہو، وہاں ڈر نظام کا حصہ ہے. ڈر نیچرل ہے. گاندھی نے جیل جاکر ہمیں جیل کے ڈر سے آزاد کرا دیا. غلام بھارت کے غریب سے غریب اور ان پڑھ سے ان پڑھ لوگ جیل کے ڈر سے آزاد ہو گئے. 2 جی میں دو لاکھ کروڑ کا گھوٹالہ ہوا تھا، مگر جب اس کے ملزم بری ہو گئے تو وہ جناب آج تک نہیں بول پائے ہیں. جن کی کتاب کا نام ہے NOT JUST AN ACCOUNTANT، THE DIARY OF NATIONS CONSCIENCE KEEPER. . جب 2 جی کے ملزم بری ہوئے، سی بی آئی ثبوت پیش نہیں کر پائی تب میں نے پہلی بار دیکھا کسی کتاب کے کور  کو چھپتے  ہوئے. آپ نے دیکھا ہے ایسا ہوتے ہوئے. لگتا ہے کہ کتاب کہہ رہی ہے کہ یہ بات صحیح نکلی کہ یہ صرف اکاؤنٹنٹ نہیں ہیں، مگر یہ بات جھوٹ ہے کہ وہ نیشنز کے كانشیس کیپر ہیں.

ایک ڈرا ہوا میڈیا جب سپر پاور انڈیا کی ہیڈلائن لگاتا ہے تب مجھے اُس پاور سے ڈر لگتا ہے. میں چاہتا ہوں کہ عالمی مالک بننے سے پہلے کم از کم ان کالجوں میں ٹیچر پہنچ جائیں، جہاں 8500 لڑکیاں پڑھتی ہیں مگر سکھانے کے لئے 9 ٹیچر ہیں. پھر آپ کہیں گے کہ کیا کچھ بھی اچھا نہیں ہو رہا ہے. کیا یہ اچھا نہیں ہے کہ بغیر استاد کے بھی ہماری لڑکیاں بی اے پاس کر جا رہی ہیں. کیا آپ ایسا ہارورڈ میں کرکے دکھا سکتے ہیں؟ کیمبرج میں دکھا سکتے ہیں، آکسفورڈ میں دکھا سکتے ہیں، کیا آپ ییل اور کولمبیا میں ایسا کرکے دکھا سکتے ہیں؟

میڈیا نے انڈیا کے بنیادی سوالوں کو چھوڑ دیا ہے. اس لئے میں نے کہا کہ اتنی دور سے آکر میں گورنمنٹ آف میڈیا کی بات کروں گا تاکہ آپ کو نہ لگے کہ میں گورنمنٹ آف انڈیا کی بات کر رہا ہوں. میں انڈیا کی نہیں میڈیا کی تنقید کر رہا ہوں. آپ I اور M میں کنفیوز مت کر جانا.

ایک ہی مالک کے دو چینل ہیں. ایک ہی چینل میں دو اینکرز ہیں. ایک فرقہ واریت پھیلا رہا ہے، ایک کسانوں کی بات کر رہا ہے. ایک جھوٹ پھیلا رہا ہے، ایک ٹوٹی سڑکوں کی بات کر رہا ہے. سوال، ہم جیسے سوال کرنے والے سے ہے، جواب ہم جیسوں کے پاس نہیں ہے. آپ ان سے پوچھئے جو آپ تک میڈیا کو لے کر آتے ہیں، جو آپ تک انڈیا لے کر آتے ہیں. جعلی نیوز آج آفیشیل نیوز ہے. نیوز روم میں رپورٹر ختم ہو چکے ہیں. رپورٹر کا استعمال قاتل کے طور پر ہوتا ہے. ایک چینل نے ایک نیتا کے پيچھے چار پانچ رپورٹروں کو ایک ساتھ بھیج دیا. دیکھنے سے لگا کہ سارا میڈیا اس کے پیچھے پڑا ہے. یہ نیا دور ہے. ڈرا ہوا میڈیا اپنے کیمروں سے آپ کو ڈرانے نکلا ہے.

چینلز پر فرقہ واریت بھڑکانے والے اینكروں کو جگہ مل رہی ہے. ان اینكروں کے پاس حکومت کے لئے کوئی سوال نہیں ہے، صرف ایک ہی سوال سب کے پاس ہے. اس سوال کا نام ہے ہندو مسلم سوال، HMQ. بھارت کے نیوز اینکرز قوم پرستی کی آڑ میں فرقہ پرست ہو چکے ہیں. اس حد تک کہ جب ادۓ پور میں نوجوان بھگوا پرچم لے کر عدالت کی چھت پر چڑھ جاتے ہیں تو اینکرز خاموش ہو گئے ہیں. کیا ہم ایسا بھارت چاہتے تھے، چاہتے ہیں؟ عدالت جس آئین کے تحت ہے، اسی آئین کی ایک ندی سے میڈیا اپنی آزادی حاصل کرتا ہے. گورنمنٹ آف میڈیا کے پاس ایک ہی ایجنڈا ہے. ہندو مسلم ایجنڈا. اس سے جڑی جعلی نیوز کی اتنی بھرمار ہے کہ آپ آلٹ نیوز ڈاٹ ان پر پڑھ سکتے ہیں. اب تو فیک نیوز دوسری طرف سے بننے لگی ہیں.

My dear friends، believe me، Media is trying to murder our hard earned democracy. Our Media is a murderer. یہ معاشرے میں ایسا عدم توازن پیدا کر رہا ہے، اپنی بحثوں کے ذریعہ ایسا زہر بو رہا ہے جس سے ہماری جمہوریت کے اندر اندر خوف کا ماحول بنا رہے. جس سے ایک بھیڑ کبھی بھی کہیں بھی ٹریگر ہو جاتی ہے اور آپ کو اوور پاور کر دیتی ہے. آپ کہیں گے کہ کیا اتنا برا ہے، کچھ بھی اچھا نہیں ہے. مجھے پتہ ہے کہ آپ کو بیچ بیچ میں پوزیٹو اچھا لگتا ہے. ایک پوزیٹو بتاتا ہوں. بھارت کی جمہوریت میڈیا کے جھک جانے سے نہیں جھک جاتی ہے. وہ میڈیا کے مٹ جانے سے نہیں مٹ جائے گی. وہ نہ تو ایمرجنسی میں جھکی نہ وہ گودی میڈیا کے دور میں جھکے گی. بھارت کی جمہوریت ہماری روح ہے. ہمارا ضمیر ہے. روح امر ہے. آپ گیتا پڑھ سکتے ہیں. میں گورنمنٹ آف میڈیا کی بات کر رہا ہوں.

آپ کی طرح میں بھی بھارت کو لے کر خواب دیکھتا ہوں. مگر جاگتے ہوئے. سامنے کی حقیقت ہی میرے لئے خواب ہے. میں ایک ایسے بھارت کا خواب دیکھتا ہوں جو حقیقت کا سامنا کر سکے. سوچئے ذرا ہم آج کل ماضی کے سوالات میں کیوں الجھے ہیں. اگر ان سوالات کا سامنا ہی کرنا ہے تو کیا ہم مناسب طریقے سے کر رہے ہیں، کیا ان سوالات کا سامنا کرنے کی جگہ ٹی وی کا اسٹو ڈيو ہے؟ یا کلاس روم ہے، کانفرنس روم ہے، اور سامنا ہم کس طرح سے کریں گے، کیا ہم آج حساب کریں گے، کیا ہم آج قتل عام کریں گے؟ تو کیا آپ اپنے گھر سے ایک قاتل دینے کے لئے تیار ہیں؟ نفرت کی یہ آندھی ہر گھر میں ایک قاتل پیدا کر جائے گی، وہ آپ کا بھائی ہو سکتا ہے، بیٹا ہو سکتا ہے، دوست ہو سکتا ہے، پڑوسی ہو سکتا ہے، کیا آپ نے من بنا لیا ہے؟ کیا ہم نے سیکھا ہے کہ تاریخ کا سامنا کس طرح کیا جائے؟ ہم کلاس روم میں نہیں، سڑک اور ٹی وی اسٹڈيو میں تاریخ کا حساب کرنے نکلے ہیں. نہرو کو مسلمان بنا دینے سے یا اکبر کو شکست دینے سے آپ تاریخ نہیں بدل دیتے، تاریخ جب وزیر تعلیم کے حکم سے تبدیل ہونے لگے تو سمجھئے کہ وہ وزیر کیمسٹری کا بھی اچھا طالب علم نہیں رہا ہوگا. کیا آپ یہاں ہارورڈ میں بیٹھ کر اس بات کو قبول کر سکتے ہیں کہ تاریخ کے کلاس روم میں کوئی وزیر آکر تاریخ بدل دے. پروفیسر کے ہاتھ سے کتاب لے کر، اپنی کتاب پڑھنے کے لئے دے دے. کیا آپ برداشت کریں گے؟ جب آپ خود کے لئے یہ برداشت نہیں کر سکتے تو بھارت کے لئے کس طرح کر سکتے ہیں؟

ضرور تاریخ میں نئی بحث چلنی چاہئے، نئی نئی تحقیقات ہونی چاہیے. لیکن ہم ویسا نہیں کر رہے ہیں. ایک فلم پر ہم نے تین ماہ بحث کی ہے. اتنی بحث ہم نے بھارت کی غربت پر نہیں کی، بھارت کے امکانات پر نہیں، ہم نے تین ماہ ایک فلم پر بحث کی. تلواریں لے کر لوگ اسٹڈيو میں آ گئے، اب کسی دن بندوک لے کر آئیں گے.

مہارانا کی ہار کے بعد بھی لوگوں نے اسے عظیم فاتح کے طور پر قبول کیا تھا. ان کی بہادری کی کہانی پر اس کی شکست کا کوئی اثر ہی نہیں ہوا تھا، جسے ایک وزیر تعلیم نے اپنی طاقت سے تبدیل کرنے کی کوشش کی. لوک شرتيوں میں مہارانا کے لئے کتابوں میں بڑی ہار ہے. مجھے نہیں لگتا کہ مہارانا پرتاپ جیسے بہادر کاغذ پر ہار کی جگہ جیت لکھ دینے سے خوش ہوتے. جو بہادر ہوتا ہے وہ شکست کو بھی گلے لگاتا ہے. پر یہ صحیح ہے کہ پبلک میں تاریخ کو لے کر ویسی سمجھ نہیں ہے جیسی کلاس روم میں ہے. کلاس روم میں بھی عدم مساوات ہے. تاریخ کے لاکھوں طالب علموں کو اچھی کتابیں نہیں ملیں، استاد نہیں ملے، اس لیے  سب نے کتاب کی جگہ کوڑا اٹھا لیا. گندگی کو تاریخ سمجھ لیا. ہم آج بھی تاریخ کو فخریہ ترانہ اور فخریہ اظہار کے بغیر نہیں سمجھ پاتے ہیں. سونے کی چڑیا تھا ہمارا ملک. وشو گرو تھا ہمارا ملک. یہ سب صفات ہیں، تاریخ نہیں ہے. SUPERLATIVES CANT BE HISTORY.

ویسے اس تین ماہ میں بھارت میں جتنے مؤرخ پیدا ہوئے ہیں، اتنے آکسفورڈ اور کیمبرج اپنے کئی سو سال کی تاریخ میں پیدا نہیں کر پائے ہوں گے. بھارت میں آپ صرف جلا کر، پوسٹر پھاڑ کر مؤرخ بن سکتے ہیں. کسی فلم کا پردرشن رکوا کر آپ مؤرخ بن سکتے ہیں. تین سال میں ہم نے جنتے مؤرخ پیدا کئے ہیں، ان کے لئے اب ہمارے پاس اتنی يونورسٹياں بھی نہیں ہیں.

انگریزوں کا مقصد تھا کہ ہندوستان کی تاریخ کو ہندو تاریخ مسلم تاریخ میں بدل دو. آج بہت سے لوگ انگریزی حکومت کی سوچ کو مکمل کر رہے ہیں. وہ واپس تاریخ کو ہندو بمقابلہ مسلمان کے خانچے کے میں لے جا رہے ہیں. حال پر پردہ ڈالنے کے لئے تاریخ سے ویسے مسئلے لائے جا رہے ہیں جن کے ذریعہ شہریوں اور ووٹروں کو مذہبی شناخت دی جا سکے. ہم کیوں اپنی ہندوستانیت کبھی کثرتیت میں وحدت تلاش کرتے کرتے، مذہبی یکسانیت میں تلاش کرنے لگتے ہیں؟ ہم آئین سے اپنی شناخت کیوں نہیں حاصل کرتے، جس کے لئے ہم نے سو سال کی لڑائی لڑی. دن رات بحث کی، لاکھوں لوگ جیل گئے.

اگر بہتوں کو لگتا ہے کہ اس سوال پر بحث ہونی چاہئے تو کیا ہم صحیح طریقے سے آپ کے سوال رکھ رہے ہیں، بحث کر رہے ہیں، کیا اس کا پلیٹ فارم اخبار تک نہ پڑھنے والے یہ اینکرز ہوں گے. آخر کیوں اکثریتی مذہب تاریخ کے کرداروں پر مذہبی تشریح مسلط کرنا چاہتا ہے؟ کبھی میڈیا کے اسپیس میں ہماری ہندوستانیت ملے سُر میرا تمہارا سے بنتی تھی، آج ہمارا سُر ہمارا، تمہارا سُر تمہارا یا تمہارا سُر کچھ نہیں، ہمارا ہی سُر تمہارا.

ہم بھارتیوں کا بھارتی ہونے کا احساس اور تاریخ کا احساس  دونوں بحران سے گزر رہے  ہیں. ہم ایک بکھری شہریت کے احساس کے ساتھ تیار کئے جا رہے ہیں. جس کے اندر اندر فیک نیوز اور فیک ہسٹری کے ذریعہ ایسی پولیٹكل پروگرامنگ کی جا رہی ہے کہ کسی بھی شہر میں چھوٹے چھوٹے گروپ میں لوگوں کو متحرک کیا جا سکتا ہے. کیا آپ تاریخ کا بدلہ لے سکتے ہیں تو پھر آپ انصاف کی اصل تصور کے خلاف جا رہے ہیں جو کہتا ہے کہ خون کا بدلہ خون نہیں ہوتا ہے. اگر ہم خون کا بدلہ خون کے تصور پر جائیں گے تو ہمارے ارد گرد تشدد ہی تشدد ہوگی.

اس وقت بھارت میں دو طرح کی پولیٹكل آئی ڈنتٹی ہیں. ایک جو مذہبی جارحیت سے لیس ہے اور دوسرا تو مذہبی اعتماد کھو چکا ہے. ایک ڈرانے والا ہے اور دوسرا ڈرا ہوا ہے. یہ عدم توازن آنے والے وقت میں ہمارے سامنے کئی چیلنج لانے والا ہے جنہیں ہم خوب پہچانتے ہیں. ہم نے اس کے نتیجے دیکھے ہیں، بھُگتے بھی ہیں. مختلف اوقات پر مختلف کمیونٹیز نے بھُگتے ہیں. ہماری یادوں سے پرانے زخم مٹتے بھی نہیں کہ ہم نئے زخم لے آتے ہیں.

جیسے ہندوستان ایک ٹو اِن وَن ملک ہے. جیسے ہماری سرکاری زبان میں انڈیا اور بھارت کے طور پر شناخت مل چکی ہے. اسی طرح ہماری شناخت مذہب اور ذات کے ٹو اِن وَن پر مبنی ہے. آپ ان ذات پات پر مبنی تنظیموں کی جانب سے بھارت کو دیکھئے، آپ اس کا چہرہ سب کے سامنے نہیں دیکھ پائیں گے. آپ ذات پات کا چہرہ چپکے سے گھر جاکر دیکھتے ہیں. ہم نے نوع انسان کو ختم نہیں کیا. ہم نے آزاد ہندوستان میں نئی نئی CAST COLONIES بنائی ہیں. یہ CAST COLONIES CONCRETE کی ہیں. اس کے سربراہ اس جدید بھارت میں پیدا ہوئے لوگ ہیں. پوچھئے خود سے کہ آج کیوں معاشرے میں یہ ذات پات پر مبنی کالونیاں بن رہی ہیں.

آج کا مطلب 2018 نہیں اور نہ ہی 2014 ہے. ہم بھارت پر فخر کرتے ہیں، مذہب پر فخر کرتے ہیں، ذات پر فخر کرتے ہیں. ہم اپنے اندر ہر طرح کے ظلم کو بچاتے رہنا چاہتے ہیں. کیا ذات واقعی فخر کرنے کی چیز ہے؟ اس سوال کا جواب اگر ہاں ہے تو ہم آئین کے ساتھ دھوکہ کر رہے ہیں، آپ قومی تحریک کے احساس کے ساتھ دھوکہ کر رہے ہیں. ٹیم انڈیا کا سیاسی نعرہ کاسٹ انڈیا، ريليجن انڈیا میں بدل چکا ہے.

آندھرا پردیش میں براہمن ذات کی ایک كوآپریٹو سوسائٹی بنی ہے. اس کا مشن ہے برہمنوں کی وراثت کو دوبارہ سے زندہ کرنا اور اسے آگے بڑھانا. برہمنوں کی وراثت کیا ہے، راجپوتوں کی وراثت کیا ہے؟ تو پھر دلتوں کی وراثت بھیما كورے گاو سے کیا دقت ہے؟ پھر مغلوں کی وراثت سے کیا دقت ہے جہاں اسرائیل کی قومی سربراہ بھی اپنی بیوی کے ساتھ دو پل گزارنا چاہتے ہیں. آپ اس سوسائٹی کی ویب سائٹ http://www.apbrahmincoop.com پر جائیں. وزیر اعلی چندرا بابو نائیڈو اس میگزین کو لانچ کر رہے ہیں کیونکہ اس سوسائٹی کا سربراہ ان کی پارٹی کا رکن ہے.

اس سوسائٹی کے اہداف وہی ہیں جو ایک حکومت کے ہونے چاہئے. جو ہماری اقتصادی پالیسیوں کے ہونے چاہئے. کیا ہماری پالیسیاں اس قدر فیل رہی ہیں کہ اب ہم اپنی اپنی قوموں کو كوآپرییٹو بنانے لگے ہیں. اس کا مقصد ہے غریب برہمن ذاتوں کو سیلف ہیلف گروپ بنانا، انہیں بزنس کرنے، گاڑی خریدنے کا لون دینا. اس کے رکن صرف برہمن برادری سے ہو سکتے ہیں. آئی اے ایس ہیں، پیشہ ورانہ لوگ ہیں. اس کے چير مین آنند سوریا بھی برہمن ہیں. اپنا تعارف میں خود کو ٹریڈ یونین لیڈر اور تاجر لکھتے ہیں. دنیا میں بزنس مین شاید ہی ٹریڈ یونین لیڈر بنتے ہیں. وہ بی جے پی، بھارتی مزدور یونین، جنتا دل، سماجوادی جنتا پارٹی، جنتا دل سیکولر میں رہ چکے ہیں. جہاں انہوں نے سیکھا ہے کہ براہمن کمیونٹی کو اخلاقی اور سیاسی حمایت کس طرح دینی ہے. ہمیں پتہ ہی نہیں تھا سماجوادی پارٹی میں لوگ یہ سب بھی سیکھتے ہیں. 2003 سے وہ ٹی ڈی پی میں ہیں.

یہ تنہا ایسا انسٹی ٹیوٹ نہیں ہے. بیرون ملک میں بھی اور بھارت میں بھی ایسے متعدد ذات پات پر مبنی  تنظیمیں قائم ہیں. ان کے ذمہ داروں کی سیاسی حیثیت کسی نیتا سے زیادہ ہے. اس اسپیس کے باہر بِنا اس طرح کی پہچان کے لئے نیتا بننا ناممکن ہے. بنگلور میں تو 2013 میں صرف برہمنوں کے لئے ویدک سوسائٹی بننی شروع ہو گئی تھی. سوچئے ایک بستی ہے صرف برہمنوں کی. یہ ایكسكلو‍‍‌ژن ہمیں کہاں لے جائے گا، کیا یہ ایک طرح کا گھیٹو نہیں ہے. 2700 گھر براہمنوں کے علیحدہ ہوں گے. یہ تو دوبارہ دیہات والا نظام ہو جائے گا. برہمنوں کا الگ سے. کیا یہ گھیٹو نہیں ہے؟

آزاد ہندوستان میں یہ کیوں ہوا؟ اسی کی دہائی میں جب ہاؤسنگ سوسائٹی کی توسیع ہوئی تو اسے ذات اور خاص پیشے کی بنیاد پر بسایا گیا. دہلی میں پٹ پڑ گنج ہے، وہاں پر ذات، پیشہ، علاقہ اور ریاست کے حساب سے بہت سی ہاؤسنگ سوسائٹی آپ کو ملیں گی. پھر ہم آئین کی بنیاد پر بھارتی کیسے بن رہے تھے. کیا بغیر ذات پات کی حمایت کے ہم ہندوستانی نہیں ہو سکتے.

جے پور کے وديانگر میں قوموں کے مختلف ہاسٹل بنے ہیں. مسٹر راجپوت سبھا نے اپنی ذات کے لڑکے کے لئے ہاسٹل بنائے ہیں. لڑکیاں بھی ہیں. یادووں کے بھی مختلف ہاسٹل ہیں. مینا ذات کے بھی مختلف ہاسٹل ہیں. برہمن ذات کے بھی مختلف ہاسٹل ہیں. اب آپ بتائیں، ان ہاسٹل سے نکل کر جو بھی آگے جائے گا وہ اپنے اندر کس شناخت کو آگے رکھے گا. کیا اس کی شناخت کا آئین کی بنیاد ہندوستانیت سے تصادم نہیں ہو گا؟ کھٹیک ہوسٹلز بھی ہیں جو حکومت نے بنائے ہیں. کیوں ریاستی حکومتوں کو دلتوں کے لئے الگ سے ہاسٹل بنانے کی ضرورت پڑی؟ کیا ہماری قوموں کے اونچے طبقے نے آئین کی بنیاد پر بھارت کو ابھی تک قبول نہیں کیا ہے، کیا وہ آئین کی بنیاد پر شہریت کو پسند نہیں کرتا ہے؟ کیا قوموں کا کوئی ایسا گروپ ہے جو مذہب کے سہارے اپنا تسلط دوبارہ حاصل کرنا چاہتا ہے؟ کیا کوئی ایسا بھی گروپ ہے جو اب پہلے سے کئی گنا زیادہ طاقت سے اس تسلط کو چیلنج دے رہا ہے؟

ہندوستان کی سیاست کی طرح میڈیا بھی انہی کاسٹ کالونی سے آتا ہے. اس کے ایڈیٹر بھی اسی کاسٹ کالونی سے آتے ہیں. انہیں پبلک میں ذات کی شناخت ٹھیک نہیں لگتی مگر انہیں مذہب کی شناخت ٹھیک لگتی ہے. تاکہ وہ مذہب کی شناخت کے ذریعہ ذات پات کی شناخت ٹھیل رہے ہیں. یہ کام وہی کر سکتا ہے جو جمہوریت میں یقین نہیں رکھتا ہو کیونکہ ذات پات جمہوریت کے خلاف ہے. گورنمنٹ آف میڈیا میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے. پوزیٹو یہی ہے کہ جمہوریت کے خلاف یہ مکمل آزادی سے بول رہا ہے. بھائی چارے کے خلاف پوری آزادی سے بول رہا ہے. ہماری گورنمنٹ آف میڈیا آزاد ہے. پہلے سے کہیں آزاد ہے. اسی پوزیٹو نوٹ پر میں اپنی تقریر ختم کر رہا ہوں.

مجموعی طور پر ہم جمود کو پروموٹ کر رہے ہیں. مذہبی فخر کو ہم قومی بتا رہے ہیں. آپ چاہیں تو ڈارون کو رجیکٹ کر سکتے ہیں. آپ چاہیں تو گنیش پوجا کو ہی میڈیکل کالج کی پڑھائی کے طور پر گھوشت کر سکتے ہیں.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close