آج کا کالم

میڈیکل کالج کے ہاسٹل کی ایک سال کی فیس 21 لاکھ؟

بھارت کے نوجوانوں کی سیاسی سمجھ تھرڈ کلاس نہیں ہوتی تو وہ کانگریس اور بی جے پی کے بیچ فٹ بال نہیں بنتے۔

رويش کمار

آپ لوگ بی جے پی بمقابلہ کانگریس کی لڑائی میں ہی رہتے ہیں۔ ذرا بتائیے کہ ان میں سے کسی کی حکومت آنے پر کیا بدل جائے گا؟ کیا پولیس ٹھیک ہو جائے گی، کیا عدالتوں کا رویہ بدل جائے گی؟ ایک طالب علم نے جو لکھا ہے میں اس کی جگہ آپ سب کو رکھتا ہوں۔ جو کانگریس کے حامی ہیں، ایس پی، بی ایس پی کے حامی ہیں اور جو بی جے پی آر ایس ایس کے ہیں، وہ ایمانداری سے بتائیں کہ اس طرح کی لوٹ کو روکنے کی ہمت کسی میں ہے؟ بھارت بھر میں پرائیویٹ  کالجوں کے ذریعے لوٹنے والا ایک ایسا گروہ پیدا ہوا ہے، جو ہر پارٹی کے نیتاؤں کا فنڈر ہے اورخود بھی ایک نیتا ہے ہر پارٹی میں۔ مغربی اتر پردیش سے ایک طالب علم نے لکھا ہے کہ یہاں کے دو پرائیویٹ میڈیکل کالج میں MD / MS کے طالب علموں کے لئے ہاسٹل فیس 21 لاکھ روپے ہے۔ ٹیوشن فیس الگ سے ہے جو 12 لاکھ 48 ہزار ہے۔

بتائیے ٹیوشن فیس 12 لاکھ اور ہاسٹل فیس 21 لاکھ؟ اس لوٹ کو کون بند کرا سکتا ہے اور یہ لوٹ کن حکومتوں کی دین ہے؟ اس لیے شہری بنے رہیے، اِس پارٹی، اُس پارٹی کا سپورٹر بن کر خود کو بیکار مت بنائيے۔ سوچیے یہ ڈاکٹر ڈاکو نہیں بنیں گے تو کیا بنیں گے۔ ان سے تعلیم کے لیے مغربی یوپی کے کالج میں ہاسٹل کا خرچہ 21 لاکھ لیا جائے گا تو یہ کیا کریں گے۔ ان کالجوں کو کوئی جانتا نہیں ہو گا۔ اوسط درجے کے کالج ہیں۔ اتنے میں تو آکسفورڈ اور کیمبرج سے پڑھ کر چلا آئے گا۔ ہاسٹل فیس 21 لاکھ؟ جبکہ گزشتہ سال 2 لاکھ تھی۔ ٹیوشن فیس بھی ساڑھے بارہ لاکھ؟ یہ کس حساب سے بڑھا بھائی! کالج کا نام نہیں دے رہا۔ ویسے طالب علم نے رسید دی ہے۔

بھارت کے نوجوانوں کی سیاسی سمجھ تھرڈ کلاس نہیں ہوتی تو وہ کانگریس اور بی جے پی کے بیچ فٹ بال نہیں بنتے۔ آپ بتائیے کہ کیا ان نیتاؤں کو یہ کھیل نہیں معلوم ہوگا۔ مگر نوجوان ان کے جھنڈے بھی ڈھو رہے ہیں اور رو، گا کر 12 لاکھ، 20 لاکھ فیس بھی دے رہے ہیں۔ یہ سب پڑھ کر شام خراب ہو جاتی ہے۔ پتہ نہیں یہ نوجوان کس طرح جھیلتے ہوں گے یہ سب پریشانیاں۔ اوپر سے لکھنے پر جواب آئے گا کہ ارے سر، مہاراشٹر کے میڈیکل کالجوں میں تو طالب علم آرام سے 40-40 لاکھ فیس دے رہے ہیں۔ ایک ہی طالب علم نے لکھا ہے، باقی نے تو نہیں بولا کہ ایک سال کی فیس 21 لاکھ ہے؟

آپ کو پتہ ہی ہوگا کہ مہاراشٹر میں پرائیویٹ کالج کن نیتاؤں کے ہوں گے۔ دے ہی رہے ہیں طالب علم۔ ہوگا کہیں کا پیسہ۔ آپ گھر بیٹھے کرتے رہیے کانگریس بی جے پی۔ ان دونوں کا یہی کام ہے۔ ایک سے ناراضگی کا فائدہ اٹھا کر دوسری آتی ہے اور دوسری سے ناراضگی کا فائدہ اٹھا کر پہلی۔ درمیان میں شہری گھنٹی کی طرح بج رہا ہوتا ہے۔ آپ کی قسمت میں ان باکس ہی رہ گیا ہے۔ سامنے سے آکر بولیں گے تو دونوں ٹانگ دیں گے۔ جب تعلیم کی نجکاری پر بحث ہوتی ہے تو ایک نوجوان بھی نہیں ملتا جو دھیان سے سن بھی لے۔

ہسپتال کے مہنگے اخراجات سے کراہتے لوگوں میسیج سے میرا ان باکس بھرا ہوا ہے۔ کلیجہ پھٹ جاتا ہے۔ نہیں لگتا کہ یہ سب کبھی ٹھیک ہوگا۔ میں نے تو نہیں سنا کہ کانگریسی اور بھاجپائی ہسپتالوں اور اخراجات کو لے کر کبھی بحث بھی کرتے ہیں۔ بی جے پی کی جگہ کانگریس آئے گی، کانگریس کی جگہ بی جے پی آئے گی۔ کس کس کو ایمس میں داخل کروا دیں۔ ہم وزیر صحت تھوڑے نہ ہیں۔ ان پر بھی دباؤ رہتا ہی ہوگا مگر ہسپتال کوئی نہیں بنوا رہا ہے۔ دو سال میں پرائیویٹ ہسپتال بن کر چالو ہو جاتا ہے اور یہاں پانچ پانچ سال حکومت رہتی ہے، کچھ نہیں ہوتا۔ تو آپ دیکھیں گے نہ، جن پارٹیوں کے لئے آپ جھنڈا اٹھائے ہیں، وہاں آپ کی آواز ہے یا نہیں۔ کس لیے ان کا جھنڈا اٹھاتے ہیں آپ، اس لئے کہ یہ آپ کو بیماری کے وقت بكوا دیں، تعلیم کے وقت بكوا دیں۔

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close