آج کا کالم

میڈ ان انڈیا کے سامنے سستے دام کا چیلنج

سدھیر جین

آخر وقت رہتے ہم میڈ ان انڈیا کی بات کو آگے لے آئے- دو سال سے ہم غیر ملکی لوگوں کو ہندوستان میں آکر ملک میں مال بنانے کی بات کر رہے تھے- یہ کام کرتے کرتے پتہ لگا ہوگا کہ ملک میں پہلے سے ہی بن رہے مال کو کھپانے میں دقت آ رہی ہے. کچھ گھنٹوں پہلے ہی کامرس اور صنعت کی وزارت نے ملک کے باہر برانڈ انڈیا کو فروغ دینے کی بات کہی ہے- اس کے لئے کامرس اور صنعت کے وزیر نے ایک تقریب میں اعلان کیا کہ بیرون ملک میں ہندوستان کے مال کی تشہیر کرنے کے طریقے تلاش کرنے کے لئے ایک دن کا غور وخوض کیا جائے گا- انہوں نے دنیا بھر کے لوگوں سے اپنی رائے مانگی ہے-

پیچھے مڑ کر دیکھنے میں کوئی حرج نہیں
میک ان انڈیا کے ساتھ ہی میڈ ان انڈیا کی تشہیر کی نئی ضرورت کچھ باتوں کو پلٹ کر دیکھنے کی بھی مانگ کر رہی ہے- اس سے کچھ کام کی باتیں نکل کر آ سکتی ہیں- ویسے گزشتہ دو دہائیوں میں برانڈ انڈیا کو مقبول بنانے کا کام کم نہیں ہوا ہے- نیا طریقہ سوچنے میں دو چار سال لگ جائیں گے سو پرانے طریقوں کونافذ کرنے میں حرج نہیں ہونا چاہئے-

نیا کیا سمجھ میں آیا
نیا یہ سمجھ میں آیا ہے کہ ملک میں ابھی جتنی پیداوار ہو رہی ہے وہ مانگ کے لحاظ سے پہلے ہی زیادہ ہے. اگر اسے مانگ نہ ہونے کا نام نہ دینا چاہیں تو صورت حال یہ ہے کہ ہندوستانی خریداروں کی جیب انہیں اپنی ضرورت کا سامان خریدنے نہیں دے رہی ہے- اسی لئے اقتصادی ترقی پر زور لگانے کی باتیں کی جاتی تھیں- ویسے اس کام کو کرنےمیں طویل وقت لگتا ہے- اور پھر غریبوں کی جیب میں پیسہ پہنچائے بغیر یہ نہیں ہو سکتا- آپ کی ضرورت یا چاہت یا خواہشات کو پورا کرنے کے لئے جن کے پاس پیسہ ہے ان کی تعداد بہت تھوڑی سی ہے- غریبوں اور بے روزگاروں کی تعداد پہاڑ جیسی ہو چلی ہے- ظاہر ہے نئی بات یہ سمجھ میں آئی ہے کہ بیرون ملک میں اپنا مال فروخت کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں- ویسے یہ بات بھی کوئی بالکل نئی نہیں ہے-

طریقہ کیا ہو
روایتی طریقے اپنائے جا چکے ہیں- روایتی طریقے عام حالات کے لئے ہوتے ہیں- نئے حالات عالمی کساد بازاری کیلئے ہیں- تمام ممالک کی طرح ہمارے سامنے بھی چیلنج ہماری گرتی معیشت ہے- ایسے میں نئی ٹیکنالوجی کو لگائے بغیر ہم مناسب طریقے سے سوچ نہیں پائیں گے- اس بارے میں مینجمنٹ ٹیکنالوجی کے نوجوان انٹرن ایک کتابی بات تجویز کرتے ہیں- اس کا نام ہے ایس ٹی پی. ایس یعنی سیگمینٹیشن (انقطاع) ، ٹی یعنی ٹارگٹ (مقصد)، اور تیسرا پوزیشننگ یا ہدف کے لئے مورچہ سنبھالنا- بیرون ملک میں برانڈ انڈیا کے جارحانہ تشہیر کے انتظامی ٹیکنالوجی کے اس ماڈیول کے تینوں حصوں پر تھوڑی تھوڑی سی بات کریں گے-
سیگمینٹیشن (انقطاع): عالمی مینجمنٹ ٹیکنالوجی کے نوجوان انٹرنس کے مطابق اپنے ملک کو فورا ہی ایک سروے کے کام پر لگنا پڑے گا- دنیا کے ان ممالک کی نشاندہی کرنی پڑے گی جہاں مال کی کھپت کا پوٹینشيل ہے. یہ کام چین نے سب سے پہلے کیا تھا- اس نے سیگمینٹ کے ذریعے ہی جانا تھا کہ اپنا مال کھپانے کے لئے کن ممالک میں پوٹیبشيل سیگمینٹ ہے- اس کے بعد اس نے ہندوستان میں اپنا ٹارگٹ ایریا یعنی ہدف کے علاقے طے کئے تھے- اس سیگمینٹ میں درمیانی طبقے کےلوگ نکل کرآئے تھے جنہیں سستا سامان درکار تھا-

ٹارگیٹنگ: سستے سامان خریدنے والے کروڑوں لوگوں کی تعداد پتہ لگتے ہی چین نے ہندوستان میں قریب سے ان علاقوں کا پتہ بھی کر لیا تھا جہاں زیادہ سے زیادہ سامان فروخت ہو سکتا تھا- یہ علاقہ سماجی اور مذہبی علاقے کے طور پر چنا گیا- اس طرح سے ہندوستان میں بلاک سطح پر بڑے گاؤوں تک کو سامان فروخت کرنےکا ہدف بنایا گیا- آج چین کی مارکیٹنگ کی سنسنی خیز صورت ہمارے سامنے ہے- غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ہم اپنے ہی ملک میں اس ٹارگیٹ کو نہیں دیکھ پائے تھے- ویسے بھی دیکھتے ہی دیکھتے بات بہت دور نکل گئی ہے- ہمارے پاس کچھ بچا ہے تو جاننے کے طور پر یہ مینجمنٹ ٹیکنالوجی ہی بچی ہے جسے ہم دوسرے ممالک میں اپنا سامان فروخت کرنے میں لگا سکتے ہیں-

پوزیشننگ: یہ ایس ٹی پی ماڈل کا آخری مرحلہ ہے- پھر بھی کسی نہ کسی سطح پر اپنے ملک کے پاس اس کا تجربہ ضرور ہوگا- آخر پہلے سے ہی ہم بہت سے ممالک کو برآمد تو کرتے ہی ہیں- اگر کچھ نیا دیکھنا ہوگا تو وہ یہ ہوگا کہ پوزیشننگ کرتے وقت اس بات کا خیال ضرور رکھیں کہ یہ عالمی کساد بازاری کا وقت ہے- اقتصادی ترقی کو لے کر چھوٹے بڑے ملک جمود کی حالت میں آ گئے ہیں- سو ہمیں گلوبلائزیشن کے دور میں اتنا آگے نکل آنے کے بعد یہ تو دیکھنا ہی پڑے گا کہ مال کی قیمت کے معاملے میں مقابلہ ہمیں کرنا ہی پڑے گا-

ملک کے اندر بھی کام آ سکتا ہے میڈ ان انڈیا
مینجمنٹ ٹیکنالوجی کے قابل نوجوانوں سے بات چیت میں یہ سب سے کام کی اور دلچسپ بات نکلی- جب طے ہوا کہ ہمیں سستے مال کی پیداوار کے طریقے تلاش کرنے ہی پڑیں گے تو یہ بھی بات نکلی کہ تب اس وقت بیرون ملک میں برانڈ انڈیا کی مہم چلانے کی اتنی ضرورت ہی کہاں پڑے گی. ہمارا اپنا ملک ہی اتنا بڑی مارکیٹ ہے کہ کئی بڑے ملک ہمارے اس مارکیٹ سےچل رہے ہیں- ہمیں دقت یہ آ رہی ہے کہ چین یا دوسرے ممالک کے مال کے سستے ہونے کی وجہ سے ہماری مصنوعات گھر کی دکانوں میں بغیر بکے رکھی رہ جا رہی ہے- ویسے اگر سستے مال بنانے کی مہم چلا لی تو بیرون ملک میں بھی مارکیٹ کی تلاش میں ہمیں دقت نہیں آئے گی- تب دن دونی، رات چوگنی رفتار سے آگے بڑھنے کے بہت سارے راستے اپنے آپ نظر آنے لگیں گے-

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سدھیر جین

سدھیر جین معروف سینیئر صحافی ہیں اور انڈین ایکسپریس گروپ- جن ستا کے چیف سب ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔

متعلقہ

Close