آج کا کالم

میں انوپم دادا کو مس کر رہا ہوں !

رویش کمار

سبھی پانی پیتے ہیں۔ سبھی پانی کے بارے میں نہیں جانتے ہیں۔ دونوں میں فرق کا پتہ تب چلا جب انوپم مشرا سے ملاقات ہوئی۔ کیمسٹری کی کلاس میں ماسٹر نے ہائیڈروجن اور آکسیجن کے مرکب سے پانی کی اصل کے بارے میں بتایا تھا۔ انوپم مشرا میرے لئے پانی کے ماسٹر تھے۔ ندیوں کے پروفیسر اور پانی ، زمین، جنگل کی یونیورسٹی۔ ایک ایسی یونیورسٹی جس کی لائبریری میں کوئی غیر ملکی کتاب نہیں تھی۔ تمام دیسی معلومات سے بھرے انوپم مشرا ہلکے سے سوال پر بغیر جلد کی کتاب کی طرح کھل جاتے تھے۔ بند تبھی ہوتے تھے جب ٹی وی کے صحافی کا لالچی دماغ ضد کرنے لگتا کہ کیمرے پر بول دیجئے نا۔ یہی جواب ملتا کہ تمہیں بتا دیا، تم بول دو یہ ساری میری معلومات نہیں ہے۔ یہ تو پہلے سے تھی۔ میں نے بھی تو کہیں سے، کسی سے سنی ہے، پڑھی ہے۔ میں اپنی معلومات کا حقیقی مصنف نہیں ہوں۔ مجھے وہ حیران کرتے تھے لیکن تمام مایوسی کے لمحات میں حوصلے کی مشعل تھے۔

 ایسے ہی ایک کمزور لمحے میں ان سے کہنے لگا کہ دادا میں نہیں کر پا رہا ہوں۔ صحافت میرے لئے نہیں ہے۔ ان کا ایک سادہ سا سوال آیا۔ کیا تیس دن میں ایک دن بھی اچھا کام نہیں کر پاتے ہو۔ نہیں ایک دو دن تو کر ہی لیتا ہوں۔ ہاں تو بس ایک دن تو اچھا کام کرنے کو مل جاتا ہے، اور کیا چاہئے۔ جتنا موقع ملے، اتنے میں ہی اچھا کرنے کی کوشش کرو۔ اتنا کافی ہے۔ باقی کے 29 دن اس ایک دن کے انتظار میں کاٹ دو، میں ہنستا رہ گیا۔ جب بھی لگتا ہے کہ اب صحافت مشکل ہے۔ حکومتوں کا شکنجہ گہرا رہا رہا ہے. انوپم جی یاد آ جاتے ہیں۔ سوچتا ہوں کہ جب تک ایک دن ایک لمحہ اچھا کرنے کی گنجائش ہے، ٹکے رہنا چاہئے۔ مایوسی آتی ہے، ان کی باتوں سے چلی جاتی ہے۔

 میں جتنا ان کے پاس نہیں گیا، اس سے زیادہ وہ میرے پاس آتے رہے۔ اچانک فون آ جاتا، سب ٹھیک ہے نا؟ میں نے سوچا کہ حال چال لے لیتے ہیں۔ آپ لوگ تو زیادہ بڑا کام کرتے ہیں۔ مصروفیت بھی رہتی ہے۔ اپن لوگ تو خالی ہیں۔ فون پر حال چال پوچھ لینا چاہئے تاکہ آپ کا کام میں دل لگا رہے۔ ان  کےخطوط آتے رہتے تھے۔ تمام تعریفوں کے درمیان ایک خط ایسا آیا جس میں انہوں نے بڑے پیار سے میری کچھ غلطیوں کو ٹھیک کر دیا تھا۔ میری زبان گرامر کے معیار پر کھری نہیں اترتی ہے۔ ادارت کے پیمانے پر بھی نہیں.۔ایک خواہش ادھوری رہ گئی۔ میں ان کی ادارت کا قائل تھا۔ خواہش تھی کہ اپنا لکھا ہوا کچھ بھیجوں اور دیکھوں کہ وہ اپنی ادارتی صلاحیت سے کیسے بدل دیتے ہیں۔ جب بھی گاندھی مارگ پڑھتا ، لگتا کہ اس میں میرا ایک مضمون شائع ہو انوپم جی اپنی طرف سے گاندھی مارگ کی کاپی  بھجوا دیتے تھے اور پوچھ لیتے تھے کہ پڑھی یا نہیں؟

میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اپنی صحافت کی اصلاح کی ہے۔ انوپم مشرا میرے لئے ہندی میں بنیادی اور دیسی خیال کے علم کا ذخیرہ تھے۔ کس طرح لکھوں کہ میں نے ان سے کتنا کام کرایا ہے۔ رپورٹنگ سے لے کر ‘پرائم ٹائم’ اور ‘ہم لوگ’ کے لئے ان سے کتنی معلومات مانگی ہیں۔ انہوں نے بغیر تاخیر کے کتابیں بھجوائیں۔ فوٹو کاپی ای میل کروا دی۔ سمجھا دیا اور بتا دیا۔ صرف سامنے نہیں آئے۔ ضد تھی کہ انوپم مشرا کو ٹی وی پر لاؤں گا۔ ہر سال، ہر ماہ اور ہر ملاقات میں پوچھتا۔ ایک دن جیسے ہی انہوں نے کہا کہ ٹیڈ  ٹاک کے لئے تقریر کی ہے تو بس پیچھے پڑ گیا۔ وہ مان گئے۔ ‘ہم لوگ’ کا پورا گھنٹہ انہیں کو دے دیا۔ ناظرین بھول جاتے ہیں مگر جنہوں نے بھی دیکھا تھا وہ یہی پوچھتے رہے کہ ہمارے ملک میں ایسے لوگ کہاں رہتے ہیں؟ آپ کو کیسے مل گئے؟

 اس دہلی میں وہ ایک شخص تھے جو میری فکر کرتے تھے۔ ٹی وی پر کبھی اداس دکھا تو اگلے دن فون آتا ہی تھا۔ اویناش داس نے ہی کسی بات چیت میں کہا تھا۔ ارے آپ انوپم مشرا کو نہیں جانتے. آپ ان سے ملنا چاہئے. دریاؤں کے بارے میں کتنا کچھ بتایا. پانی کے بارے میں کتنا کچھ سکھا دیا. وہ میرے لئے تالاب تھے۔ ان سے پانی بھر کر لاتا اور اپنے چینل پر ناظرین کے سامنے انڈیل دیتا۔ ان کی دی ہوئی تفہیم اور معلومات کی بنیاد پر نہ جانے کتنے پروگرام کئے۔ جس دن انوپم دا کینسر کے عذاب سے تڑپ رہے تھے، میں چنئی سے لوٹ کر قصبہ کے لئے پانی پر ہی بلاگ لکھ رہا تھا۔ پانی پر جب بھی لکھتا ہوں، انوپم مشرا یاد آ جاتے ہیں۔ پانی پر لکھنا انہیں نے تو سکھایا ہے۔

 آج کے میڈیا میں ماحول کی بات خوب ہوتی ہے۔ ان سب میں ماحول کے مسئلہ کا حل مہنگی ٹیكنالوجي ہی ہوتی ہے۔ انوپم جی کے پاس ماحولیات کے مسئلہ کا انوپم حل تھا، جسے آپ مسئلہ کا سماجی حل کہہ سکتے ہیں۔ بغیر اخراجات اور ٹیكنالوجي کے ہی ان کے پاس خشک سالی سے لے کر کاویری پانی تنازعہ کے حل موجود تھے۔ ماحول کو لے کر ان کی سمجھ ہندوستانی سماج سے بنی تھی۔ یہاں کی ثقافت سے بنی تھی۔ وہ سمجھ ایسی تھی جسے جان کر لگتا تھا کہ اب بھی بہت آسان ہے ماحول کو بچا لینا۔ بہت آسانی سے تالاب بچائے جا سکتے ہیں اور بہت کم کوشش میں ندیاں۔ ان کی باتوں میں تھیوری نہیں تھی۔ بڑی بڑی لائنز نہیں تھیں۔ ان  کو پڑھتے ہوئے جانا کہ اپنے سماج کو جاننے سے اعتماد بڑھتا ہے۔ آپ کاعدم تحفظ کم ہوتا ہے۔

 ان کو خوب پڑھا ہے۔ تین چار کتابوں کو کئی بار پڑھا ہے۔ جب بھی کتابوں سے دھول کو صاف کرتا ہوں، ایک بار یاد کر لیتا ہوں کہ انوپم جی کی کتاب یہیں رکھی ہے۔ کبھی کسی کو دیا نہیں۔ جب بھی لگتا ہے کہ زبان بگڑ رہی ہے تو ‘گاندھی مارگ’ اور ‘آج بھی کھرے ہیں تالاب’ پڑھ لیتا تھا۔ ان کی زبان تشدد سے مبرا زبان تھی، تشویش سےمبرا زبان تھی، غصہ سے مبرا زبان تھی۔ ہم سب کی زبان میں یہ خصوصیات نہیں ہیں۔ اسی لئے وہ انوپم تھے، ہم انوپم نہیں ہیں۔ وہ چلے گئے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں ان کے جانے کو لے کر کیا محسوس کر رہا ہوں۔ شاید خود سے بھاگ رہا ہوں۔ اس انوپم مشرا کے بارے میں کم بات کر رہا ہوں۔ ان کی کتابوں، ان کی زبان، ان کی سادگی کے بارے میں بات کر رہا ہوں۔ میں انوپم دا کو مس کر رہا ہوں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close