آج کا کالم

میں خوش نصیب  ہوں، مجھے ملا ہے دو ماؤں کا پیار!

شکھا شرما

رشتوں کی ڈور انتہائی نازک ہوتی ہیں اور اگر ان میں ذرا سی بھی کھٹاس پیدا ہو جائے تو یہ تاعمر ٹھیک نہیں ہوپاتے. ویسے تو اپنوں کے لئے دل میں ہمیشہ خاص جگہ ہوتی ہے، لیکن جتنے بھی رشتے زمین پر آنے کے بعد بنتے ہیں، ان میں سے مجھے لگتا ہے کہ سب سے بہتر رشتہ ماں اور بیٹی کا ہوتا ہے. اس رشتے کو الفاظ میں باندھنا انتہائی مشکل کام ہے. کیونکہ ماں کا پیار تو ہر جگہ ہمارے ساتھ ہوتا ہے.

بھگوان کرشن کو دو ماؤں کی محبت ملی تھی. دیوكي نے انہیں جنم دیا اور يشودا نے پالا. لیکن مجھے اسی ماں نے پالا لیا، جس نے جنم دیا. پھر آپ سوچ رہے ہوں گے کہ مجھے دو ماؤں کی محبت کس طرح ملی؟ دراصل، شادی کے بعد لڑکیوں کو ملنے والا یہ محبت دوگنی ہو جاتی ہے … کس طرح ..؟ آج میں لڑکیوں کی زندگی میں آنے والے ماں کے دو فارم ماں اور ساس کے بارے میں اپنے احساس کو آپ سب سے شیئر کر رہی ہوں.

میں نے اپنی ماں اور ساس کو ‘ماں’ کے ہی دو مترادفات الفاظ میں تقسیم ہے. ‘ممی’، یہ ہیں میری جنم داتا اور ‘ماں’، یہ ہیں میری ساس. میری ماں نے مجھے اس دنیا میں سب سے زیادہ محبوب ہیں. ان سے مجھے کسی بھی موضوع پر بات کرنے سے پہلے نہ تو سوچنا نہیں پڑتا ہے اور نہ ہی یہ فکر ہوتی ہے کہ انہیں میری کوئی بات بری نہ لگ جائے. بغیر کچھ کہے میری ہر مشکل کو سمجھ جانا، میری ہر چیز کا خیال رکھنا، ہر خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کرنا …. صرف اور صرف ماں ہی کر سکتی ہیں.

میری ممی کافی چلبلی اور صاف دماغ کی خاتون ہیں. ہمیشہ دوسروں کا بھلا کرنا اور مشکل وقت میں عوام کی ڈھارس بدھانا ماں کی عادات میں شمار ہے. پر کبھی کبھی لگتا ہے کہ میں نے ممی کو اتنا وقت نہیں دیا، جتنا دینا چاہئے تھا. دراصل، ابھی کچھ وقت پہلے ہی میری شوہر کی طبیعت خراب ہو گئی تھی. میں کام کر رہی ہوں، تو آپ کے مالک کو بتا کر میں نے کچھ دنوں کی چھٹیاں لے لیں. لیکن جب شوہر ٹھیک ہو گئے، تب یکایک ذہن پریشان سا ہو گیا. دماغ کہنے لگا …. ‘بیمار تو ماں بھی ہوتی تھیں، درد اور تکلیف سے وہ بھی گزر تھیں، پر تب کبھی میں نے آفس سے چھٹی نہیں لی.’ کیوں … کیا ماں کا درد میں سمجھ نہیں پائی … یا ماں نے مجھے کبھی اپنی تکلیف کا احساس ہی نہیں ہونے دیا ….. جواب کی تلاش جاری ہے …

پاپا کے جانے کے بعد ماں کو ٹوٹتے ہوئے دیکھنا میرے لئے کافی مشکل تھا … دماغ ڈرنے لگا تھا کہ یہ بھی ہمیں چھوڑ کر چلی نہ جائیں … لیکن شاید يمراج تھوڑے سے مہربان ہو گئے … ایسا اس لیے کہہ رہی ہوں کیونکہ پاپا کے جانے کے بعد ممی کی حالت بہت خراب تھی، ان کا حوصلہ ٹوٹنے لگا تھا، چہرے کی مسکراہٹ غائب ہو گئی تھی، لیکن اس مشکل وقت میں بھی انہوں نے حالات سے سمجھوتہ کرتے ہوئے مجھے اور میرے چھوٹے بھائی کو سنبھالا .. . اور اٹھ کھڑی ہوئیں ایک مشکل ڈگر پر چلنے کے لئے. آج میں جو بھی ہوں …. زندگی کے جس مقام پر ہوں اس کا کریڈٹ صرف اور صرف میرے والدین کو جاتا ہے.

چلئے اب ذرا بات کرتے ہیں ایک لڑکی کو سب سے ڈینجر لگنے والی عورت یعنی ‘ساس’ کی.

بڑے بزرگ کہتے ہیں کہ بہت خوش نصیب ہوتی ہیں وہ لڑکیاں جنہیں اپنی ساس کا پیار ماں کی محبت کے طور پر ملتا ہے. جناب ان خوش نصیب خواتین کی فہرست میں میرا بھی نام شامل ہو گیا ہے. ویسے ساس کی تصویر آج بھی بہو اور اس کے رشتہ داروں کے ذہن میں تقریبا پہلے جیسی ہی ہے. ساس یعنی ایک دبنگ عورت، جو بات بات پر طعنہ دیتی ہے، بہو کو ڈاٹنے کا ایک بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی. لیکن میری ساس پر ایسی کوئی عادت نہیں ہے. شادی کے بعد جب ایک فیملی فنکشن میں نانی سے ملنا ہوا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا، ‘ساس ٹھیک ہے تمہاری، کچھ کہتی تو نہیں ہے؟’ ان کا یہ سوال سن کر ہنسی آگئی تھی مجھے. دراصل، دادی جاننا چاہتی تھی کہ ان کی شرارتی پوتی کو کوئی دقت تو نہیں. جواب میں میں نے دادی کو کہا تھا، ‘اماں سب ٹھیک ہے، ساس بہت اچھی ہیں.’

میری ساس صاف دماغ کی خاتون ہیں. میری چھوٹی سی تکلیف ان کو بھی پریشان کر دیتی ہے. ان کے ساتھ باتوں باتوں میں کب وقت گزر جاتا ہے پتہ ہی نہیں چلتا. گرمی میں باتیں کرتے کرتے میرے گلے کے خشک ہونے کا احساس کس طرح ان ہو جاتا ہے، مجھے سمجھ ہی نہیں آتا … مجھے پیاس لگی ہے، اس بات کا احساس اس وقت ہوتا ہے، جب وہ میرے لئے خود پانی کا گلاس لے آتی ہیں. .. میرے چہرے پر پسینہ دیکھ کر پنکھا تیز کرنا … اترا چہرہ دیکھ کر یہ سمجھ جانا کی آج طبیعت ذرا ناساز ہے … یہ کچھ ایسی چھوٹی چھوٹی اور دل کو چھو لینے والی باتیں ہیں … جو مجھے میری ساس میں ماں کا عکس دکھاتی ہیں.

میں ماں اور ساس کے مقابلے میں نہیں کر رہی ہوں. اس دنیا میں آنے اور سانس لینے کا حق جس نے مجھے دیا … ان کا موازنہ بھلا ہو بھی کیسے سکتا ہے. میں نے صرف یہ بتانا چاہتی ہوں کہ بدلتے سماج میں اب رشتے بھی تیزی سے بدل رہے ہیں. شہروں میں بڑھتے ایک خاندان کی روایت نے ساس بہو کے تعلقات کو بھی کافی تبدیل کر دیا ہے. ابھی ساس اور بہو مل جل کر خاندان چلاتی ہیں، ایک دوسرے کے انتہائی قریب آ گئی ہیں. کم از کم میں نے تو یہ آپ کے خاندان میں محسوس کیا ہے. میں ان خواتین میں سے ہوں جسے پیدائش تو ایک ماں نے دیی لیکن …. محبت …. محبت دو ماؤں کی ملی ہے … میں تو چاہتی ہوں کہ ہر لڑکی ماں اور ساس کا دلار ملے اور ‘ساس’ کی کا تصور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے. لو یو ‘ممی’ اور ‘ماں’.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close