آج کا کالم

میں رحم کی اپیل نہیں کروں گا!!!


 "میں رحم کی اپیل نہیں کروں گا. زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے.اللہ نے شہادت قبول فرمالی تو اس سے بڑی خوشی اور کیا ہوگی.”

یہ ایمان افروز کلمات جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر مولانا مطیع الرحمٰن نظامی نے کل رات اپنے اہل خانہ سے آخری ملاقات کے موقع پر ادا کیے. اس کے کچھ دیر کے بعد انھیں تختہ دار پر چڑھا دیا گیا اور ان کی روح قفص عنصری سے پرواز کر گئی.
کتنی قابل رشک ہے یہ موت.مولانا نظامی کی ولادت 1943 میں ہوئی تھی.اس اعتبار سے ان کی عمر 73 سال تھی.
میں نے کتنے لوگوں کو مرتے ہوئے دیکھا ہے.بوڑھوں کو بھی، جوانوں کو بھی، بچوں کو بھی.انھیں طبعی طور بھی مرتے ہوئے دیکھا ہے اور حادثاتی طور پر بھی. ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالی نے ہر شخص کی موت کا ایک وقت متعین کر دیا ہے.نہ اس سے ایک لمحہ پہلے اسے موت آسکتی ہے نہ ایک لمحہ بعد.انبیاء وفات پا گئے ،صحابہ کی موت ہوگئی، اولیاء و صلحاء چلے گئے، اسی طرح فرعون و نمرود اور ہامان و شداد کو بھی موت نے دھر دبوچا اور ان کے سارے کروفر، بلند و بالا محلات اور طاقت ور لشکر انھیں موت کے منہ سے نہ بچا سکے .دونوں گروہوں کے پیچھے صرف ان کے تذکرے رہ گئے کہ کون کیسی سوغات لے کر اپنے رب کے حضور پہنچا ہے.
اصل سوال یہ نہیں ہے کہ کس کی موت ہوئی؟ یا کب ہوئی؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس کی موت کیوں ہوئی؟اسے طبعی موت آئی ہے؟ یا وہ کسی حادثہ کا شکار ہو ا ہے ؟ یا اللہ کا نام لینے اور اس کا کلمہ بلند کرنے کے جرم میں دنیا کے نام نہاد خداؤں نے اسے جینے کے حق سے محروم کر دیا ہے ؟
مولانا نظامی پر سولہ الزامات لگائے گئے تھے ، مثلا اجتماعی قتل وغارت گری ، لوٹ مار، زنا بالجبر وغیرہ. کتنے بودے اور لچر الزامات ہیں، جو ان پر لگائے گئے ، جنھیں سن کر غیر جانب دار کیا، مخالف بھی جھوٹ قرار دے.
اگر ان پر یہ الزامات لگایے جاتے کہ وہ ایک ایسی جماعت کے سربراہ ہیں جو اسلامی نظام کے قیام کی علم بردار ہے، جو انسانوں کی حکم رانی ختم کر کے اللہ کی حکم رانی قائم کرنا چاہتی ہے، جو عدل و انصاف، مساوات اور بھائی چارگی کی داعی ہے تو یہ الزامات صحیح ہوتے اور ملزم بھی ان کا بلا جھجک اعتراف کر لیتا، اس لیے کہ وہ تو ان کا اقراری مجرم تھا.
دنیا والو! سن لو، ہاں، ہم اقراری مجرم ہیں، اس بات کے کہ ہم اللہ کے نام لیوا ہیں،اس کے رسول کے امتی ہیں، اس کے دین کے علم بردار ہیں اور اس کو دنیا میں قائم کرنا چاہتے ہیں.
سن لو، ہم ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے، رسول ہمارے رہبر ہیں، قرآن ہمارا دستور ہے، جہاد ہمارا راستہ ہے اور اللہ کی راہ میں شہادت ہماری سب سے بڑی آرزو ہے.
مولانا نظامی کو پھانسی پر چڑھانے والو! سن لو، ہم بھی اسی راہ کے راہی ہیں جس پر مولانا نظامی چل رہے تھے. اگر تم سمجھتے ہو کہ عبد القادر عودہ، سید قطب، قمر الزماں ، عبد القادر ملا، علی احسن مجاہد، اور مطیع الرحمٰن نظامی کو پھانسی کے پھندے پر چڑھا کر ہمیں خوف زدہ کردوگے اور اس راہ پر آگے بڑھنے سے ہمیں روک دو گے تو یہ تمھاری خام خیالی ہے.تم جسے موت سمجھتے ہو وہ ہمارے نزدیک زندگی ہے، حقیقی زندگی، قابل رشک زندگی….
موت کو سمجھے ہیں غافل اختتام زندگی
ہے یہ شام زندگی، صبح دوام زندگی
اے اللہ! مولانا نظامی کی شہادت کو قبول فرما.ان کے خون سے شجر اسلام کی آبیاری کر، کاروان دعوت و عزیمت کو سرخ رویی عطا فرما اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے . آمین، یا رب العالمین!

(مضامین ڈیسک)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close