آج کا کالم

میں ‘گاندھی’ لفظ کو اس لئے بھی سمجھنا چاہتا ہوں کیونکہ …

گریندر ناتھ جھا

کھیت کھلیان اور کتابوں کی دنیا میں کھوئے رہنے والے اس کسان کو جس ایک لفظ میں ڈوبنے کی چاہت ہے- وہ ہے – ‘مہاتما گاندھی’. بچپن میں گاندھی جی ہمارےنصاب  میں تھے لیکن اس وقت تاریخ کے مضمون کے تحت  ہی انہیں سمجھ رہا تھا یا یوں کہئے کہ سمجھایا جا رہا تھا- لیکن عمر کے ساتھ گاندھی لفظ سے انسیت بڑھتی چلی گئی-

گھر میں گاندھی ڈائری نظر آنے لگی تو اس لفظ سے نزدیکی اور بڑھ گئی. لیکن ان سب کے درمیان میں  مصنف رام چندر گہا کے قلم سے تعارف ہوتا ہے اور اس تعارف کے محرک بنتے ہیں  سشانت جھا- سشانت بھائی نے رام چندر گہا کی کتابوں کا ترجمہ کیا ہے- گاندھی جی کی ابتدائی زندگی اور سیاسی سفر پر گہا نے ‘گاندھی ہندوستان سے پہلے’ کتاب لکھی ہے اور ان کی دوسری کتاب جس نے مجھے گاندھی جی کے قریب پہنچانے کا کام کیا وہ ہے- ‘ہندوستان گاندھی کے بعد-‘

 بچپن سے سنتا آیا ہوں کہ گاندھی جی بہار دورے پر پورنیہ میں قیام بھی کرتے تھے. یہاں ان کے نام پر دو اہم آشرم ہیں، ایک ٹكاپٹي میں اور دوسرا راني پترا میں. دونوں ہی اب صرف نام کا ہے. آشرم صرف نام کا. سب کچھ ٹوٹ چکا ہے لیکن ان سب کے باوجود یہاں پہنچنے پر دماغ کوسکون ملتا ہے. میں اس کمرے کو تلاش کرتا ہوں جہاں گاندھی جی ٹھہرے تھے لیکن افسوس بتانے والا بھی کوئی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی تحریری دستاویز.

 ادھر، ان سب کے بیچ میرے ذہن میں گاندھی لفظ سے ایک کہانی ابھر آتی ہے- آزادی کے سال گاندھی جی کلکتہ میں تھے- بی بی سی نے گاندھی جی کے سیکرٹری سے گزارش کی کہ وہ مہاتما کا ایک پیغام دلوانے میں مدد کریں- جو پوری دنیا کی نگاہوں میں ہندوستان کی نمائندگی کرتے ہیں- اس پر گاندھی جی نے پیغام بھجوایا کہ بہتر ہوگا کہ وہ جواہر لال نہرو سے بات کریں- بی بی سی والے نہیں مانے اور انہوں نے ایک بار پھر اپنے صحافی کو یہ کہنے کے لئے بھیجا کہ اگر گاندھی جی پیغام دیتے ہیں تو اس کا دنیا کی کئی زبانوں میں ترجمہ کر لوگوں کو سنایا جائے گا- دراصل بی بی سی اپنی پیشکش کو گاندھی جی کے پاس لبھانے والے انداز میں پیش کرنا چاہ رہی تھی. لیکن گاندھی تو مہاتما ٹھہرے. بی بی سی کو جو انہوں نے جواب بھیجا، اسے غور سے پڑھیے – "بی بی سی والوں کو کہہ دو کہ گاندھی انگریزی نہیں جانتا-"

 گاندھی جی کی یہ کہانی جب بھی سنتا ہوں تو لگتا ہے کہ آنکھوں کے سامنے کھادی کی دھوتی پہنے اور گول فریم کا چشمہ لگائےصاف گو گاندھی اپنی لاٹھی لئے کھڑے ہیں-

 وہیں دوسری طرف جب ایک ‘مصنف اور ایڈیٹر گاندھی’  کو سمجھنے کی خواہش جاگی تو پتہ چلا کہ جنوبی افریقہ میں ہی گاندھی نے ایک مصنف اور ایڈیٹر کے طور پر مہارت حاصل کی، تاہم ان کی شروعات ہوئی تھی انگلینڈ میں، جہاں ان کے ساتھیوں نے انہیں ایک میگزین نکالنے کی کھلی چھوٹ دی تھی. نٹال میں اپنے ابتدائی دنوں میں، انہوں نے اخبارات کو خطوط اور حکومت کو ڈھیر ساری درخواست لکھی- سن 1903 میں انہوں نے اپنا مجلہ شروع کر دیا- اس کا مقصد دستاویزی فلم اور سیاسی تھا- یہ میگزین گاندھی کے مفادات کو آگے بڑھانے کے لئے نہیں بلکہ نٹال اور ٹراسوال میں ہندوستانیوں کے مفادات کے لئے نکالی گئی تھی- گہا کی کتاب سے پتہ چلا کہ گاندھی نے اس کے لیے گجراتی اور انگریزی میں بہت سے مضامین لکھے- وہ ہر ہفتےاس پرنٹنگ پر نظر رکھتے اور اس کے لئے رقم جمع کرنے کی اہم ذمہ داری بھی انہی کی تھی. ایک مصنف اور ایڈیٹر کے طور پر گاندھی کی قابلیت لاجواب تھی، لیکن جہاں تک تقریر کرنے کی بات ہے تو وہ ایک بہت خراب نہیں تو ایک صاف گو اسپیکر ضرور تھے-

 گاندھی جی کی سادگی بھی ہمیں کھینچتی ہے- کوئی انسان اتنی اونچائی پر پہنچنے کے بعد اس طرح کی سادگی کس طرح برقرار رکھ سکتا ہے، یہ ایک بڑا سوال ہے-  مہاتما نے سادگی کوئی دکھا نےیا ڈرامہ کرنے کے لئے نہیں اپنائی تھی. یہ ان کی روح میں شامل تھی، جب انہوں نے دیکھا تھا کہ برطانوی حکومت میں ہندوستان کا عام آدمی بھوکا اور ننگا بنا دیا گیا ہے- انہوں نے اپنا کپڑا خود بنا اور خود ہی دھویا اور جب وہ وائسرائے لارڈ ارون سے ملے تب بھی وہ اپنے عام لباس میں تھے جسے دیکھ کر چرچل نے نفرت سے انہیں’ نیم برہنہ فقیر’ کہا تھا-

 دوسری گول میز کانفرنس کی بھی ایک دلچسپ کہانی ہے. کانفرنس کے وقت گاندھی لندن میں ہر اس شخص سے ملے جسے وہ ہندوستان کی آزادی  کی جدو جہد کے بارے میں کہہ سکتے تھے- یہ گاندھی جی کی حکمت عملی تھی. لیکن ان سب کے باوجود صرف چرچل ان سے نہیں ملا-

اسی درمیان گاندھی برطانوی شہنشاہ سے بھی ملے جہاں انہیں محض چند منٹ دیے گئے- شہنشاہ کے سیکرٹری نے انہیں مناسب طریقے سے کپڑے پہن کر آنے کو درست ہی کہا، کیونکہ برطانوی شہنشاہ کی حکمرانی دنیا کے ایک چوتھائی حصے پر تھی-جہاں کبھی سورج نہیں ڈوبتا تھا- لیکن گاندھی ٹھہرے گاندھی. وہ پھر سے اسی فقیر کے لباس میں چلے گئے جہاں انہیں شہنشاہ کی ایک طرفہ باتیں سننی پڑی. گاندھی نے محض مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ وہ تو ہندوستان کے لوگوں کو امن کا درس دے  رہے ہیں-

 شہنشاہ سے ملاقات کے بعد جب گاندھی باہر نکلے تو میڈیا ان کا انتظار کر رہی تھی. پریس والوں نے گاندھی کو گھیر لیا اور ان سے کہا، "آپ کو تو پروٹوکول کا خیال رکھنا چاہیے تھا، آپ تو لندن میں رہے بھی ہیں- آپ نے یہاں بھی لنگوٹ پہن لی؟” گاندھی جی نے کہا – "میرے حصے کا کپڑا تو برطانوی شہنشاہ نے پہن رکھا تھا” پریس کو کاٹو تو خون نہیں-

 ملک و بیرون ملک کی باتیں کرتے ہوئے گاؤں کی دنیا میں گاندھی جی کو تلاش کرنے کی خواہش جاگ گئی ہے. ایسے میں پنچایتی راج کا خیال آتا ہے- گاندھی جی نے پنچایتی راج کے بارے میں جو خواب دیکھا تھا وہ پورا ہو چکا ہے- گاندھی جی نے ‘میرے سپنوں کا ہندوستان’ میں پنچایتی راج کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے  وہ آج حقیقی سطح پر پورے ہو چکے ہیں کیونکہ ملک میں یکساں تین سطحی پنچایتی راج نظام قائم ہو چکا ہے جس میں ہر ایک گاؤں کو اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا موقع مل رہا ہے. گاندھی جی نے کہا تھا – "اگر ہندوستان کے ہر ایک گاؤں میں کبھی پنچایتی راج قائم ہوا تو میں اپنے اس تصور کو حقیقتی جامہ پہنا سکوں گا، جس میں سب سے پہلا اور سب سے آخری دونوں برابر ہوں گے یا یوں کہیے کہ نہ تو کوئی پہلا ہوگا ، نہ آخری. "اس بارے میں ان کے خیالات بہت واضح تھے. ان کا خیال تھا کہ جب پنچایتی راج قائم ہو جائے گا تب عوام  ایسے بھی کئی کام کر دکھائیں گے، جو کبھی بھی تشدد نہیں کر سکتے-

 تاہم کاغذ پر یہ سب پڑھنے میں اچھا لگتا ہے لیکن زمین پر گاندھی جی کا گرام سوراج بدعنوانی کا اڈہ بن چکا ہے-افسوس ہوتا ہے  یہ دیکھ کر جب ان کے ہی نام سے شروع ہوئی ایک اسکیم  میں سب سے زیادہ بدعنوانی ہو رہی ہے، جس کا نام ‘مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی اسکیم’ ہے- اس منصوبہ میں غریبوں کے نام پر جو لوٹ مار ہوتی ہے، اسے دیکھ کر مجھے گاندھی جی کی موت پر جارج برنارڈ شا کے آئےتبصرہ کو زور زور سے پڑھنے کا دل کرتا ہے- شا نے کہا تھا "گاندھی کا قتل بتاتاہے کہ اچھا ہونا کتنا خطرناک ہوتا ہے …”

 میں ‘گاندھی’ لفظ کو اس لئے بھی سمجھنا چاہتا ہوں کیونکہ مہاتما ہی وہ شخص تھے جنہوں نے آزادی ملنے کے دن جشن منانے کے بجائے سوگ منانے کا فیصلہ کیا تھا- آزادی کا ہیرو کلکتہ میں غم منا رہا تھا تو سرحد پار مشہور شاعر فیض کہہ رہے تھے –

"یہ داغ- داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر

وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں … "

(مضمون نگارکسان ہیں اور خود کو قلم دوست  بتاتے ہیں)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close