آج کا کالمملی مسائل

نئے مذہب ’مزارپرستی‘ پر ہائی کورٹ کی مہر

حفیظ نعمانی

اس واقعہ کو 35سال سے زیادہ ہی ہوگئے ہوں گے کہ ہمارا پریس امین آباد میں تھا اور ہم بھی برسوں سے باغ گونگے نواب میں رہتے تھے، مسجد سوداگران میں ہم بھی نماز پڑھتے تھے اور محلہ کے بڑے چھوٹے بھی اس مسجد میں آتے تھے، ایک دن چند جانے پہچانے نوجوان آئے اور کہا کہ ہمیں عرس کے پوسٹر چھپوانا ہیں اور ٹکٹ بھی، پھر بتایا کہ وہ جو امین آباد تھانے کے سامنے مزار ہے ہم نے ان کا نام میاں اختر علی شاہ رکھ دیا ہے اور ۲۰ دن کے بعد ان کا عرس ہے، ان نوجوانوں کو جتنا سمجھا سکتے تھے ہم نے سمجھایا، بعد میں اندازہ ہوا کہ وہ اس کو آمدنی کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں تو ہم کیا کرسکتے ہیں؟ انھوں نے جو کہا ہم نے چھاپ دیا اور پھر جو عرس ہوا اس میں تمام ہندو دوکاندار اور تھانہ کی پولیس نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، میلاد النبیؐ بھی ہوا اور نعتیہ مشاعرہ بھی، اب برسوں سے ہم وہاں نہیں رہتے، ہوسکتا ہے اب بھی ہوتا ہو۔

پریس کی ذمہ داری کے زمانہ میں نہ جانے کہاں کہاں کے عرس کے پوسٹر چھاپے تھے، عرس کے غسل مزار ا ور قل کی رسموں کے ساتھ ساتھ کبڈی اور کشتی کے مقابلے اور مشاعرے تو عام بات تھی، دیویٰ میں جو حاجی قربان علی کا عرس ہوتا ہے، اس میں مشاعرہ، ہاکی کا مقابلہ، قوالی، جانوروں کا بازار اور نہ جانے کیا کیا ہوتا ہے، جس میں اللہ والے تو شاید دوچار آئے ہوں باقی تو سب میلہ دیکھنے آتے ہیں۔

ممبئی میں سمندر کے اندر ایک جزیرے پر جو ایک مزار ہے ہم تاریخ کے آدمی نہیں ہیں، ہم نہیں جانتے وہ کس کا ہے، کب سے ہے اور وہاں پہلے کیا کیا تھا؟ وہاں کے لوگ جانتے ہوں گے، اس کی شہرت اس لیے اور زیادہ ہوگئی کہ فلموں کے ہیرو اور ہیروئنیں وہاں بہت جاتی ہیں اور اپنی فلم کی مقبولیت کی منت مانتی ہیں، فلم مقبول ہوجائے تو چادر چڑھانے جاتی ہیں، اس مزار کے ٹرسٹ کے ذمہ دار کون لوگ ہیں، ہم تو ان میں سے کسی کو جانتے نہیں، لیکن جب کیمرہ ٹی وی والے ادھر کرتے ہیں تو یا تو دس بیس آدمی دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے نظر آتے ہیں یا چادر لے جاتے یا اڑھاتے نظر آتے ہیں، 4؍ سال سے اس مزار کے قریب عورتوں کے جانے پابندی لگا دی تھی، دخترانِ اسلام جنھیں بے پردہ گھر سے نکلنے کی بھی اسلام اجازت نہیں دیتا، انھوں نے مقدمہ لڑ کر اجازت لے لی کہ جہاں تک مرد جاسکتے ہیں وہاں تک ہم بھی جائیں گے۔

ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ حاجی علی کی درگاہ میں خواتین کے داخلہ پر پابندی دستور کی دفعہ 14، 15، 19 اور 25 کے خلاف ہے، جن کے تحت مرد اور عورتوں کا حق برابر ہے، دستور کی یہ دفعات مذہب کو آزادانہ طور پر اختیار کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کی پوری آزادی دیتی ہیں، جس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی خدا پرستی کے بجائے مزار پرستی کا مذہب اختیار کرتا ہے تو اسے آزادی ہے، یہ بات تو سب جانتے ہیں، بس یہ نہیں جانتے ہیں کہ اس مزار پرستی کے مذہب میں قرآن عظیم اور حدیث شریف کو استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ یہ صرف خدا پرستوں کا حق ہے۔

اسلام میں ا گر مزار پرستی کی اجازت ہوتی تو سب سے زیادہ روضۂ اطہر کی پرستش کی ہوتی لیکن لاکھوں ممبئی کے مسلمان جانتے ہیں کہ اگر مدینہ منورہ جا کر کوئی روضۂ اطہر پر دعاکی طرح ہاتھ اٹھائے تو محتسب اتنی زور سے کھڑی ہتھیلی، کلائی پر مارتے ہیں کہ گھنٹوں درد رہتا ہے، وہاں کسی عورت کی مجال نہیں ہے کہ وہ سر ننگا کرلے اور بال کھول دے، فوراً حرام حرام کہہ اسے سر ڈھکنے پر مجبور کردیا جاتا ہے، جبکہ وہاں صرف عورتیں ہوتی ہیں مرد ایک نہیں۔

سنا ہے حاجی علی درگاہ کے ٹرسٹی سپریم کورٹ جارہے ہیں، وہ اس لیے نہیں جارہے ہیں کہ یہ شریعت کے خلاف ہے، شریعت کے خلاف تو وہ خود کررہے ہیں، جنھوں نے اس مزار کو کروڑوں روپے کی کمائی کا ذریعہ بنادیاہے، ہمارے ملک میں ہزاروں وہ بزرگ قبروں میں آرام فرما رہے ہیں جنھوں نے ہندوستان میں مسلمانوں کو عیسائی اور ہندو ہونے سے بچالیا، صرف سو سال پہلے دہلی میں حضرت مولانا الیاس کاندھلویؒ نے تلیغ کا کام شروع کیا اور یہ صرف ان کی، ان کے جانشین حضرت مولانا یوسفؒ کی، حضرت مولانا انعام الحسنؒ کی اور سیکڑوں میوات اور دوسرے مقامات کے دیندار مسلمانوں کی محنت کا نتیجہ ہے کہ آج ہرمسجد نمازیوں سے بھری نظر آتی ہے، صرف ان اللہ والوں نے کروڑوں مسلمانوں کو جہنم کی آگ سے بچا لیا اور انھوں نے ان بزرگان دین سے کم کام نہیں کیا جن کے مزار اجمیر، دیویٰ، کلیر، سرہند اور دہلی یا دوسرے شہروں میں ہیں اور جن کو عالی شان عمارتوں کی شکل دے دی ہے، تاکہ ان پر بھی مندروں کی طرح کروڑوں روپے برسیں اور ان کا آپس میں بندر بانٹ کرکے عیش و عشرت کی زندگی گذاری جائے، اگر ان کی قبر بھی عالمی درس گاہ دارالعلوم دیوبند جیسا ادارہ قائم کرنے والوں کی طرح کچی مٹی کی بنائی ہوتی جیسی حضرت مولانا رشید ا حمد گنگوہیؒ کی، حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ کی، حضرت شیخ الہندؒ کی حضرت شیخ الاسلامؒکی، لاکھوں مسلمانوں کی اصلاح کرنے والے حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی اور سیکڑوں بزرگوں کی قبروں کی طرح کچی بنائی ہوتیں تو نہ ڈھولک بجتی، نہ شرابی جواری اس کی کمیٹی میں ہوتے اور نہ ان کی روح کو تکلیف ہوتی، اللہ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے ’’اللہ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں رسولؐ پر، اے ایمان والو! تم بھی رحمت اور سلام بھیجو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر(سورہ احزاب: 56) یہ نہیں فرمایا کہ مجھ سے مانگواورنہ ملے تو رسول ؐسے مانگو۔

اللہ عزو جل نے جگہ جگہ فرمایا ہے کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور یہ بھی کہ ہر گناہ کی سزا کم کی جاسکتی ہے، وہ معاف کیا جاسکتا ہے، سوائے شرک کے، اس کے بعد مردوں یا عورتوں کا یہ کہنا ہم منت مانگنے، یعنی اولاد مانگنے، اچھا رشتہ مانگنے، الیکشن میں کامیابی مانگنے، فلم کامیاب اور مقبول کرانے اجمیر یا حاجی علی کی درگاہ جاتے ہیں، شرک نہیں تو کیا ہے؟جب کہ اللہ کریم نے فرمادیا کہ اگر سوئی بھی مانگنا ہو تو مجھ سے اور ایٹم بم مانگنا ہو تب بھی مجھ سے مانگو، اس لیے کہ میرے علاوہ نہ کوئی دے سکتا ہے، نہ دے گا۔

اس ملک میں نہ جانے کتنے مزار ایسے ہیں جیسے مزار کا ہم نے ابتدامیں ذکر کیا، ہم نے ان لڑکوں سے کہا کہ نام تو پیدا ہونے کے بعد رکھا جاتا ہے اور عرس اس تاریخ کو ہوتا ہے جس تاریخ کو انتقال ہوتا ہے، تو انھوں نے کہا چھوڑیے چچا ان باتوں کو کیا ملک میں جتنے مزار ہیں سب کی پیدائش لوگوں کو معلوم ہے؟ آپ دس سال کے بعد دیکھئے گا یہ مزار کتنی ترقی کرتا ہے۔

ہر حاجی اور ہر عمرہ کرنے والا جانتا ہے کہ عورتوں کا احرام صرف یہ ہے کہ ان کے سر کا کوئی بال نہ نظر آئے جبکہ مردوں کا دو چادریں ہیں، روضۂ اطہر میں مردوں اور عورتوں کا الگ الگ انتظام ہے، عورتوں کے ہال میں میری بیوی کے سر کا دوپٹہ اتر گیا تھا، گرمی بہت تھی، انھوں نے سر کھلا رہنے دیا، دو منٹ کے بعد ہی ایک عرب خاتون نے ان کے بالوں پر ہاتھ رکھا اور کہا حرام حرام اور انھوں نے سر کو ایسا ڈھک لیا کہ کوئی بال نظر نہ آئے۔ مقدمہ جیتنے کی خوشی ایسی منائی جارہی ہے کہ سب عورتوں کے سر ننگے ہیں اور ایک دوسرے کے گالوں پر گلال لگایا جارہا ہے، ہر مسلمان کو دکھ اس لیے ہورہا ہے کہ ان کو مسلمان کہا جارہا ہے، اگر یہ مان لیا جائے کہ انھوں نے ایک نیا مذہب بنالیاہے جس میں مرے ہوئے بزرگوں کی ایسے ہی پوجا کی جاتی ہے جیسے ہندو سائیں بابا کی کرتے ہیں اور ایسے ہی چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں اور مزار کے ٹرسٹ میں اب حصہ بانٹنے کے لیے عورتیں دوسرا مقدمہ دائر کریں گی، اس لیے کہ وہ مزار پرست ہیں تو تکلیف نہیں ہوگی۔ اب صرف ان کی ہدایت کی دعا کیجئے ان پر تبصرے نہ کیجئے اور نہ فتوے دیجئے۔

٭٭٭

 

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close