آج کا کالم

ناظرین ہوشیار، خبردار، چینلوں سے ہوشیار

رويش کمار

دو سال سے ٹی وی پر ہونے والی تمام بحثوں کی ایک فہرست بنائيے. ہر تیسری بحث آپ کو ایسے مسائل کے آس پاس ملے گی جس کی آخری منزل پولرائزیشن ہوتی ہے. تاریخی شخصیات سے لے کر کتابوں، بیانات، کھان-پان، قوم پرستی، دہشت گردی. آپ پائیں گے کہ جب بھی دنیا میں یا ہندوستان میں اقتصادی مسائل حاوی ہوتے ہیں ایسے مسائل آ جاتے ہیں جو کہیں کے بھی ہوں اور کیسے بھی ہوں آپ کو ہندو مسلم کے کھانچے میں بانٹتے ہیں. جو اس بات کی تصدیق کرنے کی پرزور کوشش کرتے ہیں کہ جو مسلمان ہیں وہ ایسے ہوتے ہیں، ایسے ہی رہیں گے. جو ہندو ہیں انہیں ایسے ہی ہونا ہوگا۔ خلیج کم کرنے کی جگہ دونوں فرقوں سے ایک کھلنایک نکالا جاتا ہے. اس کی تصویر کشی اسی مقصد سے کی جاتی ہے. ہر بحث اکثریت کو متحد رہنے کے لئے مہمیز کرتی ہے. اقلیت میں بے چینی پیدا کرتی ہے. دونوں طرف کی فرقہ واریت کو خوراک مل جاتی ہے. اس دعوے کے ساتھ بحث ہوتی ہے کہ عام لوگوں  کے لئے بھی مشکل ہوتی ہے کہ وہ کس طرح اس مفروضہ کے پار جا کر مسائل کو دیكھیں جہاں حقائق اور دلائل نام بھر ہوتے ہیں، مفروضے جج ہوتے ہیں.

عام طور پر پہلے یہ کام حکومت کرتی تھی. سیاسی پارٹی کرتی تھی. اب یہ کام چینل کر رہے ہیں. کوئی لیڈر بیان دیتا ہے یا کئی بار بیان نہیں دیتا ہے اس پر بحث ہوتی رہتی ہے. یہ صحیح ہے کہ اب ہم ایک دوسرے کے بارے میں معلومات کم رکھتے ہیں. مفروضے زیادہ پالتے ہیں. ہماری طرز زندگی ایسی ہے کہ اپنے یار دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے کا وقت نہیں. دوریاں بڑھی ہیں. ہم لوگوں کے بارے میں کم جانتے ہیں یا وہی جانتے رہتے ہیں جو جان چکے تھے. مذہب اور ذات کو لے کر تعصب ایک حقیقت ہے. ہم تو ثقافتوں کے نام پر بھی تعصب پالتے ہیں. چینل انہی تعصبات کو پرورش دے كر بڑا کر رہے ہیں. ابھی آپ نشے میں ہیں اس لیے نہیں سمجھیں گے.

آپ نے کب دیکھا ہے کہ ٹی وی کا اینکر غریبی، بے روزگاری، کم مزدوری، مستقل نوکری کو لے کر پرجوش ہے. سرکاری بینکوں میں جمع سات لاکھ کروڑ کے قرض لے کر صنعت کار فرار ہو گئے. کسان پچاس ہزار کا قرض نہ ادا کرنے پر خود کشی کر رہا ہے. کیا چینل چیخ رہے ہیں؟ تمام سرکاری عہدے خالی ہیں. مرکزی حکومت میں سات لاکھ عہدے خالی ہیں. بھرتی نہیں ہو رہی ہے. وہاں لوگ کنٹریکٹ پر رکھے جا رہے ہیں. اساتذہ آئے دن لاٹھی کھاتے رہتے ہیں. وہ اساتذہ بھی لاٹھی کھانے کے بعد ہندو مسلم کی بحثوں میں کھو جاتے ہیں. وہ بھی اینكروں سے خاص مختلف نہیں ہیں. لیکن کبھی کسی اینکر کو یا چینل کو کہتے سنا ہے کہ ان کی ملازمت مستقل کرو. ٹیچر نہیں ہوں گے تو پانچ ستمبر کی نوٹنكيوں سے تبدیلی نہیں آئے گی. کہاں سرکاری اسکول بہتر ہوئے ہے؟ ساری کمائی فیس، ٹیکس، قسط میں جا رہی ہے. ہاتھ میں ڈھیلا نہیں بچ رہا. ریل تاخیر سے چلتی ہے، پہلے سے چلتی آ رہی ہے مگر پہلے سے تو ہندو مسلم بھی ہوتا رہا ہے، کیوں نہیں ٹی وی چلاتا ہے.

ہمارے ملک کے طالب علموں کو بھی ہندو مسلم کی بحث میں نجات کی راہ دکھائی دیتی ہے. کالج نا کافی ہیں. نوے فیصد سے کم والے ناکارہ ثابت ہو رہے ہیں. انہیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا اور گڑگاؤں کے ردی پرائیویٹ کالجوں میں لاکھوں کی فیس دے کر پڑھنے جائیں. اسی سطح کے سرکاری کالجوں کو ان کی پہنچ سے باہر کیا جا رہا ہے. للنا اور ببوا لوگ کھرہا ٹائپ ہیئر اسٹائل بنا کر مدہوشی میں ہیں. نوجوان کسی گھٹیا سيريئل کا بائی پروڈکٹ لگتا ہے. ان کو یہ سب نہیں سمجھ میں آ رہا ہے. وہ میگزین کی کور اسٹوری دیکھ کر خواب پال رہے ہیں. کالج فیسٹ میں کسی کی دھن چراکر گٹار بجا رہے ہیں. جو اچھے نوجوان ہے وہ الجھن میں ہیں کہ کس ٹیم کے پاس جائیں. سب ایک سے ہیں. کون سا چینل دیکھیں تب. سب ایک جیسے ہیں.

ایک ایک کرکے  کالجوں کی فیس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ قرض ملے گا. طالب علموں کی خوش حال جماعت ملک کے عام حیثیت والے طالب علموں کے خلاف رہتی ہے. وہ کبھی بھی اس مسئلے پر نہیں پوچھے گا کہ ایسا کیا ہے کہ حکومت ایک اچھی اور سستی یونیورسٹی نہیں بنا سکتی. جب کام نہیں ہے، کام میں بہترین سیلری نہیں ہے تب معیار کے نام پر لاکھوں کی فیس والی پڑھائی کا کیا مطلب؟ امریکہ میں برنی سینڈرس نے یہی سوال اٹھایا تو میڈیا نے بلاک کر دیا. مذاق اڑایا. وہاں بھی ہندو مسلم جیسے پولرائزیشن کے دوسرے مسائل انتخابات میں حاوی ہیں. بنیادی سوال پر نہ تو عوام کی توجہ جاتی ہے نہ طالب علموں کی. آپ سوشل میڈیا پر کسی کا بھی اسٹیٹس دیکھئے. کتنے اسٹیٹس ہندو مسلم والے موضوعات کے آس پاس ہیں اور کتنے اس پر کہ پرووڈینٹ فنڈ کی سود کی شرح ایک فیصد کم ہونے سے کیا اثر ہوگا. پنشن نہیں ہوگا تو کیا ہوگا. پنشن پر ٹیکس کیوں ہیں.

ہم جان بوجھ کر اس بدحواسی کو گلے لگا رہے ہیں. چینل ہمیں روز ایک ہی مالا پہنا رہے ہیں. کچھ اسپیکر ہیں جو مذہبی مسائل پر دوڑے چلے جاتے ہیں. منع کرنے کے لالچ کو قابو نہیں کر پاتے. وہ جاتے ہیں صحیح بات کہنے کے لئے مگر جب مقصد ہی غلط بات کو ثابت کرنا ہے تو ایک منٹ کی صحیح بات سے کیا ہو جائے گا. ان ماہرین کو چین نہیں ہے. یہ بھی اس پروجیکٹ میں چینلوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ ملک کی ہر شام ہندو بمقابلہ مسلم کے نام گزر رہی ہے. لعنت ہے چركٹو.

اگر ہندو مسلم کا مسئلہ اتنا ہی ضروری ہے تو کیوں نہیں رہنماؤں سے کہہ دیا جائے. کب تک مورتی، کتاب، اسمارک، جینتی کے ذریعہ ہم یہ کام آدھے ادھورے من سے کریں گے. کیوں نہ سارا کام روک کر جی بھر کے ہندو مسلمان کر لیا جائے. چینلوں پر چلا جائے. جی بھر کر ایک دوسرے کو گالی دی جائے. مسلمان کو دھکیل کر اور مسلمان بنایا جائے، ہندو کو دھکیل کر اور ہندو بنایا جائے. دونوں طرف کے لوگ ایک جیسے ہو جائیں. ایک کو آتنک پرست بتایا جائے اور دوسرے کو وطن پرست. انتخابات لڑیں جائیں اور انتخابات جیتے جائیں. ہماری روٹی، نوکری، سیکورٹی، اسپتال کی فکر نہ کریں.آپ ہندو مسلمان کریں. ہم بھی مسلمان کریں گے.

ناظرین، میری بات مان لو. فرقہ وارانہ اور دنگائی ہونے کے لئے ٹی وی مت دیکھو. آپ پاگل ہو جائیں گے. ایک دوسرے پر شک کرنے لگیں گے. اس کھیل میں نیتا نہیں مرتا. وہ سیڑھی چڑھتا ہے. گجرات فسادات میں سزایافتہ ہندو مسلم دنگائیوں کی حالت دیکھئے. مرنے والے عام لوگ ہوتے ہیں. مارنے والے عام لوگ ہوتے ہیں. ان کی بستیوں میں پانی نہیں آتا ہے، اس پر نوبجيا اینکر نہیں چلائے گا. ہندو مسلم مسائل پر چلائے گا تاکہ ان بستیوں میں خون خرابہ ہو جائے. اس چینل کا کنکشن کٹوا دو. تین سو روپے بچیں گے. نفرت کرنے کے لئے اتنا بھی کیوں خرچ کرنا. کہہ دو چینل والوں سے کہ ہم تو پہلے ہی نفرت کرتے ہیں، آپ کو تین سو روپے دے کر نفرت کیوں کریں!

وطن سے محبت کرتے ہیں تو ہم وطنوں سے محبت کرو. ان کے بنیادی مسائل پر بحث کرو. ٹی وی صرف وطن کے نام پر ایسا گلیمر پیدا کر رہا ہے جہاں سب کچھ چمکتا ہے مگر لوگوں کے درمیان جاکر دیکھئے کتنا کچھ کھوکھلا ہے. کھوکھلے تو آپ بھی ہیں. ہم بھی ہیں. اسی لئے چینلوں کے کھوکھلے اینکر آپ کو خالی برتن سمجھ کر بجا رہے ہیں. ذرا سا دماغ لگائیں گے تو آپ  یہ کھیل سمجھ جائیں گے. نہیں سمجھ میں آتا ہے تو ایک سوال کرتا ہوں اس سے مدد ملے گی.

فوج کے شہید کا جنازہ، سرکاری اعزاز کے ساتھ، وزیر موجود، قوم پرستی کے قصیدے، چینل پر براہ راست نشر.

فوج کے جوان کا مشاہرہ پندرہ ہزار. بچہ اسی سرکاری اسکول میں پڑھنے کے لئے مجبور جس کا استاد اپنی سیلری اور مستقل کام کے لئے لاٹھی کھا رہا ہے، کینٹین کے سستے سامان سے گھر میں کچھ تبدیلی، بیوی کا اداس چہرہ، ٹی وی چینل پرسکون. کوئی اپنے جوان کی سیلری ٹیکسی ڈرائیور سے بھی کم ہونے پر ہنگامہ نہیں کرے گا.

کیا آپ سمجھ پا رہے ہیں کہ چینل اقتدار اور برسراقتدار پارٹی کے جنرل سکریٹری ہو گئے ہیں؟ اس ٹی وی سے ہوشیار ہو جائیں. ورنہ آپ حیوان ہو جائیں گے. ورنہ یہ مت کہنا کسی ٹی وی والے نے وقت رہتے نہیں بتایا.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close