آج کا کالم

نربھیا اسکینڈل پر سپریم کورٹ کا فیصلہ

رويش کمار

نربھیا معاملے میں پھانسی کی سزا بحال ہوئی ہے. ٹرائل کورٹ، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے شروع سے لے کر آخر تک پھانسی کی سزا بحال رکھی ہے. اس معاملے نے ہندوستان میں عصمت دری کے معاملات میں ہونے والی قانونی عمل اور نظریہ کو ہمیشہ کے لئے تبدیل کر دیا ہے. ملزمان کے وکلاء کو اعتراض تھا کہ سارے ملزمان کو اجتماعی سزا سنائی گئی ہے. جرم میں سب کی الگ الگ کردار اور ان کی سماجی، اقتصادی، نفسیاتی کردار کے مطابق سزا طے نہیں ہوئی ہے. اسے انگریزی مٹیگیٹنگ فیکٹر کہتے ہیں. یعنی سب کو پھانسی سنائی گئی، جبکہ کسی کو عمر قید تو کسی کو دس سال کی سزا ہو سکتی تھی. سپریم کورٹ نے ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم مکمل احتیاط کے ساتھ اور ان کی سماجی و اقتصادی صورت حال کے درمیان موازنہ کرتے ہیں تو ہم اس واحد نتیجے پر پہنچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ریکارڈ پر دستیاب دیگر حالات پر حوصلہ افزائی کرنے والی حالات بھاری پڑ جاتی ہیں. لہذا ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں اور پھانسی دینے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو درست پاتے ہیں. اس فیصلے سے مختلف رائے رکھنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتا ہے.

تین ججوں کی بنچ نے ایک سال کی سماعت کے بعد فیصلہ دیا ہے. تینوں ججوں نے رضامندی سے فیصلہ دیا اور جب فیصلہ سنایا تو کورٹ میں تالی بجی. کورٹ احاطہ کرنے والے صحافیوں کو تھوڑی حیرانی ہوئی. ہم آج پرائم ٹائم میں فیصلے پر ہی فوکس کریں گے، بحث میں حصہ لینے والوں کو بھی 429 صفحے کے فیصلے کو پڑھنے کا وقت چاہئے تو ہم آج ان کے ساتھ بحث نہیں کریں گے. ہم بھی مکمل فیصلہ نہیں پڑھ سکے ہیں لیکن مانتے ہیں کہ اس کے کچھ حصوں کو آپ کے سامنے رکھنا چاہئے.نربھیا کے والدین نے کہا ہے کہ انہیں انصاف ملا ہے. وہ شروع سے پھانسی کا مطالبہ کر رہے تھے، اور پھانسی کی سزا آخر آخر تک بحال رہی ہے. ہم سب تو ایک ہی لفظ جانتے ہیں کہ انصاف ملا، ہو سکتا ہے اس کے ماں باپ کے پاس بھی ہمارے لئے یہی لفظ ہو کہ انصاف مل گیا، لیکن سوچیں کہ 16 دسمبر کے بعد سے وہ دن میں کتنی بار اس حادثے سے گزرتے ہوں گے. ان کی رائے میں ایک ذمہ دار شہری کا آئین اور قانونی عمل میں یقین ہی تو ہے جو ہر حال میں انہیں زندہ رکھے ہوئے ہے. ان سے لڑنے کی ہمت دیتا رہا.

نربھیا کی ماں کا نام [آشا]امید ہے. صالحہ کی ماں کا نام [آشا] امید نہیں ہے، بلقیس ہے۔ اگر بلقیس کے پاس بھی یہی امید نہیں ہوتی تو 17 سال تک عدالت کا آسرا نہیں دیکھتی. بامبے ہائی کورٹ نے اس ماں کو بھی مایوس نہیں کیا. ہم بلقیسس کے حصے کو بھی اس میں شامل کریں گے، لیکن پہلے جسٹس دیپک مشرا اور جسٹس اشوک بھوشن کے فیصلے کے اس حصے کو پڑھتے ہیں، جس میں اجتماعی شعور کی سیاق و سباق آیا ہے. جج صاحبان لکھتے ہیں کہ جنسی کی چاہ، تشدد کی بھوک، طاقتور ہونے کی صورت نے اجتماعی شعور کو ہلا دیا جو نہیں جانتا کہ کیا کرنا ہے. یہ ظاہر ہے کہ فحش خواہش، مفت کام خواہشات کی غلامی اور جانوروں جیسی گھناؤنی چاہ کی غلامی کو گناہ کی طرف لے گئی جس نے اجتماعی شعور میں جھٹکا سونامی لا دی اور وسیع مہذب تانے بانے کو مکمل طور منہدم کر دیا.

جسٹس مشرا کی انگریزی اچھی بھی ہے اور نفیس بھی. اس لئے کچھ غلطی ہو سکتی ہے. مگر قیامت کے صرف اس حصے پر بھارتی معاشرے کی ناکامیاں پر طویل بحث چھڑ سکتی ہے. ہم صرف اجتماعی شعور تک خود کو محدود رکھتے ہوئے کچھ کہنا چاہتے ہیں. ایک بات توجہ ركھيےگا، فیصلہ اجتماعی شعور کی بنیاد یا اس کے لئے نہیں لیا گیا ہے. ایسا سمجھنا فیصلے کی اہمیت کو کم کرنا ہوگا مگر ذکر ہے اور بہت سے لوگ اسے غلط سمجھ سکتے ہیں، اس لئے یہاں بلقیسس بانو کا سیاق و سباق لانا چاہتا ہوں. 4 مئی کو بامبے ہائی کورٹ نے گجرات فسادات سے منسلک بلقیسس بانو کیس میں ایک فیصلہ سنایا. اس صورت میں 12 افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی، اس کے علاوہ پانچ پولیس افسر اور دو ڈاکٹر بھی ثبوتوں کو مٹانے کے معاملے میں مجرم پائے گئے.

یعنی عام عوام کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ یعنی ریاست کے رکن بھی بلقیسس بانو کے خلاف ہوئے تشدد میں ملوث تھے. بامبے ہائی کورٹ نے اس معاملے میں سی بی آئی کی دلیل کو صحیح مانا. 19 سال سے بلقیسس بانو آپ انصاف کی لڑائی لڑ رہی ہے لیکن کیا بلقیسس کے ساتھ کوئی اجتماعی شعور ہے. اسی لیے اجتماعی شعور جیسے الفاظ کا جائزہ ضروری ہے. کیا اجتماعی شعور اس بات سے انحراف ہوا کہ 19 سال کی بلقیسس کی عصمت دری اس وقت ہویی جب وہ حاملہ تھی. کیا اجتماعی شعور مشغول ہوئی جب اس بچی کو اس سے چھینا گیا اور ایک پتھر پر سر پٹكر کر مار دیا گیا. کیا اجتماعی شعور اس وقت جاگی جب بلقیسس کی ماں اور بہن کے ساتھ ریپ کیا گیا. کیا اجتماعی شعور اس وقت سڑکوں پر اتری تھی جب بلقیسس کی بیٹی اور اس کے خاندان کے 14 افراد مار دیئے گئے تھے. بلقیسس نے یہ نہیں کہا کہ پھانسی سے کم پر مانیں گے پھر بھی صالحہ کی ماں بلقیسس اور نربھیا کی ماں آشا جی کے جوابات کافی اہم ہیں . بلقیسس نے ہوشیار کیا ہے کہ ہم مذاہب کے نام پر اس طرح اپنے ہوش نہ گنوا بیٹھیں . اس نے ہندوستانیوں گجراتواسيو کو شکریہ کہا ہے.

بہت سے لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ بلقیسس کے ساتھ جو ہوا وہ گودھرا کے بعد کی اجتماعی حرکت تھی. آپ سکھ بھائیوں سے پوچھيے 84 میں کی دہلی کی سڑکوں پر کون سی اجتماعی شعور تھی. لہذا اجتماعی شعور سے محتاط رہنا چاہئے. ہر اجتماعی شعور اچھا نہیں ہوتی ہے. ایک سال تک سننے کے بعد جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں تین ججوں کی بنچ نے فیصلہ دیا ہے. ملزمان کو پورا موقع دیا گیا اپنا موقف رکھنے کا. سرسری طور پر پڑھتے ہوئے لگا کہ جسٹس مشرا نے کافی احتیاط اور سترکتا سے فیصلہ لکھا ہے. کئی ریاستوں میں اس طرح کے معاملات میں جو فیصلے ہوئے ہیں، ان کا مثال دی ہے. راجستھان، بہار، مہاراشٹر، یوپی، جموں کشمیر، آندھرا پردیش، مدھیہ پردیش کے معاملات کا ذکر فیصلے میں ریفرنس کے طور پر دیکھیے. یہ بات ٹھیک ہے کہ رائے سینا ہلس پر پہنچی لڑکیاں صرف بھیڑ نہیں تھیں. انہیں بھیڑ کہہ کر مسترد نہیں کیا جا سکتا. اس بھیڑ میں بہت سی لڑکیاں اپنی زندگی میں پہلی بار کسی مسئلہ کے لئے گھر سےنکلی تھیں. وہ بھیڑ بن کر کسی کو قتل نہیں کر رہی  تھیں بلکہ آئین اور قانون کو جگا رہی تھیں .

اجتماعی شعور کے نام پر رائے سینا پر آئیں لڑکیوں کی بھیڑ کو رجیکٹ کرنا غلطی ہو گی. اس بھیڑ کے مقابلے آپ اس بھیڑ سے نہیں کر سکتے جو بلند شہر میں غلام محمد کو ہندو لڑکی سے محبت کرنے کے الزام میں مار دیتی ہے، جو الور میں گئو حفاظت کے نام پر پہلو خان ​​کو مار دیتی ہے. رائے سینا پر جمع ہوئی لڑکیوں کے ہاتھ میں جو بینر تھے، وہ بہتر اور آئینی معاشرے کے خواب دیکھ رہے تھے.

یہ فیصلہ تاریخی ہے. یہ واقعہ واقعی خوفناک تھی. اتنی خوفناک کہ آج بھی اس کے اقساط کا ذکر کرتے ہوئے خوف پیدا ہو جاتا ہے. جسٹس مشرا نے اپنے فیصلے کا آغاز اس طرح سے کرتے ہیں …. 16 دسمبر 2012 کے دہلی کی سرد بھری شام نے اپنے ساتھی کے ساتھ پور سلیكٹ سٹی میں فلم دیکھنے گئی 23 سالہ لڑکی کو ذرا بھی بھنک نہیں دی ہوگی کہ اگلے کچھ گھنٹوں میں، تیز ہوتی كپكپاهٹ بھری رات اس زندگی میں ایک خوفناک سیاہی لانے والی ہے. جب وہ منركا بس اسٹینڈ سے اپنے دوست کے ساتھ بس میں سوار ہو گی. اس نے سوچا بھی نہیں ہو گا کہ وہ چھ لوگوں کے گینگ کی ہوس کا شکار ہونے جا رہی ہے، اس پر جان لیوا حملہ ہوگا، وہ ان کے لئے موج مستی کا ذریعہ بن جائے گی اور نجی اعضاء کے incised مختلف کر دیا جائے گا، ایک ایسی بھوک کے لئے جس کے بارے میں کسی نے سوچا نہیں ہوگا.

مگر جج صاحبان نے جس طرح سے لکھنا شروع کیا ہے، فیصلے کے پہلے دو تین پیراگراف سے ہی من بھاری ہو جاتا ہے. پڑھا نہیں جاتا ہے. ملزم چاہتے تھے کہ پھانسی کی سزا ہو رہی ہے تو ہر پہلو پر مناسب طریقے سے سماعت ہو جائے. سپریم کورٹ نے ان کو پورا موقع دیا. ملزمان کے وکیل کا سوال تھا کہ ایف آئی آر میں تاخیر ہوئی. مطلب ثبوت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہوئی ہے لیکن ہمیشہ یہ بات صحیح نہیں ہوتی ہے. ایف آئی آر میں تاخیر کے سوال پر طویل بحث چلی ہے. فیصلے کو پڑھیں گے تو کم از کم ستر صفحات تک یہی بحث چل رہی ہے. کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ تاخیر پر شک کرنا بہت وجوہات پر انحصار کرتا ہے. اگرچہ طویل تاخیر بھی معاف کیا جا سکتا ہے اگر شکار کے پاس موٹو نہیں ہے ملزم کو پھنسانے کا. اس کیس میں متاثرین کو 11:05 پر ہسپتال میں بھرتی کرایا گیا. 3:45 پر مبتلا لڑکے کا بیان ریکارڈ کیا گیا. آغاز میں ترجیح متاثرین کو طبی امداد دینے کی ہوتی ہے. اگر مان بھی لیا جائے کہ تاخیر ہوئی تو یہ بالکل فطری ہے.

ایک دوسرا سوال تھا کہ ایف آئی آر اور میڈیکو لیگل کیس میں ملزمان کے نام درج نہیں تھے تو کورٹ نے کہا کہ ایف آئی آر کوئی انسائیکلو پیڈیا نہیں ہوتی ہے. شکار سے توقع نہیں کی جاتی کہ وہ واقعہ کی مکمل معلومات ایف آئی آر میں ہی دے. اس طرح ایک ایک سوال پر سماعت ہوئی ہے. ایف آئی آر میں تاخیر کی طرح خضاب ڈكلیریشن کو لے کر بھی سوال اٹھا، اس پر بھی لمبی بحث چلی ہے مگر کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہمیں یہ ماننے میں کوئی دقت نہیں ہے کہ ہاو-بھاو، اشارے سے کوئی خضاب ڈكلریشن درج ہوتا ہے، اس ثبوت کے طور پر تسلیم کیا جا سکتا ہے. بشرطیکہ بیان درج کرتے وقت پوری احتیاط برتی گئی ہو. ہمارے ریکارڈ پر جو ثبوت دستیاب ہیں اس کی بنیاد پر تمام تینوں خضاب ڈكلریشن میں ایک طرح کے تسلسل نظر آتی ہے یعنی تینوں میں کافی میل ہے، اور دیگر ثبوت کے ساتھ ان کا ملاپ بھی ہوتا ہے. لہذا ٹرائل کورٹ، ہائی کورٹ نے سزا دینے میں خضاب ڈكلریشن جو بنیاد مانا ہے، وہ درست ہے.

عام طور پر ججوں کے فیصلے میں شیکسپیئر، ورڈسورتھ، ييٹس کو ہی کوٹ کیا جاتا ہے، بہت دنوں بعد دیکھا کہ وویکانند کو کوٹ کیا گیا ہے. یہ ٹھیک ہے. عصمت دری کے خلاف یہ لڑائی طویل ہے. نربھیا کیس اجتماعی شعور اکثر ان صورتوں میں خاموش رہ جاتی ہے جو دہلی سے دور معاشرے کے کمزور طبقے کو اپنا شکار بنا رہا ہوتا ہے. بلقیسس بانو جیسی عورتوں اور سینکڑوں گمنام دلت لڑکیوں کے ساتھ ہونے والے عصمت دری کے معاملے میں جس دن ہندوستان کی خواتین رائے سینا پہنچ جائیں گی اس دن عورتوں کی لڑائی عورتوں کی بن جائے گی. سخت قانون اور سخت سزا سے جرم پر کیا اثر پڑتا ہے. پڑتا تو دہلی میں ہر روز عصمت دری کے چھ معاملے درج نہیں ہوتے. نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق 2013 میں عصمت دری کے 33،707 معاملے درج ہوئے. 2014 میں عصمت دری کے 36،735 معاملے درج ہوئے. 2015 میں عصمت دری کے 34،651 معاملے درج ہوئے. اس پورے معاملے کو ہمارے ساتھی اشیش بھارگو نے کافی ذمہ داری کے ساتھ احاطہ کیا ہے. اشیش ان صحافیوں یا اینكرو جتنے قسمت والے  نہیں ہیں جن تصویر بل بورڈز پر لگتی ہے مگر ان کی  رپورٹر کی ہر رپورٹ نیوز میں ہمیں کچھ نہ کچھ سکھا جاتی ہے.

اشیش نے بتایا کہ تین ججوں کی بنچ خصوصی بنچ تھی. اس بنچ کے بیٹھنے کا بھی ایک قاعدہ ہوتا ہے. بینچ کے سربراہ جسٹس دیپک مشرا درمیان میں بیٹھ کر. ان دائیں طرف ان سے جونیئر جسٹس آر بھانمت بیٹھی تھیں. جسٹس مشرا کے بائیں اور جسٹس اشوک بھوشن بیٹھے تھے جو ان تینوں میں سب سے جونیئر ہیں. اس بنچ نے ایک سال تک پیر، جمعہ اور ہفتہ کو سماعت ہے. 44 سے زیادہ سماعت ہوئی ہیں. بلکہ فیکٹر والے معاملے میں تو 6 مارچ سے دوبارہ سماعت ہوئی یعنی جس سوال کو لے کر یہ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا تھا اس سوال پر ایک سال میں دو بار سماعت ہوئی. ججوں نے کوئی جلد بازی نہیں دکھائی. انصاف کا پلڑا بھاری لگے لہذا ملزمان کے وکلاء کی مدد کے لئے سپریم کورٹ نے دو بڑے وکیل بھی مہیا کرائے. راجو رامچندرن اور سنجے ہیج. ان دونوں نے دہلی پولیس کی تحقیقات اور دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے پر خوب سوال کئے. یعنی ہر سوال کو موقع ملا. فائنل فیصلے میں دہلی پولیس کی تحقیقات کی تعریف کی گئی ہے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی 

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close