آج کا کالم

نظامی صاحب! آپ کی حق پسندی اور بے باکی کو ہمارا سلام!

بنگلہ دیش سے آنے والی اطلاعات کے مطابق 10؍مئی 2016ء کو منگل اور بدھ کی درمیانی رات میں جناب مطیع الرحمن نظامی صاحب امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش کو تختۂ دار پر لٹکادیا گیا۔

جس وقت انہیں تختۂ دار پر لٹکایا گیا، اس وقت ان کی عمر مبارک 73؍سال تھی۔

ہمیں یہ تو معلوم تھا کہ نظامی صاحب غیرمعمولی صلاحیتوں کے انسان ہیں۔ اور موجودہ حکومت سے پہلے خالدہ ضیاء کی حکومت میں وہ 2001ء سے لے کر 2006ء تک تقریباً 6؍سال وزیر رہ چکے ہیں۔ کچھ سال وزیر زراعت رہے۔ اور کچھ سال وزیر صناعت رہے۔ اس عرصے میں نہایت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اور نہایت کامیابی کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوتے رہے۔

ہمیں یہ بھی معلوم تھا کہ 2000ء سے وہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی امارت سنبھالے ہوئے ہیں۔

نظامی صاحب کی یہ ساری خوبیاں اور یہ ساری بلندیاں ہمارے علم میں تھیں، مگر یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنے زیادہ خوش قسمت اور خدارسیدہ انسان ہیں، کہ ایک ہی جست میں وہ دنیا اور اہل دنیا کو چھوڑ کر شہداء وصدیقین کی صف میں جاکھڑے ہوں گے۔

سرخاک شہیدے برگہائے لالہ می پاشم
کہ خونش بانہال ملت ماسازگار آمد

بنگلہ دیش سے آنے والی خبروں کے مطابق نظامی صاحب کو اس ظالمانہ فیصلے کی اطلاع ایک دن پہلے، یعنی سوموار ہی کو دے دی گئی تھی۔ اور انہیں یہ بتادیا گیا تھا، کہ اب ان کی جان بخشی کی بس ایک ہی شکل ہے کہ وہ اپنا جرم تسلیم کرلیں، اور صدرمملکت سے رحم کی اپیل کریں۔

ظاہر ہے انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا، جس کی وہ معافی مانگتے۔ اور حسینہ واجد بھی جانتی ہے کہ ان کا کوئی جرم نہیں تھا، جس کی معافی منگوائی جائے۔

مگر اسی کو بنیاد بناکر نظامی صاحب کو تختۂ دار پر چڑھادیا گیا، اور ان سے پہلے بھی جماعت اسلامی کے متعدد رہنماؤں کے ساتھ ایسا ہی کیا جاچکا ہے۔

ایسا کرکے حسینہ واجد نے ان لوگوں کا تو کچھ نہیں بگاڑا، بلکہ ان کے لیے سرفرازی کی راہ ہموار کردی۔ البتہ اپنے حق میں اس نے بہت برا کیا، اس نے اپنے لیے جہنم کی ایسی آگ دہکائی ہے، جو کبھی ٹھنڈی ہونے والی نہیں!

اطلاعات کے مطابق پھانسی سے پہلے نظامی صاحب کی گھروالوں سے ملاقات کرائی گئی۔ گھروالوں کو تسلی دیتے ہوئے نظامی صاحب نے فرمایا:

اس کائنات میں بس ایک ہی دربار ہے، جہاں سے رحمتیں تقسیم ہوتی ہیں۔ میں نے وہاں رحم کی اپیل داخل کردی ہے۔ اس کے علاوہ مجھے کسی کے رحم کی ضرورت نہیں۔

زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر اس نے مجھے شہادت کی خلعت پہنانے کا فیصلہ کیا ہے، تو ہمارے لیے اس سے زیادہ خوشی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے؟

نظامی صاحب! آپ کی حق پسندی اور بے باکی کو ہمارا سلام! آپ کے صبرواستقامت نے پوری ملت اسلامیہ کا سر اونچا کردیا ہے، اللہ تعالی آپ کو زیادہ سے زیادہ بلندیاں عطا کرے ؂

جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں

(مضامین ڈیسک)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد عنایت اللہ اسد

ڈاکٹر محمد عنایت اللہ اسد معروف مصنف، دانش ور اور مفکر ہیں۔

متعلقہ

Close