آج کا کالم

نظرآنے لگے گلوبل وارمنگ کے نتائج

رویش کمار

ياد کیجئے آپ ایک ہفتے میں کتنی بار بولتے ہیں کہ موسم میں بہت تبدیلی ہو گئی ہے۔ بارش یا تو نہیں ہوتی ہے اور ہوتی ہے تو سیلاب کا قہر پیدا کر دیتی ہے۔ کئی مقامات پر نئے نئے ریکارڈس بن رہے ہیں۔ گرمی کے بھی. بارش کے بھی اور خشک سالی کے بھی۔ جن شہروں کو ہم نے سب سے محفوظ تصور کیا ہے، وہی اب بیٹھے بیٹھے ڈوب جا رہے ہیں۔ شمالی ہندوستان کے لوگ آئے دن فیس بک پر لکھتے رہتے ہیں کہ دس پندرہ سال پہلے درگا پوجا کے وقت ہم فل سویٹر پہنا کرتے تھے، یہاں تو درگا پوجا سمیت اکتوبر گزر گیا مگر گرمی ہیکہ کنفیوز کر دے رہی ہے۔ کبھی اے سی چلاؤ تو کبھی فین مت چلاؤ۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم اس تبدیلی کو تب بھی محسوس کرتے ہیں جب شہر میں سیلاب کا قہر نہ ہو. سینکڑوں لوگوں کی موت کے بعد، ہزاروں گھروں کے گرنے کے بعد ہم تھوڑے دن بعد حالات معمول مان لیتے ہیں اور پھر اپنی دنیا میں کھو جاتے ہیں۔

 لیکن جس دنیا میں ہم کھو جانے کا بھرم پال رہے ہیں دراصل اس دنیا کو ہم نے بہت پہلے کھو دیا ہے. بنیادی بات یہ ہے کہ ہم نے اس زمین کو رہنے کے قابل چھوڑا نہیں ہے. اقوام متحدہ کا ایک ادارہ ہے جو دنیا بھر میں گرین ہاؤس گیس کے اخراج یعنی ایمشن یا پیدا ہونے کی مقدار پر نظر رکھتی ہے۔ اس کا نام ہے World Meteorological Organization (WMO). اس کی ایک رپورٹ کے مطابق ہم جتنا سمجھتے ہیں، صورت حال اس سے بھی زیادہ بھياكن ہے. یعنی اب ہم اپنی زندگی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کو کم ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکیں گے کیونکہ ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ارتکاز یعنی جماوڑہ 400 حصہ پر ملین (PPM) کی حد سے تجاوز کر چکا ہے۔ پہلے بھی CO2 کا ارتکاز 400 سے تجاوز کر چکا ہے لیکن اس وقت کچھ محدود علاقوں میں چند ماہ کے لئے تھا. پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ عالمی سطح پر پورے سال کے لئے اس کا حجم  400PPM تجاوز کر گیا ہے۔

 یہ بتایا گیا ہے کہ زمین پر اس سے زیادہ کاربن ڈااكساڈ کبھی بھی اس سطح پر نہیں پہنچا ہے. تب بھی نہیں جب قریب 3.8 ارب سال پہلے پہلا بیکٹریم بنا ہوگا یا یہ کہیں کہ زمین پر زندگی کی ابتداء ہو رہی ہوگی۔ یہ معاملہ تو کافی ٹیکنیکل ہو گیا لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ اس کی وجہ سے دنیا بھر میں ہر سال ڈھائی لاکھ لوگوں کی موت ہونے لگے گی۔ جو زندہ رہیں گے ان میں سے 12.2 کروڑ غریبی کی حالت میں دھکیل دیے جائیں گے۔ گرمياں اور بھی زیادہ گرم ہوں گی، سیلاب اور بھی زیادہ خوفناک ہوں گے اور سمندر زمین کا اور بڑا حصہ نگل لے گا۔

 ہم بار بار سنتے ہیں کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح ،صنعتی دور کی سطح تک لے جاتا ہے۔ زمین کی درجہ حرارت اس وقت کے درجہ حرارت سے 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ نہیں بڑھنی چاہیے. صنعتی دور مطلب اٹھارویں صدی اور ابھی ہے اکیسویں صدی کا سولہواں سال. اٹھارویں صدي میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار آج کے مقابلے میں آدھی سے کچھ زیادہ ہی تھی. تب کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار تھیPPM  278۔ یہ ایک مثالی مقدار تھی جس کی وجہ سے سمندر، ماحول اور زمین کے درمیان توازن بنا ہوا تھا. زمین اور ہوا یعنی وہ جگہ جہاں ہم اور آپ، تمام طرح کی مخلوق رہتی ہیں۔ صنعتی انقلاب سے ہم نے تیل، کوئلہ وغیرہ کا خوب استعمال کرنا شروع کر دیا۔ جس کی وجہ سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھنے لگی اور فطرت کا توازن ختم ہونے لگا۔ 2015 میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ارتکاز صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے %144 زیادہ ہو گیا۔

 گرین ہاؤس گیس کا ذکر آپ بار بار سنتے ہوں گے. کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور نائٹرس آکسائڈ کو گرین ہاؤس گیس کہا جاتا ہے. گرین ہاؤس گیس میں 65 فیصد حصہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ہوتا ہے. کاربن ڈائی آکسائیڈ ماحول میں رہ جاتا ہے۔ عام طور پر سمندر، جنگل، درخت پودے، ساگ سبزیاں کاربن ڈائی آکسائیڈ  لیتے ہیں. نئی رپورٹ کا کہنا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ لینے کی ان کی صلاحیت اب کم ہوتی جا رہی ہے۔ ابھی تو یہ دنیا کا نصف کاربن ڈائی آکسائیڈ لیتے ہیں مگر خطرہ اس بات کا ہے کہ ان کی یہ صلاحیت بھی  اپنی انتہا پر پہنچنے والی ہے۔ مطلب اب ان سے یہ امید نہیں رکھنی چاہئے کہ ہمارے گناہوں پر پردہ ڈال کر ہمیں بچا لیں گے۔ ایک اور معلومات کے مطابق 1990 سے 2015 کے درمیان ہماری آب و ہوا میں وارمنگ افیکٹ یعنی گرمی میں قریب 37 فیصد اضافہ ہوا۔

 پیرس معاہدے کے تحت دنیا میں گلوبل وارمنگ کی سطح صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے صرف 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم رکھنے کا امکان بھی بہت کم ہو گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ تمام ممالک کی حکومتوں کو پیرس معاہدے کو تیزی سے لاگو کرنا ہوگا۔ ورنہ ہم زمین کو محفوظ نہیں رکھ سکیں گے۔  World Meteorological Organization (WMO)اطلاعات کے تبادلے اور کون ملک کیا قدم اٹھا رہا ہے اس کی معلومات کے لئے ایک گلوبل ڈیٹا نظام بھی بنا رہا ہے۔ اگر آپ دہلی یا اس کے آس پاس کے شہروں میں رہتے ہیں تو ان دنوں دیوالی گفٹ سے بھری گاڑیوں سے سڑکیں جام ملیں گی اور سانس لینے کے لئے جو ہوا ہے وہ خراب ملے گی۔

 System of Air Quality and Weather Forecasting and Research) SAFAR) کے مانیٹرنگ سسٹم کے مطابق دہلی ایئر کوالٹی انڈیکس میں  PM2.5 کی سطح 321 Microgram Per Cubic Metre ہو گئی ہے۔ بدھ کی صبح شاہدرہ، شانتیپتھ اور آنند وہار میں PM2.5 کی سطح 350 UG/M3 تک پہنچ گئی تھی جبکہ PM 2.5 60 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔ آپ کو یاد ہی ہوگا کہ اسی سال جنوری میں دہلی میں کئی مقامات پر ایئر کوالٹی انڈیکس 430 سے 435 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر کے آس پاس ہو گیا تھا۔ تب دہلی میں کتنا ہنگامہ ہوا تھا۔ دہلی حکومت کو بھی ڈ اؤن کا فارمولہ لے کر آنا پڑا تھا۔ فیس بک پر دہلی کے فضائی آلودگی پر نظر رکھنے والے ایک گروپ ایئرویدا نے کہا ہے کہ دیوالی سے تین دن پہلے سے آپ کا بچہ ایک دن میں چودہ سگریٹ کے برابر دھواں اپنے اندرلےگا۔ فی الحال تو ٹریفک کی وجہ سے اور بادلوں کے گھرنے سے بھی آلودگی کے عناصر کا ارتکاذ بڑھا ہے۔

 چین نہ صحیح، ہندوستانی پٹاخیں بھی تو جلائیں گے. اس سے بھی آلودگی کی سطح پانچ گنا بڑھ جائے گی۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ تہوار کی رونق پر نظر لگا رہے ہیں۔ دہلی کی سڑکوں پر ٹریفک تو روز ہی آلودگی پیدا کر رہا ہے۔ آپ ٹریفک کم نہیں کر سکتے ہیں، آپ پٹاخیں بند نہیں کر سکتے، تو حل کیا ہے. ویسے بہتوں نے پٹاخے کا  استعمال کم کر دیا ہے یا بند کر دیا ہے۔ باقی شہروں میں بھی صورت حال خراب ہے۔ ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بہت زیادہ ہو گئی ہے، یہ جائے گی نہیں تو کیا ہوگا۔ ہم اس پر تو بات کر ہی سکتے ہیں کیونکہ یہ تو گلوبل اوسط ہے۔

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close