آج کا کالم

نظریہ کو پھانسی– کیا یہ ممکن ہے؟

کل بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے امیر مولانا مطیع الرحمٰن نظامی کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔ لیکن کیا اس طرح وہ جس نظریے کے حامل تھے، اس پر پابندی لگائی جا سکتی ہے؟ اور اسے پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے؟
حکومت و اقتدار پر قابض لوگوں نے ہمیشہ اپنی طاقت و قوت کے نشے میں چور ہو کر کم زوروں پر اپنا حکم چلانے اور ان کے افکار پر پابندی لگانے کی کوشش کی ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ انھیں کبھی کام یابی نہیں ملی ہے۔سقراط کو زہر کا پیالہ پلادیاگیا ، لیکن کیا اس کا نظریہ فنا کے گھاٹ اتر گیا؟ ابن رشد کو قیدو بند سے دوچار کیا گیا، لیکن کیا اس کے فلسفیانہ نظریات پر بندھ باندھا جا سکا؟ حضرت زکریا ع کو شہید کر دیا گیا، حضرت یحیی ع کا سر قلم کر دیا گیا، اصحاب کہف کو پہاڑ کی کھوہ میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا گیا، اصحاب الاخدود کو آگ کی کھائیوں میں جھونک دیا گیا، لیکن کیا یہ حضرات جس پیغام کے علم بردار تھے اسے دفن کیا جا سکا؟
دور کیوں جائیے؟ بیسویں صدی کے ربع اول میں مصر میں اخوان المسلمون کے نام سے اسلام کے احیاء کے لیے جو تحریک قائم ہوئی، اس کے بانی کو سر راہ گولی مار دی گئی،طبی سہولیات میں رکاوٹ ڈالی گئی، یہاں تک کہ ان کی روح پرواز کر گئی، پھر سخت کرفیو لگا کر عوام کو ان کے جنازے میں شریک ہونے سے روک دیا گیا، چنانچہ گھر کی عورتوں نے ان کا جنازہ اٹھایا اور ان کی تدفین کی، پھر اخوان کے رہ نماوں میں سے عبد القادر عودہ کو ان کے پانچ ساتھیوں کے ساتھ اور سید قطب کو ان کے تین ساتھیوں کے ساتھ پھانسی پر لٹکا دیا گیا، لیکن کیا ان کے نظریے کو زنجیریں پہنائی جا سکیں؟ اور اسے پھیلنے سے روکا جاسکا؟ آج نہ صرف مصر، نہ صرف مسلم ممالک، بلکہ پوری دنیا میں اخوان کا فکر عام ہے۔
تاریخ اپنے آپ کو دھرارہی ہے۔ مطیع الرحمٰن نظامی کو رات تقریبا بارہ بجے پھانسی دی گئی،عوام کو ان کی نماز جنازہ میں شرکت سے روکنے کے مقصد سے صبح 6:40 بجے ان کی نعش گھر والوں کے حوالے کی گئی اور انھیں پابند کیا گیا کہ 20 منٹ کے اندر اندر ان کی تدفین سے فارغ ہو جائیں، لیکن کیا اس طرح نظامی جس نظریہ کے علم بردار تھے، اس کو پابند سلاسل کیا جا سکتا ہے؟یا اس کو پھانسی دی جا سکتی ہے؟
طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا ظالموں اور جباروں کو معلوم ہو جانا چاہیے کہ وہ جسموں کو پھانسی پر لٹکا سکتے ہیں، روح اور بدن کے آپسی رشتے کو کاٹ سکتے ہیں، لیکن کسی نظریے کو پھانسی پر لٹکانا اور اسے موت کے گھاٹ اتارنا ان کے بس میں نہیں ۔ بلکہ نظریہ تو خون سے سیراب ہوتا ہے۔اس کے علم بردار جتنا اسے اپنے خون سے سینچیں گے، اتنا ہی وہ پروان چڑھے گا، لہلہایے گا اور بڑھتے بڑھتے تناور درخت بن جائے گا ۔
اسلامی نظریہ کے علم بردار قید و بند اور دار و رسن سے گھبراتے ہیں نہ موت سے ڈرتے ہیں ۔وہ اسے راہ دعوت و عزیمت کا ایک مرحلہ سمجھتے ہیں اور اس کے لیے ذہنی طور پر ہر وقت تیار رہتے ہیں۔اسلامی نظریہ کے علم بردار تو شہادت کی تمنا میں جیتے ہیں اور اسے اپنی زندگی کی معراج سمجھتے ہیں۔ان کے دشمنوں کو اگر اس لذت کا اندازہ ہوجائے جو وہ شہادت میں پاتے ہیں تو وہ انھیں پھانسی پر چڑھانا بند کردیں۔
مولانا نظامی نے اپنی مراد پالی۔انھوں نے اپنے قول سے بھی حق کی گواہی دی اور عمل سے بھی، یہاں تک کہ اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کر دیا ۔وہ بارگاہ الہی میں سرخ رو ہوگئے۔اب وہ اپنے رب کے پاس اس کی عطا کردہ نعمتوں سے شادکام ہو رہے ہوں گے ۔ان کے بعد اب ان کے کاز سے وابستہ لوگوں کی ذمے داری ہے کہ وہ بھی اسی راہ پر چلتے رہیں جو راہ مولانا نظامی نے دکھائی ہے۔
اے اللہ! تو گواہ رہ۔ہم اپنے عہد پر قائم ہیں۔ہم مر جائیں گے، لیکن ایمان کا سودا نہ کریں گے۔ ہم تیرے دین کی اقامت کے لیے تن من دھن کی بازی لگادیں گے۔اس کے بدلے میں ہم امید رکھتے ہیں کہ تو نے جن جنتوں کا ہم سے وعدہ کیا ہے ان سے ضرور بہرہ ور ہوں گے۔
(مضامین ڈیسک)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف مصنف اور دانش ور ہیں۔ موصوف تصنیفی اکیڈمی، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔

متعلقہ

Close