آج کا کالم

نعروں سے قربانی کا حساب نہیں ہوتا!

رويش کمار

نہ کے برابر ہی میڈیا ادارے ایسے ہوں گے، جن کے چھتیس گڑھ میں کوئی مستقل نمائندے ہوں گے اور وہاں کے حالات کی خبریں لوگوں تک روز پہنچتی ہوگی. سکما حملے کے بعد آپ نے ٹی وی سکرین پر ایک لفظ دیکھا ہوگا گراؤنڈ رپورٹنگ، گراؤنڈ زیرو سے رپورٹ. عام طور پر سرخ رنگ سے گراؤنڈ زیرو لکھا ہوتا ہے. جہاں سے رپورٹنگ زیرو ہے، وہاں کے گراؤنڈ زیرو سے رپورٹنگ ہو رہی ہے. گراؤنڈ زیرو کا مطلب کیا ہوتا ہے، اس کے لئے ہم نے دو ڈکشنری کی مدد لی، زیادہ سے زیادہ ویبسٹر اور آکسفورڈ ڈکشنری. ان کے مطابق جس سطح پر یا ٹھیک اس کے نیچے ایٹمی دھماکے ہوتا ہے، اسے گراؤنڈ زیرو کہتے ہیں . جس جگہ سے کوئی سرگرمی شروع ہوتی ہے یا جس جگہ پر ہوتی ہے اسے گراؤنڈ زیرو کہتے ہیں . 2001 میں نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ ٹاور کو دہشت گردانہ حملے میں گرا دیا گیا، اس کو گراؤنڈ زیرو کہا جاتا ہے.

کئی بار ہمیں خود سے پوچھنا چاہئے کہ جس لفظ کا استعمال ہم کر رہے ہیں ، اس کا ٹھیک ٹھیک مطلب جانتے بھی ہیں یا نہیں . اکثر ہم نہیں جانتے ہیں . ہم مطلب میڈیا سے ہے. آپ تو سب جانتے ہیں . الفاظ کا ذکر اس لئے کیا کیونکہ نکسل حملے کے بعد جن الفاظ کا استعمال ہو رہا ہے، اس کو غور سے دیکھئے. سکما حملے کے بعد کس حقیقت اور منطق کی بنیاد پر ایک سے زیادہ چینلز نے نکسل مسئلے کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے، حیرانی ہوتی ہے. اسے اس طرح پیش کیا جا رہا ہے جیسے آخری قلعہ یا حتمی گڑھ باقی رہ گیا ہے جو سڑک بننے کے بعد ٹوٹنے والا ہے. کیا سب کچھ اتنا آسان ہے کہ صحافی ایک دن کی گراؤنڈ رپورٹنگ سے یہ جان گیا ہے. آپ ان باتوں کی پرواہ نہ بھی کریں تو بھی آپ کا کوئی نقصان نہیں ، کیونکہ اس کے بعد بھی پرائیویٹ اسکول والے من مانی فیس لیتے رہیں گے اور 800 کی جگہ 2000 کے جوتے آپ سے خريدواتے رہیں گے. نکسلی حملے کے بعد ہم چینلز کی دنیا میں دوبارہ پرجوش اور جوش سے بھر دینے والے لفظ واپس آ چکے ہیں . جیسے قربانی ضائع نہیں ہوگی، نکسلی حملے کا شیر، جانباز نائٹ، بھارت ماں کا سپوت، شہیدوں کے خاندان مانگے بدلہ، کب لیں گے قربانی کا بدلہ، بدلے کی تاریخیں بتاو …

ہم میڈیا والوں کے پاس اس سے زیادہ نہ تو سمجھ ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا طریقہ جس سے ہم چھتیس گڑھ کے واقعات کو آپ تک پہنچا سکے. اب آپ کی بھی ٹریننگ ایسی ہی ہو گئی ہے کہ قربانی، بہادری اور بدلہ سے آگے سمجھنے کا نہ تو وقت ہے اور نہ ہی دلچسپی. بھارت میں دو الفاظ کی دو مسائل ہیں . دو الفاظ کی ان دو مسائل کے پیچھے لاکھوں کی تعداد میں فوج اور نیم فوجی فورس لگے ہیں . ان کے نام ہیں مسئلہ کشمیر اور نکسل مسئلہ. نکسل مسئلے کی وجہ کیا ہیں ، اب کیا نیا ہو رہا ہے، کہاں سے لوگ آتے ہیں ، کہاں سے بندوق آتی ہے، کہاں سے ان کے پاس ملٹری ٹریننگ ہے کہ سی آر پی ایف کے جوانوں کو گھات لگا کر مار دیتے ہیں ، بارودی سرنگ بچھا دیتے ہیں ؟ یہ سب کسی کو کچھ نہیں معلوم ہے. کہا گیا کہ نوٹ بندي کی وجہ دہشت گردی اور نکسل واد کم ہو گیا ہے. یہ ساری باتیں پبلک میں چل بھی گئیں . میرے کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ نہ تو ہم تک یہ بات پہنچتی ہے کہ اتنے سالوں بعد بھی نکسلی مسئلہ کیوں ہے اور نہ ہی یہ بات کہ اس پر قابو پانے کے لئے نیا کیا کیا جا رہا ہے. بندوق ہی حل ہے تو بندوق کو اتنا وقت کیوں لگ رہا ہے. ظاہر ہے یہ سب سننا سمجھنے کے لئے وقت اورقوت  برداشت چاہئے جو نہ ہمارے پاس ہے اور نہ آپ کے پاس.

11 مارچ کو بھی یہی سب کہا گیا تھا جب سکما میں ہی نکسلیوں نے سی آر پی ایف پر بڑا حملہ کیا گیا تھا. دن کے سوا نو بجے حملہ ہوا جب سی آر پی ایف کے 112 جوان گشت پر تھے. سڑک خالی کرا رہے تھے. 100 سے زائد نکسلیوں نے جوانوں پر حملہ بول دیا اور بھاری مقدار میں ہتھیار مال کیلئے. اس حملے میں سی آر پی ایف کے 12 جوانوں کی موت ہوئی تھی. میڈیا نے 11 مارچ کے حملے کو 2017 کا سب سے بڑا نکسلی حملہ بتایا تھا. 11 مارچ کو بھی میڈیا نے لکھا کہ سی آر پی ایف کے پاس مستقل سربراہ نہیں ہے، 24 اپریل کے حملے کے بعد بھی میڈیا نے کہا کہ سی آر پی ایف کا مستقل سربراہ کیوں نہیں ہے. یہ سوال تو ٹھیک ہے، لیکن مستقل سربراہ ہونے سے حملہ نہیں ہوتا یا صورت حال میں بہتری ہو جاتی، اس کی کیا گارنٹی ہے.

اسی سکما میں سات سال پہلے نکسلیوں نے 76 جوانوں کو مار دیا تھا. اس بار 25 جوانوں کو مارنے کے لئے ہے. اسپورٹس سے اگر انصاف ملتا یا بدلہ لے لیا جاتا تو یہ دو الفاظ کی دو مسائل ختم ہو چکی ہوتیں . میڈیا تو قربانی کا بدلہ کی تاریخ بھی پوچھ رہا ہے. تاريخ پوچھنے والے سے پوچھا جا سکتا ہے کہ سب کچھ قربان یا تبدیل ہی یا نکسلی مسئلہ سے لڑنے کی پالیسی حکمت عملی کی بھی کبھی جائزہ ہوگی. اتنی تبدیلی تو آ ہی گیی ہے کہ اب ان حملوں کے بعد کسی سے استعفی نہیں مانگا جاتا ہے، کسی کی جوابدہی طے نہیں ہوتی ہے.

سکما حملے کے وقت بھی وزیر اعظم نے وزیر داخلہ سے بات کی تھی، حالات کا جائزہ لیا تھا اور وزیر داخلہ سکما گئے تھے. واقعہ کی مذمت کی گئی تھی اور اس وقت بھی کہا گیا تھا کہ سیل کی قربانی ضائع نہیں ہوگی. تمام واقعات کی رپورٹنگ بھی مستقل طور پر رہنماؤں کا رد عمل کی طرح ہوتی جا رہی ہے. بدلہ لے لیا جائے گا تو کیا نکسل مسئلہ دور ہو جائے گا اور بدلہ 24 اپریل کی ایونٹ کا ہی کیوں لیا جائے گا، کیا 11 مارچ کو ہلاک 12 جوانوں کا بدلہ نہیں لیا جائے گا. ان کا کیوں نہیں بدلہ لیا گیا. میں نے صرف اتنا کہہ رہا ہوں کہ ٹی وی اور سیاست نے جو آپ کو زبان دی ہے، اس میں آپ پھنس گئے ہیں ، آپ ہی نہیں ہم بھی پھنس گئے ہیں . یہ دھوکے کی زبان ہے، جس سے صرف خیال بنتے ہیں ، معلومات نہیں ہوتی ہے. سی آر پی ایف کے بہادر جوانوں کو سنیے. پھر سوچیں کس طرح تمام گشت، brio کے کے بعد 300 نکسلی عام قبائلی عوام کو ڈھال بنا کر سامنے آ گئے اور حملہ کر دیا. وہ بھی دن کے وقت.

ایک ماہ کے اندر یہ دوسری بڑی بھول ہے. دوسرا بڑا حملہ ہے. ایک ماہ میں ہمارے 38 جوان شہید ہو گئے ہیں . کیا ہم یہ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ جو تین سو نکسلی سیاہ لباس میں آئے تھے جنہوں نے بھاری مقدار میں ہتھیاروں کو لوٹا، جوانوں کو مارا اور میڈیا میں کیا دیکھ رہا ہوں ، ان کے چھوڑے ہوئے کپڑے، پانی کی بوتلیں اور گولیاں کے کھوکھے. یہ نکسلی کہاں سے اتنی بڑی تعداد میں آ گئے اور اسی طرح جوانوں کو مار کر غائب ہو گئے. ابھی ڈرون سرولانس، سیٹلائٹ سے لی جانے والی تصاویر کی بات کیوں نہیں ہو رہی ہے. حملے کے وقت ہمارے جوان معلومات ٹیکنالوجی سے لیس تو ہوں گے ہی، پھر ہم کیوں نہیں جان پاتے ہیں کہ جوانوں پر حملہ کرنے والے یہ نکسلی اتنے کامیاب کیسے ہو جاتے ہیں . اس طرف کے بارے میں کوئی مکمل خبر کیوں نہیں ہوتی ہے. کیا یہ آپ کو خوفناک نہیں لگتا ہے، اتنے سالوں سے مہروں پر حملے ہو رہے ہیں ، اتنے سالوں سے ہم اور آپ کو وہی چیزیں دکھایی دے رہی ہیں .

100 کے قریب سی آر پی ایف جوانوں پر حملہ ہوا ہے. جنگ اور نکسل متاثرہ علاقوں میں جانے کی ٹریننگ انہیں بھی ہوتی ہے. حملے کے بارے میں حکام کے بیان بتاتے ہیں کہ نکسلیوں کا پلڑا بھاری تھا. حملے میں نکسلی جوانوں کے پرس اور موبائل بھی لوٹ لے گئے ہیں . انہیں اتنا وقت کیسے ملا. حکام کے ان بیانات کے بعد بھی کئی بار لگتا ہے کہ واقعہ کے بارے میں صحیح صحیح اندازہ نہیں مل رہا ہے. کیا 100 مسلح جوانوں کو گھیر لینا اتنا آسان ہوتا ہے. 25 جوانوں کی موت ہوئی ہے. دعوی کیا جا رہا ہے کہ کچھ نکسلی بھی مارے گئے ہیں ، جب وہ 300 کی تعداد میں آئے تھے تب چند نکسلی کیوں مارے گئے، پر ایک بات ہے، سی آر پی ایف کے جوانوں نے سڑک کی تعمیر کے کام میں لگے 40 افراد کو بچا بھی لیا . ان بہادری کا یہ حق بھی کم شاندار نہیں ہے.

شہادت بیکار نہیں جائے گی، ہر بات اسی پر ختم ہوتی ہے، اس سے شروع نہیں ہوتی ہے کہ شہادت ہوئی ہی کیوں . ایسے کیسے ہمارے جوانوں کو کوئی گھیر کر مار دے گا اور غائب ہو جائے گا. نکسلیوں نے سی آر پی ایف کے جوانوں سے جو لوٹ مارا ہے، اس کی فہرست درج ذیل ہے- کل 22 ہتھیار لوٹے گئے، 12 اے کے 47 رائفل (ان میں سے پانچ پر انڈر بیرل گرینیڈ لانچر تھے)، ایكییم – 4،  لائٹ مشينگن- 2، اساس رایفل- 3، وائرلیس سیٹ – 5، بانكيلر – 2، گولی پروف جیکٹ -22، ڈيسےمڈي – 1 (گہری تلاش میٹل ڈیٹیکٹر) اے کے 47 – 59 میگزین، ایكیم – 16 میگزین، اساس ایلیمجي – 16 میگزین، اساس رائفل – 15 میگزین، گولی بارود، اے / ایكییم – 2820 راؤ ڈ، اساس – 600 راؤنڈ، يوپيجيیل – 62 راؤنڈ.

چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی رمن سنگھ نے کہا ہے کہ سکما کی لڑائی ملک کی سب سے بڑی جنگ ہے. وقت آ گیا ہے کہ ایک حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھا جائے. کیا ایک حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے کا وقت 25 جوانوں کی موت اور 7 کے زخمی ہونے کے بعد ہی آیا ہے، اگر سکما کی لڑائی ملک کی سب سے بڑی جنگ ہے تو اس کا وقت کیا 25 اپریل کو آیا ہے. اس طرح کی باتوں کا کیا یہ مطلب ہے کہ ملک کی سب سے بڑی جنگ ہم بغیر حکمت عملی کے خلاف لڑ رہے ہیں .کہنا آسان ہے، جن کے گھر میں قربانی کی خبر پہنچتی ہے ان پر جو گزرتی ہے اسے ہم لچھے دار الفاظ سے کیا بیان کریں . ہم چاہتے ہیں کہ آپ آواز سنیں ، محسوس کریں کہ جنہیں ہم صرف شہادت کے فریم میں دیکھتے ہیں ، ان کے گھر میں شوہر، بھائی، والد، بھتیجا نہ جانے کس کس فریم میں دیکھا جاتا ہوگا.

مترجم: محمد اسعد فلاحی 

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close