آج کا کالم

نوجوانوں کے نام رویش کمار کا کھلا خط

رويش کمار

سن 2000 میں پیدا ہوئے نوجوانوں کو اس سال ووٹ دینے کا حق ملنے جا رہا ہے. آپ جب پیدا ہوئے تو دنیا بھر میں اکیسویں صدی کا استقبال ہو رہا تھا. آپ جب ووٹنگ دینے کے قابل ہو رہے ہیں، تب اس صدی کے 18 سال گزر چکے ہیں. دنیا بھر میں اکیسویں صدی نے کوئی خاص کمال تو نہیں کیا. مسائل وہیں کی وہیں ہیں. ان کو ختم کرنے کے نام پر اناپ شناپ حل کی بڑے سطح پر پیکیجنگ کی جا رہی ہے.

21 ویں صدی نے جمہوریت کے سامنے پھر سے وہی چیلنجز کھڑے کر دئیے ہیں، جن سے لڑتے- لڑتے 20 ویں صدی گزر گئی. جمہوریت میں حقوق کی توسیع کے نام پر عام آدمی پر طرح طرح سے کنٹرول قائم کرنے کا طریقہ تلاش کر لیا گیا ہے. آدھار کارڈ انہی میں سے ایک ہے. 21 ویں صدی نے رازداری، پرائیویسی پر شدید حملہ کیا ہے. بھارت سمیت دنیا بھر میں عام لوگوں تک پہنچنے والی اطلاعات کے ذرائع پر اقتدار کا کنٹرول بڑھ گیا ہے. 21 ویں صدی میں طرح طرح کے ظالم پیدا ہو رہے ہیں، جو تصوراتی حقائق کے نام کے نام پر بیوقوف بنا رہے ہیں.

مجھے پتہ ہے کہ آپ اب اسکول سے نکلے ہیں، کالج میں گئے ہیں. اس دوران آپ کا اچھا خاصا وقت اسکول سے لے کر کوچنگ میں گزر گیا ہے. مول سے لے کر پب میں بھی گزرا ہے. کھیل کے میدانوں میں بھی گزرا ہے. اس عمر میں یہی سب ہوتا ہے. آپ خود کو ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں اور گھر خاندان میں لوگ کسی اور طرف دھکیل رہے ہوتے ہیں. یہی ہوتا ہے جب آپ ووٹر بن کر میدان میں آتے ہیں. ہر کوئی آپ کو اپنی طرف موڑنے میں لگا رہے گا.

آپ کو اس بار ووٹر بننا ہے. یہ مت سوچئے کہ 18 سال کے ہو گئے اور ووٹر بن گئے. اس طرح کا ووٹر کسی کام کا نہیں ہوتا ہے. وہ صرف رہنماؤں کے استعمال کے کام آتا ہے. آپ کو بتایا جائے گا کہ پولنگ ہی عظیم کام ہے، جبکہ ووٹنگ آخری اور عام کام ہے.

ووٹنگ سے پہلے بہت سے کام ہیں جو آپ پولنگ اسٹیشن پر پہنچنے سے پہلے کرنا چاہئے. یہ کوئی نہیں بتائے گا. الیکشن کمیشن بھی آپ کو بٹن دبانا ہی بتائے گا، یہ نہیں بتائے گا کہ ووٹر کیسے بنا جاتا ہے، اس کے لئے کیا کیا کیا جاتا ہے. اس کے لئے آپ صرف ایک نمبر ہیں. ووٹنگ کے لئے بٹن دبا دیں گے تو کمیشن اسی میں خوش ہو جائے گا کہ بڑا بھاری کام ہو گیا. 65 سے بڑھ کر 67 فیصد ووٹنگ ہو گئی.

آپ کے ووٹ کے لئے رہنما وہی کرے گا جو آپ سے پہلے 18 سال کے ہوئے ووٹروں کے ساتھ کیا ہے. مطلب اسی طرح جھوٹ بولے گا اور خود کو کسی سنیما ہیرو کی طرح پیش کرے گا. وہ افواہوں اور خرافات کا ایسا جال رچے گا کہ آپ پہلے ہی دن اس میں پھنس جائیں گے. آپ سے پہلے بھی لوگ پھنس چکے ہیں اور آج تک پھنسے ہوئے ہیں. جس طرح آپ اپنے کیریئر کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں، اس کے لئے تیاری کرتے ہیں، ویسا ہی آپ کو ووٹر بننے کے لئے ضروری ہے.

ووٹر بننا فیصد میں شمار کیا جانا نہیں ہوتا ہے. اچھا ووٹر وہ ہوتا ہے جو ووٹ دینے سے پہلے کافی محنت کرتا ہے. دلائل کا استعمال کرتا ہے، طرح طرح کی شناخت کے نام پر بھڑکائے گئے جذباتیات میں نہیں بہتا ہے. مختلف شناخت یا جذباتی مسائل کے ذریعہ لیڈر آپ تک پہنچنے کی کوشش کرے گا. خود ذات پات کی سیاست کرے گا اور آپ کو ذات پات کی سیاست نہ کرنے پر لیکچر دے گا. اس کی اپنی کوئی اخلاقیات نہیں ہوگی مگر وہ بات بات میں اخلاقی تعلیم دے گا. ایسے لیڈروں سے بچئیے جو پالیسی کی بات کم کرے اور نیتا نیتا زیادہ کرے.

سب سے پہلے آپ دیکھئے کہ آپ کا 18 سال کے دوران اداروں کو لے کر کیا تجربہ رہا ہے. کورٹ، پولیس، وزیر، صحافی اور سرکاری افسر کے بارے میں آپ کیا کچھ دیکھتے سنتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں. ممکن ہے ایسا کچھ بھی نہ ہوا ہے یا ایسا ہونے کا وقت ہی نہ ملا ہو. آپ 18 سال کے ہو چکے نوجوانوں صرف بنڈل  نہیں ہیں. نیتا آپ کو گٹھری کی طرح سمیٹنے کی کوشش کرے گا لیکن آپ خود کو گھٹری سے باہر نكالیے.

کسی بھی حکومت کا اندازہ آپ اس بنیاد پر کیجئے کہ میڈیا کتنا آزاد ہے. میڈیا حکومت سے کتنا سوال کرتا ہے اور سوال کرنے والوں کو کتنی جگہ دیتا ہے. اختیاری آوازوں اور مخالفت کے سر کو کتنی جگہ ملتی ہے اور ستائش کو کتنی. آپ کو یہ کام اخبار پڑھتے وقت اور نیوز چینل دیکھتے وقت ضرور کریں.

یاد رہے، اخبار خریدنے سے اخبار پڑھنا نہیں آ جاتا ہے. بہت احتیاط سے اخباروں کی چالاکی پکڑتے ہوئے آپ کو خبروں کی تہہ تک پہنچنا ہوگا. یہی کام آپ ٹی وی کے ساتھ کریں. حساب کریں کہ وہ کیا دکھا رہا ہے اور کیا نہیں دکھا رہا ہے. کیا نہیں دکھا رہا ہے جب آپ اس کی گنتی کریں گے تو پتہ چلے گا کہ نیوز چینل کس طرح جمہوریت کو کمزور کر رہے ہیں. کسی ایک اخبار یا ایک چینل ہی سے معلومات نہ لیں. طرح طرح کے ذرائع کا استعمال کریں  اور اطلاعات کی پریزینٹیشن کو لے کر اپنا تجزیہ خود کریں.

آپ یہ بھی دیکھئے کہ ان ذرائع ابلاغ میں کیا کسانوں یا سرکاری اداروں میں مصیبت اٹھا رہے طبقوں کو جگہ ملتی ہے؟ ابھی حال ہی میں دہلی میں کسانوں کا مظاہرہ ہوا تھا، بہت سے ذرائع ابلاغ کے اداروں نے ان کی خبر ہی نہیں چھاپی. ملک بھر کے لاکھوں نوجوان سرکاری بھرتی بورڈ سے پریشان ہیں. میڈیا ان کی پریشانی کو کبھی سامنے کے صفحے پر نہیں چھاپتا ہے. آپ کی بھی نہیں چھاپے گا. لیکن آپ کو بے وقوف بنانے کے لئے آپ کے 18 سال ہونے کا جشن ضرور منائے گا.

ووٹر اپنے لئے بھی ووٹ کرتا ہے اور معاشرے کے دوسرے طبقے کے لئے بھی. اگر حکومت اور میڈیا کسان یا کسی کمزور طبقے کی آواز کو غیر ضروری سمجھتے ہیں، خاموش کرا دیتے ہیں اور آپ خاموش رہ جاتے ہیں تو ایک دن آپ کے ساتھ بھی یہی ہو گا. یہی میڈیا آپ کی آواز کو جگہ نہیں دے گا اور آپ کچھ نہیں کر پائیں گے. جمہوریت میں ضروری ہے کہ سب کی آواز اٹھے اور سب کی بات سنی جائے. اگر کوئی حکومت کمزور طبقے کی پرواہ نہیں کرتی ہے تو آپ اسے کیسے اپنا ووٹ دے سکتے ہیں.

سیاست میں مذہب کے استعمال سے بچیں. آج کل لیڈر  بڑا ہوشیار ہو گیا ہے. خود اچھی باتیں کرے گا اور باقی دوسرے رہنماؤں اور آئی ٹی سیل کے ذریعہ مذہبی تنازعہ پھیلانے والے  تنازعہ کو پھلائے گا یا کسی کے تنازعہ کو گھسیٹ کر نفرت پھیلائے گا. ہر دور میں لیڈروں نے یہی کیا ہے تاکہ آپ اصل سوال کرنے کے بجائے جذبات میں بہہ جائیں. آپ کے ساتھ ایسا نہ ہو، اس کے لئے آپ کو بہت محنت کرنی پڑے گی.

پالیسیوں کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے صرف میڈیا پر انحصار نہ کریں. کبھی کبھار وقت نکال کر کسی سرکاری ادارے جیسے ہسپتال، تھانہ، میونسپل وغیرہ جا کر دیکھ آئیں. کسی سرکاری منصوبہ بندی کا خود اندازہ کرنا بھی اچھا رہے گا. یوں سمجھئے کہ آپ آئی آئی ٹی کے امتحان کی تیاری کر رہے ہیں. آپ کو صرف خیال کی بنیاد پر ٹک نشان نہیں لگا سکتے. تکا لگانے والے بیشتر فیل ہوتے ہیں. آج کی سیاست اسی ماڈل پر مبنی ہے کہ آپ تصورات اور شناخت کی بنیاد پر بٹن دبا دیں.

میڈیا سے لے کر ہر کوئی بتائے گا کہ آپ کا کام لیڈر منتخب کرنا ہے. وزیر اعظم ہو یا وزیر اعلی. ایک ووٹر کا کام وزیر اعظم کا انتخاب نہیں ہے. انتخابات لوک سبھا کی تشکیل کا ہوتا ہے. الیکشن کمیشن اپنی نوٹیفکیشن میں کہیں نہیں لکھتا ہے کہ حکومت بنانے کے لئے وزیر اعظم کا انتخاب ہو رہا ہے. وہ یہی کہہ کر نوٹیفکیشن جاری کرتا ہے کہ 17 ویں لوک سبھا کی تشکیل کے لئے انتخابات ہو رہا ہے. اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کو مقامی سطح پر نمائندے منتخب کرنا ہے. ایوان میں جو جیت کر جائے گا وہ اپنے درمیان سے لیڈر منتخب کر لے گا. یہ ایک مشکل تجربہ ہے مگر اسے آپ تو کرنا نہیں ہے. آپ کو تو صرف ایک اچھے امیدوار کو ووٹ دینا ہے.

آپ نئے ووٹر ہیں. آپ سے توقع کی جاتی ہے کہ آپ سیاست میں کچھ نیا کریں گے. ووٹنگ کی شرح بڑھانے کے لئے کبھی ووٹ نہ کریں. سوچ سمجھ کر، پروپیگنڈہ اور پیسے کے کھیل کو سمجھتے ہوئے ووٹ دینے کا فیصلہ کریں. پالیسیوں پر زیادہ بحث کریں. ان کے بارے میں زیادہ معلومات جمع کریں.

میڈیا کا اپنے مفاد میں استعمال اپنے لیے  کریں نہ کہ میڈیا کو آپ کا استعمال کرنے دیں. آپ تمام نوجوان ہیں. ملک کو لے کر کنفیوژ ہونے کی ضرورت نہیں ہے. بھارت ایک اچھا ملک ہے، جس کی سیاست پر برے لوگوں کا قبضہ ہو گیا ہے. ان کا اور قبضہ نہ ہو جائے اس کے لئے ضروری ہے کہ سوچ سمجھ کر اور درست اطلاعات جمع کرنے کے بعد ووٹنگ کریں. کوئی نظر نہیں آتا ہے تو نوٹا کا بٹن دبا دیں. اپنے ووٹ کو کسی پارٹی کے یہاں رہن کے طور پر نہ رکھیں. مجھے امید ہے آپ ایک اچھے اور پہلے کے ووٹروں سے بھی بہتر ووٹر ثابت ہوں گے.

بس ایک بات یاد رہے . ووٹر آئی ڈی كارڈ بن جانے سے کوئی ووٹر نہیں ہو جاتا ہے. ووٹر کا کام امیدوار  منتخب کرنا  ہے نہ کہ حکومت.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close