آج کا کالم

نوٹ بندی اور بزنس میڈیا

رویش کمار

ستمبر ماہ میں بینکوں کی جمع رقم میں زبردست اچھال آیا تھا۔ یہ اچھال17 دنوں کی نوٹ بندی کے دوران بینکوں میں جمع رقم کے برابر ہی ہے یا اس کے آس پاس ہے۔ اخباروں نے لکھا ہے کہ کسی ایک ماہ میں ابھی تک اتنا اچھال نہیں آیا تھا۔ اپوزیشن نے الزام لگایا تھا کہ کیا 8 نومبر کی نوٹ بندی کی معلومات لیک ہوئی تھی جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں نے اپنا پیسہ بینکوں میں جمع کرایا۔ اكونومك ٹائمز نے آج کے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ اس کی جانچ ہونی چاہئے۔

ستمبر کے مہینے میں بینکوں میں 5.98 لاکھ کروڑ روپیہ جمع ہوا تھا۔ اس کے پہلے اگست ماہ میں تقریبا سوا لاکھ کروڑ ہی جمع ہوا۔ ایک ماہ میں تقریبا چار لاکھ کروڑ سے زیادہ کی یہ رقم کہاں سے آ گئی۔ ستمبر میں اتنا پیسہ کہاں سے بینکوں تک پہنچا۔ شروع میں حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ اس دوران تنخواہ کمیشن کا پیسہ تقسیم ہواتھا اور ٹیلیكام اسپیکٹرم کی نیلامی سے کافی پیسہ آیا تھا۔ اكونومك ٹائمز نے بتایا ہے کہ تنخواہ کمیشن کے ایرير کا پیسہ تو قریب 34000 کروڑ ہی تھا۔ ا سپیکٹرم کی نیلامی سے تو کل 32000 کروڑ ہی ملے تھے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ کچھ اور سبسڈی کی ادائیگی شامل کر دیں تو بھی 3 لاکھ کروڑ کی جمع رقم کا کوئی حساب نہیں سمجھ آتا ہے۔ اگر کسی نے لیک معلومات کا فائدہ اٹھا کر بینکوں کے ذریعہ کالا دھن کو سفید کیا ہے تو اسے پکڑنا آسان ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایسے لوگوں نے 1000، 500 کے نوٹ کو 100، 50 کے نوٹ میں تبدیل کرلیا ہو۔

بھارتی ریزرو بینک اس طرح کے ڈیٹا رکھتا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ مرکزی بینک سے تمام بینکوں کے درمیان زیادہ قیمت اور کم قیمت والے نوٹوں کی نقل و حرکت کتنی ہو رہی ہے۔ آپ معلوم کر سکتے ہیں کہ بڑے نوٹ بینک میں جمع ہو رہے ہیں اور چھوٹے نکالے جا رہے ہیں۔ حکومت کو بھی دلچسپی دکھانی چاہئے اور اس کی جانچ کرنی چاہئے۔

اس سے پہلے انڈین ایکسپریس نے بینکوں میں دو سال کے دوران ہر ماہ جمع ہونے والی رقم سے متعلق ایک مطالعہ ایک رپورٹ میں شائع کیا تھا۔ ایکسپریس کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے جولائی 2015 میں بینکوں میں سب سے زیادہ پیسہ آیا۔ جب جون 2015 کے مقابلے کل جمع رقم 1.99 لاکھ کروڑ سے زیادہ جمع ہوئی تھی۔ اس بار اگست 2016 کے مقابلے ستمبر 2016 میں اس سے چار گنا زیادہ رقم جمع ہوئی ہے۔ کیا یہ اچھال شک کے دائرے میں نہیں آتا ہے۔

ماہر اقتصادیات اور اقتصادی صحافی بھی عام صحافیوں کی طرح حکومت کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر اپنی بات کہتے ہیں۔ کوئی کسی بات میں الجھا دیتا ہے تو کوئی کسی بات پر۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ کوئی بہت بڑی رقم نہیں ہے۔ سيزنل ہے۔ تہوار کے دوران بینکوں میں کیش جمع ہونے لگتا ہے۔ ہنسی آتی ہے۔ کیا ہر سال تہوار کے دوران یہ اچھال آتا ہے؟ اس بار نوراتری اور دشہرہ سے پہلے معیشت میں اتنا پیسہ کہاں سے آیا کہ پانچ لاکھ کروڑ سے زیادہ پیسہ پہنچ گیا۔ کوئی کہتا ہے کہ حکومت نے فرٹیلائزر سبسڈی وغیرہ کی بھی ادائیگی کیی ہوگی۔ یہ سب باتیں کہنے کے لئے کہی جا رہی ہیں کوئی ٹھوس اعداد و شمار نہیں دے رہا ہے۔ انہیں تمام دلائل کی وجہ سے اكونومك ٹائمز کو شک ہوا ہے۔ اس لئے تحقیقات کی بات کی گئی ہے۔

بہتر ہے، آپ سب قاری مختلف سورس سے معلومات جمع کرائیں۔ اپنے سوالات کو کثیر جہتی بنائیں۔ ابھی تک یہ بات بنیادی طور پر کہی جا رہی تھی کہ نوٹ بندی کے بعد لوگوں نے اپنے پیسے کا حساب کتاب کر لیا ہے۔ کمیشن پر پیسہ سپلائی کیا جا رہا ہے۔ کاغذوں پر اور اصلیت میں بھی کئی طرح کی کمپنیاں بنی ہوتی ہیں، ان کے ذریعہ پیسے کو سرمایہ کاری میں لگا  دیا گیا ہے۔ اگر ایسے لوگوں کو پہلے سے معلومات تھی تو وہ بینک سےنوٹ بدلوانے کی جگہ سونے چاندی خرید لیتے۔ پانچ سو، ہزار کے نوٹ کو چھوٹے نوٹوں سے بدلنے کی بات میں اگر دم ہے تو دیکھنا ہو گا کہ 86 فیصد بڑی رقم کا بڑا حصہ 14 فیصد چھوٹی رقم کے حصے سے کیسے بدلا گیا۔ کیا بینکوں کے پاس اتنے چھوٹے نوٹ رہے ہوں گے؟ ضرور بینکوں میں بہت سے اکاؤنٹ کھول کر کالا دھن وہاں بھی رکھا جاتا ہے لیکن صحیح جواب کے لئے مزید حقائق کی ضرورت ہے۔

ہمیں یہ بھی دیکھنا تھا کہ کیا ستمبر مہینے میں زمین اور مکان کی قیمتوں میں کوئی اچھال آیا تھا؟ مجھے نہیں لگتا ہے کہ کسی طرح کا اچھال آیا تھا۔ اگر ان لوگوں کو بھنک تھی تو ان چیزوں میں بھی سرمایہ کاری کر سکتے تھے۔ اخبارات میں بھی ایسی کوئی سلائڈنگ دیکھنے کو نہیں ملی ہے. شاید نظر سے نہ گزری ہو۔ مجھے کسی اخبار میں اس طرح کی اطلاع نہیں ملی کہ نوٹ بندی کی بھنک لگتے ہی ستمبر میں لوگ سونا چاندی زیادہ خریدنے لگے اور مکان بھی۔ نومبر میں ضرور سننے کو ملا کہ خوب سارے لوگ سونا چاندی خرید رہے ہیں۔ نوٹ بندی کے دوران سونے کی درآمد  میں کافی اچھال آیا ہے۔ اگر کوئی بھنک تھی تو یہی اندازہ تو وہ نوٹ بندی کے پہلے بھی لگا سکتے تھے، ضرور ستمبر اکتوبر میں سونا چاندی کا کاروبار بڑھا تھا لیکن وہ اس لیے تھا کہ 45 دنوں کی پابندی کے بعد یہ سیکٹر تھوڑا عام ہوا تھا۔ عام ہی ہوا تھا۔ سونے کو گلاكر زیور بنانے والے کاریگروں کو تب بھی کام نہیں ملا تھا۔ پھر کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ ستمبر مہینے میں جمع ہوئی رقم میں غیر متوقع اچھال آیا ہے۔ ہم سنتے ہی رہے کہ کئی بینکر نے بھاری کمیشن لے کر بلیک منی کو وائٹ کر دیا ہے۔ سن ہی رہے ہیں۔ اکا دکا خبریں بھی ہیں لیکن کیا بینک کا کوئی ایکسپرٹ نہیں لکھ سکتا تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے یا نہیں ہو سکتا ہے۔ کیا بزنس اخبار یہ رپورٹنگ نہیں کر سکتے تھے۔ ہم لوگ تو قابل ہی نہیں ہیں اقتصادی امور میں اتنے پھسڈی ہیں کہ پوچھئے مت۔

چند تنقیدی خبروں اور تجزیوں کے علاوہ بزنس اخباروں کا بہت برا حال ہے۔ عام طور پر بزنس صحافت سیاسی صحافیوں سے بھی گئی گزری ہوتی ہے اورمنیم ٹائپ ہوتی ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ کمپنیوں کی خبر چھاپتے ہیں اور ان کے خلاف نہیں جا سکتے۔ تو کم از کم نوٹ بندی کے اس دور میں کمپنیوں کے تئیں اپنی وفاداری کا ہی مظاہرہ کر دیتے۔ ان تکلیفوں کو صحیح سے بیان کر دیتے۔ زیادہ تر کے کام کاج ٹھپ ہیں لیکن سب کی خاموشی بتاتی ہے کہ کمپنی کا ملازم ہی غلام نہیں ہوتا، مالک بھی غلام ہوتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ وہ احتجاج کریں اور سڑکوں پر آجائیں لیکن پپٹ حمایتی کی طرح بھی تو یہ کمپنی والے نہ بولیں۔ اگر بولیں بھی تو ذرا ٹھیک سے سمجھائیں کہ ان کی رائےکیا ہے۔ ان کی رائے کو پڑھ کر لگتا ہے کہ اندر سے رو رہے ہیں، مگر باہر سے ہنسنا پڑ رہا ہے۔ یہ کیا صورت حال ہے کہ ہر کوئی اپنی آواز سرینڈر کر رہا ہے۔ تمام رٹي رٹائی باتیں کر رہے ہیں۔ وہیں ان کی باتوں کے بغل میں کچھ خبریں ہوتی ہیں جن سے اشارہ مل جاتا ہے کہ یہ لوگ پریشان ہیں۔ اگر ہیں تو کہو یار۔ یکم جنوری کے بعد سے سنہری دور آئے گا تب بھلے جنت کا مزہ لے لینا، لیکن فی الحال تو بتاؤ کہ انجکشن کہاں چبھا ہے۔ اپنا درد بتانے کا مطلب یہ تھوڑے نہ ہے کہ کبھی خوشی نہیں بتائیں گے۔

جو بھی ہے، نوٹ بندی کے دور کی رپورٹنگ بتاتی ہے کہ صحافت میں بزنس اور اقتصادی خواندگی کی کتنی سخت کمی ہے۔ کسی کو اس دوران شائع ہوئےتمام بزنس اخباروں کو پڑھنا چاہئے۔ ان کا اتنا برا حال ہے کہ پوچھيے مت. اس دور میں کتنا کچھ جاننا-سمجھنا ہے، بزنس صحافیوں کو دو چار صنعت کاروں کے پر امید بیانات سے آگے آکر عوام کو یہ سمجحانے میں ان کی مدد کرنی چاہئے۔ نئے نئے سوالات پیدا کرنے کی سمجھ کو بڑھانا چاہئے۔ نوٹ بندی کے پریشان کن دور میں ان کا پہلا صفحہ ٹاٹا سنز کے بورڈ روم کی چركٹ پولٹكس سے بھرے پڑے تھے۔ ان اخباروں کو دیکھ کر لگا کہ ہندوستان سے نہیں شری لنکا سے چھپ رہے ہیں۔ پریشان کن کی خبریں خانہ پری کے لئے ہی شائع ہوئیں۔ ان صفحات کو پلٹيے تو صورت حال اتنی عام نظر آتی ہے کہ آپ کو عام لوگوں پر غصہ آ سکتا ہے کہ بغیر بزنس اخبار پڑھے یہ لوگ لائن میں لگ گئے ہیں۔ ایک دو تنقیدی ادارتی مضامین ہوتے ہیں، وہ بھی کہاں عام قاری کی نظر سے گزرتے ہیں۔ ہندی کا قاری تو مجبور ہے ناقص اخبار پڑھ کر آگاہ ہونے کے لئے۔ بیکار چینلز کے ساتھ شام گزارنے کے لئے۔ باقی زبان کےسامعین اور قارئین کا بھی یہی حال ہوگا۔ ویسے انگریزی کے قارئین کے لئے بھی کوڑا پیش کیا جا رہا ہے۔ فرق یہ ہے کہ انہیں گاربیج کہتے ہیں جنہیں وہ گوبھی سمجھ کر کھا لیتے ہیں۔

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close