آج کا کالم

نوٹ  بندی سے تو پر لگ گئے رسوائی کو!

ڈاکٹر سلیم خان

نوٹ بندی کا فریب دے کر بی جے پی نے اترپردیش کا انتخاب تو جیت لیا لیکن ایک باصلاحیت وزیراعلیٰ دینے میں ناکام رہی  ۔ یوگی ادیتیہ ناتھ نے چند ماہ کے اندر اس قدر بدنامی بٹور لی ہے کہ انہیں  اب ایوگیہ (نااہل) ناتھ کے لقب سے یاد کیا جانے لگا ہے۔ اس وزیراعلیٰ کی حماقت کا یہ عالم  ہے کہ اس  نےتین طلاق کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہہ دیا اس سے 50 فیصد لوگوں کو راحت ملے گی۔ اس بیان سے تو ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان کی سو فیصد آبادی مسلمان  ہے اور اس میں سے ہرعورت تین طلاق کے عذاب میں مبتلا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری اعدادوشمار کے لحاظ سے  مسلمانوں کی آبادی 12 فیصد ہے اس میں طلاق کاتناسب عشاریہ پانچ فیصد اور تین طلاق کا شکار ہونے والی خواتین  ان طلاق دینے والوں میں عشاریہ 5 فیصد ہیں۔ اس  تعداد کا اگر ہندوستان کی کل آبادی سے موازنہ کیا جائے تو عشاریہ کے بعد اتنے صفر لگیں گے کہ یوگی جی  کو تارے نظر آنے لگیں گے۔

یوگی ادیتیہ ناتھ نے گورکھپور میں پھر سے بچوں کی اموات میں اضافہ  کے بعد ایک نہایت سفاکانہ بیان دے کر اپنے تین طلاق والے بچکانہ بیان کو بھی مات  دے دی۔ قدرت کا کرنا دیکھیے کہ فی الحال اتر پردیش میں یوگی ادیتیہ ناتھ کا اپنا شہر بدنامی کے چکرویوہ میں پھنسا  ہوا ہے ۔ اس سال اب تک بابا رگھوداس اسپتال میں ۱۲۵۰ بچے لقمۂ اجل بن چکے ہیں ان میں سے ۲۹۰ کی موت اس ماہِ اگست میں ہوئی ہے ۔ ۱۰ اور ۱۱اگست کو ۳۳ بچے آکسیجن کی فراہمی رکنے سے مارے گئے ۔ اس پر یوگی سرکار نے جو قلابازیاں کھائی ہیں اسے دیکھ کرسرکس کا لنگور بھی شرما جائے۔ اب پھر ۲۹ اگست کو ۲۱ معصوموں نے جان گنوائی اوراس سے متصل ۷۲ گھنٹوں کے اندر مرنے والوں کی تعداد ۶۳ ہوگئی ہے۔  پہلے تو کالج کے پرنسپل ان کی اہلیہ اور ڈاکٹر کفیل کو بلی کا بکرا بنایا گیا دیکھنا یہ ہے اب کی بار کسی کی باری آتی ہے۔

غریبوں کے بچے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مررہے ہیں ۔ ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے یوگی جی فرماتے ہیں  :مجھے تو کبھی کبھی یہ بھی لگتا ہے کہ کچھ وقت کے بعد ایسا نہ ہو لوگ اپنے بچے جیسے ہی سال  دوسال کے ہوں جائیں  سرکار بھروسے چھوڑ دیں   تاکہ سرکار ان کی پرورش کرے ۔ یوگی نے مزید کہا کہ لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ ہرکام کے لیے سرکار کے بھروسے رہتے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ یوگی جی اقتدار کے نشے میں دھت ہوچکے ہیں ورنہ ایسے تضحیک آمیز الفاظ کوئی ذی فہم رہنما ادا نہیں  کرسکتا ۔ یہ ایک قومی سانحہ ہے کہ ملک یوگی جیسے احسان فراموش رہنماوں کو گزشتہ ۷۰ سالوں سے پال رہا ہے جو الیکشن سے قبل بے تکان وعدے کرتے ہیں اور اقتدار میں آتے ہی سب بھول جاتے ہیں ۔

گئو بھکت وزیراعلیٰ نے بچوں کے بعد گئو ماتا کو بھی نہیں بخشا اور کہا :گائے اپنے گھر میں رکھیں گے ۔ دودھ خود بیچیں گے لیکن  پھر سڑک پر چھوڑ دیں گے کہ سرکار ان کی دیکھ بھال کرے گی ۔ یہ جملے اگر اعظم خان کہتے تو نہ جانے کیسا وبال مچ جاتا لیکن چونکہ یہ مودی بھکت کہہ رہا ہے  اس لیے سب معاف ہے۔  ذرائع ابلاغ کوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے یوگی بولے میڈیا کہتی ہے کہ فلاں جگہ کوڑا پڑا ہے ۔ ہم لوگ مانتے ہیں کہ سرکار کی ذمہ داری ہے۔ایسا لگتا ہے ہم ساری ذمہ داریوں سے مکت ہوگئے ہیں ۔ ہم نے اپنی ذمہ داری سرکار پر تھوپ دی ہے۔   یہی بات اگر وہ انتخاب سے پہلے کہتے تو لوگ ان کی کھاٹ کھڑی  کردیتے لیکن اب تو عوام بیچارے ترشول سے اپنے ہاتھ کٹواچکے ہیں اس لیے پانچ سالوں تک تو یہ زخم سہنا ہی پڑیں گے۔

یوگی سرکار کوغالباً  عوامی ناراضگی کا احساس ہوچکا یہی وجہ ہے کہ پانچ مرتبہ ایوانِ زیریں میں کامیاب ہوکر جانے والا وزیراعلیٰ خود انتخاب جیت کر اسمبلی میں جانے کے بجائے ودھان پریشدکےچور دروازے سے منتخب ہونے کو ترجیح دے رہا ہے۔ اس کے چاروں وزراء میں  بھی عوام کے سامنے جانےکادم خم نہیں ہے اس لیے الیکشن کمیشن کو سمجھا رہے ہیں پانچوں نشستوں کا انتخاب کرائے۔  آج کی  حالت میں اگر یوگی نے گورکھپور سے کاغذاتِ نامزدگی داخل کیے تو ان کی ضمانت ضبط ہوجائیگی۔ مودی جی کو قومی  انتخاب میں اپنے حریف ِ اول راجناتھ سنگھ کو ٹھکانے لگانے کے لیے یوگی کو وزیراعلیٰ بنانے کا جوا بہت  مہنگا پڑے گاالاّ یہ کہ وہ کسی بہانے سے ان سے پیچھا چھڑا کر کسی نسبتاً معقول شخص کو اتر پردیش کی کمان تھمائیں ۔

مودی حکومت کو نوٹ بندی کے سبب اسی طرح یاد کیا جائیگا جیسا کہ ایمرجنسی کو نس بندی سے منسوب کیا جاتا ہے۔ نوٹ بندی پر پہلے تو بین الاقوامی ماہرین معیشت  اور پھر عالمی بنک کی تنقید منصۂ شہود پر آئی  لیکن اب تو ہندوستان کے ریزرو بنک نے بھی اپنی رپورٹ میں اس کا کچھا چھٹاّ  الگ کردیا اور حکومت کے سارے دعووں کی پول کھول کے رکھ دی ہے۔۹۹ فیصد روپیوں کا واپس آجانا اس بات ثبوت ہے کہ کالے دھن سے متعلق جو جھوٹ گھڑا گیاتھا وہ بالکل بے بنیاد تھا۔ حکومت اب بھی پائپ لائن کےاند رجمع نقدی  کی بات کررہی ہےیعنی جو نیپال میں ہے یا چھوٹے بنکوں میں جمع ہے۔ کوئی بعید نہیں کہ ان کا شمار کرنے کے بعد یہ اعداد ۱۰۰ فیصد کے قریب پہنچ جائیں ۔

 کالا دھن تو سوئزرلینڈ کے بنکوں میں جمع ہے اور مودی جی اس کو واپس لانے کی دہائی دے کر  اقتدار میں آئے تھے مگر بالآخر انہوں نے ملک کے اندر موجود سفید دھن کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا۔ جس قدر روپیہ نہیں لوٹا اس سے ڈیڑھ گنا رقم تو ریزروبنک نے نئے نوٹ چھاپنے  اور پہنچانے میں خرچ کردیئے۔ اس میں ہونے والی  بدنظمی اور بدعنوانی  کے سبب سیکڑوں لوگوں نے اے ٹی ایم کی  قطار میں جان گنوائی ۔ ملک کا جی ڈی پی یعنی شرح نمو پہلے ۲ فیصد کم ہواتھا اب جی ایس ٹی کی بدولت اس میں  مزید کمی آگئی ۔ چھوٹی صنعتوں کی کمر ٹوٹ گئی اور مندی و بیروزگاری زبردست اضافہ ہوگیا۔

نوٹ بندی کا سب سےپہلافائدہ یہ بتلایا  گیا کہ کالادھن ختم ہوجائیگا  سو تو نہیں  ہوا ہاں   بہت سارے لوگوں کو اپنا روپیہ سفید کرنے کا  نادرموقع ہاتھ آ گیا۔ بدعنوانی کالے بازار سے نکل کر بنکوں میں چلی آئی اور کھلے عام ہزار کی نوٹ ۸۰۰ روپئے میں بکنے لگا۔ حکومت ہند کے اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں  دعویٰ کیا تھا کہ ملک میں موجود  ۳ لاکھ کروڈ کالا دھن جو واپس نہیں آئیگا  اس رقم کو سرکار غریب  عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرے گی لیکن ایسا نہیں ہوا  بلکہ ریزور بنک جو منافع دیا کرتا تھا وہ بھی  اس بارتوقع سے نصف آیا ہے۔ حکومت  آئے دن یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس کے دامن میں کوئی بدعنوانی کا داغ نہیں ہے جبکہ چند ماہ قبل امریکی چینل سی این این نے یہ انکشاف کیا تھا کہ بدعنوان سیاسی جماعتوں کی فہرست میں   بی جے پی دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ہے۔ اب فوربس نے ہندوستان کو ایشیاء کا سب سے  بدعنوان ملک قرار دے دیا ہے۔ اب یہ کیسے ہوسکتا ہے ملک تو بدعنوانی کے میدان میں  ملک دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہا ہو اور سرکار دودھ کی  دھلی ہو۔ کیا نہ کھاوں گا اور نہ کھانے دوں گا کا یہی مطلب ہے؟

 مودی جی  کو سمجھنے میں ملک کے لوگوں نے ہمیشہ غلطی کی ہے۔جب انہوں نے کہا کہ میں ملک کو پہلے نمبر تک پہنچا دوں گا تو لوگوں نے سمجھا کہ وہ خوشحالی و ترقی کے بارے میں ارشاد فرما رہے ہیں ۔ انہوں نے پاکستان کو چوتھے نمبر  پرڈھکیل کر پہلا مقام حاصل کرکے ثابت کردیا کہ وہ تو بدعنوانی  کی دوڑ کا ذکر کررہے ہیں ۔ یہ  دعویٰ بھی  کیا گیا کہ نقلی نوٹ بند ہو جائیں گے نوٹ بندی کے بعد ان کی تعداد ۲۰ فیصد بڑھ گئی اس لیے کہ نئے نوٹ بھی سرکار کی طرح جعلی لگتے تھے جس کی نقل بنانا آسان ترتھا۔ دہشت گردی کے خاتمہ کا دعویٰ کرنے والوں کے منہ پر اس وقت طمانچہ  پڑا جب گرفتار ہونے اور مارے جانے والے دہشت گردوں کی جیب سے دوہزار کے نئے نوٹ نکلے۔ اس دوران کشمیر ی اور نکسلوادی تشدد میں غیر معمولی اضافہ ہوااور سرکار کے سارے بلند بانگ دعویٰ دھرے رہ گئے ۔

 یہ خواب بھی دکھایا  گیا  تھاکہ  نوٹ بندی کے بعد نقدی کا استعمال کم ہوجائیگا لیکن اس  جھوٹ کی بھی  رپورٹ سے تردید ہوگئی  فی الحال ۲۰۰۰روپئے کی نوٹ کا چلن متروکہ ۱۰۰۰سے زیادہ ہے۔ عوام نے مجبوری میں کچھ عرصہ ای نقدی کا استعمال کیا لیکن  ایک سال کے اندر پھر سے نقد لین دین پہلے کے ۶۰ فیصد  پر آگیا۔ عوام کو یہ کہہ کر دھوکہ دیا گیا کہ یہ غریب اور امیر کی جنگ ہے۔ ایماندار اور بے ایمان کی یہ لڑائی ہے اگر اس بیان  کو درست مان لیاجائے تو کہنا پڑے گا کہ اس جنگ غریب اور ایماندار لوگوں کو شدید پریشانیوں کا سامنا پڑا ۔ امیر کبیر بے ایمان سرمایہ داروں   کو کوئی زحمت نہیں ہوئی ان کے گھروں پر نوٹ تبدیل ہوکر پہونچتے رہے اورگڈکری و ریڈی جیسے بی جے پی رہنما اپنی بیٹیوں کی شادی پر  ہزاروں کروڈ  خرچ کرتے رہے۔نوٹ بندی کی حماقت کے بارے میں تو بس یہی کہا جاسکتا ہے کہ کھایا پیا کچھ نہیں گلاس پھوڑا بارہ آنا لیکن افسوس کہ اس گلاس کی کرچیں اسے توڑنے والی سرکارکونہیں بلکہ اس کو چننے والی عوام کے ہاتھوں میں لگی ہیں بلکہ ان کا سارا وجود لہولہان ہوگیا ہے۔  اس لیے بجا طور پر حزب اختلاف مطالبہ کررہا ہے کہ  مودی جی قوم سے معافی مانگیں اب تو  وزیراعظم کی یہ حالت ہے کہ بقول شاعر؎

خیر بدنام تو پہلے بھی بہت تھے لیکن

نوٹ  بندی سے تو پر لگ گئے رسوائی کو

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close