نوٹ بندی کی سالگرہ کا تحفہ ہیں مکل رائے

رویش کمار

آٹھ نومبر کو نوٹبدي کی پہلی سالگرہ ہے. اس موقع پر مکل رائے سے اچھا نیشنل گفٹ کیا ہو سکتا ہے. بغیر وجہ کالے دھن کے ملزم دوسری پارٹیوں میں گھومتے نظر آئے، یہ نوٹبدي کی کامیابی کے آپٹکس کے لئے بھی اچھا نہیں ہے. لہذا بی جے پی انہیں اپنے گھر لے آئی.  ابھی تقریر ہی تو دینا ہے تو دو گھنٹے کی تقریر کو تین گھنٹے کر دیا جائے گا. کہا جائے گا کہ ماں شاردا کی بڑی کرپا ہوئی کہ شاردا اسکیم کے ملزم بھی آ گئے. اب تو عدالت کا بھی کام کم ہو گیا. کالا دھن ترنمول والوں کے یہاں سے کم ہو گیا. تالیاں بجانے والے بھی ہوں گے. بھارت کی عوام کا سفید دھن پھونک کر کالا دھن پر فتح کرنے کا جشن منایا جایے گا. جس میں شامل ہونے کے لئے دوسرے جماعتوں سے کالے دھن کے ملزم آ جائیں تو چار چاند لگ جائیں گے. بلکہ بی جے پی کو ان لیڈروں کی علیحدہ پریڈ نکالنی چاہئے جن پر اس نے اسکیم کا الزام لگایا اور پھر اپنے میں ملا  کر وزیر بنا دیا.

مکل رائے نے بھی بی جے پی میں آکر اچھا کیا ہے. ان کے بی جے پی میں آنے سے سی بی آئی یا ای ڈی جیسی جانچ ایجنسیوں کو تلاش کرنے کے لئے ترنمول کے دفتر نہیں جائیں گے. کئی بار لگتا ہے کہ یہ ایک پیٹرن کے تحت ہوتا ہے. پہلے تفتیشی ایجنسیاں لگا کر ملزم بنائے جاتے ہیں. پھر نیوز اینکرز لگا کر ان الزامات پر ڈبیٹ کرائے جاتے ہیں اور ایک دن چپکے سے اس ملزم کو بی جے پی میں ملا دیا جاتا ہے. آسام کے ہیمنت وشوا شرما جب بی جے پی میں شامل ہوئے اس سے ایک مہینہ پہلے بی جے پی نے واٹر اسکیم میں شامل ہونے کا الزام لگایا تھا. ہیمنت کی وجہ سے بی جے پی کی بڑی جیت ہوئی اور وہ دوبارہ وزیر بن گئے. اتراکھنڈ میں بھی آپ کو کئی وزیر ایسے ملیں گے جن پر اپوزیشن میں رہتے ہوئے بی جے پی گھوٹالے کا الزام لگتا تھا. ریاست میں حکومت بدل گئی مگر وزیر نہیں بدلے. جو کانگریس میں وزیر تھے، وہ بی جے پی میں وزیر ہو گئے. مہاراشٹر میں نارائن رانے بھی آنے والے ہیں. جن پر بی جے پی نے کرپشن کے خوب الزام لگائے ہیں.

دوسری پارٹیوں سے آکر گھوٹالے کے ملزم لیڈروں کو لگتا ہے بی جے پی میں آکر وہ سی بی آئی مفت ہندوستان کو انجویے کر رہے ہیں. اب تو ہر دوسرا لیڈر دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ کب بی جے پی میں جائے گا، یہ خود سے جائے گا یا سی بی آئی آنے کے بعد جائے گا؟ یہی نیا انڈیا ہے. ٹوتھ پیسٹ وہی رہتا ہے. بس ذرا سا منٹ کا فلیور ڈال کر نیا کولگیٹ لانچ ہو جاتا ہے. اس نئے انڈیا کا فرنٹ ہے قوم پرستی، جس کے پیچھے ایک گودام ہے جہاں اس طرح کے ایک سے زیادہ مصنوعات تیار کئے جاتے رہتے ہیں. یوپی انتخابات کے وقت ایک نعرہ خوب چلا تھا. یوپی میں رہنا ہے تو یوگی- یوگی کرنا ہوگا. بی جے پی کو ایک اور نعرہ لگانا چاہئے. سی بی آئی سے بچنا ہے تو بی جے پی- بی جے پی کرنا ہوگا. جو بی جے پی سے ٹکرائے گا وہ بی جے پی میں مل جائے گا.

آر ایس ایس کی تنظیم اور قیادت کا کتنا مهماڈن کیا جاتا ہے کہ وہاں کی قیادت تیار کرنے کی فیکٹری چل رہی ہے. ہماچل پردیش میں 73 سال کے دھومل ملے. کرناٹک میں 74 سال کے یدورپا ہیں. اگر سنگھ کی فیکٹری میں اتنے رہنما بن ہی رہے ہیں تو پھر دوسری پارٹیوں سے لیڈر کیوں لائے جا رہے ہیں اور وہ کیوں آ رہے ہیں جن پر اسکیم کا الزام بی جے پی ہی لگا چکی ہے.

پہلے بی جے پی میں آگے جانے کے لئے رہنما سنگھ کا پس منظر ٹھیک رکھتے تھے، اب بی جے پی میں آگے جانا ہے تو پہلے ترنمول میں جائیں گے، کانگریس میں جائیں گے، وہاں کچھ ایسا اسکیم کرنا ہوگا کہ بی جے پی کی نظر پڑ جائے. یونین کا روٹ بہت طویل ہے. بالياوستھا سے چار بجے صبح سنگھ کی شاخ میں جاؤ. اس سے اچھا ہے کہ مکل رائے والی ترکیب اپناو. وزیر اعظم مودی سے ناراض لوگ بھی پوچھتے ہیں، مودی کا بدل کیا ہے؟ ادھر مودی شاہ اس کام میں لگے ہیں کہ کانگریس میں کچھ اور بچا ہے، ترنمول میں کچھ اور بچا ہے، بیجد جنتا دل میں کچھ اور بچا ہے! بی جے پی میں مختلف پارٹیوں سے آئے رہنماؤں کو لے کر سیل ہونا چاہیے. جیسے کانگریس سیل، ترنمول سیل، بیجو جنتا دل سیل، آر جے ڈی سیل.

آپ کہہ سکتے ہیں کہ مکل رائے نے جب مبینہ طور پر اسکیم کیا تھا تب ان کا اکاؤنٹ آدھار سے لنک نہیں ہوا تھا، اب بی جے پی میں آ گئے ہیں تو اکاؤنٹ لنک ہو گیا ہے. اس لائن کو سمجھنے کے لئے دو بار پڑھیےگا. ہائی لیول کا ہے. فیس بک پر لوگ مکل رائے کو لے کر بی جے پی کا مذاق اڑا رہے ہیں. یہ ٹھیک نہیں ہے. بی جے پی نے مکل رائے کا مذاق اڑایا ہے. وہ ترنمول کانگریس کے قابل طور پر جانے جاتے مانے جاتے تھے، بی جے پی نے اپنی دونوں تفتیشی ایجنسیاں لگا کر اپنے میں ملا لیا. پہلی جانچ ایجنسی سی بی آئی ٹائپ اور دوسری نیوز چینل کے وہ اینکرز جن کے شاردا اسکیم پر آج بھی بہت سے ویڈیو یو ٹیوب میں پڑے مل جائیں گے.

آئی ٹی سیل کو شاردا اسکیم کو لے کر اپنے پرانے ٹویٹس مٹا دینے چاہئے. بیکار میں پرتیک سنہا انہیں نکال کر آلٹ نیوز میں لکھنے لگیں گے. فی الحال ان تمام اینكروں کو بی جے پی نے اچھا تحفہ دیا ہے. مکل رائے کے طور پر نوٹبدي سالگرہ کا رٹرن گفٹ.

نوٹ- ہر بات پر ہنسا نہیں جاتا ہے. ہنسایا بھی جاتا ہے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی



⋆ رویش کمار

رویش کمار
مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے