آج کا کالم

نوٹ بندی کی مارسب سے زیادہ کس پر؟

رویش کمار

نوٹ بندی ایک ایسا معاملہ ہے جس سے ایک ساتھ ہندوستان کی پوری آبادی متاثر ہوئی ہے۔ پرانے معاشی تعلقات بدل رہے ہیں اور نئی معاشی ثقافت کی آہٹ ہے۔ اس کے اچھے برے اتنے زاویے ہیں کہ اےٹي ایم کے باہر کی قطار سے پوری کہانی نہیں سمجھی جا سکتی ہے۔ نوٹ بندی کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔ اس فیصلے کی سب تعریف کر رہے ہیں، مگر تعریف کرنے والے بھی بعد میں ‘لیکن’ شامل کر دیتے ہیں۔ ان کے ‘لیکن’ کا ایک ہی مطلب ہے کہ کیا واقعی امیر لوگوں کی نیند خراب ہو گئی ہے؟ وہ کون ہے جس کی نیند اڑ گئی ہے؟ ہماری طرف سے بھی آپ کے لئے ایک ‘لیکن’ ہے۔ وہ یہ کہ نوٹ بدلنے سے متعلق تمام سرکاری اطلاعات توجہ سے سنیں اور ایک دوسرے کو بتائیں۔ جتنا حکومت کہتی ہے، اتنا ہی کیجئے۔ کئی فیصلے مسلسل آ رہے ہیں۔ جیسے مہاراشٹر حکومت نے کہا ہے کہ 50 کلو سبزی لے کر سرکاری بسوں میں مفت سفر کر سکتے ہیں. اسکول کالج چیک سے فیس لے سکتے ہیں۔ ڈیمانڈ ڈرافٹ کی ضد نہ کریں۔ مرکزی حکومت نے بھی اپنے فیصلوں میں کئی اصلاحات کی ہیں۔ اے ٹی ایم سے آپ 2000 کی جگہ 2500 روپے نکال سکتے ہیں۔ بینک سے 4000 کی جگہ 4500 روپے کے پرانے نوٹ بدل سکتے ہیں۔ چیک سے آپ اب 24000 روپے ایک ہفتے میں نکال سکتے ہیں۔ آپ ایک دن میں ہی نکال لیں یا ہفتے میں کبھی بھی۔ تین مہینے پرانے کرنٹ اکاؤنٹ سے ایک ہفتے میں 50000 روپے نکال سکتے ہیں۔ تمام قومی شاہراہوں پر 18 نومبر کی آدھی رات تک کوئی ٹول ٹیکس نہیں لگے گا۔ بجلی، پانی کے بل، پٹرول، ٹیکس، فیس اور کوآپریٹو سٹور میں پرانے نوٹ لئےجائیں گے۔ اس کی مدت بڑھا کر 24 نومبر کر دی گئی ہے۔

بڑی تعداد میں لوگوں کو غیر متوقع طور پر پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کسانوں کو ربی کی بوآئی کے لئے پیسے نہیں مل رہے ہیں۔ شادی میں بڑی دقتیں آرہی ہیں۔ ان لوگوں کی پریشانی کا فیصلے کی مخالفت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ دیہات میں حالت بہت خراب ہے۔ مدھیہ پردیش کے ساگر میں 69 سال کے ونود پانڈے سرکاری بینک میں اپنا پیسہ بدلوانے گئے تھے۔ گھنٹوں قطار میں رہے اور بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ ان کی وہیں پر موت ہو گئی۔ ونود کے خاندان والوں کا الزام ہے کہ بینک کی بد نظمی اس کے لئے ذمہ دار ہے۔

 یوپی کے فیروز آباد میں ایک نرسنگ ہوم نے نوزائیدہ بچے کا علاج کرنے سے انکار کر دیا۔ پیدائش کے 7 گھنٹے کے اندر اندر بچے کی موت ہو گئی۔ گھر والوں کا الزام ہے کہ ان کے پاس پیسے نہیں تھے، اس لئے ڈاکٹر نے علاج نہیں کیا۔ نئے نوٹ نہ ہونے کی وجہ سے بچے کی باڈی بھی لے جانے سے روک دیا۔ بعد میں پولیس نے مداخلت کی اور بچے کی لاش کو سونپا گیا۔ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ انہوں نے تو یہی کہا تھا کہ پیسے لے کر آئیں تبھی ڈسچارج کریں گے۔

 پرائیویٹ ہسپتالوں اور كلنكس میں کئی طرح کی دقتیں آرہی ہیں۔ پرائیویٹ کلینکس کے ڈاکٹروں کو چھوٹ بھی نہیں ہے کہ وہ 500 اور 1000 کے پرانے نوٹ لے سکیں۔ کئی جگہوں سے سننے کو مل رہا ہے کہ بغیر پیسے دیئے مریض کو ہسپتال سے ڈسچارج نہیں کیا جا رہا ہے۔ نیوز ویب سائٹ ہفنگٹن پوسٹ نے نوٹ بندی کے بعد کے چار دنوں میں ہوئی موت کی تفصیلات کا بیورا شائع کیا ہے۔ اس کے مطابق کم از کم ملک بھر میں 15 ایسی موتیں ہوئی ہیں، جن کا تعلق نوٹ بندی کی کشیدگی سے ہے۔

ممبئی کے ایک ہسپتال نے نوزائیدہ بچے کو ایڈمٹ کرنے سے انکار کر دیا، بچے کی موت ہو گئی۔ صرف سرکاری ہسپتالوں میں ہی پرانے نوٹ کیلئے جا سکتے ہیں۔ وشاکھاپٹنم میں 18 ماہ کا ایک بچہ مر گیا کیونکہ دوائیں خریدنے کے پیسے نہیں تھے۔ پرائیویٹ ہسپتال نے پرانا نوٹ نہیں لیا۔ مین پوری میں ایک سال کے بچے کا علاج نہیں ہو سکا، ماں باپ کے پاس سو کے نوٹ نہیں تھے، پرانے نوٹ ہی تھے۔ راجستھان کے متعدد اضلاع میں ایمبولینسوں نے نوزائیدہ  بچے کو ہسپتال لے جانے سے انکار کر دیا، جب تک میگھوال سو روپے کے نوٹ لے کر آتے بچہ مر چکا تھا۔ یوپی کے کشی نگر میں ایک دھوبن جب ہزار کے دو نوٹ لے کر جمع کرنے پہنچی تو پتہ چلا کہ یہ ردی ہو گئے ہیں، وہ صدمے سے مر گئی۔

 تلنگانہ میں 55 سال کی ایک خاتون کو لگا کہ 54 لاکھ بیکار ہو چکے ہیں۔ اس زمین بیچی تھی، شوہر کے علاج کے لئے، بیٹی کے جہیز کے لئے۔ اس نے خود کشی کر لی۔ ہاوڑہ میں ایک شوہر نے اپنی بیوی کو قتل کر دیا، کیونکہ وہ اے ٹی ایم سے خالی ہاتھ واپس آئی تھی۔ بہار کے كیمور میں 45 سال کا آدمی ہارٹ اٹیک سے مر گیا، اسے لگا کہ اس کی بیٹی کی بہو پرانے نوٹ نہیں لے گی، 35000 روپے بچائے تھے۔ کیرلہ میں 45 سال کا آدمی جب 5 لاکھ جمع کرنے پہنچا ،تو ناکام رہا۔ دوسری منزل سے پھسل کر گر گیا اور مر گیا۔ گجرات میں 47 سال کا کسان پرانے نوٹ بدلتے وقت ہارٹ اٹیک سے مر گیا۔

 ابھی تک بینک کے ملازمین نے جی توڑ محنت کی ہے اور لوگوں نے بھی بینکوں کے باہر صبر کا ہی ثبوت دیا ہے۔ سنبھل اور مؤ سے بینکوں میں افرا تفری کی خبریں آئی ہیں، مگر زیادہ تر جگہوں پر پریشانی ہے لیکن امن کے ساتھ کام ہو رہا ہے۔ بہت حلقوں سے سننے کو مل رہا ہے کہ نیتاؤں اور بلیک منی کے ماہر لوگوں نے اپنے پیسے کا بندوبست کر لیا ہے۔ ایسی خبریں عام طور پر غیر مصدقہ ہوتی ہیں، مگر جو بھی پیسے والے کو جانتا ہے یہی کہتا ہے کہ فلاں آدمی نے اپنے پیسے کا بندو بست کر لیا ہے۔ وزیر خزانہ نے خبردار کیا تھا کہ اب اس طرح کے لین دین کی چین سے بچنا کسی کے لئے بھی مشکل ہے۔

الہ آباد میں کارتک پورنما کے اشنان کے دوران پنڈوں کے پاس قوم کی اس عظیم جنگ میں شراکت کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا، ورنہ وہ 500 اور 1000 کے بغیر کہاں ماننے والے تھے۔ لیکن نوٹ بندي نے دكشا کا ریٹ گرا دیا ہے۔ 11 اور 51 روپے سے کام چلانا پڑا ہے۔ انہیں پیسوں سے پنڈوں کی چند ماہ کی کمائی ہوتی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے بھی کہا ہے کہ گنگا میں نوٹ بہا دینے سے گناہ نہیں دھل جاتے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پنڈوں  کو اس بار پنیہ کا پیسہ ملا ہو۔

 حکومت مسلسل بہتری کا دعوی اور کوشش کر رہی ہے لیکن مسئلہ اتنا بڑا ہے کہ ایک جھٹکے میں فیصلہ تو نافذ کیا جا سکتا ہے، مگراس کا حل نہیں نکالا جا سکتا۔ وزیر اعظم نے ایسے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا ہے جو تکلیف اٹھانے کے بعد بھی برداشت نہیں کھو رہے ہیں۔ آہستہ آہستہ لوگ یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ نوٹ بندی کے اس فیصلے کا معیشت پر کیا اثر ہوگا؟

 مطلب کیا اس سے بحران سے گزر رہے سرکاری بینک بچ جائیں گے؟  کیا این پی اے کے بڑھتے ہوئے خسارے کے بعد بھی ان کی حالت میں بہتری آئے گی؟ ریئل اسٹیٹ سیکٹر پر کیا اثر پڑے گا؟ اسے بلیک منی کا گڑھ کہا جاتا ہے. پہلے سے ہی سست چل رہے اس سیکٹر میں روزگار کے لامحدودامکانات پر کیا اثر پڑے گا؟ کیا فلیٹ کی قیمت کم ھوگی؟ اس کا ان پر کیا اثر پڑے گا جو خرید نہیں سکے ہیں؟ اس کا ان پر کیا اثر پڑے گا جو خرید چکے ہیں؟ پرانے فلیٹ کی قیمت میں گراوٹ آئے گی تو ان کے بھروسے بیٹھے متوسط طبقے کا کیا ہوگا؟ ہندوستان میں 70 فیصد Unorganized Sector  میں کاروبار ہوتا ہے، اس پر کیا اثر پڑے گا؟

بہتر ہے اس فیصلے سے جڑے بڑے سوالوں کی طرف بھی رخ کیا جائے۔ کیا کھاتے میں جمع رقم کی بنیاد پر بڑی تعداد میں لوگ انکم ٹیکس کے دائرے میں آئیں گے؟ ڈرائیور، کاریگر اور کاروباری کے لئے اب بچنا مشکل ہو جائے گا؟ سروس سیکٹر کا بہت سا کاروبار نقد پر ہوتا ہے۔ کیا یہ سب اب چیک یا الیکٹرانک طریقے سے ہونے لگیں گے؟ کیا حکومت کے پاس انکم ٹیکس کم کرنے کی گنجائش ہو گی؟ جب بلیک منی ختم ہوگا تو اس کا اثر کہاں نظر آئے گا، کس طرح نظر آئے گا؟

 ملک میں ایک ساتھ کئی بڑے واقعات ہو رہے ہیں۔ ملک کا عام بجٹ وقت سے پہلے آ رہا ہے۔ جی ایس ٹی نافذ ہو رہی ہے اوراب یہ نوٹ بندی۔ کیا آپ بھی توقعات سے لبالب ہیں؟ 50 دن بعد ہندوستان بدلنے جا رہا ہے۔ بہتر ہے اس کی تیاری میں لگ جائیں اور ان امیروں کی مدد کریں جو نیند کی گولی لے کر بھی سو نہیں پا رہے ہیں۔ ان غریبوں کی بھی مدد کریں جو چین سے سو تو پا رہے ہیں، مگر قطار میں کھڑے کھڑے بے چین ہو رہے ہیں۔

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close