آج کا کالم

وزیر اعظم کا تغلقی فرمان، عوام پریشان

شاہد جمال فلاحی

ایسے وقت میں جبکہ ملک پہلے سے ہی بہت سارے مسائل سے دوچار تھا۔ عوامی سطح پر حکومت کی ناکامی صاف آ رہی تھی۔ آئے دن ملک میں علاقائی و قومی سطح پر  روز نئے نئے واقعات ہو رہے تھے۔ حالیہ دنوں میں نجیب کی گمشدگی ، بھوپال انکاؤنٹر، دہلی کے جنتر منتر پر ون رینک ون پینشن کو لیکر ایک فوجی عملہ کی خود کشی  نے مرکزی حکومت کی کارکردگی پر کئی طرح کے سوالات کھڑے کر دیئے تھے۔ اس کے علاوہ بڑھتی مہنگائی ، غربت اور بدعنوانی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔  ان سب کے بیچ بجائے اس کے کہ حکومت عوام کے سوالوں کا جواب دیتی، عوام کی مشکلات دور کرتی، اچانک پانچ سو اور ہزار کے نوٹ کو بند کر کے حکومت نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

جب سے وزیر اعظم مودی نے یہ اعلان جاری کیا ہے ملک میں ہر طرف افرا تفری کا ماحول ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا ہیکہ اس سے بلیک منی پر قابو پانے میں آسانی ہوگی۔ ساتھ ہی وزیر اعظم نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہیکہ عوام کو وقتی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا، پھر حالات معمول پر آجائیں گے۔ وزیر اعظم کے اس فیصلے کو سن کر ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا  500اور 1000 کے نوٹ کو بند کر کے ہی ملک میں بلیک منی پر قابو پایا جا سکتا ہے؟ اگر کچھ وقت کے لئے وزیر اعظم کی اس بات سے اتفاق کر بھی لیا جائے تو ایک دوسرا سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ملک سے باہر سوئس بینک میں موجود بلیک منی پر قدغن لگانے کے لئے بھی وزیر اعظم کے پاس کوئی تجویز ہے؟ اور اگر ہے تو پھر اس کا نفاذ اب تک کیوں نہیں کیا جا سکا؟ 2014 کے لوک سبھا الیکشن میں وزیر اعظم نے عوام کو یہ یقین دلایا تھا کہ سوئس بینک میں جمع ہندوستانی پیسوں کو جلد از جلد ملک میں واپس لایا جائےگا۔ انہوں نے اس یقین دہانی کے ساتھ ایک اور جملہ بھی کہا تھا، میں اسے دہرانا نہیں چاہتا کیونکہ ہندوستان کی عوام کو وہ جملہ زبانی یاد ہے اور مزید یہ کہ اس مخصوص جملے کے سلسلے میں بی جے پی صدر امت شاہ نے وضاحت بھی کر دی تھی کہ اسے وعدہ یا یقین دہانی نا سمجھا جائے بلکہ وہ محض ایک انتخابی جملہ تھا۔

جب بھی بلیک منی کی بات ہوتی ہے تو ہماری گفتگو سوئس بینک کا ذکر کئے بغیر مکمل نہیں ہوتی ہے۔  لیکن گزشتہ چند روز قبل وزیر اعظم نے بلیک منی کے خلاف جو فیصلہ لیا ہےاس کا کہیں دور تک سوئس بینک سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔  وزیر اعظم نے مختلف مقامات پر اپنے بھاشن میں یہ بھی کہا ہیکہ "نوٹ بندی کے اس فیصلے سے امیر لوگوں کی نیندیں اڑی ہوئی ہیں اور وہ اس قدر پریشان ہیں کہ سونے کے لئے نیند کی گولیاں لے رہے ہیں”۔ حالانکہ اگر آپ اپنے گھر سے باہر قدم رکھیں تو یہ آسانی سے دیکھ سکتے ہیں کہ بینک اور اے ٹی ایم پر نظر آنے والی لمبی قطاروں میں کوئی بھی امیر آدمی ظاہری طور پر نظر نہیں آ رہا ہے۔ ان قطاروں میں عام آدمی ، مزدور طبقہ ، نوکری پیشہ افراد ہی کثرت  سے نظر آ رہے ہیں۔ تو کیا وزیر اعظم کے اس جملے کو عام عوام پر کسا جانے والا طنز سمجھ لیا جائے۔ عین ممکن ہیکہ وزیر اعظم نے عام آدمی کو طنزیہ لہجے میں امیر آدمی کہ دیا ہو۔ کیونکہ ظاہری طور پر نیند تو عام آدمی کی ہی اڑی ہوئی ہے اور وہ اس قدر پریشان ہیکہ اپنے خون پسینے کی کمائی سے حاصل کئے گئے پیسوں کو بینک اور اے ٹی ایم سے نکالنے کے لئے گھنٹوں قطار میں لگا ہوا ہے۔ نوکری پیشہ افراد اپنی نوکرہی چھوڑ کر اس امید سے بینک اور اے ٹی ایم کی قطار میں لگے ہوئے ہیں کہ کب ان کا نمبر آئے اور وہ اپنا پیسہ نکا لیں۔

ہندوستانی عوام میں بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ بلیک منی کو روکنے کےلئے وزیر اعظم نے بہت ہی اچھا قدم اٹھایا ہے۔ ہو سکتا ہیکہ اس کے کچھ مثبت پہلو بھی نکل کر آئیں، لیکن ظاہری طور پر تو یہی لگ رہا ہیکہ اس سے ان لوگوں کو زیادہ دشواری پیش آ رہی ہے جن کا بلیک منی سے دور دور تک کوئی لینادینانہیں ہے۔ کیا آپ نے وزیر اعظم کے اس فیصلے کے اعلان سے لے کر اب تک کہیں یہ دیکھا یا سنا کہ کوئی بڑا سرمایہ دار یا تاجر دیوالیہ پن کا شکار ہو کر خود کشی کی یا ان کے چہرے کے تاثر سے ایسا محسوس ہوا ہو کہ وہ پریشان ہیں؟ البتہ یہ ضرور ہوا کہ کئی مقامات سے عام عوام کی خود کشی اور مرنے کی خبریں آئی ہیں۔۔ کئی اموات تو اسپتال کے اندر ہوئی ہیں۔ یہ ہندوستانی تاریخ میں شاید پہلی بار ہوا ہیکہ بہت سے لوگ پیسوں کے باوجود اپنے بیمار عزیزوں کا علاج نہیں کرا سکے اور ان کے عزیزوں نے اسپتال کے گیٹ پر ہی اپنا دم توڑدیا ۔

 میں تاریخ کا طالب علم ہوں اور میں نے محمد بن تغلق کو پڑھا ہے جس نے اپنے تغلقی فرمان کے ذریعہ دہلی سلطنت کی کرنسی کو بدلنے کا کام کیا تھا، جس سے اس وقت کی عوام کو بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بالکل اسی طرح  وزیر اعظم نے بغیر کسی منصوبہ بندی کے جلدبازی میں یہ فیصلہ لیا ہے اور اب انہیں بھی اس بات کا بخوبی اندازہ ہوچکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہیکہ آگے کیا ہوتا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

شاہد جمال فلاحی

شاہد جمال فلاحی جامعہ ملیہ سلامیہ سے ایم ایڈ کررہے ہیں۔ آپ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں۔ آپ کی نگارشات معروف اردو اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتی ہیں۔ shahidjamal@mazameen.com

متعلقہ

Close