آج کا کالم

نوٹ بند ہونے سے سامنے آئی ایک سماجی حقیقت

رویش کمار

یہ تحقیق کرنے کا سب سے اہم وقت ہے کہ ہم ہندوستانی اپنے گھروں میں کس کس طریقے سے نوٹ بچا کر رکھتے ہیں۔ گھروں میں پیسے بچا کر رکھنے کے تمام ٹھکانوں کا دلچسپ قصہ سامنے آئے گا۔ گھروں میں پیسہ بچا کر رکھنے کی یہ کہانی سینکڑوں سال پرانی ہے۔ ٹھیک ہے کہ بینک، کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ، موبائل بینکنگ ہمارے وقت کے نئے طریقے ہیں لیکن ہمارے اسی دور میں نوٹ چھپا کر رکھنے کا رواج بدستور جاری ہے۔ یہ خفیہ پیسہ فیملی کی آخری سانس ہے۔ آپ بھی فون کر اپنی نانی دادی سے پتہ کریں کہ وہ کیوں اس طرح سے پیسے بچا کر رکھتی ہیں۔ بچا کر یعنی چھپا کر۔ اگر ہندوستان کی کروڑوں عورتوں کے بچائے ان پیسوں کو انکم ٹیکس محکمہ کے خوف زدہ قانون کی نظر سے دیکھیں گے تو اپنے معاشرے کو سمجھنے میں غلطی کر سکتے ہیں۔ کچھ معاملات کو چھوڑ، عورتوں کا یہ پیسہ کالا دھن یا چوری کا نہیں ہوتا ہے۔ یہ پیسہ عورتوں کی دہائیوں کی معاشی سمجھ و معاشی صبر کا پھل ہے۔ ہوتا کم ہے لیکن آپ پلیز اسےچوری کا پیسہ نہ کہیں۔ ہمیں عام عورتوں کے بچائے پیسے کوبلیک منی اسٹاک رکھنے والوں کے ساتھ  نہیں ملانا چاہئے۔

عورتیں یہ پیسہ اپنے لئے نہیں بچاتی ہیں نہ ہی اپنے اوپر خرچ کرتی ہیں۔ اپنی تمام خواہشات کو مار کر خاموشی  کے ساتھ مسلسل بچت میں لگی رہتی ہیں۔ یہ پیسہ عورتوں کی معاشی آزادی کا بیک سپورٹ ہوتا ہے۔ اس میں خوبی یہ ہوتی ہے کہ یہ کسی کی نظر میں نہیں ہوتا مگر سب کو جوڑتا ہے۔ ان پیسوں کے ذریعہ شادی شدہ عورتیں اپنے میکے کے تعلقات کو سينچتي رہتی ہیں۔ کبھی بھائی کو کچھ دے دیا کبھی ماں کو کچھ دے دیا۔ اس رقم کو جب آپ بینک میں رکھ دیں گے تو ہو سکتا ہے وہ اپنے میکے سے تھوڑی دور ہو جائیں۔ بینک میں رکھے پیسے کو شوہر اور بچوں سے چھپانا مشکل ہے۔ پریشانی اس بات کی نہیں ہے کہ حکومت جان جائے گی، مصیبت اس بات سے ہے کہ معاشرہ جان جائے گا۔ انڈین ایکسپریس میں ہی ایک قصہ چھپا ہے کہ چائے والے کی بیوی نے پانچ سو کے دو نوٹ لحاف کی تہوں میں پوشیدہ کر رکھے تھے۔ ہو سکتا ہے یہ اس کے بڑھاپے کا سہارا ہو۔ آسرا ہو کہ کچھ ہو گا تو یہ پیسہ کام آ سکتا ہے۔ عورتوں کا یہ پیسہ تعداد میں کم ہوتا ہے مگر بینک میں رکھے پیسے سے زیادہ سہارا دیتا ہے۔ جب یہ پیسہ بینکوں میں جائے گا تو معیشت کو نیا سہارا تو ملے گا لیکن عورت مخالف اس معاشرے میں آنچل کے کونے میں پوشیدہ ان کی آزادی کا چھوٹا سا ذریعہ بھی لیتا جائے گا۔

اس نظر سے دیکھیں گے تو عورتوں کے پاس جمع لاکھ دو لاکھ یا پانچ سو ہزار کے نوٹ کی مطلب سمجھ پائیں گے۔ صدیوں پرانا ایک نظام ختم ہو رہا ہے اس کے بارے میں بات تو کر ہی سکتے ہیں۔ اس مختصر پیسے کے بینک میں پہنچنے سے عورتوں کی سماجی حیثیت پر کیا اثر پڑے گا، میری نظر میں یہ اتنا بڑا مسئلہ ہے کہ تمام یونیورسٹیوں کے رسرچرس کو سارا کام چھوڑ کر اس پر لگ جانا چاہیے۔ کیوں امیر سے لے کر غریب عورتوں نے بچت کے اس خفیہ طریقے کو اپنایا ہے۔ کیوں بہت سی عورتیں اس فیصلے سے خوف زدہ ہیں۔ عورت کی  یہ جمع دولت ان کی معاشی آزادی کی چھوٹی سی کھڑکی ہے جسے وہ اپنی مرضی سے کھولتی ہیں، اپنی مرضی سے بند کر دیتی ہیں۔ کیا یہ سیکورٹی بینک اور حکومت دے سکتی ہے۔ خفیہ فنڈز ان عورتوں کے پاس بھی ہوتا ہے جن کے پاس بینک کے اکاؤنٹ ہوتے ہیں۔  یہ ہوتا ہے تو ہوتا ہے۔ جیسے بچوں کا گللک ہوتا ہے۔ بینک سے پہلے سے ہے اور جب بینک ڈوب جائیں گے تب بھی رہے گا۔ عورت کی یہ دولت نہیں ڈوبتی، وال  اسٹریٹ پر بڑے بڑے بینک کنگال ہو جاتے ہیں۔ ہم نے کئی ساتھیوں کی مدد سے معلوم کیا ہیکہ کہ ان کے گھروں میں ایسے پیسے کو کیا کہتے ہیں جسے عورتیں سب سے بچا کر رکھتی ہیں۔

 ہمارے گاؤں کی طرف تو عورتیں ان خفیہ فنڈز کو كوسلا کہتی ہیں۔ بھوجپوری میں ایسے کہتی ہیں کہ ضرور كوسلا میں دھئيلے هوئيهیں۔ مطلب خفیہ پیسہ ہوگا ہی ان کے پاس۔ کہیں کہیں چوروكا، چورودھا یا چوریتا پیسہ بھی کہا جاتا ہے۔ بیگوسرائے میں گانٹھ بولتے ہیں۔ بہار کے مگدھ صوبے یعنی گیا، نوادہ، جہان آباد اور اورنگ آباد میں اسے نیہالي کہتے ہیں۔ لوگ اپنی ماں سے پوچھتے ہیں کہ ماں نیہالي میں کتنا رکھا ہے۔ نیہالي لحاف کو بھی کہتے ہیں۔ سمستی پور میں اسے كھوٹ کا پیسہ کہتے ہیں۔ ویشالی میں عورتوں کا خفیہ پیسہ اچرا کہلاتا ہے اور مردوں کا پھاڑا۔ یوپی کے سدھارتھ نگر میں کہیں اچرا بولتے ہیں تو کہیں پھونپھي۔ بہرائچ اور گورکھپور میں کہیں کہیں كول ادھ کا پیسہ کہتے ہیں۔ پوٹلی کو بھی پیسہ کہتے ہیں۔ اتراکھنڈ کے کماؤں میں لكئي ڈبل کہتے ہیں۔ ڈبل مطلب پیسہ۔ ہریانہ میں ایسے پیسے کو کہتے ہیں کہ اڑی اڑاس میں کام آئے گا۔ مطلب مصیبت میں کام آئے گا۔ ہریانہ میں دھروڑ اور گپتي کہتے ہیں۔ بندیل کھنڈ میں كٹھيا کا پیسہ کہتے ہیں۔ اعظم گڑھ میں كولواري کہتے ہیں۔

کروڑوں خاندانوں میں عورتیں اس فیصلے سے اپنے گھر میں مشکوک ہو گئیں ہیں۔  سب حیرانی سے دیکھ رہے ہیں کہ اتنا پیسہ ہے۔ وہ رات رات جاگ رہی ہیں کہ کس طرح شوہر کو بتائیں۔ سسر کو بتائیں یا باپ کو بتائیں۔ وہ اپنے ہی گھر میں بے بس ہو گئیں ہیں۔ وہ اس خوف سے کانپ رہی ہیں کہ گھر میں سب کو پتہ چل جائے گا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ حکومت کے فیصلے کے ساتھ ہوں لیکن ان کے ذہن کے کسی کونے میں صدیوں سے چلی آ رہی آزادی کی یہ نعمت کھو جانے کا ڈر بھی بیٹھا ہوا ہے۔ میں خود اس فیصلے کے جشن میں شامل ہوں لیکن عورتوں کے اس خوف کو سمجھنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ ویسے بھی اب تو جو جا رہا ہے، اسے روکا نہیں جا سکتا لیکن جو جا رہا ہے اسے دیکھا تو جا سکتا ہے کہ جاتے جاتے کس طرح ستا رہا ہے۔

 ہمارے ایک ساتھی نے گھر پر کام کرنے والی کی ایک ویڈیو ریکارڈ کی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ پوتی کی شادی کے لئے پانچ پانچ سو روپے کے نوٹ سے انہوں نے پانچ ہزار روپے جمع کئے ہیں۔ جب ہمارے ساتھی نے کہا کہ اسے ٹی وی پر دکھاسکتے ہیں تو اس نے ہاتھ جوڑ لیا کہ شوہر کو پتہ چل جائے گا۔ شوہر ہی نہیں بچوں سے بھی پیسہ بچا کر رکھتی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ بینکوں سے جڑنے سے وہبیک سپورٹ کے نئے طریقوں کی عادی ہو جائیں لیکن اتنی پرانی روایت جا رہی ہے، کچھ تو گھبراہٹ ہوگی ہی۔ پوتی کی شادی کا پیسہ خفیہ رکھنے کی ضد اس دادی نے کیوں پالی تھی اس کو انکم ٹیکس افسر کبھی نہیں سمجھ سکتا ہے نہ ہی کسی وزیر خزانہ کے بس کی بات ہے۔ اس لئے دوردراز کے دیہات اور قصبوں کی عورتوں سے بات کریں کہ یہ سب کے مفاد میں ہے۔ ڈرنے کی بات نہیں ہے۔

عورت کی پونجی بھلے پونجی کہلاتی ہے مگر ہوتی بہت کم ہے۔ خاندانوں میں سوشل سیکورٹی کا یہ آخری اور خفیہ قلعہ ہوتا ہے۔ حکومت نے بھی کہا ہے کہ ڈھائی لاکھ تک کی رقم عورتیں آرام سے بینک لا سکتی ہیں۔ اکاؤنٹ میں جمع کرا سکتی ہیں۔ ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔ سوال پوچھ گچھ کا نہیں ہے۔ سوال ہے پتہ چل جانے کا۔ جن پیسوں کو صدیوں سے ہماری عورتوں نے پتہ نہیں چلنے دیا وہ راز جب گھروں میں کھل جائے گا تو ان کی حالت کیا ہوگی۔ کیا پتہ چھوٹی سی آزادی جانے کے بدلے کوئی بڑی آزادی ان کا انتظار کر رہی ہو۔ بلیک منی ختم ہونے کے جشن میں میں اخبارات کو پلٹتا رہا، ساتھیوں کے ویڈیو فوٹیج دیکھتا رہا کہ کسی تصویر میں وہ لوگ تو نظر آئیں گے جن کے بارے میں ہم تصور کرتے ہیں کہ ان کے یہاں بوریوں میں پیسہ بھرا ہوتا ہے۔ وہ دہاڑ مار کر رو رہے ہوں گے۔ بینکوں کی لائن لگی تومیں خود دیکھنے گیا مگر وہاں جو لوگ لائن میں تھے ایسی حالت کے نہیں لگے کہ ان کے گھروں میں بوری کی بوری نوٹ رکھے ہوں۔

کیا ایسے لوگوں نے اپنے پیسوں کو ٹھکانے لگا دیا ہے یا اطمینان سے ہیں کہ جگاڑ کر لیں گے۔ بوری میں نہ سہی بیگ میں پیسہ بچ ہی جائے گا۔ کچھ نے کہا کہ یہ اوپر اوپر ہنس تو رہے ہیں مگر اندر اندر رو رہے ہیں۔ اگر ایسے لوگوں میں سے کسی کو باہر باہر رونے کا ارادہ ہو تو مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ میڈیا ان کے سناٹے کو درج نہیں کر پا رہا ہے۔ اگر 500، 1000 کے نوٹوں کو بوریوں اور بستر میں دبا کر رکھنے والے لوگ بہت غصے میں ہیں تو پلیز ٹی وی پر آکر اپنے من کی بات کہیں۔ کہیں کہ مار پڑی ہے اور کشور کمار کا وہ گانا گائیں پتہ ہے تمہیں کیا، کہاں درد ہے، یہاں ہاتھ رکھنا، یہاں درد ہے۔ غم کا فسانہ بن گیا اچھا. صحافی نے آکر میرا حال تو پوچھا. فی الحال سڑکوں پر جو دکھائی دے رہے ہیں وہ لگتے نہیں ہیں کہ بوریوں والے ہیں۔ کہیں یہ لوگ سونے چاندی کی دکانوں کی طرف تو نہیں چلے گئے۔ آپ بھی اپنی چھوٹی موٹی پریشانی چھوڑ ایسے لوگ روتے ملیں تو ہمیں ضرور بتائیں۔ ہم بیکار میں بینک بینک کئے جا رہے ہیں وہ اپنے کمرے میں ہنسے ہنستے لوٹ پوٹ ہو رہے ہوں گے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔

وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا ہے کہ 500، 1000 کے نوٹوں پر لگی اس پابندی سے اگر انتخابات کے خرچ کم ہوتے ہیں تو اچھی بات ہے. میں تو سیاست کی اس سادگی کے تصور میں مارے خوشی کے روئے جا رہا ہوں۔ پنجاب اور یوپی انتخابات کو پیسے کی نگاہ سے دیكھئےگا۔ اگر بلیک منی ختم ہو گیا تو ہندوستانی تاریخ کا سب سے سادہ اور مثالی انتخاب ہوگا۔ آپ کے پیسے کا حساب پوچھا جا رہا ہے کہ کہاں سے آیا، لیکن آپ کو پتہ تو ہوگا کہ سیاسی جماعتیں آپ کو نہیں بتاتی ہیں کہ انہیں کہاں سے پیسہ آیا۔ وہ الیکشن کمیشن کو بتاتی ہیں لیکن آپ کو نہیں۔ معلومات کا حق ان کے یہاں نافذ نہیں ہے۔ کوئی پین کارڈ یا آدھار کارڈ کا سسٹم نہیں ہے۔  مگر آپ کے چار ہزار کے بدلے پین نمبر مانگا جا رہا ہے۔ آدھار کارڈ مانگا جا رہا ہے۔

 ایک اندازے کے مطابق اگر کسی پارٹی کو 500 کروڑ روپے چندے کے ملتے ہیں تو اس کا 80 فیصدی 20 ہزار سے کم کا ہوتا ہے جس کے عطیہ دہندگان کے نام نہیں بتانے کے لئے انہیں چھوٹ ملی ہے۔ یہ چھوٹ انہیں کیوں ملنی چاہئے۔ یہ سوال اپنے لیڈران سے پوچھئے گا۔ مجھے یقین ہے بڑے بڑے لیڈر اس طرح کے سوال کرنے والوں کے زبردست فین بن جائیں گے۔ پر مان لیتے ہیں کہ سیاست سے بلیک منی چلا گیا تو امیڈيٹ افیکٹ کیا ہوگا۔  مان لیجئے کہ سیاست سے بھی بلیک منی چلا گیا تو کیا ہو گا۔ اتنی بسیں لے کر یوپی میں ریلیاں ہو رہی ہیں وہ سب رک جانی چاہئیں۔ مجھے تو لگتا ہے کہ یوپی میں بی جے پی، بی ایس پی، کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے چاروں لیڈران ایک ہی کار میں ریلی کرنے جائیں گے۔ کار پولنگ کر کے یوپی کا دورہ کریں گے۔ سیاست میں کار پولنگ کا رواج چل پڑے گا۔ گاڑیوں کے قافلے ختم ہو جائیں گے۔ آپ کے نزدیک سے چار چار بڑے لیڈر گزر جائیں گے پتہ بھی نہیں چلے گا۔ کارپول کے ساتھ ساتھ ریلی پول کی بھی نئی رسم لانچ ہو سکتی ہے۔ یعنی ایک جگہ عوام جٹےگي اور ایک ہی پلیٹ فارم پر چاروں جماعتوں کے بڑے لیڈر تقریر کریں گے۔  پھر سب کو سن کر عوام اپنا ووٹ دے گی۔ ہم چینل والے بھی ایک ساتھ انہیں لائیو دکھائیں گے۔ پوسٹر بھی سستے ہو جائیں گے۔ ایک ہی پوسٹر میں چاروں رہنماؤں کی تصویر ہو گی اور ہاتھ جوڑے ووٹ مانگتے نظر آئیں گے۔ مینیپفیسٹو کی کاپی بھی ایک ہی چھپےگي۔ ایک چیپٹر بی جے پی کا، ایک چیپٹر کانگریس کا اور ایک چیپٹر بی ایس پی اور ایک چیپٹر ایس پی کا ہوگا۔

ہیلی کاپٹر والوں کی دکان بند ہو جائے گی۔ انتخابات کے وقت اپنی ماركیٹگ کرنے کے لئے ہیلی کاپٹر والے عوام کو فری میں گھمائیں گے۔ ایک ہی گاڑی میں چار چار لیڈر جب نیچے سے اوپر کی طرف دیکھیں گے تو پرانے بلیک منی کے زمانے کو یاد کرتے ہوئے آہیں بھریں گے۔ پوسٹ بلیک منی ایرا سادگی کا دور تصور کیا جائے گا۔

 جمعرات کو بینکوں نے لوگوں کو پیسے دینے شروع کر دیئے ہیں۔ لوگ گھنٹوں لائن میں لگے رہے، میں نے بھی ایسے بہت سے لوگوں سے ملاقات کی۔ ایک بات نظر آئی۔ یہ لوگ پریشان تو ہیں مگر حکومت کے فیصلے سے ناراض نہیں ہے۔ کہیں سے بھی بینکوں کے باہر ہنگامے یا مارپیٹ کی خبریں نہیں آئی ہیں۔ باوجود اس کےکہ کئی مقامات پرکاؤنٹر وقت سے پہلے بند ہو گئے ہیں۔ چار ہزار کی جگہ دو ہزار ہی ملے ہیں۔ لوگ تحمل کے ساتھ لائن میں ہیں۔ اپنی مصیبت ضرور بتا رہے ہیں لیکن یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ حکومت نے غلط کیا۔  ایمس میں اوپی ڈی میں اگر طبی چارج 500 سے کم ہوگا تو دو دن کے لئے بل معاف کردیئے گئے ہیں۔ ادویات کی دکانوں پر پانچ سو کے نوٹ کیلئے جا رہے ہیں۔ بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ دکاندار 500 لے کر چھٹے نہیں دے رہے ہیں۔ اب اس بات کو ایسے سمجھیں۔ بازار میں جتنی کرنسی ہے اس کا 86 فیصد پانچ سو اور ہزار کے نوٹ کا ہے۔ تو ظاہر ہے باقی چودہ فیصد میں ہی دس بیس پچاس اور سو کے نوٹ ہوں گے۔ 14 فیصد نوٹ سے 86 فیصد کی تلافی نہیں ہو سکتی ہے۔ اس لئے دکاندار آپ کے ساتھ غنڈہ گردی نہیں کر رہے ہیں۔ ان کے پاس چھٹے کی واقعی کمی ہوگی اس لئے نہیں دے رہے ہیں۔ اس رپورٹ میں ہم نے لوگوں کی پریشانیوں کو درج کیا ہے۔

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close