آج کا کالم

نوکریوں پر نئی رپورٹ: 2017 میں 55 لاکھ نوکریاں ملیں؟

رويش کمار

بھارت میں نوکریوں کی تعداد کی گنتی کے لئے کوئی مکمل اور شفاف نظام نہیں ہے. آئی آئی ایم بنگلور کے پروفیسر پلک گھوش اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی سومیہ کانتی گھوش نے ایک ریسرچ پیپر پیش کیا ہے. امید ہے اس پر بحث ہو گی اور نئے حقائق پیش کئے جائیں گے. جب تک ایسا نہیں ہوتا، آپ سب کو یہ رپورٹ پڑھنی چاہئے. جب پے رول دیکھ ہی رہے تھے تو پروفیسر صاحب بھی دیکھ لیتے کہ کتنی نوکریاں گئیں اور جنہیں ملی ہیں ان میں خواتین کتنی ہیں.

اس مضمون میں کچھ تنظیموں کا نام مختصر طور سے آئے گا جن کو سمجھ لینا ٹھیک رہے گا. EPF0- Employee’s Pension Fund Organisation، ESIC-Employee’s State Insurance Corporation، NPS- National Pension System

بھارت میں PAY-ROLL کے ذریعہ نوکری کی تعداد کو دیکھنے کی پہلی کوشش ہوئی ہے. جب آپ کو نوکری ملتی ہے تو پے رول بنتا ہے. اس کا ایک حصہ پنشن فنڈز کو جاتا ہے. وہاں موجود ریکارڈ کی بنیاد پر دیکھنے کوشش ہوئی ہے کہ کتنوں کو نوکری ملی ہے. کئی بار لوگ فرضی پے رول بنا لیتے ہیں. پروفیسر کا دعوی ہے کہ اس کا خیال رکھا گیا ہے مگر اس دعوے کی تحقیقات ابھی باقی ہے.

پروفیسر پلک گھوش کا کہنا ہے کہ EPFO، ESIC اور NPS کو ملا کر باقاعدگی سے اپنا ڈیٹا عوامی کرنا چاہئے تاکہ معلوم ہو سکے کہ  کتنے لوگ پے رول پر آئے ہیں تاکہ لوگوں کو نوکریوں کے بارے میں صحیح صحیح اندازہ ہو. بالکل ٹھیک بات ہے. یہ کام دو دن میں کیا جا سکتا ہے.

میں کوئی پروفیسر نہیں ہوں مگر جب 15 جنوری کے پرائم ٹائم میں مہیش ویاس سے نوکری پر بات کر رہا تھا تب یہی تھا کہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کو ہر ماہ کے اعداد و شمار دینا چاہئے کہ کتنی نوکریاں نکلی ہیں اور  کتنوں نے جوائن کیا ہے. کیا یہ مشکل کام ہے؟

بھارت میں گزشتہ پچاس سالوں میں آبادی کی شرح کم ہوئی ہے. اس کے اور گھٹنے کا امکان ہے. ہر سال ڈھائی کروڑ بچے پیدا ہوتے ہیں اور ڈیڑھ کروڑ لیبر مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں. ان میں سے 88 لاکھ گریجویٹ ہوتے ہیں مگر گریجویٹ لیبر مارکیٹ میں نہیں آتے. تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ ان میں سے 66 لاکھ كوالیفائڈ افرادی قوت ہیں.

EPFO میں 190 سے زائد اقسام ویسے صنعت ہیں،  جہاں 20 یا اس سے زیادہ لوگ کام کرتے ہیں. اس کے ساڑھے پانچ کروڑ سبسکرائبر ہیں. ایک دوسرا ہے ESIC، یہاں دس یا دس سے زیادہ کام کرنے والے ٹھکانوں کے عملے کا حصہ جمع ہوتا ہے. اس کے تحت 60 سے زائد صنعتوں کے 1 کروڑ 20 لاکھ سبسکرائبر ہیں. اس کے علاوہ نیشنل پنشن فنڈ کے 50 لاکھ لوگ ہیں. جی پی ایس سے 2 کروڑ لوگ جڑے ہیں. خود دیکھئے باضابطہ طور پر ہندوستان جیسے وسیع ملک میں پے رول پر کتنے کم لوگ ہیں. دس کروڑ سے بھی کم جبکہ امریکہ میں 16 کروڑ اور چین میں 78 کروڑ ہیں.

دونوں مصنفین نے اس بڑے ڈیٹا اسٹورز میں خود کو گزشتہ تین سال میں پہلی بار کام حاصل کرنے والوں تک محدود رکھا ہے جن کی عمر 18 سے 25 سال کے درمیان ہے.

اس بنیاد پر ان کا تجزیہ ہے کہ مالی سال 2016-17 میں 190 صنعتوں میں 45 لاکھ گریجویٹ کو نوکری ملی. 2017-18 کے نومبر تک قریب 37 لاکھ لوگوں کو نوکریاں ملیں. یہ بڑھ کر 55 لاکھ تک جا سکتی ہے. ESIC جہاں دس یا دس سے زیادہ لوگ کام کرتے ہیں، اس کے 60 صنعتوں میں 6 لاکھ لوگوں کو کام ملا.

ہر ماہ اوسطا000 50، نئے لوگوں کو نوکریاں مل رہی ہیں. یہ تمام سیکٹر کو ملا  کراوسط نکالا گیا ہے جن کا ڈیٹا آپ کو پے رول سے ملتا ہے.

NATIONAL SAMPLE SURVEY نے اندازہ لگایا ہے کہ 2012 میں 50 کروڑ لوگ کام کے میدان میں تھے. ان میں سے 80 فیصد غیر منظم علاقے میں کام کر رہے ہیں. ان میں سے 50 فیصد تو کاشت میں کام کرتے ہیں. آپ سمجھ سکتے ہیں کہ وہاں کتنی کمائی ہوتی ہے اور ہم ان ریسرچ پیپر سے نہیں جان سکے ہیں کہ غیر منظم سیکٹر میں جہاں 80 فیصد ہیں وہاں روزگار گھٹا ہے یا کتنا بڑھا ہے.

INDIA SPEND نے گزشتہ سال جولائی میں لیبر کی وزارت کے اعداد و شمار کی بنیاد پر بتایا ہے اسے بھی ذہن میں رکھئیے.

جولائی 2014 سے دسمبر 2016 کے درمیان آٹھ سیکٹرز میں روزگار کو دیکھا گیا ہے. مینو فیکچرنگ، ٹریڈ، تعمیر، تعلیم، صحت، انفارمیشن ٹیكنالوجي، ٹرانسپورٹ، ہوٹل ریستوران وغیرہ. ان سب نے مل کر41000 6، روزگار دی جبکہ انہی آٹھ سیکٹرز میں جولائی 2011 سے دسمبر 2013 کے درمیان 13 لاکھ روزگار دیے گئے تھے. لیبر کی وزارت کے اعداد و شمار ہیں. حکومت کے اعداد و شمار ہیں. ان شعبوں میں جہاں دس یا دس سے زیادہ لوگ کام کرتے ہیں.

CMIE بامبے اسٹاک ایکسچینج کے ساتھ مل کر مہیش ویاس نے ستمبر سے دسمبر 2017 کے درمیان 1 لاکھ 68 ہزار گھروں میں جاکر سروے کیا ہے. یہ سروے بھی انہی آٹھ شعبوں سے متعلق ہے. چار لاکھ سے زیادہ لوگوں کا سروے ہوا ہے. اس کا یہی نتیجہ نکلا ہے کہ نوکریاں گھٹی ہیں. مزدوری کم ہوئی ہے اور جہاں دو لوگ کماتے تھے وہاں ایک لوگ کما رہے ہیں.

کتنا فرق ہے. کوئی 55 لاکھ بتا رہا ہے، کوئی 6 لاکھ بتا رہا ہے، بس حکومت نہیں بتا رہی ہے. ہم اور آپ نہیں پوچھ رہے ہیں.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close