آج کا کالم

نیا جال لائے پرانے کھلاڑی

عام انتخابات کے پیش نظر  مرکز نے سیاسی مفاد کے خاطر یہ قدم اٹھایا ہے۔

ڈاکٹر سلیم خان

۳۰ جنوری ۱۹۴۸ کو  ناتھو رام نے مہاتما گاندھی کا دن دہاڑے قتل کردیا  اور گاندھی جی ’ہے رام ‘   کہہ کر جہان فانی سے کوچ کرگئے۔ اس کے بعد سے گاندھی جی  کے قاتل ہندو احیاء پرست رام نام جپ رہے ہیں۔  اس سال گاندھی جی کی وفات کے دن  رام مندر کے حوالے سے مرکزی  حکومت کی عدالت عظمیٰ میں کی جانے والی درخواست ذرائع ابلاغ پر چھائی رہی۔ کسی قابل ذکر سیاسی رہنما کا گاندھی جی کو خراجِ عقیدت اہم خبر نہیں بن سکا۔ مرکزی سرکار نے ایودھیا میں ۷۷ء۲ایکڑ متنازعہ زمین  جو بابری مسجد اور اس کے آس پاس ہے کے علاوہ سرکاری تحویل میں ۶۷  ایکڑ زمین، اس کے حقیقی مالکان کی ملکیت میں دینے کی عرضی سپریم کورٹ میں داخل کردی  اور ہر کس و ناکس کی توجہ اس پر مرکوز ہوگئی۔

مذکورہ  غیر متنازع زمین  میں سے ۲۵ایکڑ کا معاوضہ  دیا جا چکا  ہے یعنی اس کے مالکان اپنے حق سے دستبردار ہوچکے ہیں۔ ۴۲  ایکڑ زمین مندر ٹرسٹ کی ہے جس  کے  مالک ۴۷ ٹرسٹ ہیں اور انہوں نے زمین واپس کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے معاوضہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ اب مرکزی حکومت  وہ زمین اس کے حقیقی مالکان کو دینا چاہتی ہے۔ اس کی اجازت طلب کرنے کے لیے اس نے سپریم کورٹ کے دروازے پر دستک دی  گئی ہے۔  ایک سوال یہ ہے کہ رام مندر ٹرسٹ کے پاس زمین کہاں سے آئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بی جے پی کی  صوبائی حکومت نےکلیان سنگھ کے زمانے میں  وہ زمین اپنی تحویل میں لے  کر ٹرسٹ کو دی تھی۔ اس کو بعد میں نرسمہا راو کی مرکزی حکومت نے  اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔ موجودہ سرکار اس کو واپس لینا چاہتی ہے۔ اب اگر نرسمہا راو کا زمین تحویل میں لینا غلط تھا تو کلیان کا وہی اقدام کیونکر درست تھا۔

حکومت کو پتہ ہے کہ عدالت نے ۲۰۰۳ ؁ اور ۲۰۱۱ ؁  میں یہ درخواست ٹھکرا چکی ہے اس کے باوجود انتخابی سال میں  عوام کا ووٹ ہتیانے کے لیے   یہ ڈھونگ کیا جارہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ زمین ۴۷ مالکان کو لوٹا دی جائے گی تو عظیم رام مندر کیسے بنے گا؟  رام مندر کے پجاری آچاریہ ستیندر داس کا  کہنا ہے کہ جب تک ۷۷ء۲ ایکڑ (بابری مسجد کی  زمین) رام جنم بھومی ٹرسٹ  کے حوالے نہیں کی جائے گی رام مندر کی تعمیر  ممکن نہیں ہے۔ اب اگر رام مندر تعمیر نہیں ہوسکتا تو یہ تماشہ کس کو بیوقوف بنانے کے لیے کیا جارہا ہے۔ اس حقیقت کا بھی پتہ لگانا چاہیے  کہ عدلیہ کی نظر میں رام مندر ٹرسٹ کی حیثیت کیا ہے؟  الہ باد ہائی کورٹ نے جب بابری مسجد اور اس سے متصل جملہ ۷۷ء۲ ایکڑ زمین تین فریقوں میں تقسیم کی تو وہاں رام مندر ٹرسٹ سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ ایک تہائی حصہ سنی وقف بورڈ کو دوسرا تہائی نرموہی اکھاڑے کو اور تیسرا رام للاّ کی مورتی کو دے دیا گیا تھا۔ اس طرح عدالت نے رام مندر ٹرسٹ کو قابل اعتناء  نہیں سمجھا۔

حکومت نےاس معاملے کے اہم فریق نرموہی اکھاڑے کو اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی اس لیے کہ وہ سنگھ پریوار کا حصہ نہیں ہے۔نرموہی اکھاڑے کے مہنت رام داس کا کہنا ہے کہ اگر حکومت مقصد بتائے بغیر زمین لیتی ہے  تو وہ اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس پر نہ صرف بابری ایکشن کمیٹی بلکہ نرموہی اکھاڑے کو بھی اعتراض ہے۔ مہنت رام داس نے مزید وضاحت کی کہ غیر متنازع زمین میں سے نرموہی اکھاڑے کا حصہ اسے واپس دیا جاناچاہیے۔ ہم نے اس کا معاوضہ نہیں لیا ہے۔ وہاں پر سمترا بھون، سالیگرام مندر، سنکٹ وموچن مندر  اور کتھا منڈپ موجود تھا۔ ان سب کو سرکار نے اپنی تحویل میں لینے کے بعد زمین بوس کردیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ رام مندر کی یہ تحریک بابری مسجد کے علاوہ کئی مندروں کی بھی مسماری کا سبب بنی ہے۔

’’ آل انڈیا ہندو مہاسبھا کے قومی نائب صدر بھی ایودھیا کی زمین کا مالک اور کسٹوڈین   نرموہی اکھاڑے کو مانتے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ بی جے پی نے ہندوؤں کو دوبارہ بیوقوف بنایا ہےاور وہ صرف دکھاوا کررہی ہے۔ رام مندر ٹرسٹ کے رام ولاس ویدانتی نے یہ دلچسپ انکشاف  بھی کیا ہے کہ اگر اس کو زمین واپس مل جاتی ہے تو وہ وہاں پر دھرم شالا، گیسٹ ہاوس، سیاحوں کا مرکز اور لکشمن مندر تعمیر کرے گا۔ یعنی رام مندر تعمیر کرنے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ بھی یہی کہتے ہیں کہ مندر تو متنازع خطہ زمین یعنی بابری کی جگہ پر ہی بنے گا۔ انہوں نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر عدالت اسے حل نہیں کرسکتی تو ہمارے حوالے کرے ہم اسے ۲۴ گھنٹوں میں حل کردیں گے۔ یہ تو ایسا ہی ہے کہ نہ نومن تل ہوگا اور نہ رادھا ناچے گی۔

اس موقع پر سب سے زیادہ معروضی موقف بابری مسجد کے فریق اقبال انصاری کا ہے۔ انہوں نے  کہا کہ اگر کورٹ مرکز کی عرضی کو منظور کرتے ہوئے غیرمتنازعہ زمین کو دینے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتی ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ مسلمانوں کا دعویٰ تو اپنی بابری  مسجد پر ہے۔ اقبال انصاری نے مرکزی حکومت کو یہ  نصیحت  بھی کی کہ  اسے  ترقیاتی اور مفاد عامہ کی اسکیموں پر توجہ دینی چاہیے لیکن وہ  رام مندر کے لیے  فکر مند  ہے۔ ان  کے خیال میں   عام انتخابات کے پیش نظر  مرکز نے سیاسی مفاد کے خاطر یہ قدم اٹھایا ہے۔ یہی بات جو اقبال انصاری کی سمجھ میں آگئی ہے اگر ملک کا عام ووٹر سمجھ لے تو بی جے پی کا بیڑہ  یقیناً غرق ہوجائے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close