نیا زمانہ ہے نئے صبح و شام پیدا کر

گذشتہ تقریباً ایک سال سے اترپریش کے تعلق سے میرا یہ ماننا رہا ہے کہ وہاں  اس سال ہونے اسمبلی  انتخابات میں  بی جے پی خود سے حکومت سازی کرے نہ کرے لیکن حکمت عملی اسی کی کامیاب ہو گی۔ میرے نزدیک اتر پردیش میں  آر ایس ایس اوربی جے پی حکمت عملی یہ ہو گی کہ وہ خود جیتنے کے بجائے وہاں  کی طاقت ور دلت سیاسی قوت کو شکست دیدی جائے۔  کیونکہ اس  مرتبہ اگربی ایس پی اتر پردیش کی حکومت سازی میں  ایک بار پھر ناکام ہوگئی تو اس پارٹی کیڈرووٹ بکھرجانے کا بھرپور خدشہ ہے۔ ایسی صورت میں  یہ ووٹ بڑی تعداد میں  بی جے پی کی طرف پلٹ آئے گا جس کا بھرپور فائدہ 2019میں  ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں  بی جے پی کوہوگا۔ یہ واضح رہنا چاہیے کہ ملک کے سیاسی افق پر آر ایس ایس کی حکمت عملی لگاتار کامیاب ہوتی جارہی ہے۔  ملک کو جمہوری طریقوں  سے ہندو راشٹر میں  منتقل کرنے کا آر ایس ایس کا خواب پورا کرنے کیلئے کی یہ ضرور ی ہے کہ یہ وہ تمام طبقات جو بی جے پی سے نفرت نہیں  کرتے ان کا بکھرائو دورہواور وہ سارا ووٹ ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوجائے۔ گذشتہ ایک سال سے بی جے پی  کی دلت لیڈر شپ کا فی فعال نظر آتی ہے۔ خصوصاً ادت راج اور رام داس اٹھاولے جیسے دلت لیڈران کو پارٹی میں  شامل کرکے یا اپنا حلیف بنا کر یہ واضح  اشارہ دیا جاچکا ہے۔  ایسے میں  اتر پردیش کا انتخاب جیتنا بی جے پی کی ترجیح نہیں  ہوسکتی۔  ویسے بھی اگر پارٹی نے اسمبلی انتخاب جیت لیا تو لوک سبھا انتخاب کے وقت اسے اتر پردیش کے ہندوووٹران کے سامنے رام مندر کے تعمیرکے اہم مسئلے کا جواب دینا پڑے گا جو موجودہ حالات میں  ممکن نظر نہیں  آتا۔ اس لئے پارٹی کے ذمہ داران کی ترجیح سردست یہی ہوگی کہ وہ بی ایس پی کو ہرانے پر اپنی توجہ مرکوز کرے ایسے میں  پارٹی کے سامنے اتر پردیش میں  ایک ہی متبادل باقی رہ جاتا ہے کہ وہ سماج وادی پارٹی کو الیکشن جیتنے میں  در پردہ تعاون کرے گی۔  گذشتہ چند ماہ سے سماج وادی پارٹی میں  جاری خاندانی جھگڑا بھی غالباً اسی بنیاد پر جاری ہے۔ ملائم سنگھ یادو سمیت پارٹی کے تمام اہم ذمہ داران اس خفیہ حکمت عملی سے بخوبی واقف ہیں۔  یہ جاننے کے بعد کہ  ریاست میں  اگلی حکومت کے قیام کا راستہ بھی صاف ہوچکا ہے، اقتدار کی رشہ کشی بڑھ رہی ہے۔ ساتھ ہی پارٹی میں  وراثت کا بڑا سوال بھی کھڑا ہو گیا ہے مسئلہ صرف انتخاب جیتنے کا نہیں  ہے۔  بلکہ پارٹی قیادت کو طویل عرصے تک اپنے ہاتھ میں  رکھنے کا بھی ہے۔  اب یہ بات تقریباً صاف ہو چکی ہے کہ خاندانی وراثت کے نام پر پارٹی بالآخر تقسیم ہو چکی ہے اور اکھلیش یادو کو ایک نوجوان صاف ستھری شبیہہ رکھنے والے ایماندار اور جدید ذہن رکھنے والے سیاست داں  کے طورپر پیش کیا جارہا ہے۔  گذشتہ چند مہینے سے ملک کا پورا قومی میڈیا اس جھگڑے میں  اکھلیش یادو کی اسی شبہیہ کو مظلوم بنا کر پیش کر رہا ہے۔ ٹیلی ویژن نیوز اور سوشل میڈیا ویب سائٹ پر ہر جگہ اکھلیش یادو کو ہی آگے بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ خبریں  دیکھ کر ایسا محسوس ہوتاہے گویا اتر پردیش میں  کوئی دوسری سیاسی طاقت موجود ہی نہیں  ہے حتیٰ کے خود بی جے پی بھی انتخابی مہم میں  اتنا زور صرف کرتی دکھائی نہیں  دیتی جتنا کہ گذشتہ انتخابات میں  وہ کرتی رہی ہے۔  2 جنوری کو لکھنؤ  میں  ہونے والی آخری پریورتن ریلی کا فلاپ شو بھی اسی کا مظہر ہے۔ گذشتہ دنوں  یہ قیاس لگایا جارہا تھا کہ اکھلیش یادو ذاتی طورپر کانگریس اور اجیت سنگھ کی پارٹی راشٹریہ لوک دل کے ساتھ انتخابی مفاہمت کرنے میں  دلچسپی رکھتے ہیں ۔  کانگریس کی حکمت عملی ساز پرشانت کشور جنہیں  اب اتر پردیش کے انتخاب سے تقریباً الگ کردیا گیا ہے وہ بھی اسی حکمت عملی کے حامی تھے۔ کبھی ظاہر کبھی خفیہ ان پارٹیوں  کے رہنمائوں کا ایک دوسرے سے رابطہ بھی ہے، لیکن تمام ہی پارٹیاں  باربار یہ اعلان کر رہی ہیں  کوہ  اکیلے ہی انتخابی میدان میں  جائیں  گی۔  اس کے باوجود موجودہ حالات میں  سپا کانگریس اور آر ایل ڈی کے مابین انتخابی مفاہمت کے امکانات معدوم نہیں  ہوئے ہیں ۔  لیکن سیاسی پنڈتوں  کو خدشہ یہ ہے کہ اس قسم کی کسی بھی مفاہمت کے ردعمل کے طورپر بی ایس پی اسد الدین اویسی کی مجلس اتحاد المسلمین اور دیگر مسلم سیاسی پارٹیوں  کے حال ہی میں  بنے وفاق کے ساتھ ہاتھ ملا سکتی ہے۔  یہ صورت حال سپا کے لیے انتہائی تشویش ناک ثابت ہوگی کیونکہ اس حالت میں  ریاست کا بیشتر مسلم ووٹ ایک نئے جوش اور ولولے کے ساتھ بی ایس کی جانب گھوم جائے گا اور بی ایس پی کے اقتدار کے قریب پہنچنے کی راہ آسان ہو جائے گی۔ ان حالات سے بچنے کے لیے سماج وادی پارٹی بھی یہ حکمت عملی اختیار کر سکتی ہے وہ دیگر پارٹیو ں کے ساتھ اتحاد المسلمین او رکچھ مسلم سیاسی پارٹیو ں کو بھی اپنے ساتھ شرکت کی دعوت دے ڈالے۔  اور انہیں  بی ایس پی کی طرف جانے سے روک دے۔ لیکن مسلم جماعتوں  کو سپا کے ساتھ لینے کی راہ میں  سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہےکہ اس صورت میں  مسلم ووٹ اور مسلم جماعتو ں کی اہمیت اچانک بڑھ جائے گی اور اس کا اثر پورے ملک میں  نمایا ں  دکھائی دینے لگے گا مختلف صوبوں   میں  مسلم سیاسی جماعتیں  سر اٹھانے لگے گیں  اور علاقائی جماعتیں  ان کے ساتھ ملکر انتخابی میدان میں  کودنے لگیں  گی یہی وہ مسئلہ ہے جسے آر ایس ایس کے نظریہ ساز پسند نہیں  کرتے۔  یہ لوگ اچھی طرح سے جانتے ہیں  کہ ملک میں  مسلم ووٹ کی تعداد اکثر صوبوں  میں  اتنی ہے کہ دیگر پارٹیوں  کے ساتھ  ملکر وہ بی جے پی کی اقتدار کی راہ کو مسدود کر سکتی ہے جبکہ آرایس ایس مسلم ووٹ کو بے اثر اور غیر اہم بنا کر حاشیہ پر کھڑا کردینا چاہتا ہے۔ گذشتہ سال بہار کے الیکشن میں  بھی اسی وجہ سے نتیش کمار کے مہا گٹھبند ن نے اسد الدین اویسی کے خطرے کے باوجود ان سے انتخابی مفاہمت کو نظر انداز کرنے کا جوکھم اٹھایا تھا۔ اور بی جے پی کو ہرانے اور سیکولر زم کو زندہ رکھنے کے نام پر مسلم ووٹ کو مجبور کردیا تھا کہ وہ چارو نہ چار مہا گٹھبندھن کے پالے میں  ہی گرا رہے۔ بالکل یہی صورت حال اس وقت اتر پردیش میں  ہے لیکن اتر پردیش کا منظرنامہ ان معنو ں  میں  مختلف ہے کہ وہاں  ریاست کی دو بڑی طاقتوں  لالو یادو اور نتیش کمار کے ساتھ آجانے کی وجہ سے کوئی متبادل نہیں  بچا تھا جبکہ اتر پردیش میں  سپا او ربسپا کا ایک دوسرے کے قریب آنا فی الحال ناممکن ہے جس کی وجہ اس ریاست میں  سیکولر ووٹوں  کے پاس ایک متبادل موجود ہے اوراسی متبادل کی راہ خراب کرنے کیلئے صرف ایک چہرے کو اتر پردیش میں  آگے بڑھایا جارہا ہے  کہ پوری ریاست کی توجہ اسی چہرے پر ٹکی رہے اور ذات برادری سے الگ ترقی او ربہبود کے نام پر تمام انتخابی مفاہتوں  کا راستہ بند کرکے ہر طبقے کا ووٹ اکھلیش کی جانب گھما دیا جائے او ران کو دوسرا ٹرم مل جائے بعد ازاں  اگلے دو سال میں  آر ایس ایس اپنی ملک گیر نفرت انگیز مہم کےتحت ایک بار پھر فرقہ وارانہ خطوط پر ہندو ووٹوں  کو اکٹھا کرکے مرکز کے اقتدار میں  آجائے اس حالت میں  اکھلیش یادو بھی لوک سبھا انتخاب میں  بی جے پی کی مددکرنے کو تیار ہو سکتے ہیں ۔

مضمون:  انسانی حقوق کا عالمی دن انسانیت کے نام پرخون ناحق کا بہاؤ

مذکورہ بالامنظر نامے سے یہ بات بآسانی سمجھی جاسکتی ہے کہ کی ملک کی سیاست میں  ہر سطح پر آر ایس ایس کا کنٹرول بڑھتا جارہا ہے اور وہ چاہتی ہے کہ قومی سطح پر بی جے پی اور کانگریس کے سوا کوئی پارٹی باقی نہ رہے او رخود کانگریس کی قیادت بھی اسی کے اشاروں  پر چلتے رہے جیساکہ حال کے دنوں  میں  دیکھنے کو آتا بھی رہا ہے۔ گذشتہ سیشن  میں  پارلیمنٹ 21 دن میں  سے محض 19گھنٹے ہی کام کر سکی اور دونوں  بڑی جماعتوں  نے پارلیمنٹ کی کارروائی چلنے میں  کوئی رول انجام نہیں  دیا۔  اس طرح حکومت کیلئے  بنا کسی جوابدہی کے تمام فیصلے پارلیمنٹ کے باہر ہی لینے کی راہ آسان ہو گئی۔ سیشن کے آخر میں   راہل گاندھی او رنریند رمودی کے مابین ایک خوشگوار ملاقات بھی ہو گئی۔  اسی طرح کانگریس کے زیر اقتدار اکثر ریاستوں  میں  پارٹی کے بڑے بڑے لیڈران کانگر یس چھوڑ کر بی جے پی میں  شریک ہوتے رہے ہیں  جس سے ان ریاستوں  میں  کانگر س کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔  اروناچل پردیش میں  کانگر یس کی پوری کی پوری حکومت کا بی جے پی میں  شریک ہوجانا اس کی تازہ ترین مثال ہے۔  نیز ریاستی اور علاقائی سطحوں  پر بھی اقتدار کے قریب رہنے والی سیاسی جماعتوں  پر آر ایس ایس کا غلبہ بڑھتا جارہا ہے بہار میں  نتیش کمار کی سرکار 2017اسمبلی انتخاب کے بعد کسی وقت بھی لالو پرساد سے پیچھا چھڑا کر ایک بار پھر بی جے پی کے ساتھ بآسانی مشترکہ حکومت بنا سکتی ہے۔  یہ واضح رہنا چاہیے کہ نتیش کمار اور ان کی پارٹی کے دیگر لیڈران نے بی جے پی کی کبھی نظریاتی مخالفت نہیں  کی بلکہ نریندر مودی کی شخصی مخالفت کا اعلان کرتے رہے ہیں ۔ حالیہ نوٹ بندی کے معاملے میں   تو وہ مخالفت بھی مفاہمت میں  بدلتی نظر آئی۔ اسی طرح اڑیسہ میں  بیجو جنتا دل خاموشی کے ساتھ اپنا کام کرتارہتاہے۔ بنگال کی ممتا بنرجی بی جے پی  کی پرانی حلیف رہی ہیں۔  آسام میں  اسم گن پریشد، تمل ناڈ میں  انا ڈی ایم کے، آندھرا پردیش میں  چندربابو نائیڈو ، تلگانہ میں  ٹی آر ایس، پنجاب کی اکالی دل ہریانہ میں  چوٹالہ کی پارٹی وغیرہ سبھی ریاستوں  میں  کسی نہ کسی طورپر بی جے پی کے ہی  حلیف موجود ہیں ۔  ایسے میں  کمیونسٹ پارٹیاں  اقتدار سے روز بروز دور ہوتی چلی جارہی ہیں ۔  اب سمجھا جاسکتاہے کہ ملک کی سیاسی شطرنج پر مہر ہ کوئی بھی ہو کمان آر ایس ایس کے ہی ہاتھ میں  ہے۔  یہی دراصل وہ  صورت حال ہے جس پر مسلمانوں  کے ارباب حل و عقد کو بہت سنجیدہ غور وفکر کی ضرورت ہے۔  محض بی جے پی کو ہرانے والی سیکولر پارٹیو ں کو ووٹ دینے کی اپیل کرنے سے اب کام نہیں  چلے گا کیونکہ یہ سب وہی پارٹیاں  ہیں  جو بظاہر بی جے پی کو شکست دے کر بھی اسی کو فتحیاب کرتی ہے۔  ان حالات کا تقاضہ ہے کہ مسلمان ان سیاسی قوتوں  کو پہچانیں  جو قرار واقعی طورپر آرایس ایس اور بی جے پی سے لوہا لینے میں  سنجیدہ ہے۔  خود اپنی سیاسی شیرازہ بندی کریں  اور انتخاب جیتنے اور ہارنے کی منطق سے اوپر اٹھ کر اپنے مشترکہ ووٹ کو ایک پلیٹ فارم پر گنوانے کی کوشش کریں۔ ہم پہلے بھی یہ بات کہتے رہے ہیں  کہ نظریاتی بنیادو ں پر کھڑی ایک ملک گیر مسلم سیاسی جماعت کے ہاتھ میں  لو ک سبھا اور اسمبلیوں  کی کو ئی سیٹ ہو نہ یا ہو لیکن اگر پانچ، سات فیصد ووٹ موجود ہے تو آرایس ایس مخالف مذکورہ سیاسی قوتوں  سے مفاہمت کی راہیں  خودبخود کھل جائیں  گی اور یہی آر ایس ایس کی اصل شکست ہوگی۔ اتر پردیش میں  اس تجربہ کا وقت اب موجود نہیں  رہا ہے۔ لیکن کم از کم یہ تو کیا ہی جاسکتاہے کہ اگر بی جے پی کی حکمت عملی بی ایس پی کو ہرانا  ہے تو ہم سب مل کر بی ایس پی کو  کامیاب کردیں  یہی بی جے پی کی اصل شکست ہوگی۔


⋆ تسلیم احمد رحمانی

ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی معروف قلم کار اور مسلم پولیٹیکل کونسل کے صدر ہیں۔