آج کا کالم

نیا کیا ہے اس وقت گجرات میں؟

سدھیر جین

گجرات انتخابات میں اس بار نئی بات یہ ہے کہ تمام کوششوں کے بعد بھی ہندو مسلمان کا ماحول نہیں بن پایا. دوسری خاص بات یہ کہ وہاں کے سابق وزیر اعلی اس وقت ملک کے وزیر اعظم ہیں. لیکن وہاں حکمران بی جے پی اس بار بھی وزیر اعظم نریندر مودی کے بھروسے ہی ہے. تیسری بات کہ دہائیوں سے چلی آ رہی ہے دو قطبی سیاست کی شکل اچانک بدل گئی ہے. ہاردک، الپیش اور جگنیش جیسے متحرک نوجوان اس الیکشن میں براہ راست میدان میں دکھائی دے رہے ہیں. ایک اور نئی اور بڑی بات یہ کہ گجرات جیسے کاروباری ریاست میں انتخابات کے دنوں میں ہی کسان اور مزدوروں کی بے چینی پہلی بار نظر آرہی ہے. ان ساری باتوں کے درمیان اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اہم اپوزیشن پارٹیوں کو دہائیوں بعد گجرات میں اپنی کی واپسی کا موقع نظر آرہا ہے. اگرچہ انتخابی مہم کے صرف تین ہفتے باقی ہیں. لہذا اب تک کے واقعات سے جو نظارہ بنا ہے اس کو تبدیل کرنے کے آثار کم ہی لگتے ہیں.

مذہبی جذبات کا نہیں پنپ پانا

اس بار یہ کیسے ہوا؟ اس کی پڑتال کے لئے طویل حساب لگانے کی ضرورت پڑے گی. لیکن عام نظر سے یہی لگتا ہے کہ گجرات کے محروم سماجی طبقات نے انتخابی مہم کی کافی زمین گھیر لی ہے. اس بار بھی احساس پر مبنی سیاست کی جو تھوڑی بہت گنجائش نکلتی تھی وہ ملک میں پدماوتي اسکینڈل نے ختم کر دی. پدماوتي اسکینڈل پر تنازعہ میں وہاں کے وزیر اعلی نے جو حصہ داری کی ہے وہ اتنی سی ہے کہ راجستھان اور مدھیہ پردیش کے وزرائے اعلی کی طرح انہوں نے بھی فلم پر پابندی لگا دی. یہ الگ بات ہے کہ فلم ریلیز ہی نہیں ہوئی ہے. ایک خصوصی طبقہ کی سالمیت کا یہ مسئلہ تابڑ توڑ جارحیت کے باوجود جذباتی رنگ نہیں لا پا رہا ہے. مینوفیکچررز کی جانب سے فلم ریلیز کی تاریخ ٹالنے کے بعد یہ بچي كھچي گنجائش بھی ختم ہو گئی کہ گجرات انتخابات میں اس کا کوئی استعمال ہو پائے. ایک کوشش ہاردک کا ایچ، الپیش کا اے اور جگنیش کا جے نکال کر حج بنانے کی ہوئی تھی. اس کے سامنے روپاني کا آر، امت شاہ کا اے اور مودی کا ایم لے کر رام بنا کر پھیلانے کی کوشش ہوئی. لیکن اس بار گجرات کا ماحول اس قدر بدلا ہوا ہے کہ اس پوسٹر کو ایک دن سے زیادہ جگہ نہیں مل پائی.

مودی فیکٹر کتنا کارگر بچا

دہلی چلے جانے کے بعد نریندر مودی کے لئے گجرات میں صرف اتنا ہی کرنے کی گنجائش بچتی تھی جتنی باقی ریاستوں میں تھی. پھر بھی گجرات انتخابات میں انہوں نے اپنے دورے کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی. ان کا ایک دورہ بلٹ ٹرین والا تھا. لیکن وقت کے لحاظ سے بلٹ ٹرین بہت دور کی بات تھی سو ہفتے دس دن میں شق دس غائب ہی ہو گئی. ادھر جی ایس ٹی اور نوٹ بندي کو الگ سے گجرات کے لئے فائدہ مند ثابت کرنے کی کوئی دلیل بنانا مشکل تھا. مسائل کے سونے پن میں ہوا یہ کہ بات ترقی کے گجرات ماڈل کے جائزے کی طرف مڑ گئی. دراصل، انتخابات میں ترقی کے ایجنڈے یا نعروں کا تو استعمال ہو سکتا ہے لیکن اپنے طرف سے  کی گیی ترقی کا جائزہ دینے کا کام  کوئی حکومت نہیں کر پا رہی ہے. بہرحال، اتنا کہا تو کہا جا سکتا ہے کہ گجرات میں اس بار کم از کم اب تک تو مودی اتنا رنگ نہیں جمع پائے. اگلے تین ہفتوں میں وہ کیا کریں گے؟ اس کا کوئی اندازہ تک نہیں لگا پا رہا ہے.

ہاردک، الپیش اور جگنیش کی تثلیث

ہاردک پر ہرچند دباؤ کے باوجود انہیں کانگریس سے دور نہیں کیا جا سکا. الپیش اور جگنیش کے رخ پہلے ہی طے ہو گئے تھے. اس تثلیث نے گجرات کی انتخابی سیاست بالکل بدل ڈالی. تینوں اپنے اپنے سماجی تحریکوں کے لیڈر ہیں. اس طرح انتخابی ماحول کو مذہب کے بجائے سماجی گروپوں کی جانب مڑ ہی جانا تھا. ان تینوں سماجی رہنماؤں کا سروکار سماجی جذبات کی بجائے اپنے اپنے فرقوں کی اقتصادی خدشات کو لیکر ہے. اس طرح یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ گجرات انتخابات وہاں کے معاشیات پر مرکوز ہوتا جا رہا ہے. اسي بيچ انتخابات کے عین موقع پر کسانوں کی حالت اجاگر ہونا شروع ہو گئی. مثلا جس طرح گجرات کے مونگفلی پیداواری کسانوں کو امدادی قیمت سے ہزار ڈیڑھ ہزار روپے کم پر اپنی مونگ پھلی فروخت کرنے کی بے چارگی سامنے آئی اس سے گجرات کے بدلے مزاج کا پتہ چلتا ہے.

گجرات میں کانگریس

کسی نے سوچا بھی نہیں ہو گا کہ کانگریس اتنی جلدی ملک میں دوبارہ نظر لگے گی. گجرات میں تو وہ خود بھی نہیں سوچ پا رہی ہو گی کہ 2017 انتخابات میں وہاں اس کی حکومت بننے کی باتیں ہونے لگیں گی. یاد کرنے کے قابل بات ہے کہ جو لوگ کسی بھی حکومت کے خلاف عوام کے قدرتی عدم اطمینان ہونے کو ناگزیر مان کر چلتے ہیں وہ بھی کئی وجوہات سے گجرات کے معاملے میں اپنے تصورات تبدیل کر دیا کرتے تھے. لیکن اچانک بدلے ماحول نے کانگریس کو اسٹیج پر لا کر کھڑا کر دیا. نائب صدر راہل گاندھی کو پارٹی صدر کے عہدے کے لئے اگر یہ وقت ٹھیک مانا جا رہا ہو تو یہ بھی کہہ لینا چاہئے کہ گجرات میں ان کا اب تک کا پرچار قبول کیا جا رہا ہے.

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ گجرات انتخابات کا ذکر ہو اور اگلے لوک سبھا انتخابات کی بات نہ ہو؟ گجرات انتخابات اگلے لوک سبھا انتخابات کے ڈیڑھ سال پہلے ہو رہے ہیں. لہذا ہو نہیں سکتا کہ گجرات کے نتائج کا تجزیہ کرتے وقت لوک سبھا انتخابات کا حساب نہ لگایا جائے. اس طرح سے گجرات وہیں تک محدود نہیں ہے. بہت ممکن ہے کہ اسی لیے مرکزی حکومت کا تقریبا ہر وزیر گجرات میں لگایا گیا ہو. یعنی کسی کو بھی یہ سننے میں اعتراض نہیں ہونا چاہئے کہ گجرات کے نتیجے مرکزی حکومت پر بھی ایک تبصرہ ہوں گے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سدھیر جین

سدھیر جین معروف سینیئر صحافی ہیں اور انڈین ایکسپریس گروپ- جن ستا کے چیف سب ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔

متعلقہ

Close