آج کا کالم

نیتاؤں کے بگڑے بول، آخر حدود کیوں پھلانگے جا رہے ہیں؟

رويش کمار

‘سشیل مودی نے گنڈاوں سے فون کروایا کہ سابق وزیر صحت سے بات کرنی ہے تو میں نے کہا کہ بولئے بول رہے ہیں. پھر بولا کہ میرے لڑکا ہے کے اتکرش مودی اس کی شادی ہے. بياه میں بلا رہا ہے، بے عزت کر رہا ہے. بياه میں جائیں گے تو وہیں پول کھول دیں گے عوام کے درمیان. پوری عوام کے درمیان. جنگ چل رہا ہے. ہم نہیں مانیں گے. ہم وہاں بھی سیاست کریں گے کیونکہ اس طرح چھلنے کا کام کیا ہے غریب گربا کو، اس کے گھر میں گھس کر ماریں گے. گھر میں گھس کر. ہم لوگ رکنے والے نہیں ہیں. اگر شادی میں بلائے گا تو وہیں سبھا کر دیں گے.’ یہ اشيروچن تیج پرتاپ یادو کے ہیں جو راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر ہیں. سخت قابل مذمت. کسی نے بلایا تو مت جائیں مگر یہ کیا کہ گھر میں گھس کر ماریں گے. میرے حساب سے تو جائیں بھی اور سشیل مودی کے سامنے بیس رس گلے کھا جائیں. ایک دوسرے کی خوب مخالفت بھی کیجیے مگر عزت کے ساتھ بھی یہ کام کیا جا سکتا ہے. ایسی زبان تبھی نکلتی ہے جب توازن کھوجایے یا مایوسی بڑھ جاتی ہے.

یہ بات بہار کے بی جے پی کے صدر نتيانند رائے پر بھی لاگو ہوتا ہے جو وزیر اعظم پر انگلی اٹھانے والے کی انگلی توڑ دینے کی بات کر رہے تھے اور ہاتھ کاٹ ڈالنے کی بات کر رہے تھے. وزیر اعظم خود ہی قابل ہیں آپ کے مخالفین سے نمٹنے میں، آپ کاہے بغیر مطلب نمبر بڑھا رہے ہیں.

‘جب ہم گناہ کرتے ہیں تو خدا سزا دیتے ہیں. کئی بار کسی جوان کو دیکھتے ہیں کینسر ہو گیا ہے یا حادثہ ہو گیا ہے. اگر ان کا پس منظر معلوم کریں گے تو پتہ چلے گا کہ خدا نے صحیح فیصلہ کیا ہے. اور کچھ نہیں ہے. ہمیں خدا کے انصاف کو ماننا ہی پڑے گا. اس کی زندگی میں، سابق زندگی کے، ماں باپ کے اعمال کا حساب، ہو سکتا ہے کہ نوجوان نے غلط نہیں کیا مگر والد نے کیا ہوگا. کوئی خدا کے انصاف سے بچ نہیں سکتا ہے. ‘ یہ بیان آسام کے طاقتور وزیر هیمنت وشوا شرما کا ہے. شبدش: نہیں ہے. اهوميا سے انگریزی اور پھر انگریزی سے ہندی میں ترجمہ ہے. کینسر ایک شدید بیماری ہے. وہ کسی کے سابق اعمال کی سزا نہیں ہے، بلکہ اس کے کئی وجوہات ہیں جس کے لئے ہم سب ذمہ دار ہیں. کینسر کی بیماری مریضوں کو اقتصادی اور ذہنی طور پر برباد کر دیتی ہے. جو سڑک حادثے میں مرتا ہے، اس کی موت کے لیے الہی انصاف بتا کر جائز کہنا ٹھیک نہیں ہے. بھارت میں سوا لاکھ سے زیادہ لوگ ہر سال سڑک حادثے میں مارے جاتے ہیں. یہ سارے گنہگار نہیں ہیں. جو بچ گئے وہ یا ہیمنت وشوا شرما جی کوئی دیوتا نہیں ہیں.

مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے رہنما بہت بول رہے ہیں. کوئی آپ کے علاقے میں عوام کے مسائل کو سن نہیں رہا ہے. لوگوں کو ممبر اسمبلی اور ایم پی مل نہیں رہے ہیں. بولنے کی حدود ٹوٹ گئی ہیں اور اخلاقیات تو ہیں ہی نہیں. آپ کتنے بیانات پر بولیں گے، پتہ چلا کہ دوسرے کی حماقت پر اپنی صفائی دیے جا رہے ہیں. اس پوسٹ کو آگے پیچھے تمام بیانات کی مذمت میں سمجھیں. اب اور نہیں لکھوں گا.

اس درمیان ایک بات اچھی ہوئی ہے. کانگریس کے لیڈروں نے وزیر اعظم مودی کو ایک پروموشنل کارٹون میں چائے والا بتایا. مناسب ہی مذمت ہوئی مگر کانگریس نے باقاعدہ معافی مانگی اور کہا کہ ایسی چیزوں کی حمایت نہیں کرتے ہیں. اس ٹویٹ کے جواب میں بی جے پی کے رہنما نے ٹویٹ کر دیا کہ چايوالا بمقابلہ بار بالا. اب ان کا اس ٹویٹ الٹا پڑ گیا. ان کی مذمت ہونے لگی. پریش راول نے بھی ساری بولا اؤر ٹویٹس ڈلٹ کر دیا. پریش راول نے بھی اچھا کیا. نہرو کی بہن بھتیجی کے ساتھ تصویر کو گرل فرینڈ بتا کر ٹویٹ کرنے والے آئی ٹی سیل کے چیف مالویہ جی نے اس پر معافی نہیں مانگی. بیٹی کو گرل فرینڈ بتا دینا تو بھارتی ثقافت اور اس میں دیوی بنی بیٹھی عورت کی تو بڑی توہین ہو گیی. تعلیم، ہسپتال، روزگار، زندگی کے  مسائل تو جیسے کبھی آئیں گے نہیں.

بہت ضروری ہے کہ سارے سیاسی پارٹی ہر تین ماہ پر چائے پینے کے لئے کل جماعتی میٹنگ کریں. جہاں ایک دوسرے سے گلے مل کر پرانا حساب برابر ہونے کا اعلان ہو اور نیا شروع! وہ چاہیں تو ان کی سہولت کے لئے یہ کام میں کر سکتا ہوں. میں سب کو چائے پر بلاتا ہوں.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close