آج کا کالم

نیتاؤں میں مان ہانی کی ہوڑ کیوں مچی ہے؟

رويش کمار

مان ہانی کس کی ہوتی ہے، کس طرح ہوتی ہے اور کتنے کی ہوتی ہے، یہ سب کس ترازو پر تولا جاتا ہے، اب جان لینے میں ہی ہم سب کی بھلائی ہے. وزیر خزانہ جیٹلی کی بدنامی دس کروڑ کی ہوئی ہے یا بیس کروڑ کی، اس کا فیصلہ ترازو پر تول کر ہوگا یا حیثیت کا بھی کوئی بیروميٹر ہوتا ہے، اس سے ہوگا. عام شہری کی مان ہانی کی رقم پر کس طرح فیصلہ کیا جائے گا. ہم سب کو جاننا چاہئے اور اس کی عزت کسی دھرم كانٹے پر تلوا کر رکھنی چاہئے تاکہ ہم فوراً دعوی کر سکیں کہ کتنے کی بدنامی ہوئی ہے. ایک مان ہانی کا سینسیکس بھی ہو سکتا ہے. جیسے ہر بات میں کوئی کام نہ ہو تو موبائل اپلی کیشن بنا دو.

جیسے گلزار وانی کی کتنی بدنامی ہوئی ہوگی، جسے 16 سال دہشت گردی کے الزام میں جیل میں رہنا پڑا. گلزار تمام الزامات سے بری ہو گئے ہیں . 28 سال کی عمر رہی ہوگی جب گلزار کو گرفتار کیا گیا ہوگا، اب 44-45 سال کے ہو چکے ہوں گے. عدالتوں کو ایسے معاملات میں مان ہانی کا بھی حساب کرنا چاہئے. 16 سال تک ایک نوجوان کے جیل میں بند ہونے سے خاندان کی اقتصادی حالت پر کیا اثر پڑا، اس کا حساب ہونا چاہئے. گرفتاری کے وقت گلزار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہے تھے، اس لحاظ سے امکان تھا کہ ایک استاد بنتے. کبھی عدالتوں کو ایسا فیصلہ بھی سنا دینا چاہئے کہ گلزار جیسے نوجوانوں کو دہشت گردی کے فرضی الزامات میں پھنسایا گیا، ان کی زندگی برباد ہویی لہذا 16 سال تک ایک اسسٹنٹ یا ایسوسی ایٹ پروفیسر کی جو سیلری ہوتی ہے، اس کے برابر کی رقم ہرجانے کے طور پر دی جائے . گلزار ہی نہیں ، نہ جانے کتنے رمیش، سریش، وملا، سرلا ہوں گی جو اس طرح عدالتوں میں جیل میں سڑ جاتی ہوں گی.

مان ہانی کا کیس کرنا اور طویل مقدمہ لڑنا سب کے بس کی بات نہیں ہے. وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے 2015 میں عام آدمی پارٹی کے چھ رہنماؤں کے خلاف مان ہانی کا کیس کیا تھا. یہ مئی 2017 ہے اور کیس چل ہی رہا ہے. اب پہلی والا سلٹا نہیں کہ وزیر خزانہ جیٹلی نے ایک اور دس کروڑ کی مان ہانی کا کیس کر دیا ہے.

جیٹلی نے جب یہ مان ہانی کا مقدمہ کیا تھا تب اکیلے نہیں گئے تھے، ان کے ساتھ کئی وزیر پٹیالہ کورٹ گئے تھے، ایک طرح سے مان ہانی کے مقدمے کی یہ سب سے زیادہ طاقتور تصویر تھی، جس کو مختلف فریم میں وی كےيا نائیڈو، روی شنکر پرساد، جے پی نڈا، اسمرتی ایرانی، پیوش گوئل، نرملا سیتا رمن، وردھن راٹھور، ممبر پارلیمنٹ وجے گوئل، مہیش دانا، امن سنہا، وی کے ملہوترا، وجیندر گپتا اس وقت کے ریاستی بی جے پی کے صدر ستیش اپادھیائے جیسے کئی لیڈر مقدمہ دائر کرنے عدالت گئے تھے. اس روز وزیر خزانہ نے عام آدمی پارٹی کے چھ رہنماؤں کے خلاف مان ہانی کا مقدمہ کیا تھا. ویسے وزیر خزانہ کے خلاف سب سے پہلے تو ان کی ہی پارٹی کے ایم پی کیرتی آزاد نے الزام لگائے تھے مگر ان کا نام بدنامی کے اس مقدمے میں نہیں تھا. کیرتی آزاد نے تو ٹویٹ بھی کیا تھا کہ ان کا نام کیوں ہٹا دیا گیا. ویسے کیرتی آزاد کے خلاف گوتم دتہ نے مان ہانی کا کیس کیا ہوا ہے.

بی جے پی لیڈر نتن گڈکری نے بھی اروند کیجریوال کے خلاف مان ہانی کا کیس کیا تھا. اس صورت میں کیجریوال کو دو دن کے لئے جیل بھی بھیج دیا تھا. انٹرنیٹ کے آرکائیو میں کیجریوال کے خلاف مان ہانی کے دس مقدموں کا ذکر ملتا ہے. عام آدمی پارٹی نے بھی ایک نیوز چینل اور ویب سائٹ کے خلاف مان ہانی کا کیس کیا ہے. ستمبر 2016 میں سنجے سنگھ اور درگیش پاٹھک نے اپنے رکن اسمبلی دیویندر سهراوت کے خلاف مان ہانی کا کیس کیا، اس سال اسی مہینے دہلی حکومت کے وزیر صحت ستیندر جین نے اپنی ہی پارٹی کے معطل رکن اسمبلی کے خلاف مان ہانی کا کیس کیا ہے. ہم نے میڈیا رپورٹ کی بنیاد پر بدنامی کے کچھ مقدموں کی فہرست بنائی ہے.

– 2017 میں چھگن بھجبل نے انجلی دمانيا کے خلاف مان ہانیکا کیس کر دیا ہے۔

– 2015 میں سشیل مودی کی بیوی نے تب کے وزیر صحت کے خلاف مان ہانی کا کیس کر دیا۔

– 2017 میں تیج پرتاپ یادو نے سشیل مودی پر مان ہانی کا مقدمہ دائر کرنے کی دھمکی دی تھی۔

– 2017 میں شیوسینا کے رہنما گاے کواڑ نے بھی ایئر انڈیا کے خلاف مان ہانی کی دھمکی دی تھی۔

– 2015 میں بہار کے ڈمراو اسٹیٹ کے ارکان نے چیتن بھگت پر کیس کیا۔

– 2015 میں راہل گاندھی کے خلاف بھی مان ہانی کا کیس ہو گیا، انہوں نے کہا تھا کہ سنگھ نے گاندھی کا قتل کیا تھا۔

– راہل گاندھی کے خلاف آسام کے بارپٹا کورٹ میں بھی مان ہانیکا کیس چل رہا ہے۔

– 2017 میں ہی مدھیہ پردیش کانگریس نے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان کے خلاف مان ہانی کا کیس کیا۔

– 2014 میں کانگریس میں رہتے ہوئے اوتار سنگھ بھڈانا نے اروند کجریوال کے خلاف مان ہانی کا کیس کیا تھا. ایک کروڑ کا.

کرناٹک کے کانگریسی وزیر روشن بیگ نے بھی بی جے پی کے رہنما کے خلاف مان ہانی کا کیس کیا ہے. کیرالہ کے وزیر اعلی نے بھی شمسی اسکیم کی اہم ملزم اور چار صحافیوں کے خلاف مان ہانی کا کیس کیا ہے. اسمرتی ایرانی نے سنجے نرپم کے خلاف مان ہانی کا کیس کیا ہوا ہے، اجیت جوگی نے بی جے پی لیڈر نریندر سنگھ تومر کے خلاف مان ہانی کا کیس کیا تھا. راجستھان کی وزیر اعلی کے بیٹے نے کانگریس لیڈر جے رام رمیش کے خلاف مان ہانی کا کیس کیا ہوا ہے. ہماچل پردیش کے وزیر اعلی ویر بھدر سنگھ نے بھی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے خلاف مان ہانی کا کیس کیا ہوا ہے. جے للتا جب وزیر اعلی تھیں تب انہوں نے صحافی، نوکر شاہ اور سیاسی مخالفین کے خلاف 200 سے زیادہ بدنامی کے مقدمے کئے تھے. ہم نے یہ معلومات میڈیا میں شائع رپورٹ سے لی ہے، تو ہم نہیں بتا سکتے کہ کس کیس کی آخری یا موجودہ حالت کیا ہے. اب تو سوشل میڈیا اور وهاٹس پر مخالفین کے خلاف افواہوں کی مہم کیا جاتا ہے، ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جاتا ہے. تو بدنام کرنا، مان ہانی کرنا ایک سیاسی حکمت عملی بھی ہے. اس کام کو troll کے انجام دیتے ہیں اور اب بہت سے انکشافات سے یہ بات سامنے آنے لگی ہے کہ Troll کو پیسے بھی ملتے ہیں .

آلٹ نيوذ ڈاٹ ان پر ایسے کئی انکشافات ملیں گے. کس طرح سے سیاسی وفاداری اور تنظیم کے اقتصادی حمایت کے طور پر بہت سے ویب سائٹ بنائے گئے ہیں ، جو خبروں کے ساتھ ساتھ کسی کو بدنام کرنے کا سامان بھی مہیا رہتے ہیں . وهاٹس اپ کی دنیا تو اس کے لئے بدنام ہے ہی. آپ کو بھی پتہ نہیں ہوگا مگر سیاسی جماعتوں کے لوگ وهاٹس اپ کے ذریعہ طرح طرح کی باتیں پھیلا دیتے ہیں . لہذا مان ہانی کا کیس کرنا اگر ایک طریقہ ہے تو مان ہانی کے لئے بہت سے طریقے ہیں . مرکزی دھارے کی میڈیا میں بھی یہ کام ہو رہا ہے.

مان ہانی کا مقدمہ فوجداری اور دیوانی دو قسم کا ہوتا ہے. مئی 2016 میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ کریمنل ڈفییمیشن لاء آئینی ہے. تب راہل گاندھی، سبرامنیم سوامی اور اروند کیجریوال نے درخواست دائر کر اس آئینی کو چیلنج کیا تھا. ہم یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ مان ہانی کا کیس فالتو کا مقدمہ ہے یا ایسے قانون نہ ہوں تو کوئی بھی کسی کے خلاف کچھ بھی الزام لگا سکتا. یہ رجحان کس طرح رکے گا، کیا بدنامی کے کیس یا قانون سے رک جائے گا. کیا بدنامی اظہار رائے کی آزادی پر روک ہے، آپ کسی کو اس کے ذریعہ ڈراتے ہیں ، دو طرح کی بدنامی کیوں ہوتی ہے، مان ہانی ہے کیا اس کے لئے کن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے، وغیرہ وغیرہ.

مترجم: محمد اسعد فلاحی 

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close