آج کا کالم

نیشنلزم  اور اس کے مطالبات

ڈاکٹر محمد رفعت

قومیت محض علمی موضوع نہیں ہے، بلکہ عملی موضوع ہے، جس سے اس وقت ہندوستان میں اور دنیا میں ہمیں واسطہ پیش آتا ہے۔ آج ملک میں ایک خطرہ موجود ہے، جو موجودہ حکومت کی شکل میں ہے۔ اس حکومت نے اپنے مسلم دشمن منصوبوں اور عزائم کو چھپایا نہیں ہے، بلکہ صاف طور پر بیان کیا ہے۔ تیزی کے ساتھ حکومت اور اس کی ہم نوا ہندتو کی قائل تنظیمیں اپنے مسلم دشمن منصوبے کو نافذ کرنے میں لگی ہوئی ہیں ۔ فطری طور پر مسلمان ہندوتو کی تحریک کو ایک اہم خطرہ سمجھتے ہیں۔ تاہم یہ بات جاننی چاہیے کہ نیشن اور قومیت کا موضوع صرف ہندتو اور آر ایس ایس کے عزائم سے متعلق نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا چیلنج ہے جو امت مسلمہ  اور انسانیت کو پوری دنیا میں درپیش ہے۔ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ نیشنلزم پوری انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔

علامہ اقبال اور مولانا مودودی

جن اہل دانش نے موجودہ تہذیب، اس کے نعروں اور نظریات کو حقیقتاً سمجھا ہے، ان میں علامہ اقبال کا نام نمایاں ہے۔ علامہ اقبال کی شاعری نے وہ کام انجام دیا ہے جس کو غالبا ً دنیا میں کسی شاعر نے انجام نہیں دیا۔ ان کے افکار کے  اثرات صرف بر صغیر پر نہیں بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں پر مرتب ہوئے۔اِ س موضوع پر علامہ اقبال کے کلام اور افکار کا مطالعہ ہم سب کے لیے مفید ثابت ہوگا۔

اسی طرح مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے قومیت اور نیشنلزم کے موضوع پر لکھا ہے۔ موصوف کی کتاب ’’مسئلہ قومیت‘‘ کا تعارف بھی یہاں پیش کیا گیا۔ قومیت اور ہندوستان کے حالات سے متعلق مولانا مودودی نے ایک اور اہم کتاب تحریک آزادی کے دوران لکھی تھی، اس کا نام تھا ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش‘‘، یہ تین حصوں میں شائع ہوئی۔ اب وہ کتاب ’تحریک آزادی ہند اور مسلمان‘ کے نام سے موجود ہے۔ آپ نے اس کا مطالعہ کیا ہوگا۔ جو لوگ ہندوستان کی آزادی کی تاریخ سے واقف ہونا چاہتے ہیں، ان کے لیے ضروری ہے کہ اس کا مطالعہ کریں۔

ہندوستان میں جو طاقتیں اس وقت موجود ہیں، اپنی ابتدائی صورت میں اس زمانے میں بھی موجود تھیں ۔ ہندتو کے علمبردار بھی تھے، کمیونسٹ بھی سرگرم تھے، اگر چہ ان کی تعداد زیادہ نہیں تھی ،وہ لوگ جو بعد میں سماج وادی کہلائے، وہ بھی کانگریس کے ایک حلقے کی شکل میں موجود تھے۔ مولانا مودودی نے ان مختلف عناصر کا تذکرہ کیا ہے۔ مسلمانوں میں جو مختلف طرز فکر پائے جاتے تھے ان کا جائزہ بھی لیا ہے، تو اس موضوع پر غور کرتے ہوئے مولانا مودودیؒ کی کتابوں ، یعنی ’’تحریک آزادی ہند اور مسلمان‘‘ اور’’ مسئلہ قومیت ‘‘ سے استفادہ جاری رکھنا چاہیے۔

نیشن کامفہوم

ایک اصطلاحی لفظ کسی زبان میں استعمال ہوتا ہے تو زبان کا پس منظر بھی اس کا مفہوم متعین کرتا ہے۔ ہندی میں ایک لفظ ہے ’راشٹر‘ اور دوسرا لفظ ’دیش‘ ہے۔ راشٹر اور دیش کے ہم معنی الفاظ اردو میں قوم اور ملک ہیں ۔ انگریزی میں لفظ ’نیشن‘ استعمال ہوتا ہے۔ اردو ہماری مادری زبان ہے۔ اس زبان پر مسلمانوں کی نفسیات کا اثر پڑا ہے۔ انگریزی یورپ کی زبان ہے۔ اس کی تراکیب پر یورپ کی تاریخ کا اثر ہے۔ اس موضوع کو سمجھنے میں آسانی کے لیے انگریزی اصطلاح ’نیشن‘ پر غور کرنا چاہیے۔

انسانوں کے سامنے چند سو سال سے نیشن اور نیشنلزم کے تصورات موجود ہیں ۔ مولانا مودودی نے ان کو اپنی بحث کا موضوع بنایا۔چند انسانوں میں جب ایک ممتاز گروہ ہونے کا احسا س پیدا ہوتا ہے، یعنی یہ خیال کہ وہ دوسرے گروہوں سے مختلف ہیں ، تو اس کی متعدد وجہیں ہو سکتی ہیں۔ مثلاً ایک نسل سے تعلق رکھنا، ایک علاقے میں رہنا، ایک جیسا رنگ ہونا، ایک جیسی تاریخی روایات کا حامل ہونا، ایک زبان بولنا، ایک جیسے مفادات رکھنا۔ ان وجوہات سے گروہ بنتے ہیں، جو اپنے آپ کو قوم کہنے لگتے ہیں ۔ لیکن جن معنوں میں آج کل نیشن  (Nation) کا لفظ استعمال ہوتا ہے، وہ ان سب وجوہات کی بنا پر نہیں ہوتا۔ رنگ، نسل، زبان وغیرہ کے اشتراک کے بجائے آج کل نیشن کا لفظ کسی ایک حکومت کے تحت رہنے والے شہریوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ آج نیشن کا مفہوم ہے، وہ لوگ جو بطور شہری کسی ایک نظام حکومت کے تحت دنیا کے کسی خطے میں رہتے ہوں۔  (یہ خطہ ملک کہلاتا ہے)۔ دنیا میں بہت سارے ملک ہیں، ان کی اپنی حکومتیں ہیں اور ہر حکومت اپنے شہریوں کو ایک نیشن کہتی ہے۔ یہ آج کل کا مفہوم ہے۔

اگر اس اصطلاح کا انطباق صرف یہیں تک محدود رہے،  تو افراد کے مجموعے کا نیشن ہونا محض ایک واقعہ ہے۔ جس طرح یہ ایک واقعہ ہے کہ ایک ملک موجود ہے، اس کی متعین سرحدیں ہیں ، اس میں ایک نظام حکومت قائم ہے، اس کے شہری ہیں ، یہاں ایک قانون موجود ہے۔ اسی طرح ان شہریوں کو ایک نیشن کہا جانا بھی  محض واقعے کی ایک تعبیر ہے۔ بطور واقعہ ، اس کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔

حکومت اور شہری 

 اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہم یہ بات ضرور انسانوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ کوئی حکومت اپنے شہریوں سے معقولیت کے ساتھ کیا مطالبہ کر سکتی ہے اور کون سا مطالبہ ایسا ہوگا، جو معقول نہ ہوگا بلکہ غیر معقول سمجھا جائے گا۔ یہ وسیع موضوع ہے۔ لیکن مختصر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک حکومت جو معقول مطالبہ اپنے شہریوں سے کر سکتی ہے وہ یہ ہے کہ شہری نظم و ضبط میں خلل نہ ڈالیں۔ طاقت کا اور ہتھیاروں کا ایسا  استعمال نہ کریں، جس کی قانون میں اجازت نہ ہو۔ کسی دوسرے ملک سے جنگ ہو گئی ہو تو، جوبر سر جنگ طاقت ہے، اس کاساتھ نہ دیں ۔ ملک اور اہل ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کریں۔ یہ وہ مطالبات ہیں جو حکومت معقولیت کے ساتھ شہریوں سے کر سکتی ہے۔

تاہم آج کی حکومتیں آگے بڑھ کر بہت سارے اور مطالبات کرتی ہیں جو نامعقول ہوتے ہیں۔ ان کی بنیاد نیشن کا تصور ہوتا ہے۔ یہ بات کہ ایک نظام حکومت کے تحت لوگ شہری کے طور پر رہ رہے ہیں ، ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ نظم و ضبط میں کوئی خلل نہیں ڈالتے۔ حکومت کو ہتھیاروں کے ذریعے بدلنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اس کیفیت کو آج کی حکومتیں کافی نہیں سمجھتیں۔ اس سے آگے بڑھ کر پوری دنیا میں موجود نیشنلزم کی تحریکیں مزید مطالبات کرتی ہیں۔ نیشن اور حکومت کا موجود ہونا اور شہریوں کا پابند قانون ہونا محض اتنی بات نیشنلزم نہیں ہے۔ بلکہ نیشنلزم اس کے بعد کی بے اعتدالیوں کا نام ہے، جو بہت سی ہو سکتی ہیں۔ ان میں اہم تین ہیں:

 پہلی بے اعتدالی

یہ نیشن کے ساتھ فطری محبت سے متعلق ہے۔ آدمی کو اپنے ملک سے محبت ہوتی ہے، اس محبت کو تعظیم کے درجہ تک لے جانا، بے اعتدالی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہمیں اپنے محلے سے محبت ہے۔  اپنے محلے سے پرانی دلی جائیں تو محلے کی یاد آتی ہے، دلی سے دوسرے صوبے کیرل چلے جائیں تو دلی کی یاد آئے گی۔ ہندوستان سے ایران چلے جائیں تو ہندوستان یاد آئے گا۔ یہ کوئی غیر فطری کیفیت نہیں بلکہ ایک فطری بات ہے اور یہ کوئی بری بات نہیں ۔ یہ نہ ہو تو عجیب بات ہوگی ۔ اپنے محلے سے محبت ، اپنے ملک سے محبت ، یہ سب فطری جذبات ہیں ، لیکن اس فطری جذبے کو تعظیم تک پہنچانا، مثلاً گنگا جمنا کی توصیف کے گیت گانا، ہمالیہ کی عظمت بیان کرنا، بے اعتدالی ہے۔ عظمت تو خدا کی ہے نہ کہ مخلوق کی۔ پھر تعظیم تک یہ لے نہیں رکتی، تعظیم سے بڑھ کر مثلاً ہمالیہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سنتری ہمارا، وہ پاسباں ہمارا، پھر عقیدت سے آگے بڑھ کر عبادت ہونے لگتی ہے، مثلاً وندے ماترم گانے والے ملک کو دیوی کا روپ دینا چاہتے ہیں ۔ تو نیشنلزم کا پہلا غیر معقول مطالبہ یہ ہے کہ وطن کی محبت کا جذبہ آگے بڑھ کر تعظیم بنے، پھر عبادت بن جائے۔

غلط مطالبات

دوسرا غلط مطالبہ نیشنلزم کا یہ ہے کہ ملک کی خارجہ پالیسی کو ہر حال میں درست اور حق قرار دیا جائے۔ ہمارے ملک کا کسی سے جھگڑا ہے تو حب الوطنی کا نیشنلزم یہ تقاضہ بیان کرتا ہے کہ شہری اس پالیسی کو درست قرار دیں اور ہر حال میں اس کی حمایت کریں ۔ یہ بیان کیا جا چکا ہے کہ بر سر جنگ طاقت کا عملاً ساتھ دینا شہریت کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ یہ ٹھیک ہے ، لیکن یہ اصرار کہ ایک شخص اپنے ملک کے ہر موقف کو (چاہے وہ غلط ہو یا صحیح) بہر حال صحیح قرار دے، ایک بے جا اصرار ہے۔ یہ نیشنلزم کا دوسرا غیر معقول تقاضا ہے، اس کا تیسرا تقاضا اور زیادہ خطرناک ہے۔ یعنی یہ کہ ملک میں جبر و اکراہ کے ذریعے ایک تہذیب اور یکساں کلچر پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔

 اصلاً نیشن تو فقط اس واقعہ کا نام تھا کہ ایک حکومت کے تحت بہت سارے شہری رہ رہے تھے، لیکن اس کے ساتھ ایک دوسرا واقعہ بھی موجود تھا کہ وہ شہری مختلف مذاہب کے ماننے والے تھے۔ ان کے عقیدے مختلف تھے۔ سب اپنے  اپنے مذہب پر اعتقاد رکھتے تھے۔ ان کو فطری حق حاصل تھا کہ اپنے مذہب کے تصور کے مطابق زندگی گزاریں ۔ ان سب باتوں کو نظر انداز کر کے محض اس واقعے کی بنا پر وہ ایک حکومت میں رہتے ہیں ،ان سے یہ نامعقول مطالبہ نیشنلزم کرتا ہے کہ ان کی تہذیب اور کلچر کو بھی یکساں ہونا چاہیے۔ نیشنلزم کے یہ تینوں دعوے غیر معقول ہیں ۔ خدا کی مخلوقات سے ہمیں لگائو ہو سکتا ہے، وطن سے محبت ہو سکتی ہے، لیکن خاکِ وطن سے عقیدت اوراس کی عبادت کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔ ملک سے ہمیں محبت ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ملک کو ہم نقصان نہ پہنچائیں ، لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ حکومت جو بھی موقف اختیار کرے ، خواہ وہ غلط ہو یا صحیح اسے بہر حال درست مان لیں ۔ اسی طرح یہ کوشش کہ لوگوں پر ان کے مذہب اور عقیدے کے خلاف کوئی بات تھوپی جائے، یہ سراسر نا انصافی ہے۔

نیشنلزم کی یہ تینوں خصوصیات نہایت غیر معقول ہیں ۔ تا ہم دنیا بھر میں نیشنلزم کی تحریکیں موجود ہیں اور وہ یہ سب مطالبات کر رہی ہیں ۔ ہمارے ملک میں ہندتو کے قائل ایسی کوششیں کر رہے ہیں ، یورپ میں بھی یہ رجحان موجود ہے۔ یورپ میں جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے اس کا ایک محرک پرانی یادیں ہیں ۔ جس میں صلیبی جنگوں کی اسلام دشمنی نمایاں ہے۔ اسلام کے سلسلے میں غلط فہمیاں بھی مسلمانوں کی مخالفت کا باعث ہیں ، لیکن مسلم دشمنی کا دوسرا محرک نیشنلزم ہے۔ برطانیہ والے کہتے ہیں کہ ہماری ایک تہذیب ہے، جو لوگ باہر سے آتے ہیں ، وہ اس تہذیب کی بقا میں خلل ڈالتے ہیں ۔ ان کو چاہیے کہ پہلے برٹش ہونا سیکھیں ، جو برٹش ہونا سیکھ لے گا وہی برطانیہ میں رہ سکے گا۔

نیشنلزم کی تردید 

 نیشنلزم سے اہل حق کا سابقہ صرف ہندوستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہے۔ جہاں غیر معتدل نیشنلزم ہوگا، اس کا تقاضا ہوگا کہ ملک میں ایک تہذیب اور ایک کلچر ہو۔ چنانچہ ہندوستان میں یہ مسئلہ ہمیں عملاً درپیش ہے۔ ان حالات میں ہمیں اپنے ساتھی ہندوستانیوں کو ایک بنیادی بات سمجھانے کی ضرورت ہے ، جو سادہ حقیقت ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ ہم مختلف مذاہب کے پیرو اس ملک میں ایک ساتھ رہتے ہیں ، اس واقعہ کو ہم تسلیم کرتے ہیں اور سب کو چاہیے کہ واقعے کو واقعہ تسلیم کریں ۔ مسلمان اپنے ہم وطنوں سے، پڑوسیوں کی طرح معاملہ کرنا چاہتے ہیں ۔ پڑوسی کے حقوق سے زائد کسی چیز کا مطالبہ کسی فریق کو نہ کرنا چاہیے۔ ایسا کرنا انصاف کے خلاف ہوگا۔ کسی غیر معقول مطالبہ کو ہم مسلمان ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔

یہ بات ہمیں اپنے ہم وطنوں کو بتانی چاہیے۔ یہ بھی بتانا چاہیے کہ ہم باطل تہذیب میں ضم ہونے کے لیے کیوں تیار نہیں ہیں ، اس کے لیے پورا استدلال پیش کرنا چاہیے۔ نیشنلزم پر ہماری تنقید کی بنیاد توحید ہے۔ اسلام وحدت بنی آدم کا تصور پیش کرتا ہے۔ ہم اللہ کے بندے خطہ زمین کو اصلاً ایک خطہ سمجھتے ہیں اور انسانوں کو ایک برادری سمجھتے ہیں۔ اسلام کے اِس تصور کو آپ پیش کریں گے اور نیشنلزم پر تنقید کریں گے تو یہ حق کی دعوت کا ہی ایک پہلو ہوگا۔ نیشنلزم سے عصبیت پیدا ہوتی ہے، جبکہ اسلام عصبیت کی نفی کرتا ہے۔ گفتگو کا یہ کام ہمیں ملک میں اپنے ہم وطنوں کے درمیان کرنا ہے۔ اس کے لیے علمی تیاری بھی کرنی ہوگی اور ضرورت ہوگی کہ ہم لوگوں سے وسیع ربط قائم کر کے اپنا طرز فکر بیان کریں۔

ملک میں بعض طاقتیں آزادی سے پہلے موجود تھیں۔ آزادی کے بعد ان کو عروج حاصل ہوا ہے۔ ان میں سے ایک ہندتو کی طاقت ہے۔ اس کے علاوہ کانگریسی فکر موجود ہے۔ کانگریس کی تنظیم میں ہمیشہ ایک ایسا طاقتور عنصر رہا ہے، جو ہندتو کی فکر کا حامل رہا ہے، یعنی ایک کلچر ملک میں ہو، ایک تہذیب ہو، ملک سے عقیدت کے جذبات پیدا کیے جائیں اور خارجہ پالیسی کو ہر حال میں درست قرار دیا جائے۔ یہ فقط ہندتوکے قائلین کے مطالبات نہیں ہیں ، بلکہ کانگریس کے غالب طبقے کی فکر یہی تھی اور اب بھی یہی ہے۔ گویا ملک میں دو قابل ذکر سیاسی طاقتیں ایسی ہیں ، جن میں اس سلسلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

 نیشنلزم کے مفہوم سے دونوں (کانگریس اور ہندتو وادی) متفق ہیں، البتہ طریق کار میں ان کے درمیان فرق ہے۔ کانگریس سے تعلق رکھنے والوں کا یہ خیال تھا کہ یکساں کلچر اور ایک تہذیب کے فروغ کے لیے نظام تعلیم اور قانون پر اکتفا کرنا چاہیے۔ جبکہ ہندتو کے حامل عناصر ، مسلمانوں پر زندگی کا دائرہ تنگ کر کے ان کو جاہلی تہذیب کا جز بنانا چاہتے ہیں ۔ بہر حال اس فتنے کے مقابلے کے لیے بڑے پیمانے پر انسانوں کو توحید اور وحدت بنی آدم کے تصورات اور تقاضوں سے واقف کرانا ضروری ہے۔ مسلمانوں کو اپنے کاموں میں اس کام کو اولیت دینی چاہیے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹر محمد رفعت

مضمون نگار اسلامی مفکر ہیں۔

متعلقہ

Close