آج کا کالم

وزیر اعظم صاحب! آپ منی شنکر ایر نہیں ہیں۔

رويش کمار

اے بی پی نیوز چینل کے نامہ نگار راجن سنگھ کے سوال کے جواب میں کانگریس لیڈر منی شنکر ایر کا بیان اس طرح ہے. ALTNEWS.IN نے بھی منی شنکر کے پورے بیان کو شایع کیا ہے.

"جہانگیر کی جگہ شاہجہاں آئے تب کوئی الیکشن ہوا، جبکہ شاہجہاں کی جگہ اورنگ زیب آئے تب کوئی الیکشن ہوا، نہیں، پہلے سے پتہ تھا کہ جو بھی بادشاہ ہیں انہی کی اولاد جو ہیں وہی بنیں گے وہیں بنیں گے، آپس میں وہ لڑے تو الگ بات ہے، لیکن جمہوریت میں انتخابات ہوتا ہے اور میں شہزاد پونا والا کو مدعو کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس انتخاب میں حصہ لیں. منی شنکر ایئر نے دو مختلف باتیں کہی ہیں پھر اگر وزیر اعظم نے ان کے بیان کی روشنی میں جو بات کہی ہے نہایت ہی اہم ہے. آپ نے شہزاد پوناوالا نام سنا تھا کیا. "

منی شنکر ایئر نے پہلے اور اب میں موازنہ کیا، بی جے پی نے اس بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا اور وزیر اعظم نے اس بیان کو لے کر ایک اور غلطی کی. اگرچہ ایر بادشاہی اور جمہوریت میں فرق کرتے ہیں پھر بھی ایک منٹ کے لئے مان لیتے ہیں کہ ایئر نے اپنے جواب کے لئے صحیح حوالہ نہیں منتخب کیا، تو وزیر اعظم کو اورنگ زیب راج مبارک کہنا چاہیے تھا؟ وزیر اعظم کا کام یہ نہیں کہ پھینکے گئے کیچڑ کو اٹھا کر دوسرے پر پھینک دیں یا کہیں کچھ ردی پڑا ہو تو اسے اٹھا کر دوسرے پر پھینک دیں. ایئر نے ضرور وزیر اعظم بننے سے پہلے نریندر مودی کو چائے والا کہہ کر شرمناک بیان دیا تھا. لیکن اس نئے بیان کے بدلے میں وزیر اعظم نے کیا کیا، کیا ان کی بھی سطح منی شنکر ایر جیسی ہے؟

کنبہ پروری ہندوستانی جمہوریت کا ایک بڑا چیلنج اور سنگین مسئلہ ہے. اسے اٹھانے کا سہرا بی جے پی کو ہی جاتا ہے لیکن جب بی جے پی کنبہ پروری کا مسئلہ اٹھا رہی تھی تب اس کے اندر بہت سے خاندان کس طرح پنپ گئے؟ کیا میں خاندان کی بحث صرف صدر کے عہدے کو لے کر ہو گی؟ اگر یہی پیمانہ ہے تو پھر اکالی دل، شیو سینا، لوک جن شکتی پارٹی، پی ڈی پی، ٹی ڈی پی میں بھی تو وہی کنبہ پروری ہے جو کانگریس میں ہے. تو کیا وہاں بھی اورنگ زیب ہے؟ ایک طرح سے یہ لگتا تو بڑا زبردست ہے کہ اییر کے بیان کو کانگریس پر دے مارا لیکن اورنگ زیب راج کیا اب سے پریوارواد کا نیا نام ہو جائے گا؟ یہ تو بی جے پی اور وزیر اعظم کو ہی صاف کرنا چاہئے ورنہ اس گونج کی لپیٹ میں چندرا بابو نائیڈو کے بیٹے بھی آ جائیں گے جو نہ صرف جنرل سکریٹری ہیں بلکہ نائیڈو کابینہ میں وزیر بھی ہیں. اب وزیر اعظم تمل ناڈو گئے تھے. ڈی ایم میں بھی اورنگ زیب سے ملے تھے کیا؟ کیا کابینہ کے اجلاس میں رام ولاس پاسوان کو دیکھتے ہی انہیں مغل دور یاد آتا ہے؟ چراغ تو اورنگ زیب نہیں لگتے ہیں نا. محبوبہ مفتی نے اتنے مشکلوں میں اتحاد کو سینچا ہے، اپنے عملے کے مفاد سے زیادہ یقینی طور پراس میں بھارت کا مفاد ہوگا، کیا وہاں بھی انہیں مغل دور نظر آیا، کیا ان کا موازنہ اورنگ زیب سے کیا جا سکتا ہے؟

وزیر اعظم کو اپنے اندر جھاكر دیکھنا چاہئے کہ وہ اپنی سیاسی مجبوریوں یا جیت کو برقرار رکھنے کے لئے ایسے کتنے سیاسی خاندانوں کو ڈھو رہے ہیں جن کا موازنہ مغل دور سے کی جا سکتی ہے. ویسے بادشاہت صرف مغلوں کے یہاں نہیں تھی. ہندو بادشاہوں کے یہاں بھی تھی. آپ اسی دہلی میں بیٹھ کر جسے کچھ دن پہلے تک دہلی سلطنت کہا کرتے تھے. بہتر ہے مسلمانوں کو داغدار کرنے یا کسی کو مسلم پرست سیاسی علامتوں کے استعمال سے وزیر اعظم کو اوپر اٹھ جانا چاہئے. وہ اچھا کرتے ہیں اذان کے وقت تقریر روک دیتے ہیں. اور اچھا ہو جائے گا اگر وہ اپنی تقریر میں ایسے علامتوں کے خطرناک استعمال کو بھی روک دیں.

وزیر اعظم کا اپنی الگ سطح ہونا چاہئے. انہیں روایتی بھنجك کے نام پر ہر بار عزت بھجن کی چھوٹ مل جاتی ہے، ملتی رہے گی. مگر عوام نے ان سب کے بعد بھی انہیں وزیر اعظم بنایا ہے، کیا وزیر اعظم کا فرض نہیں بنتا کہ وہ اس عوام کو ایک اچھی سیاسی ثقافت اور عزت دے کر جائیں؟ کیا وزیر اعظم کی بھی وہی سطح ہوگی جو منی شنکر ایر کی ہوگی؟ اتنا ہی ہے تو راہل گاندھی نے گجرات انتخابات میں کئی سوال اٹھائے ہیں، اسی کا جواب دے دیتے.

ہماری سیاست میں نیچ بیان ایک حقیقت ہے لیکن اس پیمانے پر جب وزیر اعظم فیل ہوتے ہیں تب دکھ ہوتا ہے. جب نتيانند رائے نے مودی کے مخالفین کا ہاتھ کاٹنے کی بات کی تب تو وزیر اعظم خاموش رہ گئے. کیا وہ موقع نہیں تھا کہ وہ بولیں کہ ایسی بات ٹھیک نہیں ہیں، ہم جمہوریت میں ہیں اور ہمارا احتجاج جائز ہے.

وزیر اعظم کو سیاسی طور پر غیر محفوظ محسوس نہیں کرنا چاہئے. انتخابی جیت اہم ہے اور انہی کی ذمہ داری ہے مگر اسی کے ساتھ عزت قائم کرنے کی ذمہ داری بھی انہی کی ہے. کورس وزیر اعظم کے بارے میں بہت لوگ بھونڈی باتیں کہتے رہے ہیں، مگر کیا وزیر اعظم کو بھی اپنے مخالفین کے لیے بھونڈی باتیں کہنی چاہئے؟ آخر یہ سلسلہ کون روکے گا؟ آپ ہی تھے نہ بہار میں ڈی این اے خراب بتا رہے تھے؟ کیا آپ کی ناک کے نیچے تین سال سے پہلے وزیر اعظم نہرو کے خلاف شرمناک مہم نہیں چلی؟ آپ کے آئی ٹی سیل کے سربراہ نے نہرو کی بھتیجی اور بہن کے ساتھ کی تصویر کو کس تناظر میں ٹویٹ کیا؟

لوک سبھا انتخابات کے وقت وزیر اعظم کو چائے والا کہہ کر مذاق اڑایا گیا، اس کا انہوں نے مناسب طریقے سے جواب دیا اور عوام نے بھی اسے قبول کیا. مگر بدلے میں وہ کیا کر رہے تھے؟ کیا وہ راہل گاندھی کو شاہزادہ اور دہلی کی حکومت کو دہلی سلطنت نہیں کہہ رہے تھے؟ کیا وہ ایک منتخب حکومت کا مذاق اڑانے کے ساتھ ساتھ اس کی شناخت پر وارنہیں کر رہے تھے؟ کیا منموہن سنگھ کا ماضی ایک غریب خاندان کے بیٹے ہونے کا ماضی نہیں ہے؟ ہم نے تو منموہن سنگھ کے ماضی کو لے کر بولتے کبھی نہیں سنا، مگر وہ اس غریبی کو هراتے ہوئے کہاں تک پہنچے، وزیر اعظم بننے سے پہلے دنیا کے جانے مانے یونیورسٹیوں تک پہنچے.

ماضی کی جدوجہد اہم ہوتی ہیں مگر اس کا استعمال بدلہ لینے کے لئے نہیں ہونا چاہئے نہ ہی جذباتیت پیدا کرنے کے لئے. یہ سب متاثر کن چیزیں ہیں اور وزیر اعظم نے چائے بیچی ہے تو یہ یقینی طور پر ہر ہندوستانی کے لئے فخر کی بات ہے. اگرچہ اسے بھی لے کر تنازعہ ہو جاتا ہے کہ چائے بیچی یا نہ بیچی. نہ بھی بیچی تو کیا اس میں کوئی شک ہے کہ وزیر اعظم کسی عام خاندان سے نہیں آتے ہیں. بالکل آتے ہیں. سیاست میں وہی عام خاندان سے نہیں آتے ہیں، ایسا کرشمہ بہتوں نے کیا ہے. کرپوری ٹھاکر سے لے کر کانشی رام تک. وزیر اعظم کی کامیابی اسی سلسلے کی کڑی میں ایک اور گلاب جوڑتی ہے.

مگر ہم یہ بھی تو دیکھیں گے کہ تین بار وزیر اعلی بننے کے بعد آگے کے سفر میں مال و دولت اور تكنيك کے جس سطح کا استعمال ہوا، اس کی بنیاد کیا تھی؟ کیا ایک غریب خاندان سے آنے کے بعد وزیر اعظم مودی سیاست میں کسی سادگی کی علامت ہوتے ہیں  یا شان و شوکت کا؟ اس شان کی بنیاد کیا ہے، اس کے وسائل کی بنیاد کیا ہیں؟ اور کیا یہی بنیاد تمام ہندوستانی سیاسی جماعتوں کی حقیقت نہیں ہے؟

ایک رہنما کا اندازہ اس بات سے کیا جانا چاہئے کہ وہ اپنے مخالفین کا احترام کس طرح کرتا ہے. لوک سبھا انتخابات کے دوران وہ راہل گاندھی کو شہزادہ کہتے رہے، امت شاہ راہل بابا. مجھے نہیں لگتا راہل گاندھی نے کبھی وزیر اعظم یا مودی جی سے کم پر انہیں خطاب کیا ہوگا. بلکہ راہل گاندھی کو کئی بار مودی مردہ باد کے نعرے پر اپنے کارکنوں کو ٹوکتے سنا ہے. کیا یہ صحیح نہیں ہے؟ جب آپ کا مخالف آپ کا نام احترام سے لے رہا ہے تو کیا آپ کا جمہوری فرض نہیں بنتا کہ آپ بھی عزت سے لیں؟

کنبہ پروری کا مسئلہ شفافیت سے شروع ہوتا ہے. اس پر تمام جماعتوں کے تناظر میں بحث ہونی چاہئے. کیا کوئی بھی پارٹی شفافیت کے پیمانے پر ماڈل ہے؟ سیاسی جماعتوں کو جو چندے ملتے ہیں، اس کی شفافیت کے لئے وزیر اعظم نے کیا کیا ہے؟ اس صورت میں وہ بھی وہی کرتے ہیں جو باقی کرتے ہیں. کنبہ پروری ایک مسئلہ ہے تو پھر یوپی انتخابات کے وقت جیتنے کے لئے اپنی پارٹی کے اندر اندر خاندانوں کو کیوں گلے لگا رہے تھے؟ وسندھرا راجے کنبہ پروری نہیں ہیں تو کیا ہیں؟ کیا وزیر اعظم نے اس مسئلے کو لے کر اپنی پارٹی کے اندر اندر کوئی ایماندار اور ساہسک بحث یا کوشش کی ہے؟

کانگریس سے ان کا سوال درست ہے، کانگریس کا بھی بی جے پی سے سوال درست ہے کہ آپ کے یہاں بھی تو نامزدگی ہوتی ہے. جواب کوئی ایک دوسرے کو نہیں دیتا ہے. بی جے پی کو پتہ ہے کہ ان کے یہاں کا اندرون جمہوریت کیسا ہے. کیا بی جے پی میں انتخابات ہوتا ہے، کیا کانگریس میں انتخاب ہوتا ہے؟ اس سوال کو صرف راہل گاندھی کے لئے ریزرو نہیں رکھنا چاہئے ورنہ یہ سوال بھی اپنے آپ میں پریواروادي بن جائے گا، اسے سب کے لئے اٹھانا چاہئے. ایک آخری رائے آنی چاہئے نہ کہ اورنگ زیب راج جیسے بیان.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close