آج کا کالم

وزیر اعظم کا انٹرویو: جھوٹ بھی سچ کی طرح بولنا آتا ہے اسے

ڈاکٹر سلیم خان

وزیراعظم نریندر مودی  پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ اخبار نویسوں سے ڈرتے ہیں حالانکہ انہوں نے کئی انٹرویو دیئے۔ رجت شرما کی عدالت میں خوب مکالمہ بازی کی ۔ ارنب کے سامنے شیر کی طرح دہاڑے اور ٹائمز ناو کو بھی اعزاز بخشا لیکن ان سارے ڈراموں  کے سوالات و طے شدہ تھے  اور اچھی خاصی ریہرسل کے بعدانہیں کھیلا گیا تھا۔ انتخاب سے عین پہلےمودی جی نے  نیٹ ورک ۱۸ کے مدیر اعلیٰ  اورمنتظم  راہل جوشی کے ساتھ اسی طرح کی بات چیت میں انکشاف کیا کہ جموں وکشمیرکے اندر دہشت گردانہ حملوں کے واقعات میں کمی آئی ہے۔  راہل جوشی کا سوال تھا پاکستان  میں واقع دہشت گردانہ کیمپوں پرسرجیکل اسٹرائیک اورایئراسٹرائیک کے بعد بھی لشکرطیبہ اورجیش محمد کے دہشت گرد وہاں گھوم رہے ہیں، وہ جب چاہتے ہیں کشمیرمیں دہشت گردانہ حملہ کردیتے ہیں۔ اس کا علاج کیا ہے؟ اس پر وزیراعظم نے کہا’ تھوڑا تجزیہ کرنا چاہئے۔ دہشت گرد حملے کرتے ہیں، اس طرح کے واقعات تو بہت کم ہوگئے ہیں‘۔ وزیر اعظم نے تجزیہ کرنے کا مشورہ دیاہے اس لیے  اعدادو شمار کی مدد سے اس دعویٰ    کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔

مودی جی اگر تجزیہ کرنے تلقین نہیں کرتے تو لوگ اس جواب   کو بھی ایک انتخابی  جملہ کہہ کر نظر انداز کردیتے لیکن  غوروفکر کی دعوت دے کرانہوں نے اپنے ہی پیر پر کلہاڑی مار لی۔ موجودہ  سرکار کے وزیر مملکت برائے داخلہ  ہنس راج اہیر نے  ۵ فروری ۲۰۱۹ ؁  کو ایوان پارلیمان میں ایک تحریری بیان دیتے ہوئے اعتراف  کیا تھا کہ ۲۰۱۴ ؁ سے ۲۰۱۸ ؁ کے درمیان حفاظتی دستوں کی ہلاکت میں ۹۳ فیصد کا اضافہ ہوا ہے یعنی یہ تعداد تقریباً دوگنا ہوچکی ہے۔  شہریوں کی ہلاکت کی شرح  تو اس سے بھی زیادہ یعنی ۱۳۳ فیصد بڑھی  ہے۔ حملوں کی تعداد میں ۱۷۶ فیصد کی زیادتی  دیکھنے میں آئی  ہے یعنی ڈھائی گنا سے زیادہ  کی   بڑھوتری ہوئی ہے۔ ان پانچ سالوں میں جملہ ۱۷۰۸ یعنی اوسطاً ہر ماہ ۲۸ حملے ہوئے۔ اس اوسط کا موازنہ اگر ۲۰۱۸ ؁ کے واقعات سے کیا جائے اس سال ہر ماہ ۵۱ حملے ہوئے ۔  کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ مودی جی کے خوف سے پاکستانی جنگجو کشمیر کا رخ نہیں کریں گے لیکن سرکاری اعداو شمار اس خیال  کی بھی نفی کرتے ہیں ۔ اس عرصہ میں دراندازوں کا اوسط  فی ماہ ۱۱ تھا لیکن جون ۲۰۱۸ ؁ میں یہ تعداد بڑھ کر ۳۸ پر پہنچ گئی ۔

ایوان پارلیمان میں فراہم کردہ تحریری وضاحت  کی روشنی میں وزیراعظم کے بیان مضحکہ خیز بن جاتا ہے۔کیا  اس کا مطلب یہ ہے   کہ انہیں ان اعدادو شمار کا علم ہی نہیں ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیا ان کے ہاتھوں میں پھر سے ملک کی باگ ڈور تھما دینا مناسب ہے؟ یا وہ جانتے   بوجھتے عوام کو گمراہ کررہے ہیں ؟ تو کیا ایسے نازک مسائل پر عوام کو بیوقوف بنانے والا ووٹ کا حقدار ہے؟ یا وزیراعظم  کمی اور زیادتی کا فرق نہیں جانتے ؟ وہ اگر گجراتی نہ ہوتے اس شک کا فائدہ اٹھا سکتے تھے لیکن  اتنا واضح فرق تو ہر کوئی جانتاہے؟ ایک سوال یہ ہے کہ بے شمار سلگتے ہوئے مسائل کو طاق میں رکھ کر یہ استفسار  کیوں کیا گیا جو وزیراعظم کو کذب بیانی پر مجبور کرنی پڑی ۔ اس سے صرفِ نظر بھی کیا جاسکتا تھا لیکن جو سرکار سارے محاذ پر ناکام ہوجائے اس کے پاس قوم پرستی کی آگ پر سیاسی روٹیاں سینکنے کے علاوہ چارۂ کار بھی کیا رہ جاتا ہے؟  اس جذباتی استحصال میں سچ اور جھوٹ کی تفریق بے معنیٰ ہے۔

پلوامہ حملےکو جب دگ وجئے سنگھ نے ایک سانحہ کہا تھا تو بی جے پی والوں نے اس پر خوب شور مچایا لیکن اب تو وزیر اعظم نے بھی کہہ دیا کہ ’’پلوامہ  دہشت گردانہ حملے کو ایک سانحہ  کے طورپردیکھا جانا چاہئے‘‘۔ مودی جی یہ بھی بولے کہ’’وہ ہڑبڑی یا جلد بازی میں شارٹ کٹ والے فیصلے نہیں لیتے ۔ انہوں نے فوج سے تبادلہ خیال کیا، سیکورٹی اہلکاروں سے چرچا کی اورافسروں سے بات چیت کی‘‘۔  اگر یہ سب ہوا تو سی آر پی ایف کے جوانوں کو بس کے بجائے ہوائی جہاز میں بھیجنے کا فیصلہ کیوں نہیں کیا گیا جبکہ افسران کی جانب سے اس کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔  اس درخواست کو مسترد نہیں کیا جاتا تو یہ سانحہ وقوع پذیر ہی نہ ہوتا۔  وزیر اعظم نے بتایا کہ ’’ہماری فوج نے پلوامہ حملہ کرنے والوں کو یہیں پرمارگرایا، یہ اپنے آپ میں بہت بڑا کام تھا‘‘۔  سوال یہ ہے کہ پلوامہ  حملہ کرنے والوں کو اپنی سرزمین پر  مار گرانے کے بعد بدلہ لینے کا دعویٰ کیوں نہیں کیا گیا ؟ اس کے لیے  ائیر اسٹرائیک کی ضرورت کیوں پیش آئی؟  کیا وہ ناکامیوں کی جانب سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک انتخابی ضرورت تھی ؟

ہندوستان  کی فضائیہ کے بالاکوٹ میں بمباری کے بعد پاکستان نے جوابی حملہ کیا اور اس کے نتیجے میں ابھینندن کی گرفتاری اور رہائی عمل میں آئی لیکن اس ضمن میں  دو اور واقعات رونما ہوئے ۔ ایک  تو بڈگام میں ہندوستانی ہیلی کاپٹر کی تباہی اور ۶ فوجیوں  کے ساتھ ایک شہری کی ہلاکت نیز پاکستان کے ایف ۱۶ طیارے کے مار گرانے کا دعویٰ ۔  ائیر اسٹرائیک کے ایک ماہ بعد اکونومکس ٹائمز   نےاس اسرائیلی  ساخت کے طیارے کا تکنیکی خرابی کے سبب حادثے کے شکار ہونے کا دعویٰ غلط ہونے کا امکان ظاہر کردیا۔ اخبار کے مطابق  ایک غلط وارننگ کے نتیجے میں  وہ ہندوستانی فوج کے میزائیل کا نشانہ بن کر تباہ ہوگیاتھا ۔ حکام نےیہ  عندیہ بھی دیا تھا کہ اگر کوئی اہل کار اس سنگین غلطی میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی ہوگی۔ کیا یہ سانحہ ’’ہڑ بڑی اور جلد بازی میں شارٹ کٹ کا فیصلہ ‘‘ نہیں ہے؟ فوج کے کارناموں کا کریڈٹ لینے والوں  کو غلطی کی  سزا بھی ملنی چاہیے ۔

کشمیر کے سلسلے میں جس طرح پاکستان پر بے دریغ الزامات لگائے جاتے ہیں  اس طرح کے رویہ سے چین کے خلاف اختیار نہیں کیا جاتا ورنہ چھتیس گڑھ کی نکسلی واردات سے اسے بہ آسانی جوڑا جاسکتا تھا۔وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’چین کے ساتھ ہمارے تعلقات ایسے ہیں کہ ہندوستان کی سرمایہ کاری وہاں ہورہی ہے، وہاں کی سرمایہ کاری ہمارے یہاں ہو رہی ہے۔ ہمارے لیڈران وہاں جاتے ہیں اور ان کے  لیڈران یہاں آتے ہیں۔ ان سب کے بیچ سرحدی تنازعہ بھی ہے، جو ابھی تک حل نہیں ہوا ہے۔ ہمارے درمیان اختلافات ہیں۔ ان کو قبول کر کے چلیں۔ لیکن ہم کوشش کریں کہ ہمارے اختلافات  تنازعات میں تبدیل نہ ہوں‘‘۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ  مودی جی چین جیسے دشمن ملک کے اختلاف کو تنازع بنانا نہیں چاہتے  جبکہ وہ پاکستان کا سب سے بڑ دوست ہے لیکن کانگریس سے اختلاف کو تنازع بناتے ہوئے کہتے ہیں کشمیر  کےمعاملے میں حزب اختلاف پاکستان کی زبان بول رہا ہے۔

 مودی جی کے انٹرویو کا سب سے بڑا لطیفہ  یہ ہے کہ ’’مجھے یقین ہے، ملک سمجھےگا کہ ایک زمانہ میں بین الاقوامی سطح پر اکیلا روس ہمارے ساتھ تھا اور ساری دنیا پاکستان کے ساتھ تھی۔ اب حالات پوری طرح بدل گئے ہیں۔ آج واحد چین پاکستان کے ساتھ ہے اور پوری دنیا ہمارے ساتھ کھڑی ہے۔ اس تبدیلی کو ہمیں سمجھنا چاہئے۔ یہی ہندوستان کی کامیابی ہے‘‘۔لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ  پوری دنیا تو دور امریکہ جو تین سال پہلے تک ہمارےتھا اب کہاں کھڑا ہے؟ پہلے تو ایکا مریکی  تجربہ گاہ  نے سرجیکل اسٹرائیک سے ہونے والی تباہی کی تردید کردی اور پھر امریکی انتظامیہ نے تصدیق کردی کہ پاکستان کے سارے ایف ۱۶ موجود ہیں ۔ کیا یہی ساری دنیا کا ساتھ ہے ؟ کیا مودی جی پوری قوم کو بیوقوف سمجھتے ہیں؟ یا ہم  من حیث القوم وہی ہیں جو وہ سمجھتے ہیں؟ ملوکیت میں’ جیسا پرجا ویسی پرجا ‘کی کہاوت تھی جمہوریت میں وہ ’جیسی پرجا ویسا راجہ ‘ میں تبدیل ہوگئی  ہے۔جہاں تک  انٹرویو کا سوال ہے اس  پر عمران عامی کا یہ  شعرصادق آتا ہے؎

قدم قدم پہ نئی داستاں سناتے لوگ

  قدم قدم پہ کئی بار جھوٹ بولتے ہیں

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Back to top button
Close