آج کا کالم

وزیر اعظم کا دورۂ اسرائیل

حفیظ نعمانی

ہر ملک کی کچھ روایات ہوتی ہیں۔ ہندوستان نے ہمیشہ اس ملک کا ساتھ دیا ہے جو مظلوم ہو اور اس کی مخالفت کی ہے جو ظالم ہو۔ اسرائیل نے جب امریکہ کی گود میں بیٹھ کر فلسطینیوں کو اُجاڑکر یہودیوں کو آباد کرنے کی کوشش کی تو ہندوستان کے مسلمان ہی نہیں، پورا ہندوستان فلسطین کے ساتھ ہوگیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہندوستان انگریزوں کی غلامی سو سال برداشت کرچکا تھا اور جانتا تھا کہ اپنے گھر میں جب کوئی غیرطاقت کے بل پر گھس کر بیٹھ جائے تو کیا ہوتا ہے؟

فلسطین کے پاس کوئی ایسی طاقت نہیں تھی جو وہ مقابلہ کرسکے اور امریکہ دنیا کی سب سے طاقتور حکومت پوری طرح اسرائیل کے ساتھ تھی۔ ہندوستان نے فلسطین کی اسلحہ کے علاوہ ہر طرح کی مدد کی۔ سال تو یاد نہیں لیکن اور سب یاد ہے کہ فلسطین کے نوجوان جیالوں کا ایک تین نفری وفد مدد کیلئے ہندوستان آیا۔ اس نے اپنے پروگرام میں لکھنؤ بھی رکھا مرحوم مقبول احمد لاری نے اپنی مقبول لاری منزل میں ان کا قیام کرایا۔ اور ذاتی طور پر نیز اپنے حلقۂ احباب میں اپنے دوستوں سے بھرپور مدد کی، نقد رقم اور دوائوں کا ڈھیر لگا دیا اور امین الدولہ پارک میں جلسہ عام کرایا ان کی تقریر کا ترجمہ ندوہ کے طالب علم مولوی حسان ندوی نے کیا۔فلسطین سے پورا ہندوستان محبت کرتا تھا وہ وفد جہاں بھی گیا اسے نوازا گیا اور ایک آواز بھی اسرائیل یا یہودیوں کی حمایت میں نہیں اُٹھی۔

تین دن پہلے ہندوستان کے وزیر اعظم اسرائیل گئے تو وہاں کے وزیر اعظم نے ایئرپورٹ آکر ایسی گرم جوشی سے استقبال کیا جیسے برسوں کے بچھڑے بھائی گلے مل رہے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کی پارٹی جن سنگھ اس وقت موجود تھی۔ آر ایس ایس بھی پوری طرح سرگرم تھا، اٹل بہاری باجپئی کا بھی شباب تھا لیکن کسی نے ایک بار بھی اسرائیل سے اپنے رشتوں کا ذکر نہیں کیا۔ البتہ یہ ضرور ہوا کہ ہندوستان میں جو اسرائیل کے لئے نفرت تھی وہ بی جے پی نے نہیں دکھائی اور ہندوستان نے جو اسے ایک ملک تسلیم نہیں کیا تھا اس میں نرمی برتی گئی اور پھر اسے تسلیم کرلیا گیا لیکن اسے دوست کا درجہ نہیں دیا۔ مودی نے یہ کسر پوری کردی اور شکایت کی بات یہ ہے کہ وہ اسرائیل گئے اور مظلوم فلسطینیوں سے نہیں ملے اور ثابت کردیا کہ وہ ظالموں کے ٹولہ میں ہیں۔

مودی جب تک اسرائیل میں رہے وزیر اعظم اسرائیل نے انہیں اپنی گود سے نہیں اتارا اس کی وجہ محبت نہیں پیسہ تھا مودی اسلحہ کے سب سے بڑے خریدار بن کر گئے تھے۔ ہم نے بھی پچاس برس کا کاروبار کیا ہے ہمارا بھی رویہ سیکڑوں کا کام کرانے اور ہزاروں کا کام کرانے والوں کے درمیان فرق کا رہا۔ ہزاروں کا کام کرانے والوں کو ہم عمدہ چائے اور اصرار کرکے کھانا بھی کھلاتے تھے۔ ہر کاروباری خریدار بھی ہوتا ہے ۔ ہم خریدار بھی بڑے تھے اور جب کاغذ والوں کو اندازہ ہوجاتا تھا کہ بڑا سودا ہے تو بغیر پوچھے ٹھنڈا منگاکر ہاتھ میں دیتے تھے اور کہتے تھے کہ پیسہ تو آتے جاتے رہیں گے۔ مودی جی نے اربوں ڈالر بھی دیئے اسلحہ بھی دل کھول کر خریدے اور دعوت بھی دی کہ ہندوستان آکر نفرت کرنے والوں کا خون جلائو۔

ہندوستان کی مرکزی حکومت نے دہشت گردی کے واقعات کے بعد یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ کسی ملک کے سربراہ کو وزیراعظم ایئرپورٹ لینے نہیں جائیں گے ۔ بلکہ استقبال کوئی وزیر کرے گا اور شام کے قصر صدارت میں وزیر اعظم یا صدر تام جھام سے استقبال کریں گے۔ لیکن جب امریکہ کے صدر براک اوبامہ آئے تو ہر فیصلہ ختم ہوگیا اور وزیراعظم نے جاکر استقبال کیا اور مودی جی نے تو ابوظہبی کے شاہزادوں کو 26  جنوری کا مہمان بناکر بلایا تو صرف اس لئے کہ انہوں نے مسلم ملک میں مودی کی فرمائش پر مندر کے لئے زمین دی اور کچے تیل کا بھنڈار ہندوستان میں رکھوا دیا تو وہ جب آئے تو وزیراعظم مودی خود ایئرپورٹ گئے اور لے کر آئے۔

لیکن اسرائیل میں مودی جی جب تک رہے ایسے رہے جیسے دنیا کا کوئی عجوبہ انہوں نے دیکھ لیا۔ کھارے پانی کو میٹھا کرنے کی چھوٹی مشین کو دیکھ کر اور منٹوں میں کھارے کو میٹھا ہوتا دیکھ کر ایسا لگا جیسے یہ کہنے والے ہیں کہ جتنی تیار ہیں وہ تو ابھی دے دو اور سال بھر میں جتنی تیار ہوں سب ہندوستان کے لئے مخصوص کردینا کیونکہ سمندر میں پانی بہت ہے لیکن زمین بداعمالیوں کی وجہ سے سوکھ کر پھٹی جارہی ہے۔

فلسطین کے بہادر لیڈر یاسرعرفات ہندوستان کو اپنا سگا بڑا بھائی سمجھتے تھے وہ پنڈت نہرو اور اندرا گاندھی دونوں کے انتقال پر ہندوستان میں رہے اور جب تک سورج چاند رہے گا نہرو تیرا نام رہے گا یا اندرا تیرا نام رہے گا کہتے رہے اور آخری رسوم کے بعد گئے۔ خبروں کے مطابق اسرائیل نے مودی کو مکھن لگاتے ہوئے انہیں ورلڈ لیڈر قرار دیا ہے ۔ جبکہ ابھی انہیں حکومت کرتے صرف تین برس ہوئے ہیں اور صرف 33  فیصدی ووٹوں کے بل پر وہ وزیراعظم بنے ہیں۔ وہ انہیں جو چاہیں کہیں یہ وہ نہیں مودی کے ڈالر بول رہے ہیں جو مودی ان کی خدمت میں پیش کر آئے۔ ایک بے ایمان ظالم ملک کے ظالم وزیراعظم کے ورلڈ لیڈر کہنے سے کوئی ورلڈ لیڈر نہیں بنتا۔ وہ بنتا ہے اس سے کہ اس کے ملک میں اسے 70  فیصدی لوگ اپنا لیڈر مانتے ہوں۔ ملک کا جو لیڈر 20  کروڑ مسلمانوں کو نظرانداز کرکے سوچے اور ملک کو چلائے وہ تو اپنے ملک کا بھی لیڈر نہیں ہوتا۔

سوچنے کی بات صرف یہ ہے کہ پڑوسیوں سے کچھ لے کر اور کچھ دے کر تعلقات اچھے رکھنے کے بجائے رات دن پانچ ہزار کلومیٹر اور دس ہزار کلومیٹر دور کی مار کرنے والی میزائل بنانے پر کروڑوں ڈالر ہر مہینہ خرچ کرنا اور اربوں ڈالر دے کر فرانس، امریکہ، برطانیہ وغیرہ سے مہلک ہتھیار خریدنا اور اربوں روپئے دفاع کے فرضی معاملہ پر خرچ کرنا کون سی عقلمندی ہے؟ ہندوستان کا کوئی پڑوسی اس کا دوست نہیں ہے اس سے زیادہ ناکام خارجہ پالیسی کیا ہوسکتی ہے؟ ایک چھوٹا سا ہندو ملک نیپال ہے وہ بھی ہندوستان کو مائی باپ سمجھنے کے بجائے دشمن سمجھتا ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو ہندوستان میں کوئی بھوکا نہ سوتا اور نہ ہر کسی کے سر پر چھت ہوتی جس کا صرف وعدہ ہوتا رہتا ہے ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close