آج کا کالم

وزیر اعظم کے خطاب میں آنے والے وقت کی سیاسی تصویر

ہری موہن مشرا

لال قلعہ کی فصیل سے یوم آزادی کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی کا قوم کے نام تیسرا خطاب اپنے اگلے سیاسی تیاریوں کی کچھ الجھی سی تصویر پیش کر رہا تھا. اس میں اشارہ ہے کہ وہ 2019 میں اپنی اگلا مرحلہ اعتماد بحال کرنے کے لئے کیسے منصوبوں کے بارے میں سوچ رہے ہیں.

اپنے پہلے مرحلہ کی تقریبا نصف مدت مکمل کر لینے کے بعد مودی کا یہ خطاب لال قلعہ کی فصیل سے ان کے آخری دو خطابوں سے الفاظ اور تیور دونوں ہی معاملوں میں کافی  الگ طرح کا تھا. گزشتہ خطابات میں کئی طرح کے سماجی پیغامات اور قوم پرستی اور ترقی کو نئی سمت میں لے جانے کے لئے سوچھ بھارت ابھیان، میک ان انڈیا، ڈیجیٹل انڈیا، رضاکارانہ طور پر سبسڈی چھوڑنے جیسی منادی ہوا کرتی تھی. لیکن اس بار ایسے ابھیان، پالیسی یا پروگرام ندارد تھے. اس بار جیسے وہ سرکاری حصولیابیوں کے اعداد و شمار گنا رہے تھے، اس سے لگتا ہے کہ اب وہ وعدوں پر نہیں، منصوبوں کی عمل داری پر توجہ مرکوز کررہے ہیں.

انہوں نے اس کے لئے نعرہ بھی گڑھا کہ ‘سَوراج’ کو ‘سُوراج’ میں بدلنا ہے. کامیابیاں گنانے کے چکر میں انہیں شاید قریب ڈیڑھ گھنٹے کی سب سے طویل تقریر دینی پڑی. شاید اسی وجہ سے تقریر الجھی ہوئی بھی لگی اور ہم آہنگی کا فقدان بھی دکھا. انہوں نے صرف گھریلو محاذ پر اعداد و شمار سمیت اپنی کامیابیاں ہی نہیں گنائیں، بلکہ آگے جراؑت مندانہ خارجہ پالیسی کی ڈگر پر بڑھنے کا بھی اشارہ دیا.

وہ اعداد و شمار تو ایسے گنا رہے تھے، جیسے کسی کمپنی کا کوئی سی ای او اپنے حصص یافتگان کو کمپنی کے منافع کی ڈگر پر بلا روک ٹوک بڑھنے کے لئے اعتماد دلا رہا ہو. انہوں نے ریلوے ریزرویشن سے لے کر سڑک تعمیرات میں تیزی، شمسی توانائی میں ترقی سے لے کر بجلی کی دستیابی اور اس بچت کے لئے ایل ای ڈی بلب کے استعمال میں اضافہ،  رسوئی گیس کی دستیابی کے اعداد و شمار سے لے کر کھلے میں رفع حاجت سے آزاد گاؤں اور بیت الخلاء کی تعمیر میں اضافہ جیسی کامیابیوں کا اعداد و شمار کے ساتھ ذکر کیا. جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے پاسپورٹ، آدھار کارڈ بنانے کی سہولیات سے لے کر تمام ضروری کاغذات حاصل کرنے میں آسانی کی باتیں بتائیں. خطاب کے بیشتر حصوں میں ملک میں کئی کام ہی نہیں، بیرون کے کئی ممالک میں ہوئے توانائی اور کاروبارسہولیات سے متعلق معاہدوں کا بھی ذکر کیا. چھوٹے تاجروں کے لئے کرنسی قرض اور جن دھن یوجنا کے بارے میں بھی حوصلہ افزا اعداد و شمار پیش کئے.

یہ الگ بات ہے کہ کچھ ایک اعداد و شمار کو لے کر شکوک ٹھیک اسی طرح پیدا ہو رہے ہیں، جیسے اقتصادی ترقی کی شرح کو لے کر شک ظاہر کیا جا رہا ہے. اسی وجہ سے اس بار انہوں نے اقوام متحدہ کی ایک ایجنسی کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ ملک اگلے دو سال میں دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بن جائے گا. ویسے یہ ذکر کرنا غیر مناسب نہیں ہوگا کہ حال میں آئی کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (کیگ) کی رپورٹ میں رضاکارانہ طور پر رسوئی گیس سبسڈی واپس کرنے والوں کی وجہ سے بچت کے سرکاری اعداد و شمار کو غلط بتا دیا ہے. حکومت کا دعوی ہے کہ اس سے 22000 کروڑ روپے کی بچت ہوئی جبکہ کیگ کا کہنا ہے کہ اس مد میں بچت محض 2000 کروڑ روپے کی ہوئی، باقی رقم ایل پی جی کی عالمی مارکیٹ میں قیمتیں گھٹنے سے بچی. حالاں کہ حکومت سی اے جی کی رپورٹ کی تردید کر رہی ہے اور وزیر اعظم نے لال قلعہ کی فصیل سے پھر وہی دہرایا.

مجموعی طور پر وزیر اعظم کی کوششیں یہ بتانے کی رہیں کہ کس طرح ان کی حکومت نے کام کی ثقافت میں تبدیلی کی ہے اور سرکاری کام کاج میں مہارت، شعور اور جوابدہی کا زور بڑھا ہے. انہوں نے پارلیمنٹ میں گڈس اینڈ سروسس ٹیکس (جی ایس ٹی) بل کے پاس ہونے کا ذکر کیا اور اس کے ذریعہ کاروبار میں سہولیات لانے کے اپنے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کی سمت میں آگے بڑھنے کا دعوی کیا. ان کے خطاب میں کسانوں، تاجروں اور غریبوں، متوسط لوگوں کے لئے اپنی حکومت کے کئے گئے کام کی طویل فہرست تھی.

پہلی بار انہوں نے سماجی تعصب کی بھی بات کی اور ذات، مذہب کے امتیاز سے اوپر اٹھنے کی اپیل کی. ظاہر ہے یہ دلتوں کی ناراضگی دور کرنے کے لئے ہو سکتا ہے. اسی ترتیب میں انہوں نے بدھ، رامانوجاچاریہ، مہاتما گاندھی اور بھیم راؤ امبیڈکر کا ذکر کیا. مہاتما گاندھی کے ساتھ جن سنگھ کے لیڈر دین دیال اپادھیائے کے ذکر کے ذریعے انہوں نے یہ بتانا چاہا کہ ان کی حکومت کے فلاحی منصوبے معاشرے کے نچلے پائیدان کے لوگوں کی ترقی کے لئے ہیں.

لیکن ان کے خطاب کا سب سے جراؑت مندانہ حصہ آخر میں آیا جب انہوں نے ماؤواد، دہشت گردی کے ساتھ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں گلگت اور مغربی پاکستان میں بلوچستان کے لوگوں پر جاری جبر اور مظالم کا ذکر کیا. یہ پاکستان کے ساتھ ایک نئے طرح کی ڈپلومیسی کا اعلان تھا. اس کے آگے نتیجہ چاہے جو ہو، مگر فی الحال اس سے پاکستان کو اشارہ دے دیا گیا ہے کہ اگر وہ کشمیر کا مسئلہ اٹھائے گا تو بھارت بھی بلوچستان کا مسئلہ اٹھانے میں پیچھے نہیں رہے گا. ابھی تک سرکاری پالیسی یہ تھی کہ پاکستان کو دنیا کے اسٹیج پر سرحد پار سے دہشت گردی کے لئے گھیرا جائے. لیکن لال قلعہ کی فصیل سے بلوچستان کی باتیں کہہ کر پاکستان کے اس الزام کو خارج نہیں کیا جا سکے گا کہ بھارت اس علاقے میں دخل نہیں دیتا. بہر حال، اس کا مقصد لوگوں کی راشٹریہ واد کی خوراک پوری کرنا ہو سکتا ہے.

یہاں یہ بتایا جا سکتا ہے کہ ایسی پالیسی کی بحث رام دیو تک کر چکے ہیں اور وزیر اعظم دو دنوں میں دوسری بار اس کا ذکر کر رہے تھے. بہر حال، وزیر اعظم کے اس خطاب میں آگے کی سیاست کے کئی اشارے پوشیدہ ہیں. شاید وہ 2019 کے انتخابات کی تیاری انھیں خطوط پر کرنے والے ہیں.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close