آج کا کالم

وزیر اعظم کے نام میں ایک ندی ہے لیکن وہ گنگا نہیں ہے! 

رویش کمار

وزیر اعظم گنگا جیسی مقدس نہیں ہیں۔ گنگا بھی گنگا جیسی مقدس نہیں ہے. وینکیا نائیڈو نے وزیر اعظم کو دیوتا کہا تھا۔ روی شنکر پرساد نے انہیں گنگا کہہ دیا ہے۔ یہی سلسلہ جاری رہا تو کوئی وزیر انہیں گیتا یا رامائن اعلان کر دے گا۔ کوئی ضلعی سطح کا لیڈر انہیں چاروں وید اعلان کر دے گا۔ کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ وزیر اعظم ہی ویدوں کے لکھنے والے ہیں۔ وہی سناتن ہیں۔ روی شنکر پرساد نے وزیر اعظم پر لگے الزامات کے جواب میں انہیں گنگا جیسی مقدس اعلان کر اپنے عزیز لیڈر اور ندی کا زیادہ ہی نقصان کر دیا۔ نقصان کا یہ مطلب نہ نکالا جائے کہ پرانے نوٹ ردی ہو گئے. سیاست میں نفع نقصان صرف بحثوں میں ہی ہوتا ہے۔ سیاسی الزامات کے جواب میں دیوی دیوتاؤں اور دریا ہواؤں کا آہوان نہیں کیا جانا چاہئے۔ اس سے سیاست کی سطح گرتی ہے. اس سے زیادہ دیوی دیوتاؤں کی سطح گر جاتی ہے۔

جب سیاست ہی گنگا جیسی مقدس نہیں ہے تو روی شنکر پرساد کو وزیر اعظم گنگا جیسی مقدس کہاں سے نظر آتے ہیں؟ وزیر اعظم بہتر ہو سکتے ہیں۔ باصلاحیت ہو سکتے ہیں. ایماندار بھی ہو سکتے ہیں. یہ کہاں لکھا ہے کہ جو ایماندار ہے وہ گنگا جیسی مقدس ہے. پاکیزگی کا مقابلہ شروع ہوگیا تو ہندوستانی لوک روایت کے کئی اور دعویدار نکل آئیں گے. ساوتری کہے گی کہ اس سے مقدس کوئی نہیں. شرون کمار کہیں گے کہ ان سے مقدس کوئی نہیں ہے.میرا مطلب بہت ساری نئی چیزیں نکل کر سامنےآئیں گی. 2014 کا لوک سبھا  الیکشن سب سے مہنگا الیکشن تھا. کیا کوئی قسم کھا سکتا ہے کہ اس میں خرچ ہوا پیسہ گومكھ سے نکلا تھا. کوئی بھی سیاسی پارٹی ہو، آپ کوئی بھی نام لے لیجئے، ان کے کام کاج میں کالا دھن ہوتا ہی ہوتا ہے۔ کسی پارٹی میں کوئی لیڈر خود نہیں لیتا تو اس کی پارٹی لے لیتی ہے. پارٹی نہیں لیتی تو اس کا کوئی دوسرا لیڈر لے لیتا ہے. چنانچہ سیاست میں ایمانداری کو بھی انسانی خصوصیت سمجھنی چاہئے نہ کہ کوئی آسمانی خصوصیت۔

راہل گاندھی سے پہلے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے دہلی اسمبلی میں ان دستاویزات کو رکھا تھا۔ تب چینلوں نے لائیو تو دکھایا اور ان کے انٹرویو بھی دکھائے لیکن سب نے اس طرح سے دکھایا جیسے نا دکھایا ہو۔ اس پر آگے بات نہیں ہوئی. بی جے پی نے جواب نہ دینے جیسا جواب دیا. اس کے بعد پرشانت بھوشن اسے سپریم کورٹ لے گئے۔ میڈیا نےکور نہیں کرنے جیسا کورکیا۔ اكونومك اینڈ پولٹكل ویکلی، اسکرول اور دی وائر جیسی ویب سائٹ نے اسے تفصیل سے شائع کیا. بی جے پی نے پھر جواب  نا دینے جیسا جواب دیا. اگر تب کوئی کسی ندی  یا دیوتا کی قسم کھا لیتا تو شاید اور کور مل جاتا ہے. اس معاملے میں روی شنکر پرساد نے میڈیا کی زیادہ مدد کر دی۔ اب وزیر اعظم کو گنگا کہا ہے تو شائع کرنا ہی پڑے گا۔ ساتھ میں چھوٹا سا یہ بھی شائع کیا جائے جائے گا کہ کیوں کہا ہے؟ ابھی تک اس معاملے میں پریس میں بچ بچا کر لکھنے اور نہ لکھنے کا پورا معاملہ مشکوک ہے. سب وزیر اعظم سے خوف کھاتے ہیں۔ راہل گاندھی کے انہیں الزامات کو دوہرا دینے سے یہ ہوا ہے کہ سیاسی الزام تراشی کی آڑ میں میڈیا کو اس خوف سے نجات ملی ہے۔ وہ نہ کے برابر چھاپنے، نہ چھاپنے، نہ کے برابر دکھانے یا نہ دکھانے کے خوف سے آزاد ہو گیا۔ راہل گاندھی سنجیدہ سیاستداں نہیں ہیں اسے بار بار کہنے کے لیے بی جے پی پوری سنجیدگی سے پریس کے سامنے آتی ہے۔ اس ایک بات کو ثابت کرنے کے لئے بی جے پی کی سنجیدگی کا قائل ہو جاتا ہوں۔

بہر حال، میڈیا نے اس آزادی میں بھی دودھ میں پانی ملا دیا۔ میڈیا نے یہ لائن پکڑ لی کہ اس میں تو شیلا دکشت کا بھی نام ہے۔ لیکن میڈیا نے یہ نہیں دیکھا کہ اسی لسٹ میں کچھ بی جے پی کے وزیر اعلی کا بھی ذکر ہے۔ کانگریس کے لیڈر کے بہانے بی جے پی کے سپریم لیڈر پر لگے الزامات کو کاٹا یا مٹایا جانے لگا۔ میڈیا نے آرام سے باقی لیڈروں کو نظر انداز کر دیا۔ اس کے لئے یہ اسٹوری کسی کام کی نہیں تھی کہ سہارا کی ڈائری میں 100 لیڈروں کے نام ملے ہیں۔ اس ڈائری میں مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی کے بارے میں بھی لکھا ہے کہ انہیں پیسے دیے گئے۔ کیا میڈیا کو وزیر اعظم پر لگے الزامات کے ساتھ ساتھ یہ سوال نہیں پوچھنا چاہئے کہ اگر گھوٹالہ یا کالا دھن اہم ہے تو باقی لیڈران کو کیوں چھوڑا گیا؟ کیا وہ ڈائری صرف اسی لئے ضروری ہے کہ اس میں وزیر اعظم کا نام ہے کہ انہیں گجرات کے وزیر اعلی رہتے ہوئے سہارا کی طرف سے کروڑوں روپے پهنچائے گئے وہ بھی ان کے گھر پر۔ باقی نام یا لیڈر کیوں نہیں اہم ہیں؟ ڈائری میں 18 پارٹیوں کے لیڈران کو پیسے دینے کی بات ہے۔ کیا ہندوستانی سیاست کے  لئے ضروری نہیں ہے کہ اس کی تحقیقات ہو؟ آپ سب جانتے ہیں کہ سہارا سربراہ جیل میں ہیں۔ ان پر لوگوں کے پیسے نہ دینے کے سنگین الزامات ہیں۔ اسی سلسلے میں سہارا کے یہاں کئی چھاپے پڑے ہیں۔ اسی سیاق میں یہ ڈائری ملی ہے۔ اس ڈائری سے بھلے ہی وزیر اعظم کے خلاف کوئی الزام ثابت نہ ہو، لیکن کیا یہ ڈائری ان امور کے لئے بھی بیکار ہے جس کے لئے چھاپے پڑ رہے ہیں اور سہارا سربراہ جیل میں ہیں؟ کیا سپریم کورٹ کو یہ سب نہیں جاننا ہے؟ کیوں نہیں جاننا ہے؟ انکم ٹیکس محکمہ نے اپنی طرف سے اس کی کوئی جانچ پڑتال کی ہے؟ سپریم کورٹ نے محکمہ انکم ٹیکس سے یہ سوال پوچھا ہے؟ کہیں وزیر اعظم کا سہارا لے کر ڈائری میں درج باقی ناموں کو بچایا تو نہیں جا رہا ہے؟

یہی نہیں کوئی تحقیق کرنے والا اس معاملے میں زبان کا بھی مطالعہ کر سکتا ہے. جب ٹی وی پر کانگریسی رہنماؤں پر لگے الزامات والے اگستا کا معاملہ آتا ہے تو چینلز پر فلیش ہونے والی سوپر کی زبان کیسی ہوتی ہے. آپ پائیں گے کہ اس میں ایک قسم کی کنفرمٹی یعنی یقین دہانی ہوتی ہے. کانگریس پھنسی نظر آتی ہے. زبان ایسی ہوتی ہے کہ الزام ہی ثبوت اور فیصلہ لگے۔ جب راہل گاندھی نے وزیر اعظم پر الزام لگائے تو چینلز پر جو زبان فلیش ہو رہی تھی اس میں الزام لگانے والے کا مذاق اڑایا جا رہا تھا۔ ارے یہ تو کچھ بھی نہیں ہے. یو کیا بات ہوئی ٹائپ. اروند کیجریوال اور پرشانت بھوشن کے لگائے الزامات کو تو خیر اتنی بھی اہمیت نہیں ملی۔ ایک چینل پر دیکھا کہ شیلا دکشت کی تصویر چلنے لگی جبکہ اسی کیس میں وزیر اعظم مودی کی تصویر نہیں چلي ڈائري میں نامزد باقی لیڈران کی تصاویر کیوں نہیں چلیں؟ چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی کی تصویر کیوں نہیں دکھائی گئی اور ان کے بیان کیوں نہیں لیے گئے؟ صرف شیلا دکشت کا بیان کیوں لیا گیا؟

ڈائری اپنے آپ میں کافی ثبوت نہیں ہو سکتی. پوری بحث میں قارئین کو یہ بات نہیں بھولني چاہئے لیکن جس ڈائری میں 100 لیڈران کو 100 کروڑ دینے کی بات ہے، اس کی جانچ کس دلیل سے نہیں ہونی چاہئے۔ کیا کسی معاملے کی جانچ ثبوت ملنے کے بعد ہوتی ہے یا ثبوت ملے تو جانچ ہوتی ہے۔ روی شنکر پرساد نے وزیر اعظم کو گنگا جیسی مقدس قرار دیا، کیا باقی کے 99 لیڈر بھی گنگا جیسی مقدس ہیں؟ کیا روی شنکر پرساد وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ انہیں بھی كلن چٹ دے سکتے ہیں؟ ظاہر ہے وہ ایسا نہیں کرنا چاہیں گے۔ بھارتی سیاست نہ تو گنگا ہے نہ کوئی لیڈر گنگا جیسا مقدس۔

کسی بھی سیاسی الزام کی صورت میں صحیح روایت کیا ہے؟ یہی ہے کہ تحقیقات کرا کر دیکھ لیجئے. زیادہ تر الزام سچے-جھوٹے نکلنے کے بجائے برسوں تک گھومتے رہ جاتے ہیں۔ سیاسی الزامات کی یہی حالت ہوتی ہے۔ اسے لے کر جذباتی ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آئیڈیلی بی جے پی کہہ سکتی تھی کہ تحقیقات ہو جائے۔ لوک پال ہوتا تو اسے کچھ کام بھی ملتا۔ ویسے یہ تحقیقات صرف وزیر اعظم کے لئے کیوں ہو، باقی کے 99 لیڈران کے لئے بھی ہونی چاہئے۔ کیا بی جے پی نہیں چاہے گی کہ اس ڈائری میں اس کے مخالف رہنماؤں کے نام ہیں، اس وجہ سے جانچ ہونی چاہئے؟ اس ڈائری میں وزیر اعظم کا نام نہیں ہوتا، باقی مخالف لیڈروں کا نام ہوتا تو بی جے پی روز پریس کانفرنس کرتی۔ اس کے وزیر ایک ہی بات کو مختلف پریس کانفرنس میں کہتے تاکہ دن بھر وہی بات چینلز پر فلیش ہوتی رہے۔ میڈیا کے اسٹوڈینٹس کو ان سب کا بھی مطالعہ کرنا چاہئے۔ بی جے پی سے یہ سوال پوچھا جانا چاہئے کہ وہ باقی رہنماؤں کو کیوں بچا رہی ہے؟ کیا انہیں بچانے کے نام پر سہارا کو بچا رہی ہے؟ یہ بھی تو الزام لگ سکتا ہے۔

کیا سیاسی الزامات کو اس بنیاد پر خارج کیا جائے گا کہ جس پر الزام لگا ہے وہ کس ندی  کے مقابلے زیادہ مقدس ہے؟ کیا یہ کہا جائے گا کہ ملزم گنگا ہے، جمنا ہے، نرمدا ہے، گنڈک ہے، سون ہے، پن پن ہے، کویل ہے، چمبل ہے، میگھنا ہے، پدما ہے، برہمپتر ہے، بھاگیرتھی ہے، ہگلی ہے. ویسے روی شنکر پرساد کو نہیں معلوم۔ وزیر اعظم کے نام پر ایک ندی ہے. دامودر ندی۔ ہے تو باپ کا لیکن دامودر بھی تو ندی ہے۔ ان کا پورا نام ہے نریندر دامودرداس مودی۔ اس تنازعہ کا سب سے اچھا پہلو یہ رہا کہ مجھے ان کے نام میں ایک ندی ملی۔ ویسے روی شنکر بھی تو شنکر ہیں جن کی جٹا سے گنگا نکلی ہے!

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close