آج کا کالم

وزیر زراعت یوگ میں اور کسان آندولن میں !

رويش کمار

ایک قومی فہرست بننی چاہئے کہ کس معاملے پر سیاست ہوگی اور کس معاملے پر نہیں ہوگی. اس میں یہ بھی طے ہونا چاہئے کہ کب سیاست ہوگی اور کب نہیں ہوگی. آخری بار کے لئے ایک فہرست بن ہی جانی چاہیے. بی جے پی اور کانگریس دونوں مل کر طے کر لیں تو باقی جماعتیں بھی اپنی فہرست بنا ہی لیں گے. کیونکہ اس سے کنفیوژن ہوتا ہے کہ جو پہلے جایا کرتے تھے وہ اب کیوں کہہ رہے ہیں کہ ایسے موقعوں پر نہیں جانا چاہئے.

راہل گاندھی نے جب مدھیہ پردیش کے مندسور جانے کا فیصلہ کیا تو مخالفت اس بات کو لے ہویی کہ انہیں ابھی وہاں نہیں جانا چاہئے. انتظامیہ کی بھی یہی درخواست تھی. اس کے باوجود راہل گاندھی راجستھان کی جانب سے گئے اور تین کلومیٹر پیدل چل کر، موٹر سائیکل سے چل کر مندسور پہنچے. بی جے پی کے سمبت پاترا نے راہل گاندھی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیاسی سیاحت کر رہے ہیں اور سیاسی کیریئر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں . راہل گاندھی نے ٹویٹ کر کہا کہ کون سا قانون کسانوں کے ساتھ کھڑا ہونے کے لئے روکتا ہے، جو اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں . راہل کو حراست میں لیا گیا مگر شام ہوتے ہوتے ضمانت مل گئی. خبر آئی کہ راہل مدھیہ پردیش کے کسانوں سے مل سکتے ہیں مگر راجستھان کی سرحد میں جا کر مل سکتے ہیں . راہل نے پہلے کہا تھا کہ جب تک متاثرہ خاندانوں سے نہیں ملیں گے تو ضمانت نہیں لیں گے لیکن خاندان والوں سے فون پر بات کرنے کے بعد حالات معمول پر آ گئے. راہل گاندھی کے علاوہ جنتا دل یونائٹیڈ کے لیڈر شرد یادو بھی گئے تھے. انہیں بھی روکا گیا. مدھیہ پردیش بی جے پی صدر کو بھی جانے سے روکا گیا ہے.

مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش میں کسانوں کا اتنا بڑا آندولن ہو گیا لیکن وزیر زراعت رادھا موہن سنگھ اپنے پارلیمانی حلقہ موتیہاری میں بابا رام دیو کے ساتھ یوگا پروگرام میں دکھائی دیے. ایسے کشیدہ وقت میں کسانوں کے درمیان نہ جانے کا مشورہ راہل گاندھی کو دیا گیا مگر اس پر بہتر عمل وزیر زراعت نے کیا. پانچ کسانوں کی موت کے بعد بھی وزیر زراعت نہیں بولے ہیں . شاید ان کا دل یوگا میں ڈوبا ہوا ہے. کسانوں سے بات چیت میں بھی ان کی کوئی کردار ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے.

ویسے یوگا کے تییں اتنی ہی محبت ہے تو کم از کم وزیر زراعت یوگا کرتے وقت صدری یعنی جیکٹ اتار سکتے تھے. اس سے وہ اور کمفر ٹیبل ہو جاتے. بابا رام دیو کی طرح ان سے یوگا کے آسن کی توقع نہیں کی جا سکتی مگر وزیر زراعت کے آسنوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ یوگا کی تشہیر کرنے کے مرکزی حکومت کے مہم کے تئیں سنجیدہ نہیں ہیں . بابا رام دیو نے عام عوام کے لئے آسان آسن ہی بتائے مگر انہیں کرتے ہوئے بھی وزیر جی ایسے دیکھ رہے تھے جیسے پہلی بار یوگا کر رہے ہوں . ایک کرنسی میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بابا رام دیو کے پاؤں بالکل براہ راست اور تنے ہوئے ہیں . لیکن وزیر زراعت جی نے بابا رام دیو کی نظر دوسری طرف ہوتے ہی اپنا گھٹنا موڑ لیا ہے. یوگا کا کوئی اوسط استاد بتائے گا کہ وزیر جی آسن صحیح نہیں ہوا. یہ اس وقت ہے جب وزیر زراعت ٹھیک ٹھاک فٹ نظر آتے ہیں . وركشاسن ایک بہت آسان آسن تو نہیں مگر سانس اور توجہ پر کنٹرول اور توازن سے آپ کر سکتے ہیں . یہ آسن میں کر لیتا ہوں . آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بابا رام دیو وركشاسن کی کرنسی میں مستحکم ہیں مگر وزیر زراعت غیر مستحکم لگ رہے ہیں . ان کے پاؤں ٹک نہیں رہے ہیں . ایسا لگ رہا ہے کہ وہ ہیں تو موتیہاری میں مگر ذہن مندسور میں گھوم رہا ہے. یوگا مہم کے تین سال ہونے پر وزیر اعظم کو بھی اپنے وزراء کی یوگا قابلیت کی جانچ کرنا چاہئے اور ایک یوگا کارکردگی میٹر بنانا چاہیے جس سے پتہ چلے کہ یوگا کرنے میں کون سا وزیر زیادہ موثر ہے اور کون اوسط. آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ اینکر یوگا مخالف ہے، تو صرف اتنی سی معلومات شامل کر رہا ہوں کہ ہفتے میں تین دن تو سوا گھنٹے یوگا کر ہی لیتا ہوں . کچھ آسنوں میں ماہر ہوں اور کچھ میں بے حد اوسط. جب کسانوں کی زندگی میں کشیدگی بڑھ جائے تو یوگا کیا جائے، آپ کی زندگی میں بھی بڑھ جائے تو بھی آپ یوگا کر سکتے ہیں . وزیر زراعت نے بدھ کو دہلی میں اپنی پریس کانفرنس ناگزیر وجوہات کے لئے منسوخ کر دی تھی. لگتا ہے وہ ناگزیر وجہ پریس کانفرنس کے منسوخ ہوتے ہی ختم ہو گئے. وزیر زراعت کو یوگا کرتے ہوئے دیکھیں گے تو آپ کو یقین نہیں ہو گا کہ مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر میں کسان آندولن کر رہے ہیں ، خود کشی کر رہے ہیں یا گولی کھا رہے ہیں .

آسن پر بیٹھے لوگ اس طرح آسن کریں گے یہ یوگا کے لئے ٹھیک نہیں ہے. آپ سوچیں گے کہ یوگا پر اتنا زور کیوں دیا. پانچ کسانوں کی موت کے بعد اگر وزیر زراعت یوگا کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ یوگا زیادہ اہم ہے. کسانوں کی موت پر عوامی طور پر تو کچھ نہیں کہا مگر وزیر اعظم نے آندولن کے بارے میں اپنے وزراء سے بات چیت کی ہے. رپورٹ بھی مانگی گیی. وزیر اعظم نے بھی جمعرات کو یوگا کی ایک آسن ٹویٹ کیا ہے. یہ بھجگ آسن ہے، اس کے بارے میں وزیر اعظم نے کہا ہے کہ یہ کرنے سے کشیدگی اور تھکاوٹ کم ہوتی ہے. خون کی رفتار بڑھتی ہے. یہ آسن میں کرتا ہوں ، لہذا بتا سکتا ہوں کہ بات صحیح ہے. بہت آرام ملتا ہے. پیٹھ کی مرمت بھی ہو جاتی ہے.

بھجگ آسن بالکل ٹھیک ہے مگر کسانوں کی موت یا آندولن پر بیان آنے سے ان کی تسلی ہو جاتی ہے کہ بات پہنچ گئی ہے. ویسے مدھیہ پردیش سے دہلی رپورٹ پہنچ گئی ہے. وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ کس طرح اینٹی سوشل ایلمیٹس نے تشدد پھیلایا ہے. جمعرات کو مندسور تو ٹھنڈا رہا مگر شاجاپور میں تشدد بھڑک اٹھا. پولیس نے مشتعل مظاہرین پر قابو پانے کے لئے آنسو گیس کے گولے چھوڑے مگر مظاہرین نے آتشزدگی کر ہی دی. کسانوں کو سمجھنا چاہئے کہ تشدد سے ان کی تحریک کمزور ہوگی اور جان مال کا غیر ضروری نقصان ہوگا. یہ تشدد کسانوں کے مطالبات کو واپس کر دیتا ہے. اس کی کامیابی جتنی نہیں ملتی ہے اس سے کہیں زیادہ طویل وقت کے لئے کسان آندولن واپس چلا جاتا ہے. بہتر ہے کہ تشدد نہ کرنے کی اپیل پر غور کریں اور ان عناصر کی شناخت کریں جو تشدد کو انجام دے رہے ہیں .

مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ بھوپندر سنگھ کو پتہ چل گیا ہے کہ گولی سے مرنے والے کسان پولیس کی گولی سے مرے ہیں . منگل کو انہوں نے کہا تھا کہ پولیس اور سی آر پی ایف کی گولی سے نہیں مرے ہیں . وزیر داخلہ اور آئی جی پولیس کہہ رہے تھے کہ جانچ رپورٹ آنے کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ پولیس کی گولی سے مرے ہیں یا نہیں . اب یہ کون سی تحقیقات کی رپورٹ آ گئی ہے جس کی بنیاد پر وزیر داخلہ کو پتہ چلا ہے، اس کی مجھے معلومات نہیں ہے. وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان مسلسل بات چیت کر رہے ہیں . ریاست میں کئی مقامات پر انٹرنیٹ بند ہے پھر بھی ٹویٹ کر رہے ہیں ، فیس بک پوسٹ کر رہے ہیں . انہوں نے بیان جاری کر امن کی اپیل کی ہے.

مدھیہ پردیش حکومت نے اس آندولن کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ حکومت مونگ 5225، روپے فی کوئنٹل کے اعتبار سے خریدے گی. تور اور اڑد دال 5050 روپے فی کوئنٹل خریدے گی. ایسا نہیں کہ ریاستی حکومت نے زیادہ دام طے شدہ ہیں بلکہ یہ وہی دام ہیں جو مرکز نے 2016-17 کے لئے طے کئے ہیں . کسانوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی کا فیصلہ مندسور کے کسانوں کے لئے نہیں ہے، ہوشنگ آباد کی جانب کے کسانوں کے لیے ہیں . مجھے اتنا علم نہیں ہے پھر بھی کسانوں کی بات حکومت تک پہنچا دے رہا ہوں . ان کا کہنا ہے کہ مالوا کے علاقے کی اہم پیداوار گندم، چنا، سویابین، پوشتا دانا ہیں ، ان پر وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے کوئی اعلان نہیں کیا. تور مهاكوشل، بندیل کھنڈ میں ہوتا ہے. اڑد، مالوا اور مهاكوشل (جبل پور، سني، فصل، چھندواڑہ، شهڈول، بالاگھاٹ، شمسی) میں . تور هردا، ہوشنگ آباد، نرمدا کے کسان اگاتے ہیں جبکہ مونگ کی کاشت پوری ریاست میں ہوتی ہے.

کسانوں کا کہنا ہے کہ مئی کے مہینے میں پیک ٹائم میں ، جب کسان تر دال لے کر منڈی پہنچے تو کم از کم امدادی قیمت پر خرید بند ہو گئی تھی. حکومت کا خریداری ہدف بھی پیداوار سے بہت کم تھا. ساتھ ہی خرید کی شرائط اتنی مشکل تھی کہ مدھیہ پردیش میں چاول کا کٹورا کہے جانے والے نرسهپر کے ایک شخص نے بتایا کہ وہاں کی دالیں بھی رجیکٹ ہو گئیں تھیں . کم از کم امدادی قیمت نہ ملنے کی وجہ سے کسانوں کو 8 اگست 2016 سے بھی ہزار روپے کم پر تور دال بیچنی پڑی.

یہ ریٹ کارڈ ہے 6 جون کا. اس کے مطابق 6 جون کو مدھیہ پردیش کی مشہور كریلي منڈی میں تر دال 3100-3240 روپے تھی. نيونمت امدادی قیمت کے مقابلے میں کسانوں کو 1150 روپے فی کوئنٹل کا نقصان ہوا. وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے کہا ہے کہ وہ موسم گرما مونگ 5225 روپے فی کوئنٹل پر خریدیں . اس کے بارے میں ایک کسان لیڈر نے فون پر بتایا کہ مرکزی حکومت گريش مكالي مونگ کو مونگ نہیں مانتی ہے. جبکہ اس بار مدھیہ پردیش میں سوا دو ملین ہیکٹر میں اس کی پیداوار ہو گئی ہے. حکومت برسات والی مونگ ہی خریدتی ہے.

لیکن اب کسان آندولن کی وجہ سے گرمی والی مونگ 5225 روپے فی کوئنٹل کے اعتبار سے خریدنے جا رہی ہے. کسانوں نے کہا کہ نرسهپر میں مونگ اور اڑد خریدنے کے سرکاری مراکز ہی نہیں تھے. كریلي منڈی میں مونگ 3500 سے 3589 میں روپے مئی کے مہینے میں بکا ہے. اب حکومت 1725 روپے زیادہ پر خریدنے کا وعدہ کر رہی ہے.

اسی ہفتے دہلی میں بھارت کے اہم اقتصادی مشیر اروند سبرمي نے کہا ہے کہ متوسط امدادی قیمت دینے کے بعد بھی 60 فیصد کسانوں کو اس سے کم پر دالیں بیچنی پڑی ہیں . 16 ستمبر 2016 کے بزنس سٹینڈرڈ میں پی ٹی آئی کے حوالے سے ایک خبر شائع ہویی. اس کے مطابق 2017 کے لئے اہم اقتصادی مشیر نے تور دال کی کم از کم امدادی قیمت 6000 تجویذ کی تھی، 2018 کے لئے 7000 فی کوئنٹل بتایا تھا مگر حکومت نے 2016-17 کے لئے مقرر کیا 5050 روپے فی کوئنٹل. اقتصادی مشیر نے وزیر خزانہ ارون جیٹلی کو ایک رپورٹ سونپی تھی جس کا عنوانات تھا ‘Incentivising Pulses Production Through Minimum Support Price (MSP) and Related Policies.’

آپ نے دیکھا کہ بھارت کے اہم اقتصادی مشیر کا کہنا ہے کہ تور اور اڑد کی متوسط امدادی قیمت 6000 فی کوئنٹل ہونا چاہئے. حکومت ان تجاویز سے 950 روپیہ کم طے کرتی ہے. اتنا ہی نہیں ، جب کسان بازار میں فروخت کرنے گئے تو 1150 روپے کا نقصان اٹھانا پڑ گیا. کسانوں کو اگر اس کی معلومات ہوتی کہ اہم اقتصادی مشیر نے 6000 روپے فی کوئنٹل کا مشورہ دیا ہے تو وہ یہ دام مانگ رہے ہوتے. سریش گوجر بھارتیہ کسان یونین کے لیڈر ہیں ، اس وقت یونین کی کل ہند مجلس عاملہ کے رکن ہیں ، تین سال مدھیہ پردیش کسان یونین کے ریاستی صدر رہے ہیں . جمعرات کو هردا کے ایک گاؤں میں موجود تھے تب ہماری ساتھی اديت راجپوت نے فون پر ان کا بیان لیا اور پڑھ کر بھی سنایا تاکہ غلط کوٹ نہ ہو جائے. انہوں نے کہا، ” مودی جی جب افریقی ملک گئے تھے تب انہوں نے کہا تھا کہ آپ ارہر پیدا کرئے 6000 روپے کوئنٹل قیمت دیں گے لیکن بھارت میں آج کسان کو 4000-5000 روپے فی کوئنٹل بھی نہیں مل رہا ہے. ”

ابھی دیکھئے، اقتصادی مشیر بھی 6000 فی کوئنٹل بتاتے ہیں ، وزیر اعظم بھی 6000 فی کوئنٹل کا وعدہ کرتے ہیں تو پھر کسانوں کو حکومت 5050 روپے فی کوئنٹل میں لینے کا کس طرح فیصلہ کر دیتی ہے. ویسے. ایک کسان نے وهاٹس اپ کے ذریعہ فہرست بھیجی ہے کہ میں اسے پڑھ دوں تو میں مدھیہ پردیش حکومت کی سہولت کے لئے پڑھ رہا ہوں . ایک طرف ہاتھ سے لکھے ریٹ کی تصویر ہوگی اور دوسری طرف تقریبا حروف میں گرافکس ڈیزائنر کی كوچي لکھا ریٹ.

– سویابین کا 5000 فی کوئنٹل دام ملے۔

– میتھی کا 8000 فی کوئنٹل کا دام ملے۔

– اسبگول کا 10،000 فی کوئنٹل دام ملے۔

– کلؤں جی کا 25000 فی کوئنٹل دام ملے۔

– پیاز کا 2000 فی کوئنٹل کا دام ملے۔

– گائے کے دودھ کا ریٹ 40 روپے فی لیٹر مقرر ہو۔

– بھینس کا دودھ کا ریٹ 50 روپے فی لیٹر ہو۔

ہم نے کسانوں کا یہ مطالبہ پورا کردیا کہ ٹی وی پر چلا دیں گے، اب حکومت کی باری ہے. اجین کے پپلودا گاؤں سے جيتےدر سنگھ پوار نے وهاٹس اپ کے ذریعہ بتایا ہے کہ دودھ کی پیداوار اور فروخت میں کسانوں کو کتنا نقصان ہو رہا ہے. ہم ان کی جاری یہاں پیش کر رہے ہیں تاکہ یو پی ایس سی کے امتحان میں میں لکھ سکیں اور اگر ریلوے میں بحالی نکلی تو یہ معلومات اس میں بھی کام آ سکتی ہے.

– دودھ کی لاگت آتی ہے 28-30 روپے لیٹر۔

– امول، اجین دودھ یونین 26-27 روپے لیٹر میں لیتے ہیں ۔

– بازار میں دودھ 45 لیٹر۔

– کلیکٹر طے کرتے ہیں دودھ کے دام۔

– بھینس کو کھلائی جانے والی کھلی 70 کلو کی بوری 1800 روپے کی۔

بات آندولن یا موت کے بعد رہنماؤں کے دورے کی ہوئی تھی. ان دوروں کا اندازہ ہونا چاہئے. مثلا اس دوران پوچھے گئے وعدوں کا کیا ہوتا ہے، اس سے پالیسیوں میں کیا تبدیلی آتی ہے وغیرہ وغیرہ.

اکتوبر 2013 میں پٹنہ میں وزیر اعظم مودی کی ہنکار ریلی سے پہلے کئی دھماکے ہوئے تھے. اس میں چھ لوگوں کی موت ہو گئی تھی اور 83 افراد زخمی ہو گئے تھے. ان بون کلش سفر میں صوبہ بی جے پی کے رہنما شامل ہوئے تھے، پانچ لاکھ کی امدادی رقم دی تھی اور وعدہ کیا تھا کہ پرائیویٹ سیکٹر میں خاندان کے ایک رکن کو ریاست یا ریاست کے باہر نوکری دلانے کی کوشش کریں گے. وزیر اعظم نے چار متاثرین کے خاندان کے گھر جاکر تعزیت کی تھی اور پانچ پانچ لاکھ کے چیک دیئے تھے. جن دو لوگوں سے نہیں مل پائے تھے ان سے فون پر بات کی تھی. اس بات چیت کو ٹی وی پر دکھایا گیا تھا.

اس کے بعد جب وزیر اعظم گوپال گنج ریلی کے لئے گئے تو پریا کو شال بھی دی تھی اور اسٹیج پر اس کو جگہ دی گئی تھی. پریا نے وزیر اعظم سے گجراتی میں بات کی تھی تب انہوں نے کہا تھا کہ پوری فکر پارٹی کرے گی. فرسٹ پوسٹ نے 1 نومبر 2013 میں کہانی کی تھی کہ انہیں نوکری کا وعدہ کب پورا ہوگا، كونٹ ویب سائٹ نے اکتوبر 2016 میں کہانی کور تھی کہ پٹنہ دھماکے کے متاثرین کو ملازمت دینے کا وعدہ پورا نہیں ہوا ہے. ہمارے ساتھی سنیل تیواری نے پریا سے بات کی، پریا کی بچی کو گود لینے کا وعدہ کیا گیا تھا. نہ نوکری ملی ہے نہ بچی کو گود لیا گیا ہے. پانچ لاکھ کا چیک کا وعدہ تھا جو اسی وقت دے دیا گیا تھا سب کو. پریا اب بہنوئی کے یہاں رہتی ہے.

اس بات کا اندازہ ہونا چاہئے کہ ہمارے لیڈر عوام سے جو وعدہ کرتے ہیں اس کا کتنا حصہ پورا ہوتا ہے. بہار بی جے پی کو فوری طور پر پریا کی مدد کرنی چاہئے. انہی کا وعدہ تھا کہ کام دلانے میں مدد کی جائے گی.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close