آج کا کالم

وسطی ایشیا سے آیا مدھول ہاؤنڈ کتا کانگریس کو کیسے دیش بھکتی سکھائے گا؟

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ کانگریس کو شمالی کرناٹک میں پائے جانے والے مدھول ہاؤنڈ کتے سے دیش بھکتی سیکھنی چاہیے

رويش کمار

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ کانگریس کو شمالی کرناٹک میں پائے جانے والے مدھول ہاؤنڈ کتے سے دیش بھکتی سیکھنی چاہیے، جسے ہندوستانی فوج میں شامل کیا گیا ہے۔ راہل گاندھی کا نام تو نہیں لیا، مگر JNU میں راہل ہی گئے تھے۔ وہاں لگائے گئے جس نعرے کا ذکر وزیر اعظم نے کیا ہے، اس کی سچائی کا آج تک پتہ نہیں چلا کہ کس نے نعرے لگائے تھے اور نہ ہی وہ آج تک پکڑے گئے۔

وزیر اعظم ایک کتے سے دیش بھکتی کی سیکھ لینے کی کہہ رہے ہیں۔ کبھی ان کی پارٹی کے لوگ ٹینک سے دیش بھکتی سیکھنے کی بات کرتے ہیں تو کبھی کسی اور چیز سے۔ ہندوستانی فوج میں گھوڑے بھی ہوں گے، ان سے بھی دیش بھکتی سیکھنے کا سلیبس لانچ کیا جا سکتا ہے۔ اپوزیشن کے نیتا اور پارٹی کی اس طرح تحقیر و تذلیل کرنا جمہوریت کے لیے اچھا نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وزیر اعظم پہلی بار ایسا کر رہے ہیں۔ دنیا میں ایسا کئی بار ہو چکا ہے اور نیتاؤں پر ریسرچ کرنے والوں نے باقاعدہ لکھا ہے کہ جب اقتدار میں آکر کوئی نیتا اپوزیشن کی تحقیر کرنے لگے، تو اس کا مطلب ہے کہ آنے والے دنوں میں جمہوریت کا مستقبل اچھا نہیں ہے۔ یہ ایک پورا پیٹرن ہے کہ کس طرح اپوزیشن کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جانچ ایجنسیوں، ٹیکس ایجنسیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ سب بہت سے ممالک میں ہو چکا ہے۔

خیر وزیر اعظم، وزیر اعظم ہیں۔ وہ بول دیتے ہیں اور الیکشن جیت جاتے ہیں۔ دنیا ان کے کام کو لے کر سوال پوچھتی رہ جاتی ہے اور وزیر اعظم کچھ بھی بول کر الیکشن جیت جاتے ہیں۔ اس لیے ان کے بولنے کو ہی کام سمجھ لینا چاہیے۔ اب اگر مدھول ہاؤنڈ سے دیش بھکتی سیکھنے کی بات کہہ دی ہے تو اس کے بارے میں تھوڑا سا جان لیتے ہیں۔ اپنے کیے گئے وعدے پر نہیں بولنے کے لیے وزیر اعظم کتنا ریسرچ کرتے ہیں۔ ان کی ٹیم کمال کی ہے۔

ہم وکی پیڈیا پر گئے۔ ابھی وکی پیڈیا کی معلومات ہے تو احتیاط کی بھی ضروری ہے۔ وہاں لکھا ہے کہ مدھول ہاؤنڈ کو كیرواں ہاؤنڈ بھی کہتے ہیں۔ اس کا تعلق ‘كیرواں’ میگزین سے نہیں ہے، جس نے جج لويا کی موت کی خبر مسلسل شائع کی۔ نہ ہی وزیر اعظم کا وہ مقصد بھی ہوگا۔ وکی پیڈیا بتاتا ہے کہ دکن کے علاقوں کے دیہات میں یہ کتا گھر گھر میں پالا جاتا ہے۔ یہ شکار اور چوکیداری کے کام آتا ہے۔

جنوری، 2005 میں بھارتی محکمہ ڈاک نے اس کتے پر پانچ روپے کا ڈاک ٹکٹ جاری کیا تھا۔ اس کے ساتھ تین اور کتوں پر ڈاک ٹکٹ جاری ہوا تھا۔ ان کے نام ہیں: ہمالین شيپ، رامپور ہاؤنڈ، راجاپلايم ۔ راہل گاندھی کی آلسی ٹیم میں کوئی مودی کی ٹیم کا بندہ ہوتا تو فوری طور پر گوگل کرکے بتا دیتا۔! بول دیتا کہ جب 2005 میں ہماری حکومت آئی، تو ہم نے مدھول ہاؤنڈ ہی نہیں، تین دیگر بھارتی نسل کے کتوں پر ڈاک ٹکٹ جاری کروایا تھا، لیکن جب راہل کی ٹیم میں کوئی ایسا نہیں ہے، تو نہیں ہے۔

وکی پیڈیا بتاتا ہے کہ وسطی ایشیا سے یہ بريڈ مغربی ہندوستان کے دکنی پٹھار پر پہنچی۔ اسے سلكی نسل کا وارث مانا جاتا ہے۔ اسے کون لایا، کس طرح لایا، اس کی معلومات نہیں ہے۔ اب وزیر اعظم نے اس کا نام لے لیا ہے، تو کوئی تنظیم شاید ہی اسے بابر سے جوڑنے کی ہمت کرے۔

یہ کتّا کرناٹک، آندھرا پردیش اور مہاراشٹر میں پایا جاتا ہے۔ کرناٹک کے مدھول تالکہ کا بريڈ زیادہ مقبول ہے، نام بھی تالُکہ کی بنیاد پر ہے۔ 19 ویں صدی کے آخر میں مدھول اسٹیٹ کے شری منت راجے صاحب ملوجی راو گھور پڑے کو اس نسل کے کتے کو مقبول بنانے کا سہرا انھیں کے نام کیا جاتا ہے۔  آدی باسیوں کے درمیان یہ کتا پہلے مقبول تھا، مگر ان کے درمیان مقبول ہونا مقبول نہیں سمجھا جاتا۔ ان کا مال لے کر کسی نے دنیا کو بتا دیا، تو وہ مقبول کہا جاتا ہے۔

خیر، شريمنت صاحب نے دیکھا کہ آدی واسی اس کتے کا استعمال شکار کے لیے کرتے ہیں۔ یہ کتا روتا نہیں ہے۔ جب راجے صاحب 1900 میں انگلینڈ گئے تھے، تب اس نسل کا ایک جوڑا کتا کنگ جارج پنجم کو ہدیہ کیا تھا، جس کی وجہ سے یہ بہت مقبول ہوا۔

گزشتہ سال نومبر میں بھارتی فوج میں اس نسل کے چھ کتے شامل کیے گئے۔ ہندوستانی فوج میں شامل ہونے والی یہ پہلی دیسی نسل ہے۔ میرٹھ میں اس کی ٹریننگ ہوتی ہے، تاکہ یہ فوج میں شامل ہو سکے۔ دیش بھکتی کس طرح سیکھی جائے، یہ سمجھ نہیں آرہا ہے۔ کیا اب جرمن شیفرڈ کو غدار کہا جائے گا، جو پہلے سے فوج میں کافی مقبول رہا ہے؟

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close