آج کا کالم

ون رینک، ون پنشن پر کیوں آ رہی ہے مشکل؟

رویش کمار

سابق فوجی رام كشن گیریوال نے منگل کو دہلی میں زہر کھا کر خود کشی کر لی۔ ہریانہ کے بھیوانی ضلع کے باملا گاؤں کے رہنے والے رام كشن نے زہر کھانے سے پہلے کسی کو نہیں بتایا۔ رام كشن نے زہر کھانے کے بعد اپنے بیٹے کو بھی فون کیا کہ میں نے زہر کھا لیا ہے۔ اپنی بیوی سے بھی بات کرنے کی خواہش ظاہر کی اور بیٹے سے کہا کہ ان کے ساتھ آئے ساتھیوں کو بتا دے کہ ایسا ہو گیا ہے۔ رام كشن گیریوال نے چھ سال ٹیریٹوريل آرمی میں سروس کی تھی۔

ان کے ساتھی جگدیش جی نے بتایا کہ رام كشن نے 105 Infantry بٹالین میں 6 سال نوکری کی اور اس کے بعد ڈیفنس سروس کور چلے گئے۔ 2004 میں صوبیدار میجر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ ڈیفنس سروس کور سے ریٹائر ہوئے جوانوں کو پنشن ملتی ہے، لیکن جگدیش جی نے فون پر بتایا کہ وہ ٹیریٹوريل آرمی سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ اس شعبے کو واجپئی حکومت کے وقت پہلی بار تسلیم کیا گیا لیکن انہیں ون رینک ون پنشن کا فائدہ نہیں ملا ہے۔ فوج میں 30 سال کام کرنے والے رام كشن جی نے سب کو جمع کیا کہ ہم سب کی لڑائی لڑیں گے۔ ان کے ساتھ ریگولر آرمی کے سابق فوجی بھی 1 نومبر کو دہلی آئے، لیکن وہ سب کے سب جنتر منتر کی طرف چلے تھے کہ رام كشن جی نے خود کشی کر لی۔ چونکہ وہ سینئر تھےاس لئے وہ اس لڑائی کی قیادت کر رہے تھے۔ انہوں نے وزیر دفاع کے نام ایک درخواست بھی لكھی- آج میری طرح ہزاروں فوجی ایسے ہیں جنہوں نے اس طرح دونوں سروسز کی ہیں۔ اور ان کو چھٹے اور ساتویں پے کمیشن اورون رینک ون پنشن کافائدہ نہیں ملا ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ ان تمام کوتاہیوں کو پوری کی جائے۔ ہم آپ کے شکر گزار ہوں گے۔ میں، میرے ملک کے لئے، میری مادر وطن کے لئے اور میرے ملک کے بہادر جوانوں کے لئے اپنی جان کو نچھاور کر رہا ہوں۔

وزیر دفاع اور وزیر اعظم کئی بار ون رینک ون پنشن کی بات کر چکے ہیں۔ حال ہی میں وزیر اعظم نے مدھیہ پردیش اور ہماچل پردیش میں کہا تھا کہ پچھلی حکومت نے ون رینک ون پنشن کے لئے 500 کروڑ دیا تھا، لیکن موجودہ حکومت نے تقریبا 5500 کروڑ کی پہلی قسط بھی جاری کر دی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ون رینک، ون پنشن کے طور پر 10000 کروڑ کا بجٹ ہے، میں نے وزیر اعظم بننے کے بعد فیصلہ کر لیا، کب ریٹائر ہوگا، کس سال ریٹائر ہو گا، کچھ نہیں، سب کو ون رینک ون پنشن ملے گا۔ 10000 کروڑ میں سے ساڑھے پانچ ہزار کروڑ کی رقم دی جا چکی ہے۔ یعنی آدھی رقم تقسیم ہو چکی ہے۔ سابق آرمی چیف اور اب مرکزی وزیر وی کے سنگھ کا بھی بیان آیا ہے۔ وی کے سنگھ نے کہا کہ افسر لیول پر 90 فیصد سے زیادہ مطالبات پورے ہو چکے ہیں۔ جوانوں کے سطح پر کچھ دقت ہے۔ پھر کوئی جوان خود کشی کیوں کرے گا۔ سوال ہے کہ کیا سب کو ون رینک، ون پنشن مل چکا ہے۔ ہمارے ساتھی ارشد جمال یوپی کے اٹاوہ کے فوجی فلاح وبہبود بورڈ کے دفتر گئے۔ یہ ریاستی حکومت کا ادارہ ہے، جس کا کام ہوتا ہے سابق فوجیوں کے تنازعات کو متعلقہ محکموں سے مل کرحل کرنا۔ میں نے بھی دہلی سے دو تین فوجیوں سے بات کی کہ ون رینک، ون پنشن کے بارے میں جو کہا جا رہا ہے، کیا ان کو مل رہا ہے۔

فوجی  فلاح وبہبود بورڈ کے ایک رکن نے بتایا کہ اٹاوہ میں 6491سابق فوجی ہیں۔ اس دفتر کے ذرائع نے بتایا کہ ضلع میں صرف 30 سے 40 فیصد فوجیوں کو ہی ون رینک، ون پنشن کی پہلی قسط ملی ہے۔ ہر دن کوئی نہ کوئی پوچھنے آتا ہے کہ پنشن کی کوئی اطلاع آئی۔ یہاں آنے والے بڑی تعداد میں فوجی بتاتے ہیں کہ اکثریت کو پنشن آرڈر نہیں ملا ہے۔ ایک فوجی نے کہا کہ پچاس فیصد فوجیوں کو ون رینک، ون پنشن کی رقم نہیں ملی ہے۔ فیصد میں بھلے فرق ہو مگر باتوں سے لگا کہ آدھے سے بھی زیادہ ریٹائرڈ فوجیوں کو ون رینک، ون پنشن کی قسط نہیں ملی ہے۔

خود کشی کرنے والے رام كشن جی کے ساتھ آئے ساتھی فوجی نے بھی یہی بات کہی تھی۔ کسی کو ملا ہے کسی کو نہیں ملا ہے۔ اٹاوہ کے ایک شخص نے اپنے والد کا آرمی نمبر دیتے ہوئے کہا کہ لکھنؤ کے گرام پوسٹ گڑھی چنوٹي کے رہنے والے حولدار بھيكھم سنگھ کو ون رینک، ون پنشن کی قسط نہیں ملی ہے۔ ملے گی بھی یا نہیں، اس کی کوئی معلومات ان تک نہیں پہنچی ہے۔ ان کے بیٹے نے اپنے والد کا آرمی نمبر 2947955 بتایا اور کہا کہ 89 میں ریٹائر ہوئے تھے اور 11000 پنشن مل رہی ہے جبکہ ون رینک، ون پنشن کی رقم کا ابھی تک پتہ نہیں۔

 مرکزی وزیر وی کے سنگھ نے کہا کہ جوانوں کو لے کر دقتیں آ رہی ہیں، لیکن افسروں کے 90 فیصد مطالبات پورے ہو گئے ہیں۔ دیکھئے یہاں بھی افسرکا کام سب سے پہلے ہوتا ہے، جوانوں کا کام بعد میں ہوتا ہے۔ اسی طرح الیکٹرانک میکانیکل انجینئر سے ریٹائر ہوئے حولدار بلرام نے فون پر بتایا کہ وہ 2012 میں ریٹائر ہوئے تھے۔ ابھی تک ون رینک، ون پنشن کی کوئی قسط نہیں آئی ہے۔ ان کے کچھ ساتھیوں کی پنشن آ گئی ہے۔

ون رینک، ون پنشن کے تحت نئی پنشن رقم کیا ہوگی، کتنے کی قسط ملے گی، اس کے لئے پنشن آرڈر نہیں ملا ہے۔ جن کے اکاؤنٹ میں پیسہ آیا ہے، انہیں بھی کوئی پنشن آرڈر نہیں ملا ہے کہ کتنا ملنا چاہئے اور کتنا دیا جا رہا ہے۔ کم سے کم ہم نے جن جن سے بات کی، سب نے یہ بات کہی ہے۔ یوپی کے اوريا کے سابق صوبیدار گمبھیر سنگھ کو بھی میں نے فون لگایا جو 2003 میں لکھنؤ کے آرمی میڈیکل کور سے ریٹائر ہوئے تھے۔ گمبھیرسنگھ نے بتایا کہ 2003 میں ریٹائر ہونے کے بعد انہیں 25506 روپے پنشن کے طور پر مل رہے تھے۔ انہیں تین تین ہزار کی دو قسط یعنی 6000 کی رقم تو ملی ہے لیکن کوئی پنشن آرڈر نہیں ملا ہے کہ ون رینک، ون پنشن کے تحت نئی رقم کیا ہوگی۔ مگر 6000 روپیہ کس حساب سے دیا گیا یہی پتہ نہیں ہے۔ گمبھیرسنگھ نے بتایا کہ ان کے بعد الگ الگ یونٹ اور رینک سے ریٹائر ہوئے ان کے کچھ ساتھیوں کے اکاؤنٹ میں 16000 کی رقم آئی ہے، تو کسی کے اکاؤنٹ میں 21000 کی رقم۔ مگر سب کا کہنا ہے کہ کسی کے پاس یہ لکھا نہیں ہے کہ ان کی نئی پنشن کیا ہوگی، 16000 کیوں دیا جا رہا ہے۔ زیادہ تر ساتھیوں کے اکاؤنٹ میں تو پنشن کی کوئی نئی رقم نہیں آئی ہے۔

زیادہ تر فوجی اس کی بھی شکایت کرتے ملے کہ ساتویں پے کمیشن کا پیسہ نہیں ملا ہے، جبکہ بیوروکریسی کے کئی شعبوں کو مل چکا ہے۔ جان دینے میں تو ہمارے فوجی ایک پل کی نہیں سوچتے تو کیا حکومت کو ان کی پنشن اور تنخواہ کا کام بھی جلدی جلدی نہیں کر دینا چاہئے۔ ایک ایسے وقت میں جب ہر دن فوج کے جوانوں کی بات ہو رہی ہے، ان کے نام پر سوالوں کو دبایا جا رہا ہو، ایک فوجی کی خودکشی کی خبر عام تو نہیں ہے۔ دیکھتے دیکھتے ویب سائٹ سے لے کر ٹوئیٹر کی ٹائم لائن پر یہ خبر پھیلنے لگی۔ دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا اور عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی کمانڈر سریندر سنگھ رام منوہر لوہیا ہسپتال پہنچے۔ پولیس نے انہیں وہاں سے گرفتار کر لیا اور پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے پر لے گئی۔ وزیر اعلی کیجریوال سے دھکا مکی ہوئی، جس سے ان کا شیشے ٹوٹ گیا۔

 دوپہر میں ہی کانگریس نائب صدر راہل گاندھی بھی ہسپتال پہنچے۔ راہل گاندھی کو بھی ہسپتال کے گیٹ پر روک دیاگیا۔ اس کے بعد رام كشن گیریوال کی فیملی کے افراد باہر آنے لگے، لیکن کچھ پتہ نہیں چلا۔ راہل گاندھی فیملی کے ارکان سے ملنے کی ضد کرنے لگے تو انہیں بھی گرفتار کر لیا گیا۔ وہاں سے راہل کو مندر مارگ تھانے لے جایا گیا۔ وہاں جب کانگریسی لیڈر اکٹھا ہوئے تو پولیس نے انہیں چھوڑ دیا۔

راہل گاندھی اڑ گئے کہ گھر والوں کو رہا کیا جائے۔ مندر مارگ تھانے سے نکل کر وہ نئی دہلی علاقے کے تھانوں کے چکر لگانے لگے۔ پہلے ساؤتھ ایونیو پولیس چوکی گئے، وہاں سے کناٹ پلیس تھانہ گئے، لیکن جب ملاقات نہیں ہوئی تو وہاں سے تغلق روڈ پر واقع اپنے گھر چلے گئے۔ پھر جیسے ہی اطلاع ملی کہ رام كشن گیریوال کے خاندان والے کناٹ پلیس تھانے پر ہیں، تو راہل وہاں پہنچ گئے۔ جہاں انہیں پولیس نے دوبارہ گرفتارکر لیا۔ تب تک کانگریس کے تمام لیڈر اور کارکن وہاں پہنچ گئے۔ اب پولیس نے راہل کو بٹھاکر تھانے-تھانے گھمانا شروع کر دیا۔ پولیس پہلے انہیں پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے لے گئی، پھر تلک روڈ تھانے، پھر کناٹ پلیس تھانے لے گئی۔ وہاں حامیوں کی بھیڑ تھی، تو پولیس وہاں سے پھر تلک روڈ تھانے لے آئی۔ پر سوال اٹھتا ہے کہ راہل کو رام كشن گیریوال کے خاندان والوں سے کیوں نہیں ملنے دیا گیا۔  پولیس افسر ایم کے مینا صاحب اتنے کیوں اڑے رہے۔ کیا مینا صاحب نے ہسپتالوں کے لئے قوانین بنا دیا ہے کہ کوئی لیڈر ہسپتالوں میں جا کر متاثرہ خاندان سے نہیں ملے گا؟ کیا یہ اصول سب کے لئے ہے؟ کیا یہ خبر عام نہیں ہے کہ ایک سابق فوجی رام كشن گیریوال نے خود کشی کی ہے۔ ان کے بیٹے میڈیا سے بات تو کر ہی رہے ہیں، پھر ان لوگوں کی ملاقات راہل گاندھی یا منیش سسودیا سے ہو جاتی تو کیا ہو جاتا۔ بہر حال شام کو راہل کو چھوڑ دیا گیا۔

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close