آج کا کالم

ووٹ کے بدلے نوٹ کا چلن کیسے رکے گا؟

آپ اکثر سنتے رہتے ہوں گے کہ انتخابات میں طاقت زر کا کافی استعمال ہوتا رہتا ہے. ہم یہ تسلیم کرتے جا رہے ہیں کہ انتخابات کا مہنگا ہونا کوئی بری بات نہیں ہے. آپ  پوری زندگی محنت کرکے کتنا پس انداز کر پاتے ہوں گے، یہ جب جوڑ  لیں گے تو سمجھ سکیں گے کہ سیاسی جماعتوں کے پاس، ان کے امیدواروں کے پاس کتنا پیسہ ہے کہ وہ چار پانچ کروڑ روپے ایسے ہی ووٹنگ سے پہلے کی رات میں لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیتے ہیں. آپ جانتے بھی ہیں مگر بولتے نہیں لیکن اس پر بولنے کا وقت آ رہا ہے. ورنہ انتخابی فتح و شکست کا کوئی مطلب نہیں رہ جائے گا.

الیکشن کمیشن نے ایک طویل رپورٹ جاری کی ہے کہ کس طرح سے تمل ناڈو کے دو اسمبلیوں میں انتخابات جیتنے کے لئے جے للتا اور کرونا ندھی کی پارٹی نے کروڑوں روپے بانٹ دیے. ان دونوں اسمبلیوں کے انتخابات دو دو بار منسوخ ہوئے اور اب 13 جون کو ہونے ہیں. پورے الیکشن کے دوران ہم نے مینوفیسٹو سے لے کر امیدواروں کے پیسے تقسیم کرنے کی خبریں دیکھی. کس طرح لیڈر حکومت میں آنے پر گھر کا سامان بانٹے کے نام پر ووٹ لے رہے ہیں لیکن بہتر طور پر منظم اور تعلیم یافتہ ریاست اس خطرے کو لے کر بحث ہی نہیں کر پائی. جماعتوں کے تئیں ووٹر کی وفاداری اس قدر مستقل بن چکی ہے کہ وہ اس کے آگے پیچھے دیکھنا ہی نہیں چاہتا.

الیکشن کمیشن نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ساری باتوں کی حقیقت تو نہیں ملی لیکن پتہ چلتا ہے کہ ہر ووٹر کو 2000 سے 5000 روپے تک بانٹے گئے ہیں. یہ سوال آپ ووٹروں سے بھی ہے کہ کیا آپ واقعی پیسے لے کر ووٹ کرتے ہیں. کیا آپ کو معلوم ہے کہ 2000 کے بدلے آپ اپنے مستقبل کو کس طرح خطرے میں ڈال رہے ہیں. کون یہ بات نہیں جانتا ہے کہ انتخابات میں پیسے بانٹے جاتے ہیں. بلکہ یہ رپورٹ دیکھ کر یا پڑھ کر انتخابات لڑنے والے لوگ ہنس بھی رہے ہوں گے کہ یہ کون سی نئی بات بتا رہا ہے. الیکشن کمیشن ان دنوں ضرور پیسوں کو لے کر سختی کرنے لگا ہے اور کروڑوں روپے برآمد بھی کر لیتا ہے لیکن کوئی دعوے کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ انتخابات میں پیسے نہیں تقسیم ہوئے ہیں. اگر ہمارا ووٹر اس طرح رشوت خور ہو جائے گا تو جمہوریت کا مستقبل کیا ہوگا. اکثر نتائج کے دن کسی کی جیت پر ہم چھاتی دھنتے رہتے ہیں کہ فلاں نے تاریخ رقم کی ہے. فلاں تاریخ بن گئے لیکن کیا یہ صحیح تصویر ہے. کیا دو اسمبلیوں سے متعلق یہ رپورٹ پورے تمل ناڈ کے انتخابات کو مشکوک نہیں کرتی ہے.

الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کی خوب تعریف ہو رہی ہے، بالکل ہونی چاہئے لیکن کیا ہم پریقین ہیں کہ یہ کہانی صرف دو اسمبلی حلقوں میں ہی پیش آئی ہوگی. اگر نہیں تو کیا آپ ٹھگے سے محسوس نہیں کر رہے یا آپ کو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا. حالت یہ تھی کہ ایک بار الیکشن منسوخ ہونے کے بعد بھی ان دو اسمبلی حلقوں میں پیسے بانٹنے کی شکایت ملی اور پیسے ضبط کئے گئے.

اراوكچی اسمبلی میں ایک شریف آدمی کے یہاں چھاپے مار کر 4 کروڑ 77 لاکھ نقد برآمد کیا گیا. جس کے یہاں چھاپہ پڑا وہ جے للتا کی پارٹی کے امیدوار کا قریبی تھا. امیدوار جے للتا کی حکومت میں اہم عہدوں پر رہا ہے. دستاویزات سے پتہ چلا کہ 1 کروڑ 30 لاکھ کی ساڑی اور دھوتی تقسیم کی جا چکی ہے. نوٹ گننے کی بہت مشینیں بھی برآمد کی گئی ہیں. مجموعی طور پر  الگ الگ چھاپوں میں 8 کروڑ سے زائد کی رقم برآمد کی گئی.

ایک اور اسمبلی ہے تنجاور. یہاں بھی کسی کی شکایت پر ایک لاج میں چھاپہ مارا گیا. لاج کے چھت پر پانچ لاکھ روپیہ پڑا ملا. نوٹوں کی گڈيوں میں لگنے والا خوب سارا ربڑ بینڈ پھیل ہوا تھا. ہاتھ سے لکھا چار صفحے کا ایک نوٹ ملا جس کے چوتھے صفحے کے کونے پر 35 لاکھ لکھا تھا. لاج کے مالک کے ایک دوسرے لاج پر چھاپہ پڑا تو وہاں سے 15 لاکھ ملا. 13 وارڈ میں ایک کروڑ 40 لاکھ تقسیم کرنے نوٹ ملے. تنجاور میں 51 وارڈ ہیں. 51 میں سے 13 وارڈ میں پیسے تقسیم ہونے کے ثبوت یا اشارے ملے ہیں. کیا پتہ تمام وارڈ میں پیسے بٹے ہوں. ایک امیدوار نے یہاں 6 کروڑ روپے تقسیم کئے ہیں. کمیشن کی تشکیل کردہ ٹیم نے خوب محنت کی لیکن 21 لاکھ ہی ضبط کر سکی. یہی نہیں ڈی ایم کے کے اميدار نے تنجاور اسمبلی کے مقامی مندروں کو 5 لاکھ سے لے کر 50 لاکھ روپے عطیہ دیے تاکہ وہ تنظیم بنا سکیں. یعنی اس کھیل میں دیوی دیوتاؤں کے نام پر بھی رشوت دی گئی. ووٹروں کو ٹوکن دیا گیا کہ انتخابات کے بعد فلاں دکان سے واشنگ مشین لے لیں.

اس فیصلے سے ضرور سخت پیغام جائے گا لیکن کیا ان ووٹروں کے خلاف کوئی کارروائی ہو سکتی ہے جنہوں نے پیسے لئے، ساڑیاں لی اور ٹوکن لیے. جب رشوت لینا اور دینا دونوں جرم ہے تو ووٹر کس طرح چھوٹ جا رہا ہے. یہی نہیں جب الیکشن منسوخ ہوئے تو تمل ناڈو کے گورنر ‘کے روسيا’ نے کمیشن کو خط لکھا کہ الیکشن نہیں ٹالنا چاہئے. کمیشن نے صاف صاف کہہ دیا کہ گورنر کو ایسے خط لکھنے سے بچنا چاہئے تھا.

ہندی سے ترجمہ: مضامین ڈیسک

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close