آج کا کالم

وہ بھارت ماتا کے بیٹے نہیں ہیں!

پریہ درشن

راجستھان کے راجسمند میں افرازل نام کے ایک مسلم مزدور کو کلہاڑی سے کاٹنے اور پھر جلا دینے والے ملزم شمبھو لال ریگر کو اپنے کئے پر کوئی افسوس نہیں ہے. ظاہر ہے، جسے ‘انڈاكٹرنیشن’ کہتے ہیں- یہ اس کی انتہا ہے. عام طور پر ایسی خوفناک گُھٹی دہشت گرد تنظیمیں اپنے اراکین کو پلاتی ہیں۔ وہ جو فدائين دستے تیار کرتے ہیں، وہاں اس طرح کی نظریاتی انتہائی لگتی ہے.

مگر شمبھو لال ریگر تو کسی دہشت گرد تنظیم میں شامل نہیں تھا. پھر اس کے اندر کس نے اتنا زہر بھرا کہ اس نے ایک غریب مزدور کا سرعام قتل کر دیا؟ اور کیا صرف ریگر کے دماغ میں زہر بھرا ہوا ہے؟ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے ریگر کی گرفتاری کے بعد اس کی مدد کے نام پر چندہ جٹايا؟ اور وہ کون لوگ ہیں جو اسے جیل میں یہ سہولت مہیا کرا رہے ہیں کہ وہ اقلیتوں کے خلاف نفرت سے بھرا ہوا ایک ویڈیو بنا سکے؟ یہ کیسا سماج ہے جو ایک کمزور آدمی کے اس طرح قتل کو جائز ٹھہراتا ہے اور اس پر پچھتاتا تک نہیں؟

یہ ایک ڈراونی حقیقت ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں بھارتی معاشرے کی رگوں میں زہر لگاتار اتارا جا رہا ہے. افرازل کا قتل اس کی تکلیف دہ گواہی  ہے. افرازل کا ریگر سے کوئی لینا دینا نہیں تھا. وہ کسی ایسے ایکٹ، ایسی جماعت یا ایسی تنظیم میں بھی شامل نہیں تھا جس پر کسی کو اعتراض ہو. وہ نہ گؤ مانس کھاتا یا رکھتا پکڑا گیا تھا، نہ نام نہاد گؤتسكريوں کا حصہ تھا، نہ اس نے لو جہاد کی کوشش کی تھی، نہ وہ کہیں وندے ماترم یا بھارت ماتا کی جے بولنے سے انکار کر رہا تھا. اسے بس اس کی شناخت کی وجہ سےیعنی- اس کے مسلمان ہونے کے ناتے- مارا گیا.

کئی بار لوگ جلد بازی میں غلط کام کر گزرتے ہیں. اس کے بعد اس کا افسوس ان کا پیچھا کرتا رہتا ہے. 1947 کی تقسیم کے وقت ہوئے فسادات کے بعد جب لوگوں کو ہوش آیا تو بہت سے لوگ تاعمر اس پچھتاوے کے ساتھ جئے کہ وہ کیا کر گزرے. موہن راکیش کی کہانی ‘ملبے کا مالک’ اس پچھتاوے کی یاد دلاتی ہے. 2002 کے گجرات فسادات میں ہاتھ میں ننگی تلوار لئے اشوک پرمار کی تصویر تمام جگہوں پر چھپی ہے. آج اشوک پرمار شرمندہ اور مایوس دکھائی پڑتا ہے. اسے یہ ملال ہے کہ وہ ایک غلط ہوا کا شکار ہو گیا. لیکن شمبھولال ریگر کو ایسے کسی پچھتاوے نے اب تک نہیں گھیرا ہے. اس کے دماغ میں ایک دشمن بٹھا دیا گیا ہے. اس کے دماغ میں کچھ جھوٹ سچ کی طرح انسٹال کر دیے گئے ہیں.

اس سے پوچھئے تو وہ بتائے گا کہ اس ملک میں مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے (جو سچ نہیں ہے)، اس سے پوچھئے تو وہ بتائے گا کہ سارے دہشت گرد مسلمان ہوتے ہیں (جو سچ نہیں ہے) اس سے پوچھئے تو وہ بتائے گا کہ تمام مسلمان چار چار شادیاں کرتے ہیں اور اپنی بیویوں کو تین بار بول کر طلاق دے ڈالتے ہیں (جو کہ سچ نہیں ہے)، اس سے پوچھئے تو وہ بتائے گا کہ سارے مسلمان پاکستان کی جیت پر خوش ہوتے ہیں (جو کہ سچ نہیں ہے)، اس سے پوچھئے تو بتائے گا کہ بھارت میں ہندوؤں کے دکھ کی سب سے بڑی وجہ مسلمان ہیں، وہ چلے جائیں گے تو ملک زیادہ محفوظ اور پرسکون ہو جائے گا (جو کہ سچ نہیں ہے.) اس سے پوچھئے تو وہ بتائے گا کہ سارے مسلمان پاکستان کی جیت پر خوش ہوتے ہیں (جو کہ سچ نہیں ہے)، اس سے پوچھئے تو وہ بتائے گا کہ بھارت میں ہندوؤں کے دکھ کی سب سے بڑی وجہ مسلمان ہیں، وہ چلے جائیں گے تو ملک زیادہ محفوظ اور پرسکون ہوگا(جو کہ سچ نہیں ہے.)

دراصل یہ دماغ میں دشمن بٹھانے کا کھیل، ملک کو سب سے چھین کر بس آپ کی اپنی کمیونٹی تک محدود کرنے کا کھیل ملک کو کمزور کرتا ہے مضبوط نہیں، غیر محفوظ کرتا ہے، پرسکون نہیں. بدقسمتی سے اس کام میں بہت ہی خطرناک طریقے سے ان علامتوں کا استعمال کیا جا رہا ہے، جن کے ذریعہ ہم اپنے قوم کو پہچانتے ہیں. ہمارے ترنگے اور قومی گیت کو اس کام کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے. حب الوطنی کے نعروں کا سہارا لیا جا رہا ہے. لوگ عصمت دری کے ملزمان کی رہائی کے لئے ترنگا لے کر مظاہرہ کر رہے ہیں. وندے ماترم نہ گانے پر مارپیٹ کر رہے ہیں. جبرن بھارت ماتا کی جے بلوا رہے ہیں.

یہ سب لوگ شمبھولال ریگر کے ذہنی اور نظریاتی بھائی ہیں. صرف اتفاق نہیں ہے کہ شمبھولال ریگر بھارت ماتا کی جے بول رہا ہے. جبکہ بھارت ماتا ہو یا کوئی بھی ماتا- وہ اپنے بیٹے کے اس طرح کے کارنامے پر شرمندہ ہونے اور سحرنے کے علاوہ کچھ اور نہیں کر سکتی. لیکن وہ لوگ جو بھارت ماتا کا نام لیتے ہیں، ان کو بھی اس کا افسوس نہیں ہے. کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ بھارت کی ماں کا نام بھلے لیتے ہوں، لیکن یہ اس کے بیٹے نہیں ہیں. اس کے سچے بیٹے تو وہ ہو سکتے ہیں جو بھارت ماتا کے آنچل کو سب کے لئے پر امن بنائیں، اتنا بڑا بنائیں کہ اس میں سب لوگ سما سکیں، ساری شناخت اپنے اپنے وجود کے ساتھ رہ سکیں اور اس بات پر یقین رہ سکے کہ کوئی صرف انھیں ان کی مذہبی شناخت پرشک کی نگاہ سے نہیں دیکھے گا، انھیں مار نہیں ڈالے گا.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close