آج کا کالم

ٹرینیں 30- 30 گھنٹے تک لیٹ کیسے ہوجاتی ہیں؟

اب ہم ریلوے کے وزیر اور ریلوے بورڈ کو دوسری ٹرینوں  کا چیلنج دیں گے جو گزشتہ کئی ہفتوں اور مہینوں سے دس سے بیس گھنٹے کی تاخیر سے چل رہی ہیں۔

رويش کمار

جھارکھنڈ کے چترا ضلع میں ایک نابالغ لڑکی کو عصمت دری کے بعد ملزمان نے زندہ جلا دیا ہے۔ یہ آپ  ہی کے ملک کی حقیقت ہے۔ بہتر ہے کہ نیتاؤں کی بکواس اور جھوٹ سے بھری تقریروں کی جگہ اِن مسائل پر بات کیجیے۔ یہ نیتاؤں سے نہیں ہو گا۔ یہ کس سے ہوگا پتہ نہیں۔ وہ جھوٹ بولنے میں دن رات لگے ہیں۔ بہار کے جئے نگر سے چل کر نئی دہلی آنے والی سوتنتر سینانی ایکسپریس گزشتہ کئی مہینوں سے کئی گھنٹوں کی تاخیر سے چل رہی تھی۔ جب ہم نے اس ٹرین کے گزشتہ دو چار دنوں کا ریکارڈ دیکھا تو پایا کہ یہ ٹرین 20 سے 30 گھنٹے کی تاخیر سے چل رہی تھی۔ ہم نے کہا کہ جب تک یہ ٹرین وقت سے نہیں چلے گی ہم اس کا بار بار پرائم ٹائم میں ذکر کرتے رہیں گے۔ سوتنتر سینانی کے نام پر چلنے والی ٹرین کس طرح دیر سے چل سکتی ہے وہ بھی 30-30 گھنٹے کی تاخیر سے۔ لگتا ہے کہ پرائم ٹائم کا کچھ اثر ہوا ہے۔ اس ٹرین کی بوگی بالکل نئی ہے۔ چمچماتی ہوئی نظر آتی ہے مگر تاخیر سے چلنے کی وجہ اس میں چلنے کے لیے کلیجہ چاہیے۔ بہرحال پرائم ٹائم کا اثر ہوا ہے اور یہ 4 مئی کو  جئے نگر سے وقت سے چلی ہے۔ جو ٹرین 20 گھنٹے کی تاخیر سے کھل رہی تھی وہ پہلی بار وقت سے چلی ہے۔ ہمارے ساتھی پرمود گپتا کا کہنا ہے کہ 2011-12 سے یہ ٹرین چل رہی ہے مگر آج تک وقت سے نہیں چلی، اب اس کی تصدیق ہم نہیں کر سکتے مگر یہ ہو سکتا ہے کہ تاخیر سے چلنے کی وجہ ٹرین کی ایسی تصویر بن گئی ہو۔

جب ہم نے دو دن مسلسل پرائم ٹائم میں سوتنتر سینانی ایکسپریس کے بارے میں تفصیل سے بحث کی تب ریلوے نے فیصلہ کیا کہ 4 مئی کو یہ وقت سے دہلی کے لیے روانہ ہوگی۔ اس کے لیے آس پاس کے اسٹیشنوں سے بوگیاں منگا کر ایک نئی ریک یعنی بالکل نئی ٹرین بنائی گئی، اسے سوتنتر سینانی ایکسپریس کا نام دیا گیا۔ 4 مئی کی صبح سے ہی نئی ریک کی صفائی ہونے لگی۔ پھر اسے دربھنگہ سے جئے نگر کے لیے بھیجا گیا جہاں سے وہ بالکل رائٹ ٹائم دوپہر 2 بجے کھلی ہے۔ ہمارے ساتھی پرمود گپتا اس وقت دربھنگہ اسٹیشن پر موجود تھے جب ادھر ادھر سے بوگیاں جوڑ کر سوتنتر سینانی کی نئی ریک بنائی جا رہی تھی۔ مسافروں کو بھی خواب جیسا لگ رہا تھا کہ واقعی یہ ٹرین رائٹ ٹائم جارہی ہے۔ جئے نگر سے یہ ٹرین رائٹ ٹائم کھلی، دربھنگہ پہنچی پھر وہاں تک آتے آتے آدھے گھنٹے لیٹ ہو گئی۔ یہ ٹرین ریلوے وزیر مملکت منوج سنہا کے علاقے سے بھی گزرتی ہے۔ سوچیے اس ٹرین کی کیا حالت ہے، 3 اپریل کو دہلی سے آنے والی ٹرین 4 مئی کی دوپہر تک نہیں پہنچی تھی۔ اب جب جئے نگر سے یہ ٹرین صحیح وقت پر جا رہی ہے تو حیرانی کا عالم ہے۔

دو دن کے پرائم ٹائم کے بعد یہ گاڑی ٹائم پر چل رہی ہے۔ ہم نے سوچا تھا کہ سوتنتر سینانی پیر سے صحیح وقت پر چلنے لگے گی مگر جمعہ کو ہی اس میں تبدیلی کی کوشش شروع ہو گئی۔ ہم کچھ ہفتوں تک اس کا ریکارڈ رکھیں گے۔ کہیں ایسا نہ ہو پرائم ٹائم کی وجہ سے ایک بار کے لیے صحیح ٹائم پر چلا دیا گیا ہو اور پھر بھول جائیں۔ حاجی پور اسٹیشن پر شام پونے سات بجے کے قریب جب یہ پہنچی تو وہاں بھی مسافر حیران ہو اٹھے کہ یہ وہی سوتنتر سینانی ایکسپریس ہے جو کبھی رائٹ ٹائم چلتی ہی نہیں ہے۔ لیٹ بھی ہوتی ہے تو دس، بارہ اور بیس گھنٹے۔

ہمارے ساتھی کوشل کشور صحیح وقت پر اس کے حاجی پور پہنچنے کے وقت موجود تھے۔ وہاں موجود مسافروں کے لیے آج کا دن یادگار تھا۔ جو ٹرین دہلی سے جئے نگر سے چلی ہے وہ بھی دیر سے چل رہی تھی۔ لیکن ایک نئی ٹرین بنا کر سوتنتر سینانی ایکسپریس کو صحیح وقت سے چلانے کی کوشش کی گئی ہے۔

اب ہم ریلوے کے وزیر اور ریلوے بورڈ کو دوسری ٹرینوں  کا چیلنج دیں گے جو گزشتہ کئی ہفتوں اور مہینوں سے دس سے بیس گھنٹے کی تاخیر سے چل رہی ہیں۔ مسافر پریشان ہیں، میڈیا میں یہ سب چیزیں رپورٹ ہوتی نہیں ہیں۔ مسافروں کے وقت کی قیمت کی کسی کو پرواہ ہی نہیں ہے۔ آج ہی دربھنگہ اسٹیشن پر جو مسافر امرتسر جانے والی شہید ایکسپریس پکڑنے آئے تو اسٹیشن پر پتہ چلا کہ سات آٹھ گھنٹے لیٹ ہے۔ ویٹنگ روم بند ہونے سے بھی مسافر ناراض ہو گئے۔ ایک ٹرین ہے پٹنہ-کوٹہ ایکسپریس یہ ہر دن 15 سے 20 گھنٹے لیٹ چلتی ہے۔

4 مئی کو چلنے والی 13239 نمبر کی پٹنہ-کوٹہ ایکسپریس 19 گھنٹے 10 منٹ لیٹ ہے۔ 3 مئی کو چلنے والی پٹنہ-کوٹہ ایكسپرس 10 گھنٹے لیٹ کھلی تھی۔ 2 مئی کو پٹنہ-کوٹہ ایکسپریس 16 گھنٹے 45 منٹ کی تاخیر سے روانہ ہوئی تھی۔

بہار سے بڑی تعداد میں طالب علم کوچنگ کے لیے کوٹہ جاتے ہیں۔ مختلف اضلاع سے چل کر ماں باپ اور طالب علم پٹنہ ریلوے اسٹیشن پر گھنٹوں انتظار کرتے رہتے ہیں۔ مچھروں کی دہشت گردی بھی جھیلتے رہتے ہیں۔ 16 دسمبر 2016 کو ’ہم سفر ایکسپریس‘ کی شروعات ہوئی تھی۔ یہ ٹرین سی سی ٹی وی، GPS، موبائل لیپ ٹاپ چارجنگ پوائنٹ سے لیس تھی۔ اسے درمیانی طبقے کے مسافروں کو ذہن میں رکھ کر بنایا گیا تھا۔ اسی 13 اپریل سے چمپارن ہم سفر ایکسپریس کی شروعات ہوئی۔ اس کا نمبر ہے 15705۔ پرانی دہلی سے کٹیہار کے بیچ چلتی ہے۔ نیو برانڈ ٹرین ہے یہ۔ مہینہ بھی نہیں ہوا ہے شروع ہوئے اور یہ ٹرین تاخیر سے چلنے لگی ہے۔

3 مئی کو چمپارن ہم سفر ایکسپریس 14 گھنٹے 51 منٹ کی تاخیر سے كٹيہار سے چلی۔ دہلی پہنچتے پہنچتے یہ ٹرین 18 گھنٹے سے بھی زیادہ لیٹ ہو چکی تھی۔ 22406 نمبر کی بھاگلپور غریب رتھ کی لیٹ لطیفی سے بھی مسافر کافی پریشان ہیں۔ 4 مئی کو یہ ٹرین آنند وہار سے 11 گھنٹے 35 منٹ کی تاخیر سے روانہ ہونے والی تھی۔ ایک اور ہم سفر ایکسپریس کا حال بتاتا ہوں۔ 4 مئی کو بنگلور سے اگرتلا کے لیے چلنے والی ہم سفر ایکسپریس کے 23 گھنٹے تاخیر سے چلنے کی اطلاع ہے۔ امید ہے اس ٹرین میں وزیر اعلی بپلب دیب نہ چل رہے ہوں ورنہ وہ کہیں بیان نہ دے دیں کہ ٹرین جانے کی کیا ضرورت ہے، پہلے لوگ انتردھيان ہو جاتے تھے۔ بہتر ہے کہ بپبل دیب ریلوے کے وزیر کو فون کرکے پوچھیں کہ اگرتلا کے لوگوں کی کوئی ویلیو ہے یا نہیں۔

23 گھنٹے کوئی ٹرین کس طرح لیٹ چل سکتی ہے۔ آپ مسافروں سے پوچھیے ان کا کتنا نقصان ہو رہا ہے۔ چونکہ ٹرین کا تاخیر سے چلنا میڈیا میں رپورٹنگ کے قابل نہیں سمجھا جاتا مگر یہ اتنا بڑا مسئلہ ہو گیا ہے کہ اخبار اس سے بھرے پڑے ہوئے ہیں، ایسی خبروں تراشوں سے۔ کئی بار بنیادی طور پر بھی خبریں شائع ہوئی ہیں مگر کوئی اثر نہیں ہے۔ ایک اور ٹرین ہے، نئی دہلی سے برونی جانے والی ویشالی ایکسپریس۔ 4 سے 8 گھنٹے کی تاخیر تو اس کے لیے عام بات ہو گئی ہے۔

 ویشالی ایکسپریس کی جنرل بوگی کا نظارہ بھی قابل دید ہے۔ صلاحیت سے زیادہ مسافر سوار ہو رہے ہیں۔  بھیڑ کو دیکھ کر آپ سمجھ سکتے ہیں کہ غریب مسافروں کے لیے جنرل بوگی کا تجربہ بالکل نہیں بدلا ہے۔ آپ جو بھی خبریں سنتے ہیں کہ چارجر لگ گیا، نیپی چینج کا بورڈ لگ گیا، وہ ساری سہولیات ان ہندوستانیوں کے لیے نہیں ہیں۔ اس بھیڑ میں سانس لینے کی جگہ نہیں ہے مگر مسافر اپنے سامان کے ساتھ کس طرح جاتے ہوں گے ہم آگے بتائیں گے۔ بہت سے مسافر ٹرین میں اس وقت بھی نہیں چڑھ پاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بہار سے دہلی کے درمیان 250 سے زیادہ بسیں چلنے لگی ہیں۔ ان بسوں میں حفاظت اور ڈرائیور کی ٹریننگ کے معیار کی کہیں کوئی انکوائری نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جمعرات کو مظفر پور سے دہلی آ رہی سی بس الٹ گئی، آگ لگ گئی اور بس جل کر خاک ہو گئی۔ پہلے خبر آئی تھی کہ آگ لگنے سے 12 لوگوں کی موت ہو گئی تھی مگر اب ضلع مجسٹریٹ نے کہا ہے کہ کسی کی موت نہیں ہوئی ہے۔ وزیر اعظم اور نتیش کمار نے بھی تعزیت پیش کر دی تھی۔ ایسی بسوں کا پرمٹ چیک کرنا چاہیے۔ کشش نیوز چینل نے رپورٹ کیا ہے کہ بہتوں کے پاس نیشنل پرمٹ نہیں ہے۔ اس کی جگہ 15 دنوں کے لیے سیاح پرمٹ لے لیتے ہیں اور ایک اجازت نامہ پر بہت سی بسیں چل رہی ہیں۔ عام آدمی کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ غیر محفوظ سفر کرے۔ اس کی نہ تو جان کی قیمت ہے اور نہ وقت کی۔ امید ہے یوپی اور بہار حکومت، بہار اور دہلی کے درمیان چلنے والی بسوں کی فوری طور پر جانچ کریں گی۔ یہ بھی چیک کریں کہ یہ بسیں کن نیتاؤں کی ہیں۔ یہ ساری بسیں آنند وہار سے دہلی کے لیے کھلتی ہیں۔

ٹی وی میں عام لوگوں کے مسائل غائب ہوتے جا رہے ہیں۔ ہوا ہوائی بیانات کی ہوابازی پر سارا کاروبار چل رہا ہے۔ یہاں عام آدمی جل کر مر جا رہا ہے یا تو کٹ کر مر جا رہا ہے۔ اب ہم ایک اور ٹرین کی حالت بتاتے ہیں۔ اس کا نام سمپورن کرانتی ایکسپریس ہے۔ منگل کو یہ ٹرین نئی دہلی سے پٹنہ کے لیے روانہ ہونے والی تھی۔ اس کی جنرل بوگی میں اتنے مسافر سوار ہو گئے کہ بوگی جھک گئی۔ میکینکل  محکمہ نے سمپورن کرانتی کو چلانے ہی انکار کر دیا۔ اس کے بعد مسافروں کو جبراً اتارا گیا پھر ٹرین پٹنہ کے لیے روانہ ہوئی۔ آپ سوچیے مسافروں پر کتنا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ رپورٹ چھپ رہی ہے کہ کوچ میں نیا بلب لگ گیا، چارجر لگ گیا مگر عام لوگوں کی تکلیف دور کرنے کے لیے نیا جنرل کوچ نہیں لگ پاتا ہے۔

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close